• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’یہودیت ‘‘ اور ’’شیعیت‘‘ کا باہمی موازنہ

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
یہودی سازش کے خدوخال
اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ہمارے دشمن نمبر ۱ ’’یہود‘‘نے جہاں ’’شیعیت ‘‘کے روپ میں ملت اسلامیہ کے اندربغض وعداوت اور نفاق وتفریق کے بیج بوئے ہیں ،وہاں یہودی آئیڈیالوجی کو بالواسطہ طور پر بھی عامۃ المسلمین کے مختلف طبقات وعناصر میں پوری قوت کے ساتھ پیوست کرنے کی اپنی شیطانی کوشش میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے شدید ترین دشمن یہودی دور رساسلت سے لے کر آج تک ایک دن کے لیے بھی چین سے نہیں بیٹھے اور چودہ سو سال سے مسلمانوں کو زک پہنچانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے ہیں ،عسکری اعتبار سے وہ اتنے طاقتور کبھی نہیں رہے کہ مسلمانوں سے ٹکر لے سکتے یا انہیں زیر کرنے کی کوشش کرتے ۔مگر ذہنی لڑائی میں انہوں نے امت مسلمہ کو ضرورشہ مات دے دی ہے ۔مسلمانوں کی تاریخ کا کوئی دور اور ان کی دینی اور دنیاوی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس پر ان دشمنان اسلام ’’یہود‘‘کا سایہ نہ پڑا ہو ،تہذیب ،تمدن ،معیشت ،سیاست ،معاشرت ،عبادات،تفسیر ،احادیث ،اسلامی علوم و فنون غرض ہر شعبۂ زندگی میں انہوںنے اپنا اثر ڈالا ہے اورمسلمانوں کے دین اور دنیا کو تباہ کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔
علامہ ابن جوزی رحمہ اﷲکا بیان ہے کہ یہودیوںنے اسلام کا تاروپور بکھیرنے کے لئے پہلی صدی ہجری میں ہی یہ سازش کی تھی کہ ایران کے مجوسیوں ،مزدکیہ ،ثنویہ اورملاحدہ فلاسفہ سے مل بیٹھے اور انہیں یہ مشورہ دیا کہ وہ ایسی کوئی تدبیر نکالیں جو ان کو اس پریشانی سے نجات دلا سکے جو کہ اہل اسلام کے غلبہ واستیلاء سے ان لوگوں پر طاری ہوگئی ہے ۔مجوسی چونکہ اسلام کے ہاتھوں زک اُٹھانے اور اپنی ہزاروں سالہ پرانی ساسانی سلطنت وتہذیب اور روایات سے محروم ہوجانے کی وجہ سے دل گرفتہ تھے ۔بہت سے ان میں سے ہوا کا رخ دیکھ کر بظاہر اسلام بھی قبول کرچکے تھے ،مگر دل ہی دل میں اسلام کے عروج وترقی سے کڑھتے اور حسد کرتے تھے ۔یہ لوگ بڑی آسانی سے یہود کے دام فریب میں آگئے انہوں نے دشمنانِ اسلام یہود کی اس تجویزسے اتفاق کرلیا کہ اسلام کے نام لیوا فرقوں میں سے کسی ایسے گمراہ کن فرقے کو منتخب کیا جائے جو عقل سے کورا ،رائے میں بودا ،اور محال باتوں پر آنکھ بند کرکے یقین کرنے والا ہو ،ساتھ ہی بغیر سند کے جھوٹی باتوں کو قبول کرنے میں مشہور ہو ۔چنانچہ ایسا فرقہ انہیں ’’روافض‘‘کی شکل میں مل گیا جو حقیقت میں یہود ہی کا پروردہ اور ان کا دوسرا روپ تھا ،مجوسیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی یہودیوں کی طرح شیعیت کی نقاب اوڑ ھ کر اسلام کے قلعے میںشامل ہوجائیں تاکہ اپنے تخریبی اعمال کی پاداش میں اسلامی حکومتوں کے عتاب اور قتال عام سے محفوظ رہ سکیں ۔انہوں نے روافض کے عقیدے اختیار کرنے کے بعد ان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانا شروع کیا اور رفتہ رفتہ ان میں اہم دینی مناصب حاصل کرلیے ۔اس طرح انہوں نے سانحہ کربلا کو بنیاد بنا کر غم وگریہ اور ماتم حسین کو شیعیت کا معیار بنا دیا۔حالانکہ اس سے قبل یہ مذہب صرف حضرت علی رضی اﷲعنہ اور ان کے استحقاق خلافت کے گرد ہی گھومتا تھا۔
علامہ ابن جوزی رحمہ اﷲاپنی کتاب ’’تلبیس ابلیس ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ایران کے مجوسیوں نے یہود کے مشورہ پر اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے کے اور اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ تدبیر نکالی کہ ظاہر میں روافض یعنی شیعوں کے عقیدے میں شامل ہوں اور اس فرقے سے دوستی وچاپلوسی ظاہرکرکے ان کا اعتماد حاصل کریں اور پھر غم وگریہ اور ماتم ان واقعات مصیبت پر ظاہر کریں جو آل محمد پر ظالموں کے ہاتھوں پیش آئے ،اس حیلہ سے ہمیں اسلام کے مشاہیر اور مقتدر ہستیوں ،خصوصاً صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم خلفاء راشدین ،تابعین اور بزرگان سلف کو لعن طعن کرنے کا پورا موقع ہاتھ آئے گا جن سے شریعت نقل ہوکر بعد کے مسلمانوں تک پہنچتی ہے ۔اس طرح جب ان روافض کے دلوں میں جماعت صحابہ رضی اﷲ عنہم ،تابعین اور عام مسلمانوں کی طرف سے نفرت وعداوت بیٹھ جائے گی ،تو جو کچھ امر شریعت و قرآن ان بزرگوں سے منقول ہے اس کی قدروقیمت بھی اس احمق فرقے کے دل سے ختم ہوجائے گی ۔تب بہت آسانی سے یہ موقوقع ملے گا کہ انہیں اسلام کے دائرے سے نکال باہر کیا جائے ،اگر اس کے باوجود بھی کوئی شخص قرآن کی اتباع پر مصر ہو تو اس پر یہ جال ڈال کر بہکایا جائے کہ ان کے ظواہر کے کچھ اسرار ورموز اور ’’باطنی ‘‘امور بھی ہیں ۔اس لئے فقط ظاہر پر فریفتہ ہونا حماقت ہے ،اور دانائی یہ ہے کہ حکمت وفلسفہ کے مطابق ان کے اسرار پر اعتقاد ہو ،جب یہ لوگ ظاہر وباطن کے فلسفے کو مان لیں گے تو رفتہ رفتہ اپنے مخصوص عقائد ان میں داخل کردیں گے اور انہیں سمجھائیں گے کہ باطن سے مراد یہی اسرار ہیں اور اس طریقے سے باقی قرآن سے منحرف کردینا انہیں آسان ہوگا ،اس طرح سے فرقہ ’’باطنیہ اسماعیلیہ ‘‘کا وجود ہوا جو مجوسیوں کے مسلمانوں کے جذبۂ انتقام سے عبارت تھا۔
اس باطنیہ اسماعیلیہ فرقے نے کچھ عرصے کے بعد ملت اسلامیہ کی سیاسی اتھل پتھل سے فائدہ اٹھاکر حسن بن صباح کی سربراہی میں قلعہ الموت میں اپنی الگ حکومت قائم کرلی تھی اور پھر اپنے ’’فدائین ‘‘کے ذریعہ مسلم ممالک کے رہنماؤں اور عام مسلمانوں کے خلاف انتقام اور قتل وگارت گری کا بازار گرم کردیا ،اور ایک دور ایسا بھی آیا جب یہ ظالم طاہر قرمطی کی قیادت میں مکہ معظمہ پر چڑھ دوڑے اور حج کے دوران کعبۃ اﷲمیں گھس کر حاجیوں کا قتل عام کیا اور ان کی لاشوں سے چاہ زمزم کوپاٹ دیا ،اس کے بعد کعبہ کی دیوار سے ’’حجر اسود‘‘اکھاڑ کر توڑ ڈالا اور پھر اسے اپنے ساتھ لے گئے جو تقریبا بیس سال تک ان ظالموں کے قبضہ میں رہا ،طاہر قرمطی نے حجر اسود کو لے جاکر اپنے گھر کی دہلیز پر دفن کردیا تھا تاکہ لوگ اس پر پاؤں رکھ کر گذرتے رہیں اور اس کی بے حرمتی ہو !
بالآخر عباسی خلیفہ مطیع لِلّٰہ کی کوششوں سے یہ پتھر ان سے حاصل کرکے دوبارہ کعبہ کی دیوار میں نصب کیا گیا ،غرض اس دورمیں ان ظالموں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے وہ پہاڑ توڑے تھے جس کی مثال نہیں ملتی ،انجام کار تاتاریوں کے ہاتھوں یہ ظالم اپنے کیفر کردار کو پہنچے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ شیعیت کوایران میں جو عروج وترقی حاصل ہوئی کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکی ،اس کی وجہ یہی ہے کہ ایران کے مجوسی النسل باشندے اپنی ہزاروں سالہ حکومت کے چھن جانے اور اسلام ومسلمانوں کے سیاسی غلبہ واستیلاء سے حسد وانتقام کی آگ میں جل رہے تھے ۔شیعیت کے پلیٹ فارم سے انہیں اسلام کے خلاف کاروائی کرنے اور مسلمانوں سے انتقام لینے کے بہترین مواقع ہاتھ آئے ۔اس لئے انہوں نے تیزی کے ساتھ شیعہ مذہب کو قبول کرنا شروع کردیا اور آج حالت یہ ہے کہ ایران جو صحابی رسول حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کا وطن ہے جس کی تحسین آپ ﷺ نے ان الفاظ میں کی تھی ’’اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی ہوگا تو سلمان رضی اﷲ عنہ کے اہل وطن اسے حاصل کرلیں گے ‘‘ (بخاری ومسلم)آج اسی ایران کی آبادی کا بیشتر حصہ شیعہ مذہب پر عامل ہے اور جو سنی مسلمان ہیں ان پر ان لوگوں نے عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے۔
سیاسی میدان میں ان یہودیوں کا کردار دیکھئے ،انہوںنے کبھی تو براہ راست اور زیادہ تر ’’شیعوں ‘‘کے بھیس میں ،مسلمانوں کو ہر دور میں زک پہنچانے اور فنا کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی ہے ۔بطور ثبوت چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
بغداد کی ساڑھے پانچ سو سالہ عباسی خلافت ۶۵۶؁ھ میں آخری خلیفہ معتصم باﷲکے شیعہ وزیر اعظم بن علقمی کی غداری اور ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں ختم ہوئی اور چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے دارالخلافہ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تین چار دن میں کئی لاکھ مسلمان قتل ہوئے جن کے خون سے دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہوگیا خلیفہ معتصم باﷲاپنے تین سو ساتھیوں کے ہمراہ غیر مشروط طور پر بغداد چھوڑنے کے لیے نکلا مگر ہلاکو نے اس کو پکڑ کر قتل کرڈالا اس طرح ان شیعوں کے طفیل عباسی خلافت کا وجود مٹ گیا !
سسلی جسے ۲۱۲ ؁ھ میں اسدبن فرات کی سرکردگی میں مسلمانوں نے فتح کیا تھا اور تقریباًٍ دوصدیوں تک بڑے رعب ودبدبہ سے وہاں حکومت کی تھی ۔بالآخر ’’قصریانہ ‘‘کے شیعہ حاکم ابن ِ حمود کی غداری کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لئے نکل گیا ۔سسلی کے سقوط کے بعد مصر کے فاطمی خلیفہ نے نصرانیوں کے فاتح جرنیل ’’روجر‘‘کے پاس مبارک بادی کا مکتوب بھیجا تھا ،جس میں روجر کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے جزیرہ سسلی کے مسلمانوں کو شکست کا مستحق قرار دیا تھا !
فاطمی حکومت جو ۲۹۸ ؁ھ میں مراکش کے اندر قائم ہوئی تھی اور ۳۶۲ ؁ ھ میں اس کی قیادت منتقل ہوکر مصر آگئی تھی۔اس شیعہ حکومت کو کھلے طور پر یہود ونصاریٰ پر اعتماد تھا ،انہیں میں سے زیادہ تر وزراء ،ٹیکس اور زکوۃ کے محصلین ،سیاسی ،اقتصادی اور علمی امور کے مشیر ،اطباء اور حکام کے معتمدین ہوتے تھے ۔اور بڑے بڑے کام انہیں کے سپرد کئے جاتے تھے ،ان لوگوں کے ظلم وستم سے لوگ پناہ مانگتے تھے ۔ان کی کہیں بھی داد رسی نہ ہوتی تھی ،عزیز فاطمی نے اپنے وزیر یعقوب بن کلس یہودی کی محبت میں فاطمی مذہب کے لیے دعوت کا کام اس کے حوالہ کردیا تھا ۔یہ وزیر خود بیٹھ کر اسمٰعیلی فقہ کا درس دیتا تھا ،اس طرح اس شیعہ حکومت کے طفیل یہودیوں کے ہاتھوں مصر کے عوام کو ناقابل تلافی دینی اور دنیاوی نقصانات پہنچتے رہے ،بالآخر ۵۶۷؁ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اﷲکے ہاتھوں یہ شیعہ حکومت ختم ہوئی اور مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا!
ہندوستا ن میں مغلیہ حکومت جو اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں کابل سے لے کر رنگون تک وسیع ہوگئی تھی ان کی وفات کے بعد شیعی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں زوال پذیر ہوگئی ۔تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں سے ’’سادات بارہہ‘‘کے نام سے دومشہور بھائیوں ،عبداﷲاور علی بن حسین کے کردار وحرکات مخفی نہیں ۔یہ دونوں مذہب شیعہ کے پیروکار اور ’’بادشاہ گر‘‘کے نام سے مشہور ہوگئے تھے ان کا عروج مغلوں کے زوال کا سبب بن گیا اور پچاس سے سال کے مختصر سے عرصے میں صدیوں سے قائم مغل سلطنت انحطاط وخاتمہ کے نزدیک پہنچ گئی ،بالآخر ۱۸۵۷؁ھ میں انگریزوں نے جو شیعوں کے طفیل ہی ہندوستان کی سرزمین میں قدم جمانے میں کامیاب ہوئے تھے ،آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون میں قید کردیا وہاں ا س کی موت ہوگئی ،اس طرح ہندوستان میں بھی مسلم حکومت کا خاتم ہوگیا تھا!
پلاسی کی جنگ میں جب سراج الدولہ بنگال میں انگریزوں کے دانت کھٹے کررہا تھا تو عین وقت پر اس کے شیعہ وزیر ’’میر جعفر‘‘کی غداری سے پانسہ پلٹ گیا ،اور سراج الدولہ کو شکست ہوگئی اس طرح ان شیعوں کے طفیل مشرقی ہندوستا ن میں انگریزوں کو پیر جمانے اور سیاسی طور پر مستحکم ہونے کا موقع ملا ۔
سلطان ٹیپو شہید جنوبی ہند میں انگریزوں کے لئے بلائے بے درماں بنے ہوئے تھے ۔مگر یہود صفت شیعوں نے ان سے غداری کی حیدرآباد کا حکمراں نظام جو کہ خود شیعہ تھا انگریزوں کے شانہ بشانہ ٹیپو کے خلاف لڑ رہا تھا اور سرنگا پٹم کے محاصرے کے دوران ٹیپو سلطان کے وزیر میر صادق نے جوشیعہ تھا عین لڑائی کے دوران غداری کی اور فتح شکست میں تبدیل ہوگئی ۔
آخری اسلامی خلافت یعنی ترکوں کی حکومت کے زوال کے اسباب اگرچہ اور بھی تھے جیسے بعض ترکی سلاطین کی کمزوری وعیش کوشی ،سیاسی امور میں حاشیہ نشینوں کی مداخلت ،حکومتی شعبوں کا بگاڑ اور رشوت کی گرم بازاری ،سیاسی اعتقادی اور فکر زندگی کے بگاڑ کے دوسرے بہت سے محرکات ،مگر صلیبی اور صہیونی طاقتوںکی ریشہ دوانیاں اور دشمنانِ اسلام یہود کی سازشیں ، عثمانی خلافت کے خاتمہ کے لئے سرفہرست اور بنیادی اہمیت رکھتی ہیں !
۱۸۹۷؁ء میں جب سلطان عبدالحمید برسراقتدار تھے ،سوئزر لینڈ کے شہر پالؔ میں ہرتزل یہودی کی سربراہی میں صہیونی کانفرنس منعقد ہوئی ،جو پالؔ کانفرس کے نام سے مشہور ہے۔اسی کانفرنس میں فلسطین کے اندر یہودی حکومت قائم کرنے کا منصوبہ تیار ہوا ،صہیونیوں نے عرب قوم پرستوں کے دشمن سلطان عبدالحمید کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ یہودیوں کو فلسطین ہجرت کرنے کی اجازت دی جائے ،سلطان نے اس تجویز کو قطعیت کے ساتھ صرف رد ہی نہیں کیا بلکہ فوراً یہ قانون نافذ کردیا کہ یہودی ہجرت سختی سے روک دی جائے اور فلسطین میں یہودی نو آبادی کسی قیمت پر قائم نہ ہونے دی جائیں !
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کی مخالفت سلطان عبدالحمید کی طرف سے یہودیوں کے منہ پر ایک طمانچہ تھا ،جس کا انہوںنے بھرپور بدلہ لیا ،سلطان کو اس کا تصور بھی نہ تھا ۔یہودیوں نے ایک طرف حکومت دشمن تحریکوں کو ابھارا اور اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہونے کے بجائے نسل وقوم کے نظریوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ،دوسری طرف ان یہودیوں نے عثمانی حکومت پر اندر سے حملے شروع کردئیے ،نسل ،تہذیب ،آزادی،بھائی چارہ اور مساوات کا زبردست پروپیگنڈہ کرکے ترکوںکو اسلام سے منحرف کرنے میں مصروف ہوگئے تاکہ ان فریب خوردہ افراد کو مسخر کرکے امت مسلمہ کے شیرازے کو منتشر کردیں ۔
اس مقصد کے لئے سب سے زیادہ کام انہوں نے دوپارٹیوں سے لیا ،ایک جماعت ’’ترکیا الفتاہ‘‘اور دوسری اتحاد وترقی‘‘ترکی کی ادیبہ خالدہ خانم نے ادبی وفکری سطح پر ’’تورانی قومیت ‘‘کے نظریہ کو دوسروں کے ساتھ مل کر رواج دیا ’’ترکیا الفتاۃ‘‘کے لیڈروں نے انقلاب کے لیے راہ ہموار کی اور ترکی کو اسلام کے تشخص اور اس کے پیغام سے بے نیاز کردیا ،ان لوگوں نے ترکی کو پہلی جنگ عظیم میں بلا کسی معقول عذر کے ڈھکیل دیا ،پھر جب ترکی کے حلیف جرمن قوم کو شکست ہوگئی تو ترکی نے بھی اپنی شکست تسلیم کرلیا اور ۱۹۱۸؁ھ کے معاہدہ روڈس (RHODES PACT)میں سرکاری طورپر عثمانی حکومت اور اسلامی عزت ووقار کا آفتاب غروب ہوگیاتھا!
پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی شکست تسلیم کرلینے کے بعد یورپی ممالک نے اس ’’مر دبیمار‘‘کی املاک کو آپس میں تقسیم کرلیا ۔اس کے بعد انہوںنے ’’جدید ترکی‘‘کی تعمیر کرنے کے لیے ایک ایسے شخص کو منتخب کیاجو یہودی تھا اور قوم پرستی کے جذبات کے سہارے اس یہودی شخص نے جس کا نام مصطفی کمال تھا ،آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید بن عبدالعزیز کو،جو انہی انقلابیوں کے ہاتھوں ہی تخت نشین ہوا تھا ،ملک میں جمہوری حکومت کے قیام کا اعلان کرنے پر مجبور کردیا ۔اس کے بعد نام نہاد ’’قومی جمعیۃ ‘‘کی طرف سے مصطفی کمال پاشا یہودی کو سربراہ مملکت منتخب کرلیا گیا اور اسے اتاترک کا خطاب دے دیا گیا جس کا معنی ہوتے ہیں ’’قوم ترک کا باپ‘‘اقتدار حاصل کرنے کے صرف چھ ماہ بعد مصطفی کمال یہودی نے اسلامی حکومت کے خاتمہ کا اعلان کردیا تھا اور پھر۳/ مارچ ۱۹۲۴؁ء کو مسلمانوں کے آخری خلیفہ کو ملک سے باہر نکال دیا گیا ۔
عثمانی خلافت کے خاتمہ کا مطلب یہ تھا کہ خلافت کا رمزی اور شکلی وجو د بھی اس شخص کے صہیونی منصوبوں کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ یا خطرہ بن سکتا تھا ۔اس کے علاوہ مشہور مشتشرق ’’کارل بروکلمن ‘‘کے الفاظ کے مطابق ’’خلافت کے خاتمہ کے بعد ‘‘غازی‘‘اتاترک کو وہ تمام اقدامات کرنے آسان ہوگئے جن کے ذریعہ ترکی قدامت پرستی کے غار سے نکل کر ’’جدید تہذیب وتمدن ‘‘کا علم بردار بن گیا ‘‘۔
مصطفی کمال اتاترک یہودی نے ترکی کو جدید بنانے کے لئے جو اقدامات کئے ان کی تفصیل یہ ہے کہ اقتدار پر بلا شرکت غیرے قابض ہوتے ہی اس نے سب سے پہلے عربی زبان اور اس کے رسم الخط پر پابندی لگادی اس طرح قرآن مجید بھی اپنے پاس رکھنا وہاں جرم ہوگیا تھا ،اوقاف کو ختم کیا،مساجد میں تالے ڈالے ،پورے ملک میں اسلامی قوانین کو معطل کردیا ،ایا صوفیہ کی مشہور مسجد کو میوزیم اور سلطان محمد فاتح کی مسجد کو ’’مخزن‘‘بنادیا ترکی ٹوپی کی جگہ ہیٹ کو رواج دیا ،زبردستی انگریزی لباس جاری کیا نصاب تعلیم سے عربی وفارسی زبانوں کو بالکل نکال دیا ،عربی کی کتابوں اور مخطوطات کو معمولی قیمت پر فروخت کردیا۔یورپ کی ’’سیکولر تعلیم ‘‘کو پورے ترکی میں رائج کیا اور یہ تعلیم ٹیکنالوجی کے میدان میں اختیار نہیں جس سے مسلمان سائنسی میدان میں ترقی کرسکتے ،بلکہ محض لسانی ،ادبی اور دینی میدان میں یورپ کی تعلیم کو فروغ دیا ۔
اسی طرح یہود کی کوشش او رریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں ترکی کو زوال ہوا اور پھر اس کے بعد سے ترکی آج تک نہ سنبھل سکا ،ترکی کے بعد پورا عالم اسلام یکے بعد دیگرے زوال کا شکار ہوتا چلا گیا ،اتحاد اور وحدت اسلامی کے رشتے کمزور پڑتے گئے اس زوال اور ادبار سے عرب بھی محفوظ نہ رہ سکے۔
انقلاب فرانس ،جس کے اصولوں کے پس پردہ یہودی ذہن کا رفرما تھا ،اس کے پروردہ نپولین بونا پارٹ نے ۱۷۸۹؁ء میں مصر پر چڑھائی کی ،ازہر یونیورسٹی کو گھوڑوں کا اصطبل بنادیا ،قاہرہ سے اسکندریہ تک راستہ میں جو بستیاں اور شہر تھے ،انہیں تباہ کردیا ،فرانسیسی استعمار نے اپنے قدم مصر کی سرزمین پر جمالینے کے بعد وہاں شراب ،جوا ،فحاشی اور اخلاقی بے راہ روی کو رواج دینے کے لیے اپنے تمام وسائل جھونک دئیے تھے ۔مصر وشام میں عرب وغیر عرب مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے انہوں نے ’’مائیکل افلق ‘‘اور’’ لارنس ‘‘جیسے یہودیوں کی خدمات حاصل کیں اور انہوںنے عربی عوام میں عربی تفاخر اور ’’عرب قومیت‘‘کے نظریہ کو رواج دیا اور ان کی کوششوں سے عربوں کے قومی جذبات وعصبیت ابھر کر رفتہ رفتہ اس سطح پر پہنچ گئی کہ وہ ’’ابوجہل‘‘اور’’ابولہب ‘‘جیسے دشمنان اسلام کو اپنا ’’قومی ہیرو‘‘تصور کرنے لگے اور مصر میں ان کے نام سے کلب قائم کیے جانے گلے ۔یہ صورت حال مصر اور پورے عالم عرب کے لئے قومی عصبیت اور مغربی تہذیب وتمدن کی طرف پیش قدمی کرنے اور انقلاب فرانس کے ’’اصول ثلاثہ‘‘پر آنکھ بند کرکے ایمان لانے میں بڑی معاون ثابت ہوئی ۔
عربوں کو خلافت عثمانی ترکی سے برگشتہ کرنے کے لیے یہودی النسل لارنس نے ان کے اندر عرب قومیت کا جنون پیدا کرکے انہیں ’’ملت اسلامیہ‘‘سے ذہنی طور پر علیحدہ کرنے اور مغربی افکار ونظریات کادلدادہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے پیرو کار ساطع حضرمی جیسے شخص نے جس کی عجمیت کا حال یہ تھا کہ وہ فصیح عربی بولنے پر بھی قادر نہ تھا اور صہیونی تربیت کے نتیجہ میں اسلام سے سخت عداوت رکھتا تھا اس نے ’’عرب قومیت ‘‘کے نظریہ کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور یہودی عناصر کی امداد وتعاون کے سہارے اسے اس مہم میں بڑی حدتک کامیابی حاصل ہوئی ۔
’’عرب قومیت‘‘کا نظریہ جس کا سیکولر مفہوم اسلام دشمنی تھا ،یہودی ذہن کی پیدا وار تھا ،اور یہ نظریہ ان صہیونیوں نے ایک سازش کے تحت سیدھے سادے عربوں کو عثمانی خلافت سے برگزشتہ کرنے اور ملت اسلامیہ سے انہیں ذہنی طور پر علیحدہ کرنے کے لیے تراشا تھا ۔اس کا مقصد عربوں کو اس جامع عقیدہ (انما المؤمنون اخوۃ)سے دور کرنا تھا جس کی بناپر عرب متفقہ طور پر صہیونیت کا مقابلہ کرسکتے تھے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یہود اور دشمنان اسلام کے دانت کھٹے کرسکتے تھے ۔
عرب قومیت کا نظریہ عربوں کے دائمی انتشار کی ضمانت تھا ،کیونکہ یہ ایسے قوم پرست اور انقلاب پسند نوجوانوں سے عبارت تھا جس کے پاس نہ تو کوئی عقیدہ تھا اور نہ اصلیت اور تاریخی بیدار مغزی اس طرح انہیں بڑی آسانی سے چند نعرے سمجھائے جاسکتے تھے جنہیں وہ برابر دہراتے رہیں اور اپنی اپنی قوم کی عقلوں کو اسی میں الجھائے رہیں ۔عرب قومیت نے عربوں کو ذہنی طور پر انتہائی نیچی سطح پر پہنچا دیا ہے اور وہ عالم اسلام کی ذہنی قیادت کے منصب عظمیٰ کو چھوڑ کر محدود گروہی سیاست اور قومی وعلاقائی عصبیتوں کے دام وفریب میں اسیر ہوکر رہ گئے ہیں۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اسلام پر یہودی فکر کی یلغار

دشمنان اسلام یہود نے شروع ہی سے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف مختلف مورچے بنارکھے ہیں اور ہر سمت سے اسلام اور امت مسلمہ کو مغلوب کرنے کے لئے اور انہیں منتشر کرنے کی ہمہ وقت جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اگر ایک طرف انہوںنے امت مسلمہ میں تفریق ڈال کر خوارج،شیعہ اور دوسرے گمراہ فرقے بنانے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ پر یہ لوگ مسلمانوں کو قدم قدم پر زک دینے اور ان کے قصر واقتدار کو متزلزل ومنہدم کرنے کی مسلسل کاروائیاں کرتے رہے ہیں ۔تیسرا محاذانہوں نے مسلمانوں کے دینی اور فکری سرمائے کو غتر بود کرنے کے لیے انہوں ذخیرہ احادیث اور قرآن مجید کی مجمل آیات کی تفاسیر کو اپنا ہدف بنایا ،اور مختلف عوامل اور حالات کے تحت جھوٹی روایتیں وضع کرنے والے جعل سازوں اور مکذوبات وموضوعات کو سکہ رائج الوقت بنانے والے فتنہ پردازوں کا ایک عظیم گروہ اس امت مسلمہ میں پیدا ہوگیا جو یہودیوں کی اپنے اسلاف کے ذریعہ گھڑی ہوئی رُسوا کن جھوٹی کہانیوں کو ایک سازش کے تحت احادیث وتفاسیر کے ذخیرہ میں شامل کرنے لگا جو خلافِ عقل اور خلافِ تجربہ ومشاہدہ باتوں پر ایمان رکھتی ہے ۔
ان کی یہ سازش بھی بے انتہاء دورس ثابت ہوئی اور تفسیر واحادیث کے حوالہ سے ان کے یہ بے سروپا افسانے تمام دنیائے اسلام میں پھیل گئے کم پڑھے لکھے عوام واعظوں کی زبان سے سن کر یا چھوٹے چھوٹے رسالوں میں ان بے سروپا قصوں اور حکایتوں کو پڑھ کر انہیں ایک سچی حقیقت ماننے لگے اور ان کی صداقت پر ایمان ویقین رکھنے لگے ،کتنی حیرت ناک بات ہے کہ شام ویمن اور عرب کے یہودیوں کے تراشے ہوئے افسانے اور فاسد عقیدے ،آج ہندوستان(اور پاکستان)جیسے دوردراز ملک کے گاؤں گاؤں میں عوام الناس کے دل ودماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور ان کے زہریلے اثرات ان کے ایمان وعمل پر حاوی نظر آتے ہیں ،اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ’’اسرائیلی روایات‘‘کی جڑیں اسلامی معاشرے میں کتنی پھیلی ہوئی ہیں؟؟
اسرائیلی روایات کی اشاعت کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ جب قرآن میں انبیائے کرام کے بارے میں کوئی مجمل واقع بیان کیا جاتا تو مسلمانوں کو شوق ہوتا تھا کہ اس واقعہ کی مزید تفصیل معلوم ہو ۔اس لئے وہ ان مسلمانوں سے جاکر پوچھتے جو کبھی اہل کتاب کے مستند علماء میں شمار ہوتے تھے جیسے کعب احبار رضی اﷲ عنہ اور عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ وغیرہ ،یہ لوگ ان کی تشفی کے لئے اپنی معلومات کی حد تک یہودی مذہب کی روایات بیان کردیا کرتے تھے لیکن نہ تو دریافت کرنے والوں کو ان قصوں کی صداقت پر یقین ہوتا تھا اور نہ ہی سنانے والوں کا ایمان ان لغویات پر اسلام لانے کے بعد رہ گیا تھاصحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بعد میں آنے والوں کے سامنے ان قصوں کو بطور تذکرہ بیان کردیا پھر ان لوگوں نے اپنے بعد والوں کے سامنے اسی نیت سے بیان کردیا اس طرح یہ روایت چل پڑی ۔پھر دوسری اور تیسری صدی ہجری میں فن تفسیر کی تدوین ہوجانے پر یہی قصے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ،تابعین اور تبع تابعین کی روایتوں کے نام سے کتابوں میں جمع کردئیے گئے ۔اس کے بعد جن لوگوں کو عجائب وغرائب اور محیرالعقول قصوں سے دلچسپی تھی انہوں نے تلاش کرکے ایسے قصوں اور روایات کو اپنی کتابوں میں درج کردیا قرآن مجید کی قدیم ترین تفسیروں میں مقاتل بن سلیمان یا کلبی کی تفسیریں سرفہرست ہیں ،جن میں اسرائیلی روایات کا بڑاذخیرہ نظر آتا ہے ۔ان اسرائیلی روایات نے واقعات وقصص سے تجاوز کرکے بحث ومناظر ہ اور علم الکلام پر بھی اثر ڈالا اور اس کے نتیجہ میں بہت سے ایسے غلط عقیدے مسلمانوں میں پیدا ہوگئے جن کا اصل سرچشمہ یہودی رہے ہیں ،مثال کے طور پر خلق قرآن کا عقیدہ جس نے ایک زمانے میں اسلامی دنیا میں تہلکہ مچارکھا تھا انہوں یہودیوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آیا ۔ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں احمد بن ابی داؤد کے متعلق لکھا ہے کہ وہ خلق قرآن کا داعی تھا ۔اس نے یہ عقیدہ بشر المریسی سے لیا ،بشر نے جہم بن صفوان اور جہم نے جعد بن درہم سے لیا جعد نے ابان میں سمعان سے اور ابان نے لبید بن اعصم کے بھانجے اور داماد طالوت سے لیا طالوت نے یہ عقیدہ خود لبید بن اعصم سے لیا تھا یہی لبید بن اعصم وہ یہودی ہے جس نے رسول اکرم ﷺ پر سحر کیا تھا اور ایک عرصے تک آپ ﷺ پر اس سحر کا اثر دنیاوی امور میں رہا ۔یہ لبید بن اعصم خلق قرآن کا دعویدار تھا۔ (تاریخ ابن اثیر کامل ج۷ص۲۶)یہود کو قرآن او رصاحب قرآن محمد رسول اﷲﷺ سے شدید دشمنی تھی اس لئے انہوں نے قرآن کی بے لوث صداقت کو داغدار بنانے کے لئے اپنی مذموم کوششیں شروع کردیں انہوںنے زبردست سازش کی کہ قرآن میں جن واقعات کو مختصر بیان کیا گیا ہے ان کی تفصیلات میں جھوٹے قصے ،مہمل باتیں ،گندے اور ناپاک واقعات ،خلافِ عقل ومشاہدہ اور محیر العقول کہانیاں گھڑ کر مسلمانوں میں مختلف طریقوں سے پھیلادیں تاکہ قرآن میں بیان کردہ مجمل واقعات کے ذکر کے وقت یہ تفصیلات بھی قرآن سے جوڑ ی جائیں اس طرح قرآن کی صداقت بڑی آسانی سے داغدار ہوسکتی ہے۔
 
Top