1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘

'دعا' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 15، 2014۔

  1. ‏مارچ 15، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    '' ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ''
    DaroodShareefonFriday.gif
    ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :

    " ﺍﮮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﮱ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﻭﮞ ؟ "

    ﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
    " ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺗﮭﺎﺉ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ؟ "

    ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
    " ﺟﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩە ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮱ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
    ’’ ﻧﺼﻒ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ؟ ‘‘

    ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ ‘‘

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
    ’’ ﺩﻭ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ؟ ‘‘

    ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ۔ ‘‘

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
    ’’ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘

    ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
    ’’ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮﮔﺎ۔ ‘‘

    (ﺍﺳﮯ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ۔ ) ﺻﺤﯿﺢ ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ ‘ ﻟﻼﻟﺒﺎﻧﯽ ‘ ﺍﻟﺠﺰﺀ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 16، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 16، 2014 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    jaza.png
     
  4. ‏جنوری 05، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دس+دس+دس


    10690199_742048615863410_159768715166733254_n.jpg


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کر دیتا ہے

    --------------------

    (نسائي ، کتاب السھو : 1297 ، ، الصحيح المسند : 124 ، ،صحيح الجامع : 6359 ، ، صحيح ابن حبان : 904 ، ، صحيح الترغيب : 1657 )
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 08، 2015 #5
    سلف الصالحین کا منہج

    سلف الصالحین کا منہج مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُبَىٌّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلاَةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلاَتِي فَقَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ الرُّبُعَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ النِّصْفَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَالثُّلُثَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَجْعَلُ لَكَ صَلاَتِي كُلَّهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.



    سیدنا ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:

    "ﺍﮮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﮱ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﻭﮞ ؟"

    ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:
    "ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺗﮭﺎﺉ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ؟ "

    ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
    " ﺟﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩە ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮱ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:
    "ﻧﺼﻒ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ؟ "

    ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:
    " ﺩﻭ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ؟ "

    ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
    " ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ۔ "

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:
    " ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "

    ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
    "ﯾﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮﮔﺎ۔"

    ﺍﺳﮯ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ۔

    حوالہ: سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2457، سلسلة الاحدیث الصحیحة: 954، فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیه والسلم رقم: 13، 41)

    یاد رہے اگرچہ امام ترمذی رحمہ اللہ اور الشیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن کہا مگر الشیخ حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب انوار الصحیفة فی الاحادیث الضعیفه من السنن الاربعة صفحہ: 258 رقم: 2457 میں سفیان الثوری رحمہ اللہ کے عنعن کی وجہ سے اسنادہ ضعیف کہا. جیسا کہ اوپر سند میں انڈرلائن کر دیا گیا ہے، تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے سفیان بن سعید بن مسروق الثوری کو رقم: 2445 طبع دار الیسر میں مدلس لکھا. سفیان الثوری رحمه اللہ سے متعلق طلباء اورعلم سے محبت کرنے والے حضرات حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ کی تحقیقی اصلاحی اور علمی مقالات جلد: 3 صفحہ 306 تا 322 ضرور دیکھیں واللہ اعلم.​
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 09، 2015 #6
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ‏جنوری 09، 2015 #7
    سلف الصالحین کا منہج

    سلف الصالحین کا منہج مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    وَٱنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
     
  8. ‏جنوری 09، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    حضرت ابی بن کعب رضی الله تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا : " اے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، اپنے وقت میں سے کتنا وقت درود کے لئے وقف کروں ؟ "
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " جتنا تو چاہے۔"
    میں نے عرض کیا: " کیا ایک چوتھائی صحیح ہے ؟ "
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " جتنا چاہے، لیکن اگر اس سے زیادە کرے تو تیرے لۓ اچھا ہے۔"
    میں نے عرض کیا :’’ نصف وقت مقرر کر دوں ؟‘‘
    آپ الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :" جتنا تو چاہے‘ لیکن اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔‘‘
    میں نے عرض کیا :’’ دو تہائی مقرر کر دوں ؟‘‘
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : " جتنا تو چاہے‘ لیکن اس سے زیادہ کرے تو تیرے ہی لئے بہتر ہے۔‘‘
    میں نے عرض کیا : ’’ میں اپنا سارا وقت درود کے لئے وقف کرتا ہوں۔‘‘
    اس پر رسول اللہ الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’ یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کے لئے کافی ہوگا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔‘‘
    اسے ترمذی نے روایت کیا،، (صحیح سنن الترمذی‘ للالبانی‘ الجزء الثانی‘ رقم الحدیث)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس حدیث کو صرف علامہ البانی ؒ نے ہی حسن نہیں کہا ،بلکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فتح الباری میں اسے ’’حسن ‘‘ کہا ہے ۔
    اور علامہ المنذری ؒ نے’’جید ‘‘ کہا ہے ۔اور مسند احمد کی تخریج (35/167 )میں علامہ ارناوط نے بھی اسے ۔حسن ۔ ہی لکھا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفي تحفة الأحوذي: وأخرجه أحمد والحاكم وصححه، وفي رواية لأحمد عنه قال: قال رجل: يا رسول الله أرأيت إن جعلت صلواتي كلها عليك؟ قال: إذا يكفيك الله تبارك وتعالى ما أهمك من دنياك وآخرتك. قال المنذري: وإسناد هذه جيد. انتهى. قال القاري: وللحديث روايات كثيرة، وفي رواية قال: "إني أصلي من الليل" بدل "أكثر الصلاة عليك" فعلى هذا قوله فكم أجعل لك من صلاتي أي بدل صلاتي من الليل. انتهى.
    وأما معنى قوله: (فكم أجعل لك من صلاتي)، أي بدل دعائي الذي أدعو به لنفسي قاله القاري، وقال المنذري في الترغيب: معناه أكثر الدعاء، فكم أجعل لك من دعائي صلاة عليك، (قال: ما شئت)، أي اجعل مقدار مشيئتك، قوله: (قلت أجعل لك صلاتي كلها)، أي أصرف بصلاتي عليك جميع الزمن الذي كنت أدعو فيه لنفسي، (قال إذن تكفى همك)، والهم ما يقصده الإنسان من أمر الدنيا والآخرة، يعني إذا صرفت جميع أزمان دعائك في الصلاة علي أعطيت مرام الدنيا والآخرة.
    انتهى ملخصاً من تحفة الأحوذي.
    -----------------------------------------

    عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رضي الله عنه قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ : مَا شِئْتَ . قَالَ قُلْتُ الرُبُعَ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قُلْتُ النِّصْفَ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قَالَ قُلْتُ فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قُلْتُ أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا ؟ قَالَ : إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ .

    قال الترمذي : حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وحسنه المنذري في (الترغيب والترهيب) ، وكذا حسنه الحافظ في "الفتح" (11/168) ، وأشار البيهقي في "الشعب" (2/215) إلى تقويته ، وصححه الألباني في "صحيح الترغيب" (1670) وغيره .
    هذا الحديث رواه الترمذي (2457) وأحمد (20736) وابن أبي شيبة في "المصنف" (8706) وعبد بن حميد في "المسند" (170) والبيهقي في "الشعب" ((1579)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فضل الصلاة على الرسول.jpg
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 09، 2015 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پیارے نبی ﷺ پر کثرت سے درود شریف پڑھنا قرآن و حدیث سے ثابت و واضح ہے ۔اور یہ بات عام طالب علم بھی جانتے ہیں ۔
    اور اس کے بے شمار اور عظیم فضائل و برکات بھی اہل الحدیث نے بڑے اہتمام اور ذوق و شوق سے نقل فرمائے ہیں

    محمد.jpg
     
  10. ‏جنوری 09، 2015 #10
    سلف الصالحین کا منہج

    سلف الصالحین کا منہج مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    13



    عرض ہے کہ اس روایت میں اصل مسئلہ معنعن سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں جن کے بارے میں کم و بیش 22 حوالیں دیکھیں:

    تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات از حافظ زبیر رحمہ اللہ جلد 3 صفحہ 306 تا 313.



    باقی طبقاتی تقسیم کے متعلق حافظ زبیر رحمہ اللہ کی راۓ:


    حافظ ابن حجر کی طبقاتی تقسیم

    بعض لوگ حافظ ابن حجر العسقلانی کی طبقات المدلسین کی طبقاتی تقسیم پر بضد ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ حافظ ابن حجر نے سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ دونوں کو ایک ہی طبقے (طبقۂ ثانیہ) میں اوپر نیچے ذکر کیا ہے۔

    سفیان بن عیینہ نے ایک حدیث ’’عن جامع بن ابی راشد عن ابی وائل قال حذیفة…… ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: لا اعتکاف الا فی المساجد الثالثة: المسجد الحرام و مسجد النبی صلی الله علیه وسلم و مسجد بیت المقدس………‘‘ بیان کی ہے، جس کا مفہوم درج ذیل ہے:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مسجدوں کے علاوہ اعتکاف نہیں ہوتا: مسجد حرام، مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصیٰ: بیت المقدس۔ (دیکھئے شرح مشکل الآثار للطحاوی ۲۰۱/۷ ح۲۷۷۱، السنن الکبریٰ للبیہقی ۳۱۶/۴، سیر العلام النبلاء للذہبی ۸۱/۱۵ وقال الذہبی: ’’صحیح غریب عال‘‘! معجم الاسماعیلی:۳۶۲)

    سفیان بن عیینہ سے اسے تین راویوں: محمود بن پدم المروزی، ہشام بن عمار اور محمد بن الفرج نے روایت کیا ہے اور یہ سب صدوق (سچے راوی) تھے۔

    جامع بن ابی راشد ثقہ فاضل تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۸۸۷ وھو من رجال السۃ)

    ابو وائل شقیق بن سلمہ ثقہ تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۲۸۱۶ وھو من رجال الستۃ و من المخضرمین)

    ی روایت سفیان بن عیینہ کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ جو لوگ سفیان بن عیینہ کے عنعنہ کو صحیح سمجھتے ہیں یا حافظ ابن حجر کے طبقۂ ثانیہ میں مذکورین کی معنعن روایات کی حجیت کے قائل ہیں، انھیں چاہئے کہ وہ تین مساجد مذکورہ کے علاوہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہونے کا انکار کردیں۔ دیدہ باید!

    شیخ البانی اور طبقاتی تقسیم

    شیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کا تدلیس کے بارے میں عجیب و غریب موقف تھا۔ وہ سفیان ثوری اور اعمش وغیرہما کی معنعن روایات کو صحیح سمجھتے تھے، جبکہ حسن بصری [بقۂ ثانیہ عندابن حجر ۲/۴۰] کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے تھے۔

    مثلاً دیکھئے ارواء الغلیل (۲۸۸/۲ ح۵۰۵)

    بلکہ شیخ البانی نے ابو قلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی / طبقۂ اولیٰ عند ابن حجر ۱/۱۵) کی معنعن حدیث پر ہاتھ صاف کر لیا۔ علامہ البانی نے کہا:
    ’’اسناده ضعیف لعنعنة ابی قلابة وهو مذکور بالتدلیس………‘‘

    اس کی سند ابو قلابہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے اوروہ (ابو قلابہ) تدلیس کے ساتھ مذکور ہے…… (حاشیہ صحیح ابن خزیمہ ج۳ ص۲۶۸ تحت ح۲۰۴۳)

    حافظ ابن حجر نے حسن بن ذکوان (۳/۷۰) قتادہ (۳/۹۲) اور محمد بن عجلان (۳/۸۹) وغیرہم کو طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے جبکہ شیخ البانی ان لوگوں کی احادیث معنعنہ کو حسن یا صحیح کہنے سے ذرا بھی نہیں تھکتے تھے۔ دیکھئے صحیح ابی داود (۳۳/۱ ح۸،سنن ابی داود بتحقیق الالبانی: ۱۱، روایۃ الحسن بن ذکوان) الصحیحۃ (۲۰۲/۴ ح۱۶۴۷، روایۃ قتادہ) اور الصححیہ (۱۰۱/۳ ح۱۱۱۰، روایۃ ابن عجلان)

    معلوم ہوا کہ البانی صاحب کسی طبقاتی تقسیم مدلسین کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ اپنی مرضی کے بعض مدلسین کی معنعن روایات کو صحیح اور مرضی کے خلاف بعض مدلسین (یا ابریاء من التدلیس) کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کا کوئی اصول یا قاعدہ نہیں تھا لہٰذا تدلیس کے مسئلے میں ان کی تحقیقات سے استدلال غلط و مردود ہے۔

    مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (اہل حدیث) ان ابراہیم نخعی(طبقۂ ثانیہ ۲/۳۵) کی عن والی روایت پر جرح کی اور کہا: اس کی سند میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں، حافظ (ابن حجرض نے انھیں طبقات المدلسین میں سفیان ثوری کے طبقے میں ذکر کیا ہے اور انھوں نے اسے اسود سے عن کے ساتھ روایت کیا ہے لہٰذا نیموی کے نزدیک یہ اثر کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ (ابکار المنن ص۲۱۴ مترجما، دوسرا نسخہ بتحقیق ابن عبدالعظیم ص۴۳۶)

    اس سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث علماء کے نزدیک بھی یہ طبقاتی تقسیم قطعی اور ضروری نہیں ہے بلکہ دلائل کے ساتھ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔



    تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات از حافظ زبیر رحمہ اللہ جلد 3 صفحہ: 316، 317

    واللہ اعلم.
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں