1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

[emoji425] فتح الباری کی اہمیت کیوں ہے؟کیا میں اسے حل کر سکتا ہوں؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏جون 22، 2019۔

  1. ‏جون 22، 2019 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    *از محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی*

    میرے اندر خوف ڈال دیا گیا ہے کہ میں عربی کتابیں نہیں پڑھ سکتا اس لئے کہ میرے صرف اور نحو بڑے کمزور ہیں.میں تو سو فیصد غلطی کر جاؤنگا.میں تو اردو کتابوں کو ڈھنگ سے پڑھنے کا قابل نہیں ہوں چہ جائے کہ میرے ہاتھ میں کوئی عربی کتاب تھما دی جائے.

    تجزیہ
    ــــــــــــــ
    کیا ہم نے یہ سوچا کہ بس "صرف اور نحو" جان لینے سے عربی کتابوں کا حل ممکن ہے بھی یا نہیں؟کسی عربی کتابوں کے رسیا سے سوال کریں تو جواب ملیگا؛اگر صرف و نحو سے کام بنتا تو کیا 'احمد امین اور طہ حسین' جیسے لوگ بھی بڑے پائے کے عالم نہ شمار کئے جاتے؟قواعد کا علم ضروری تو ہے لیکن سچ جانئے کہ اس میں حقیقی پختگی تب حاصل ہوگی جب عربی کتابوں کا مطالعہ بکثرت کیا جائے.عربی زبان کے بنیادی قواعد جان لینے کے بعد عربی کتابوں میں رہتے ہوئے اس کو سمجھنے کی پوری کوشش میں لگے رہنا پڑتا ہے،خاص طور پر الفاظ کے معانی اور شرعی اصطلاحات کو سمجھنا پڑتا ہے. کوئی اردو مشکل کتاب کو سمجھنے میں جو دماغ کا استعمال ہم کرتے ہیں اتنا ہی دماغ کا استعمال عربی کتابوں میں بھی کرنا پڑتا ہے.تب جا کر کچھ علمی فہم و بصیرت ہم میں پیدا ہوتی ہیں.

    حقیقت یہ ہے کہ آج ادباء کی ضرورت کم علماء کی ضرورت کہیں زیادہ ہے.اردو کی ہزاروں کتابیں پڑھ لینے کے باوجود بھی وہ اسلامی علوم کا استیعاب واحاطہ بڑا ہی مشکل ہے جو علوم بس فتح الباری جیسی ایک کتاب میں موجود ہیں.

    یوں ہی نہیں کہا گیا "لا هجرة بعد الفتح".یعنی فتح الباری کے بعد کسی دوسری حدیث کی شرح کی خاص ضرورت نہیں. فتح الباری میں تفسیر،سیرت،مفہوم حدیث، تاریخ،اسماء الرجال،منہج تحقیق،نقد الرجال،عربی قواعد،فلاسفہ اور مناطقہ کے اصول،,اصول فقه و حديث،اعراب، فقہ،عالی زبان و ادب گویا سب کچھ ہے.

    میں نے عمدة القاري پر نظر ڈالا، نیل الاوطار پڑھا،مرقات کا مطالعہ کیا،تحفہ الاحوذی دیکھا،عون المعبود،اردو شروحات میں سلیم اللہ خان رحمہ اللہ جیسی شخصیت کی کشف الباری کو پڑھتا چلا گیا.اس میں چیدہ چیدہ ہی نکات تھے جو فتح الباری سے ماخوذ نہیں تھے.ورنہ میں نے اکثر اور بیشتر حصہ ہو بہو فتح سے منقول پایا.
    اصل میں فتح الباری سے محبت شیخ یونس رحمہ اللہ کو سنتے سنتے ہوئی.پھر جب تحقیق وغیرہ کا کام کیا تو بےتحاشا زبان سے وہی بات جاری ہوگئی جو شوکانی رحمہ اللہ نے بھی کہی تھی *"لا هجرة بعد الفتح"*.

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں