• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آئن اسٹائن کی تھیوری پرکھنے کی تیاری

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207

جرمن شہر فریڈرش ہافن میں قائم ’ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس‘ سینٹر کے انجینیئرز ایک ایسے کلاک یا جوہری گھڑی کی تیاری میں مصروف ہیں جسے اب تک کا سب سے درست کلاک قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کلاک کی تیاری کے بعد اس کے ذریعے خلا سے ایک ایسے عمل کو جانچنے کی کوشش کی جائے گی جس کا ذکر آئن اسٹائن کی ایک نظریے، جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا ’نظریہ اضافت‘ میں کیا گیا ہے۔
یہ سسٹم جسے ’سپر کلاک‘ قرار دیا جا رہا ہے، دراصل دو اٹامک کلاکس یا جوہری گھڑیوں پر مشتمل ہو گا جن کا لیزر اور مائیکروویو کے ذریعے زمین سے رابطہ ہو گا۔ یورپیئن اسپیس ایجنسی کے لیے تیار کیے جانے والے اس سپر کلاک کو ACES کا نام دیا گیا ہے یعنی ’اٹامک کلاک اینسمبل اِن اسپیس‘۔
ایئربس گروپ کے ڈویژن ’ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس‘ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نظام کو 2017ء میں خلا میں پہنچایا جائے گا اور اسے زمین کے مدار میں گردش کرتے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے منسلک ’یورپیئن کولمبس ماڈیول‘ سے جوڑا جائے گا۔
اس نظام کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے منسلک ’یورپیئن کولمبس ماڈیول‘ سے جوڑا جائے گا
ACES کس حد تک وقت کی درست پیمائش کرے گا یہ اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے ریکارڈ کیے جانے والے وقت میں 300 ملین سالوں کے بعد محض ایک سیکنڈ کا فرق پیدا ہونے کا امکان ہے۔
جرمنی میں پیدا ہونے والے بیسویں صدی کے معروف ترین ماہر طبیعات البرٹ آئن اسٹائن نے 1921ء میں فزکس کا نوبل انعام بھی حاصل کیا تھا۔ یہ آئن سٹائن ہی تھے جنہوں نے 1905ء میں ایٹم کے وجود کو ثابت کیا۔ یہ دریافت اگے چل کر کوانٹم تھیوری کی وجہ بنی جو فزکس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔
آئن اسٹائن کی طرف سے پیش کیے گئے نظریہ اضافت یا تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے مطابق وقت کے گزرنے کی رفتار کا انحصار کشش ثقل پر ہوتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق جیسے جیسے آپ زمین جیسے کسی بڑے سیارے کے قریب پہنچتے ہیں وقت کے گزرنے کی رفتار کم ہوتی جاتی ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق خلا میں پہنچائے جانے کے بعد سائنسدان آٹھ ماہ کے عرصے کے دوران ACES کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے وقت کا موازنہ زمین پر موجود ایٹمی کلاک کے ساتھ کریں گے جس کے بعد آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کے بارے میں کوئی حتمی بات سامنے آ سکے گی۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
انکل کیا آپ اس مضمون کو آسان الفاظوں میں سمجھائیں گے کہ یہ کیا ہے اور اس میں کون سی بات کو مینشن کیا گیا ہے، کیونکہ تحریر پڑھنے کے بعد میرے جیسے ایک عام آدمی کو ککھ سمجھ نہیں آیا والی کیفیت ہے۔ابتسامہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
انکل کیا آپ اس مضمون کو آسان الفاظوں میں سمجھائیں گے کہ یہ کیا ہے اور اس میں کون سی بات کو مینشن کیا گیا ہے، کیونکہ تحریر پڑھنے کے بعد میرے جیسے ایک عام آدمی کو ککھ سمجھ نہیں آیا والی کیفیت ہے۔ابتسامہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اگر آپ کو طبیعات یعنی فزکس سے کوئی دلچسبی ہے تو مزید جاننے کے لیے ممکن حد تک آسان الفاظ میں ایک مضمون’ہم اضافیت اور کائنات‘شیئر کیا تھا، بہت ممکن ہے کہ اس کو پڑھنے سے کچھ نا کچھ بنیادی باتیں سمجھ ضرور آئیں گی، ان شاء اللہ!
 
Top