• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آئیے نحو سیکھیں

شمولیت
فروری 21، 2019
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
17
✍⁩ ہدایت اللہ فارس
___________________________
*عدد و معدود سے متعلق ایک قاعدہ

سو سے اوپر کے اعداد کی ترتیب میں پہلے سب سے بڑا عدد پھر کم کرتے ہوئے سب سے چھوٹا عدد استعمال کرتے ہیں جب عدد کے ساتھ تمیزکا بھی ذکر ہو تو۔۔ مثال کے طور پر "ایک ہزار سات سو سات لڑکے " کہنا ہو تو کہیں گے "الف وسبع مائة وسبعة اولاد" (یہاں "اولاد" تمیز ہے) اسلئے پہلے بڑا عدد پھر بتدریج چھوٹا عدد استعمال کیا گیا ہے
اگر عدد کے ساتھ تمیز نہ ہو تو اعداد کی ترتیب اسکے برعکس ہوگی یعنی سب سے پہلے چھوٹا عدد اور بتدریج سب سے بڑا عدد آخر میں آتا ہے جیسے اگر "1654 " کا عربی ترجمہ اس طرح ہوگا "سنة أربع وخمسين وست مائة والف"
اسمیں عدد کے ساتھ تمیز نہ ہونے کی وجہ سے پہلے چھوٹا عدد پھر بڑا استعمال کیا گیا ہے
(یہ بات بھی یاد رہیں کہ جو عدد سب سے آخر میں آتا ہے تمیز اسی عدد کے اعتبار سے آتی ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔---------........................
*۔لفظ" كلا" کا استعمال کئے طرح سے ہوتاہے

1 ۔باز رکھنے اور جھڑکنے کے موقع کا حرف جیسے ۔ "کلا إنها كلمة هو قائلها" (ہرگز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہ رہے ہیں )
اشارہ ہے انکے اس قول کی طرف "رب إرجعون لعلي اعمل صالحا" (کلا یہاں زجر وتوبیخ کے معنی میں ہے)
2 ۔"کلا" حقا (یقین)کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے ۔"کلا إن الإنسان ليطغي "(یقینا انسان سرکشی کرتا ہے)
( اس میں کچھ اختلاف کیا ہے کہ "کلا" جب حقا کے معنی میں ہو تو کلا کے بعد "أن"مفتوحہ ہوناچاہیے "إن"مکسورہ نہیں کیونکہ جب"ألا" حقا کے معنی میں آتا ہے تو اس کے بعد "أن"مفتوحہ ہوتاہے۔۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں "کلا" کو اس "ألا"کے معنی میں لیا جائے جو شروع کلام میں آتا ہے، اور اس کے بعد "إن"مکسورہ آتاہے جیسے "ألاإن أولياء الله لا خوف عليهم...(تفصیل کے لیے "شذور الذهب " کا مطالعہ مفید ہوگا)
3 ۔"کلا" "إي" (نعم،یعنی ہاں )کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ وہ "قسم"سے پہلے ہو جیسے ۔ "كلا والقمر" (ہاں قسم ہے چاند کی) یہاں "واؤ" قسم کیلئے ہے اور اس سے پہلے کلا آیاہے جو کہ "ای"(نعم) کے معنی میں ہے (لہذا یہاں "ہرگز نہیں قسم ہے چاند کی" کہنا درست نہیں ہے)

*۔کلا "الا" کے معنی میں بھی آتاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔--------..............................
"قد" کا استعمال

*۔۔قد عموما چار معانی کیلئے آتا ہے
1 ۔تحقیق ۔ یہ مضارع اور ماضی دونوں پر داخل ہوتا ہے مضارع جیسے "قديعلم ما أنتم عليه"(یقینا اللہ ان حالات کو جانتا ہے جن پر تم ہو)
ماضی جیسے۔ "لقد خلقنا الانسان۔۔
*۔اسی طرح جس جگہ بھی "قد" لام ۔کے بعد آئے گا وہ تحقیق کیلئے ہوگا
2 ۔قد "تقریب"کیلئے آتا ہے اور یہ ماضی کیلئے خاص ہے جیسے۔ "قد قامت الصلوٰۃ" (أى قد حان وقتها)
اسی وجہ سے جب ماضی کے ساتھ"قد" ہو تو حال کی جگہ پر اس کا آنا (ماضی کا حال بننا) صحیح ہوجاتا ہے ۔جیسے۔"رأيت زيدا قد عزم علي الخروج" (أی عازما علیہ)
3 ۔قد " تقلیل" کے لئے آتا ہے اور یہ مضارع کے ساتھ خاص ہے جیسے "قد یصدق الکذوب" (کبھی کبھار جھوٹا بھی سچ بول دیتا ہے)
4 ۔قد "توقع" کے لئے آتا ہے اور یہ ماضی کے ساتھ خاص ہے اور یہ اس سوال کے جواب میں آتا ہے جس سوال کے جواب کا سائل (سوال کرنے والا) منتظر اور امیدوار ہوتا ہے
یعنی کوئ شخص کسی فعل کے بارے میں (یاتو) سوال کرے یا (کسی کے بارے میں)معلوم ہوکہ وہ اس فعل کی خبر کا منتظر (و امیدوار ہے)تو کہا جائے گا "قد فعل" ھل فعل ۔وغیرہ۔کے جواب میں
اور جب خبر ابتدائی (مستقل اور بلا سوال اور بلا انتظار کے) ہو تو "فعل کذا وکذا" کہتے ہیں "قد فعل" نہیں ۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب
نوٹ: مزید جانکاری کے لیے ہمارے فیس بک پیج
"H F Zeeshan page" کو فالو کریں
 
Top