• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آسمان و زمین کی تخلیق پر ملحدین کے اعتراضات کے جوابات

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
کیا آسمان زمین کے بعد بنا یا آسمان پہلے تھا اور زمین بعد میں بنی ؟


ایک مشہور موضوع جو اکثر مختلف الحادی فورمز پر اٹھایا جاتا ہے ۔ ایسے ہی ایک فورم پر ایک خود ساختہ علامہ اور خود رو سائنسی محقق کی تحریر لکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے دین الحاد (کذب و ریا ) پر چلتے ہوۓ اس معاملے پر کفر (انکارحق) اورانتہائی کذب وریا کے ساتھ تحقیق کی کیونکہ اگر وہ حق پرست ہوتے یا حق ان کا مطمع نظر ہوتا تو وہ بہت سی حقیقتوں پر پردہ نہ ڈالتے جیسے خود ان کی ہی سائنس ان کے کذب کا منہ بولا ثبوت ہے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ سماء قرآن اور سائنس دونوں کے تناظر میں ہے کیا اور کیا خود قرآن یا اس کو ماننے والے اسے کوئی کنکریٹ یا کسی اور ٹھوس طرح کی ہی چھت مانتے ہیں یا سائینس یا اس کے ماننے والے کلی طور پر آسمان کے ہونے کے منکر ہیں ؟

آسمان کا لفظ قرآن میں متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے۔۔ خود سائنس دان تک اجرام فلکی کے لئے

" celestial bodies"

کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، اس کے معانی اگر تلاشےجائیں تو یہ معانی بنتے ہیں

"celestial"

adjective:

positioned in or relating to the sky, or outer space as observed in astronomy.

"a celestial body"

synonyms: (in) space, heavenly, astronomical, extraterrestrial, stellar, planetary, in the sky, in the heavens; More

antonyms: terrestrial, earthly

belonging or relating to heaven.

تو جناب جب آسمان سائنس کی رو سے موجود ہی نہیں تو پھر یہ اصطلاحات کیوں استعمال کی جاتی ہیں جب کسی ایسے جسم کا زکر کرنا مقصود ہو جو ہمارے اوپر یا خلاء میں معلق یا حرکت پذیر ہیں ؟ یقینا" یہ مجبوری ہے الفاظ و اصطلاحات کی۔ کیونکہ انسان ہر چیز کو اس کی شکل اور اس کے خواص سے معلوم کر کے اس کو پہچاننے کے لئے نام رکھتا ہے اکثر سائنس میں اور عام زندگی میں بہت کچھ ایسا ہے پیش آتا ہے جس کی درست توجیح یا درست نام نہ تو اہل زبان ہی پکار سکتے ہیں نہ ہی سائینس تو وہاں ایسے علامات اور استعارات کی ضرورت پڑتی ہے جو وسیع المعانی ہوں سائنس کی رو سے تو ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ آسمان یا سیلسٹل باڈیز کی کیا وضاحت کرتی ہے اب ہم قرآن کی رو سے بیان کرتے ہیں :

...........۔ سَمَاۂُ ( س۔ م۔ و ) :۔ آسمان کو کہتے ہیں اور یه لفظ بلندی کے لیے بھی استعمال ھوتا ھے کیونکہ وہ زمین پر بلند اور سایہ فگن ھوتا ہے۔ نیز قرآنی اصطلاح میں اُس چیز کو بھی جو تُمہارے اُوپر چھائی ھوئی اور سایہ فگن ھو ، اُسے سَمَاۂُ کہینگے۔

چاھے گھر کی چھت ھو

چاھے بادل ھو

چاھے شھاب ثاقب ھو

جنت ھو

یا دوسرے سیارے

بارش بادل سے برستی ہے اللہ نے فرمایا ہے وانزلنا من السماء ماءا۔۔۔

اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ الذی خلق سبع سماوات ومن الارض مثلھن نیز بار بار سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے

پھر یہ دیکھیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے، "تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ"

نیز اللہ فرماتا "ثم استوی علی العرش"

مزید اس کائنات کی توسیع کی حقیقت بھی قران میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے، اور اس کے لئے یہی سماء کا لفظ مستعمل ہے

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (51:47)"

آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں

ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا(41:11)

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا (21:30)

کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جداکیا۔"

ان تمام جگہ سماء کا لفظ ہے، غور طلب ہے کہ اسے ارض کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے، ہمارے لئے مرکز زمین ہے، سو باقی جو کچھ بھی ہے اس پر آسمان ہی کا اطلاق کرتے ہیں خواہ وہ گریٹر سپیس ہے یا ہمارا ایٹمیسفئیر (ارد گرد کا ہوائی ماحول)۔اب اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اوپر جو کچھ ہے اسے سماء کہا جاتا ہےچنانچہ گھر کی ہر چھت بھی سَمَاۂُ کہلاتی ہے۔ راغب نے کہا ہے کہ ہر چیز اپنے سے نچلی چیز کی نسبت سے سَمَاۂُ کہلاتی ہے اور اپنے سے اُوپر کی چیز کی نسبت سے اَرضُ ۔ اسی مادہ سے اِسم کے معنی ہیں کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے۔ پھر نام کو بھی اِسم کہتے ہیں، اس کی جمع اَسمَاۂُ ہے۔ راغب نے وضاحت کی ہے کہ جب تک مسمٰی کا علم نہ ھو اس کے اسماۂ کا تعارف کُچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو علمِ اشیاۂ کی ایسی صلاحیت سے نوازا گیا ہے کہ وہ ہر چیز کو اس کی شکل اور اس کے خواص سے معلوم کر کے اس کو پہچاننے کے لئے نام رکھتا ہے۔

قرآن کریم میں ہے کہ ( ٢:٣١ ) " آ دم کو تمام اشیاۂ کے نام سکھا دئے گئے۔"

آدم کو جو علمُ الاسماۂ دیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان میں اشیائے کائنات کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی استعداد رکھ دی گئی ہے یہاں ایک تنبیہ کرنا چاہوں گا کہ اسم کے بارے میں اختلاف ہے، راجح بات یہ ہے کہ یہ سما یسمو سے نہیں وسم یسم سے مشتق ہے (اگر مشتق ہے تو) سمۃ کا مطلب علامت، اور اسم علامت ہی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔۔

تو ایسے میں ہم انگلش لفظ سیسٹل باڈی کی طرح عربی لفظ سما کو بھی ایک استعارہ یا علامت کے طور پر ہی لیتے ہیں نہ کہ کسی ٹھوس چھت کے مزید ایک بات یاد رکھیں کہ جس چیز تک سائنس داں پہنچ نہ سکیں، اس سے لازما اس چیز کا نہ ہونا لازم نہیں آتا ہے۔۔


اب ہم اس ڈاکیومینٹری کی رو سے دیکھ رہے ہیں کہ بیگ بینگ کے بعد ڈسٹ اور پتھر باہمی ٹکراؤ اورکشش سے یکجا ہوکر نئے ستارے اور سیارے وجود میں آرہے تھے انہی میں سے ایک ہماری زمین بھی ہے اب چونکہ ملحدین کا دعوی ہے کہ آسمان کا تو حقیقت میں کچھ وجود ہی نہیں ہے بلکہ یہ جو نیلا آسمان اوپر نظر آرہا ہے دراصل ہمارے زمینی ایٹمس فئیر کی وجہ سے نیلا نظر آتا ہے تو ایسے میں جب یہ زمین گرم لاوہ تھی یا اپنے تشکیلی مراحل سے گزر رہی تھی اس وقت وہ ایٹمس فیئر جس کی وجہ سے نیلا آسمان نظر آتا ہے وہ موجود ہی نہ تھا تو پھر قرآن پاک کی ان آیات پر

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُ‌ونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْ‌ضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ ﴿٩﴾ وَجَعَلَ فِيهَا رَ‌وَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَ‌كَ فِيهَا وَقَدَّرَ‌ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْ‌بَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ ﴿١٠﴾ ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْ‌ضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْ‌هًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ ﴿١١﴾ فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَىٰ فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَ‌هَا ۚ وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ‌ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿١٢﴾

ترجمہ:کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں ۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس . نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں ۔

اعتراض چہ معنی کیونکہ اسی ایٹمیس فئیر کی وجہ سے تو ہمارا زمینی آسمان نیلا نظر آتا ہے؟ پھر جراعت تحقیق کے علامہ صاحب نے جو آیات پیش کی ہیں انہیں زرا اوپر دیۓ گۓ لنک میں موجود ویڈیو سے موازنہ کر کے دیکھیں خاص کر اس وقت زمین پر وقت کی کیا رفتار تھی یا پھر زمین کا ایٹمیسفئیر کیسے اور کب بنا جو کہ ابتداء میں نہیں تھا پھر وہ دھواں مطلب لفظ دخان کا کیا مطلب ہے عربی میں زرا وہ دیکھا جاۓ پھر اسی آیت میں موجود آسمان مطلب وہ کالا آسمان یا وہ گریٹر سپیس جو ہر سیلسٹل باڈی سے اوپر ہے اور اسی وجہ سے اسے بھی آسمان ہی کہ کر مخاطب کیا جاتا ہے یہ خلا کون سی خصوصیات کا حامل ہے جیسے زمین کے ساتھ کسی کام کو کرنے کا کہا گیا پھر دیکھنے والا کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ آیت کہ رہی ہے کہ ہم نے آسمان اور زمین دونوں کو کہا کہ آجاؤ اور پھر ہم نے سات آسمان بناۓ تو اے عقل کے اندھو کیا اب بھی نہیں سمجھتے کہ پہلے سے موجود آسمان کو ہی کہا جارہا ہے ایک اور سات آسمانوں کی تخلیق کے لیے زمین کے ساتھ مل کر کام کرو مطلب وہ اثرات جو زمین اپنی ابتداء میں رکھتی تھی وہ اور گریٹر سپیس دونوں کے باہمی اثرات نے ہمارا ایٹمسفئیر بنا یا جو یقینا" زمین کے بعد بنا زمین آسمان کی طرف کچھ اثرات بھجتی ہے ایک اور آیت سے واضع ہوتا ہے

يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۚ وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ (34:2)

جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش والا ہے

اب کوئی بتانے والا یہ ہی بتاۓ کہ یہ آیت جو کہتی ہے کہ زمین کی طرف سے جو کچھ آسمان پر چڑھتا ہے تو سائینس کا موارنہ اگر قرآن سے کرنا ہے تو بتاؤ وہ کیا چیز ہے جس کا زکر قرآن نے اس وقت کیا تھا جو آسمان کی طرف چڑھتی ہے ؟؟؟ یقینا" یہاں وہ بخارات جو بادل بناتے ہیں اور وہ گیسیس مذکور ہیں جو زمین اوپر آسمان کی طرف بھیجتی ہے اور اوپر پیش آیات میں انہی گرم گیسیس اور مادی عوامل یا دخان کا زکر ہو رہا ہے جو ابتدائی زمین سے اس وقت خارج ہو رہی تھیں جن کے اور اوپری خلا کی وجہ سے ہمارا ایٹمیسفئیر بنا جو محفوظ بے شگاف نیلی چھت کے جیسا دیکھتا ہے

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(2:29)


وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے

الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ(67:3)


جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ(67:4)


پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی

upload_2015-3-8_16-15-41.png


اور پھر وہ آیات جو ملحدین پیش کرتے ہیں وہاں مزید ذکر ہو رہا ہے کہ ان آسمانوں کو ہم نے تمہاری حفاظت کے لیے تشکیل دیا جو آفات سے تمہیں محفوظ رکھتے ہیں اب کیا ہمارا ایٹمس فئیر ہماری حفاظت نہیں کرتا ؟

اگر سائنس اور قرآن کی رو سے ہم غیر جانبدارانہ تحقیق کریں نہ کہ کذب و ریا کا کھیل کھیلیں تو ہوسکتا ہے کہ قرآن کی اوپر پیش کردہ آیت جس آسمان کے زمین کے بعد بننے کا زکر ہے سے مراد یہی ایٹمسفئیر ہی ہوں کیونکہ قرآن خالق کی کتاب ہے اور یہ اصول زبان دانی مطلب لنگوسٹک کے رولز کے تحت اپنا مدعا بیان کرتی ہے سائینس کے اصولوں کے تحت نہیں اور اور اہل علم کا قول ہے کہ "ایک اچھی اور علمی کتاب کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے پر ایکدم اپنا سارا علم نہیں کھولتی بلکہ جب جب اسے پڑھو وہ نۓ نۓ انکشافات اور علم انسان پر وا کرتی ہے " اور جہاں تک رہی ہمارے مقدمے کی بات تو بقول خود سائنس بھی جب کسی جگہ ایٹمس فئیر نہیں ہوتا تو نیلا آسمان نظر نہیں آتا بلکہ صرف خلا (اندھیرے بھرا کالا)آسمان ہی دیکھتا ہے یا پھر جیسا ایٹمسفئیر ہو ویسا ہی آسمان دکھے گا جیسے مریخ یا دیگر سیارے جو زمین سے پتلا موٹا یا مختلف ایٹمس فئیر رکھتے ہیں تو وہاں آسمان یا فضا کا رنگ مختلف ہوتا ہے جیسے یہ پکچر

upload_2015-3-8_16-18-10.png


http://en.wikipedia.org/wiki/Extraterrestrial_skies

اور ایٹمسفئیر سے متعلق ایک سائنٹفک اقتباس

The Moon has no atmosphere, so its sky is always black. However, the Sun is so bright that it is impossible to see stars during the daytime, unless the observer is well shielded from sunlight (direct or reflected from the ground).

.


اب ملحدین کے کذب و ریا کا جواب دینے کے لیۓ ہم نے جوابی تحقیق پیش تو کی ہے حالانکہ ہمارا قطعا" یہ ارادہ نہیں تھا کہ ہم قرآن و سائنس کا موازنہ کرتے مگر بہت ممکن ہے کہ جس سات آسمانوں کے بعد میں بننے کا زکر یہ آیات کررہی ہیں ان سے مراد یہ ایٹمسفئیرز ہی ہوں مگر سلام ہے دین کذب کے پیروں کاروں کی تحقیق پر کہ انہیں نہ تو سائنس کی ہی یہ تحقیق نظر آتی ہے کہ ساتوں ایٹمسفئیر زمین بننے کے بعد بنے اور نہ ہی قرآن پاک کی یہ آیات جو کہتی ہے کہ زمین کے اوپری خلاء میں پہلے مادی زرات کا گرم دھواں تھا اور اس کے بعد زمین جب ٹھنڈی ہوئی تو پانی، گرم گیسیس، آکسیجن ،ہائڈروجن و دیگر عوامل نے سات لئیر پر مشتمل ایٹمیسفئر تشکیل دیا بلکہ اگر انہیں یہ سب نظر آ بھی جاتا ہے تو ریا سے کام لیتے ہوۓ بات کا رخ موڑتے ہیں اور پھر علامے کہلواتے ہیں ، ہاں ہم بالتعیین کبھی نہیں کہہ سکتے کہ ان سات آسمان سے مراد فلاں فلاں لیئر ہے، یہ تو کہہ سکتے ہیں ہوسکتا ہے مراد یہ ہو، لیکن یہ کوئی یقینی بات نہیں ہوگی۔۔ پھر ہمارے مسلمان علماء قران وسنت کی جو تشریعی کرتے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ سات آسمانوں سے مراد کچھ اور ہی ہے، صرف زمین کے ارد گرد کی چند لیئرز وغیرہ نہیں ہیں بلکہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے، اس کے گرد یہ آسمان ہیں مگر یہاں ہم یہ بھی تو جانتے ہیں کہ علماء اسلام جب قرآن یا سنت کی تشریعی کرتے ہیں تو وہ قرآن سنت کا موازنہ سائنس سے نہیں کررہے ہوتے کیونکہ وہ سائنس دان نہیں ہوتے جب کہ اکثر ملحد کاذب یہ کرتے ہیں کہ مسلمان علماء دین کی تشریعات کو سائنس دانوں کی تحقیقات سے ملاتے ہیں اب اس سے بڑی حماقت کیا ہوگی کہ لنگوسٹک کے پروفیسر کا موازنہ سائنس کے پروفیسیر سے کیا جاۓ نہ تو دونوں کا علم ہی ایک ہے نہ وہ قواعد ہی ایک ہیں جن کے تحت وہ پروفیسر حضرات پرھتے پڑھاتے ہیں تو اگر کسی نے موازنہ کرنا ہی ہے تو پھر خلوص نیت سے کرے نہ کہ کذب اور ریا سے اور پھر بڑی بڑی ڈینگیں بھی مارے کہ قرآن غلط اور قابل افسوس ہے ۔۔۔


بشکریہ :

مرزا وسیم بیگ

جانی اعوان

صدف ناز

اے آر سالم فریادی

انجان مسافر

دانیال اطلس
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
بسم اللہ الرحمن الرحیم

افلاک و ارض کی تخلیق چھ یا آٹھ روز میں ؟



"قرآن کئی مقامات پر یہ بیان کرتا ہے کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں پیدا کیئے گئے۔ لیکن سورۃ فُصلت ( حم السجدہ) میں کہا گیا کہ زمین و آسمان 8 آٹھ دنوں میں بنائے گئے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں ؟ اسی آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین 6 دنوں میں پیدا کی گئی اور پھر اس کے بعد آسمان 2 دنوں میں پیدا کیئے گئے۔ یہ بات بگ بینگ Big Bang یا عظیم دھماکے کے نظریے کے منافی ہے۔ جس کے مطابق زمین و آسمان بیک وقت پیدا ہوئے۔"



مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ قرآن کے مطابق آسمان اور زمین 6 دنوں، یعنی 6 ادوار میں پیدا کئے گئے، اس کا ذکر حس ذیل سورتوں میں آیا ہے۔:

سورۃ الاعراف کی آیت 54

سورۃ یونس کی آیت 3

سورۃ ہود کی آیت 7

سورۃ فرقان کی آیت 59

سورۃ سجدہ کی آیت 4

سورۃ ق کی آیت 38

سورۃ الحدید کی آیت 4



وہ آیات قرآنی جو آپ کے خیال میں یہ کہتی ہیں کہ آسمان و زمین آٹھ دنوں میں پیدا کیئے گئے۔ وہ 41 ویں سورۃ فصلت ( حم السجدہ ) کی آیات : 9 تا 12 ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الأرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (٩)وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (١٠)ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلأرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (١١)فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (١٢)

( اے نبی! ) آن سے کہیئے: کیا تم واقعی اس ذات کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا؟ وہ تو سارے جہانوں کارب کا ، اس نے اس ( زمین ) میں اس کے اوپر پہاڑ جما دیئے ، اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں غذاؤں کا (ٹھیک ) اندازہ رکھا ، یہ ( کام ) چار دنوں میں ہوا، پوچھنے والوں کے لیے ٹھیک (جواب) ہے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا، اس نے اس (آسمان) سے اور زمین سے کہا: وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ دونو نے کہا : ہم آگئے ، فرمانبردار ہوکر۔ تب اس نے دو دنوں کے اندر انہیں سات آسمان بنا دیا اور ہر آسمان میں اس کا کام الہام کردیا۔ اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں ( ستاروں ) سے آراستہ کیا اور اسے خوب محظوظ کردیا۔ یہ سب ایک بہت زبردست، خوب جاننے والے کی تدبیر ہے۔ (حم السجدہ 41 آیات 9 تا 12)

  • قرآن کریم کی ان آیات سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ آسمان اور زمین 8 دنوں میں پیدا کیئے گئے ہیں۔
اللہ تعالی اس آیت کے شروع ہی میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو عبارت کے اس ٹکڑے میں موجود معلومات کو اس کی صداقت کے بارے میں شبھات پیدا کرنے کے لیے غلط طور پر استعمال کرتے ہیں، درحقیقت وہ کفر پھیلانے میں دلچسپی رکھتے اور اس کی توحید کے منکر ہیں۔ اللہ تعالی اس کےساتھ ہی ہمیں بتا رہا ہے کہ بعض کفار ایسے بھی ہوں گے جو اس ظاہری تضاد کو غلط طور پر استعمال کریں گے۔

  • (ثُم) سے مراد " مزید برآں"
اگر آپ توجہ اور احتیاط کے ساتھ ان آیات کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں زمین و آسمان کی دو مختلف تخلیقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہاڑوں کو چھوڑ کر زمین دو دنوں میں پیدا کی گئی، اور 4 دنوں میں پہاڑؤں کو زمین پر مضبوطی سے کھڑا کیا گیا۔ اور زمین برکتیں رکھ دی گئیں اور نپے تلے انداز کے مطابق اس میں رزق مہیا کردیا گیا۔ لہذا آیات 9 اور 10 کے مطابق پہاڑوں سمیت زمین 6 دنوں میں پیدا کی گئی، آیات 11 اور 12 کہتی ہیں کہ مزید برآں دو دنوں میں آسمان پیدا کیئے گئے، گیارہویں آیت کے آغاز میں عربی کا لفظ ( ثُم) استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب پھر یا مزید برآں ہے قرآن کریم کے بعض تراجم میں ثُم کا مطلب پھر لکھا گیا ہے۔ اور اس کے بعد ازاں مراد لیا گیا ہے۔ اگر ثُم کا ترجمہ غلط طور پر " پھر " کیا جائے تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے کل ایام آٹھ قرار پائیں گے اور یہ بات دوسری قرآنی آیات سے متصادم ہوگی جو یہ بتاتی ہیں کہ آسمان و زمین چھ دنوں میں پیدا کیئے گئے ، علاوہ ازیں اس صورت میں یہ آیت قرآن کریم کی سورۃ الانبیاء کی 30 ویں آیت سے بھی متصادم ہوگی۔ جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ زمین و آسمان بیک وقت پیدا کیے گئے تھے۔

لہذا اس آیت میں لفظ (ثُم) کا ترجمہ " مزید برآں " یا "اس کے ساتھ ساتھ ہونگا" علامہ عبداللہ یوسف علی نے صحیح طور پر لفظ (ثم) کا ترجمہ "مزید برآں"(Moreover) کیا ہے

  • مولانا عبدالرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ اپنی تفسیر "تیسیر القرآن" میں اس ایت کے تحت رقم طراز ہے۔
زمین و آسمان کا ملا جلا ملغوبہ :۔ اس آیت میں ثم کا لفظ زمانی ترتیب کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے ایک پہلو سے ہے۔ بالفاظ دیگر یہ زمین کی تخلیق کے بعد کا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے کا ہے۔ جسے بعد میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی واضح دلیل یہ آیت ہے۔ ( اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا 30؀) 21- الأنبياء:30) یعنی زمین و آسمان پہلے ملے جلے اور گڈ مڈتھے؟ تو ہم نے انہیں جدا جدا بنا دیا۔ اور یہاں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اس وقت فضائے بسیط میں صرف دھواں ہی دھواں یامرکب قسم کی گیسیں تھیں ۔ یعنی کائنات کا ابتدائی ہیولیٰ بھی گیسوں کا مجموعہ تھا۔ اس گیس کے مجموعے سے ہی اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے سب کچھ بنا دیئے۔ کائنات کے جس نقشہ کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ زمین فلاں مقام پر اور اتنی جسامت کی ہونی چاہئے۔ آسمان ایسے ہونا چاہئیں سورج فلاں مقام پر اور زمین سے اتنے فاصلہ پر اور اتنی جسامت کا ہونا چاہئے۔ ستارے اور کہکشائیں چاند اور ستارے ایسے اور ایسے ہونے چاہئیں ۔ غرض اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق گیسوں کے اس ہیولیٰ سے یہ سب چیزیں بنتی چلی گئیں اور اس طرح کائنات کی تخلیق پر چھ یوم (ادوار) صرف ہوئے۔
ان گزارشات سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب پہاڑوں وغیرہ سمیت زمین چھہ دنوں میں پیدا کی گئی تو بیک وقت اس کے ساتھ ہی دو دنوں میں آسمان بھی پیدا کئے گئے تھے چنانچہ کل ایام تخلیق آٹھ نہیں چھہ ہے۔



فرض کیجئے ایک معمار یہ کہتا ہے کہ وہ 10 منزلہ عمارت اور اس کے گرد چاردیواری 6 ماہ میں تعمیر کردے گا اور اس منصوبے کی تکمیل کے بعد وہ اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عمارت کا تہ خانہ 2 ماہ میں تعمیر کیا گیا اور دس منزلوں کی تعمیر نے 4 مہینے لیے اور جب بلڈنگ اور تہ خانہ بیک وت تعمیر کیے جارہے تھے تو اس نے ان کے ساتھ ساتھ عمارت کی چار دیواری کی بھی تعمیر کردی جس میں دو ماہ لگے۔ اس میں پہلا اور دوسرا بیان باہم متصادم نہیں لیکن دوسرے بیان سے تعمیر کا تفصیلی حال معلوم ہوجاتا ہے۔



  • آسمان و زمین کی بیک وقت تخلیق
قرآن کریم میں کئی مقامات پر تخلیق کائنات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض جگہ السموات و الأرض ( آسمان اور زمین ) کہا گیا ہے جبکہ بعض دوسرے مقامات پر الأرض و السموات ( زمین اور آسمان ) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں سورۃ الانبیاء میں عظیم دھامکے BingBang) (کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین بیک وقت پیدا کئے گئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ (سورۃ الانبیاء 21 آیت 30)


" کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم ملے جلے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کردیا، اور ہمنے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی، کیا پھر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے؟"

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ()


" وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہرچیز کو خوب جانتا ہے " (سورۃ البقرہ 2 آیت 29)

یہاں بھی اگر آپ (ثُم) کا ترجمہ غلط طور پر " پھر" کریں گے تویہ آیت قرآن کی بعض دوسری آیات اور بگ بینگ کے نظریئے سے متصادم ہوگی۔ لہذا لفظ ( ثُم) کا صحیح ترجمہ " مزید برآں " " بیک وقت " یا " اس کے ساتھ ساتھ " ہے۔

  • جمع و تدوین:ابو عبداللہ ،جانی اعوان
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
"زمین و آسمان کو چھ دنوں میں بنانے کی حکمت " غیر مسلموں کی زبان پر ایک اعتراض


جب اللہ سبحانہ وتعالی لفظ کن فیکون کہ کر کسی چیز کی تخلیق کر سکتے ہیں تو اللہ سبحانہ وتعالی نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو کیو بنایا؟

:جواب

اللہ سبحانہ و تعالی کن فیکون کہ کر ذمین و آسمان کی فوراً تخلیق تو کر سکتے تھے اور اس پر قادر تھے پر اللہ تعالی نے زمین و آسمان کو مرحلہ وار تخلیق کیا اس میں بہت بڑی حکمت ہیں۔ ایک مثال لی جئے ریاضی کا استاد اگر کسی سوال کو حل کرنے میں مختلف "سٹپس" کی مدد لیتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سٹپس کئے بغیر جواب نہیں دے سکتا بلکہ وہ سٹپس کے ساتھ سوال کو حل کرتا ہے تاکہ سوال کا حل طالب علموں کو معلوم ہو جائے بنا سٹپس کے طالب علم سوال کا حل سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔ بلکل اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالی نے زمین و آسمان کو چھ دنوں (چھ ادوار زیادہ مناسب ہے ) میں پیدا کیا تاکہ انسان اللہ کی تخلیق پر غور و فکر کریں اور جب وہ غور و فکر کریں گا تو اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ واقعی اللہ سبحانہ و تعالی نے زمین و آسمان کو چھ ادوار میں پیدا کیا۔ اگر اللہ تعالی کن فیکون کہ کر زمین و آسمان کی تخلیق کر دیتے ریاضی کے طالب علم کی طرح انسان زمین و آسمان کی تخلیق کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ اور آج سائنسدان اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ زمین و آسمان کا چھ ادوار پیدا ہونا ممکن ہے اب بتائے یہ حکمت کن فیکون اللہ سبحان و تعالیٰ کے کہ دینے سے انسان سمجھ سکتے تھے ؟۔ جیسے کھیت کو پکنے میں عرصہ لگتا ہے۔ یک دم پیدا ہوجانا کھیت کا انسان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور پھر وہ روزی کیسے حاصل کرے گا؟ تو بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ تو اللہ تعالی ان چیزوں کو مرحلہ وار تخلیق کرتا ہے تاکہ لوگ غور و فکر کرکے نصیحت حاصل کریں۔


اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے

لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ


ترجمہ: آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

(الغافر:57)

اس ارشاد پاک میں واضح ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا بہت بڑی حکمت ہے جیسے انسان کا پیدا کرنے پر اب جب انسان کی تخلیق پر غور کیا جائے اللہ چاھتے تو انسان کو بھی کن فیکون بمعنی فوراً بنا سکتے تھے پر اللہ تعالی نے انسان کو بھی مرحلہ وار تخلیق کیا تاکہ انسان غور و فکر کریں۔ یہی وجہ ہے پروفیسر کیتھ مور (جوکینیڈا میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے شعبہ علم الا عضا کے سربراہ اور ایمبریالوجی(علم الجنین) کے پروفیسر انہوں نے جب انسان کی تخلیق پر غور کیا اور قرآن کے بیانات جو علم جینیات سے منسلک ہے ان کو پڑھا تو ایمان لے آئے اور ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ مجھے کوئی شک نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے

1981 (سعودی عرب کے شہردمام میں منعقد ہونے والی ساتویں میڈیکل کانفرنس)


اب بتائے یہ سب باتے اللہ کے کن فیکون کہ دینے سے سمجھ میں آتی ؟ اندازہ لگائے کہ ایک مشہور و معروف ڈاکٹر اللہ کہ کلام پر ایمان لا رھا ہے اور اس کی کتابیں ایم بی بی ایس کے طالب علم پڑھتے ہے اور قرآن کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔یہ اللہ کی تخلیق کی حکمت ہیں اسی طرح جب انسان زمین و آسمان کی تخلیق پر نظر کرتا ہے تو اس کو قرآن کہ یہ اللہ کا کلام ہے ماننے پر کوئی دشواری نہیں ہوتی۔فلکیات کے میدان میں سائنس دانوں'ہیئت دانوں نے چند عشرے قبل بیان کیاکہ کائنات کیسے وجودمیں آئی'وہ اسے ایک بڑا دھماکہ "بگ بینگ" کہتے ہیں اورانہوں نے کہا کائنات''ابتدا میں ایک ہی گیس اور غبارکابادل تھا جوکہ بعد ازاں ایک بڑے دھماکے کے باعث جدا ہوگیا جس سے کہکشاؤں 'ستاروں' سورج اور زمین جس پر ہم رہتے ہیں' سب وجودمیں آئے۔یہ معلومات عظمت والے قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہیں۔سورہ انبیاء' سورہ21'آیت نمبر30 کہتی ہے

اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا

کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا ۔'' ان معلومات .lکی روشنی میں غورکریں جوابھی حال ہی میں منظرِعام پرآئی ہیں جن کا قرآن 1400سال پہلے ذکر کرتاہے


خلاصہ کلام: زمیں و آسمان کی تخلیق چھ بڑے ادوار میں اس لئے ہوئی کہ اللہ تعالی اپنی عظمت کا اعتراف انسانوں سے کرانا چاھتے تھے جو معلومات زمین و آسمان کی تخلیق کے حوالہ سے آج معلوم ہو رھی ہے وہ 1400 سو سال پہلے قرآن نے بیان کی۔ بنا "مرحلہ وار تخلیق" کے انسان کو اللہ تعالی پر ایمان لانے اور اس کی تخلیق سمجھنے پر مشکلات رھتی اس لئے اللہ سبحانہ وتعالی نےمرحلہ وار تخلیق کر کے قران میں انسانوں کے لئے بے شمار نشانیاں لکھ دی جنہیں وہ غورو فکر کر کے پہچان سکتے ہیں۔

ارشادی باری تعالی ہے

سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ

عنقریب ہم انہیں کائنات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور ان کے اپنے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا پروردگار ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے

(سورہ الفصلت:53)
 
Top