• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آمین بالجہر وحسد یہود

شمولیت
مئی 21، 2012
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
331
پوائنٹ
0
بسم اللہ الرحمن الرحیم

آمین بالجہر وحسد یہود

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ماحسدتکم الیہود علی شیئ ماحسدتکم علی السلام والتامین ۔

{ البخاری فی الادب المفرد : 988 ۔ سنن ابن ماجہ :856 ۔ صحیح ابن خزیمہ : 1585 }​

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا : یہود قوم {تمھارے آپس میں }سلام کرنے اور {امام کے پیچھے }آمین بولنے پر جسقدر حسد کرتی ہے اسقدر کسی اور چیز پر حسد نہیں کرتی ۔

تشریح : چونکہ اللہ تعالی نے یہود قوم کو اپنے وقت میں سب سے افضل امت قرار دیا تھا اور ان پر اپنی گونا گوں نعمتیں نازل فرمائی تھیں ،اسلئے انھیں ایک قسم کا زعم اور کبر یہ لاحق ہوا کہ ہم اللہ تعالی کے چہیتے ہیں ، اور یہ کہ دنیا وآخرت کی ساری الہی نوازشوں کے حقدار ہمیں ہی ہونا چاہئے خواہ ہمارے عمل کیسے ہی ہوں ، اللہ خالق ومالک کی خواہ کتنی ہی نافرمانیا ںہم کر جائیں ، اللہ کے نبیوں اور اسکی نازل کردہ کتابوں کی خواہ کتنی ہی مخالفت کرجائیں ، اس سے ہماری فضیلت و خیریت میں کوئی اثر نہیں پڑتا ، دنیا کی باقی قومیں ہمارے سامنے حقیر اورہم سے کمتر ہیں۔لہذا جب آخری نبی یہود قوم {بنو اسرائیل }کے بجائے قریش اور بنی اسماعیل سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں مبعوث ہوئےاور بنی اسرائیل سے یہ عظیم منصب چھین لیا گیا تو اس نبی اور اسکے ماننے والوں سے متعلق انکے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور ہر طرح سے نبی رحمت اور آپکے متبعین کو نقصان پہنچانے کے لئے کو شاں رہے اور ان سے جلن رکھنے لگے ، جسکا ذکر اللہ تعالی نے متعدد بار قرآن مجید میں کیا ہے : وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّاراً حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ {البقرۃ109} اہل کتاب میں کہ اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد و بغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹادینا چاہتے ہیں ۔ خاص کر بعض وہ اعمال جو آدم علیہ السلام سے لیکر تمام انبیا ء علیہم السلام کی میراث کے طور پر چلے آرہے تھے لیکن کفار ویہود نے انھیں محض جہالت ، عناد اور تقلید کی بناپر ترک کردیا تھا اور امت مسلمہ اس پر عمل پیرا ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کو یہ چیز قطعا نہ بھائی کہ اس پر عمل کرتے دیکھکر وہ مسلمانوں سے چڑھنے اور جلن رکھنے لگے ، اور یہ جلن و حسد انکے اندر اسطرح گھر کرگئی کہ بسا اوقت اسکا اظہار بھی کردیا کرتے تھے ،

چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بار میں خدمت نبوی میں موجود تھی کہ ایک یہودی نے آپکی مجلس میں حاضری کی اجازت چاہی آپ نے اسے اجازت دے دی ، اور جب وہ داخل ہوا تو سلام کرتے ہوئے کہتا ہے" السام علیک" {آپکے اوپر موت ہو }یعنی بجائے واضح لفظوں میں "السلام علیک "کہنے کے الفاظ کو دباکر السام علیک کہتا ہے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکی اس چال کو سمجھ گئے اورفرمایا"وعلیک"اور تم پر بھی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اسکی اس بدتمیزی پر میں نے کچھ کہنا چاہا {لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں خاموش رہی }پھر ایک دوسرا یہودی داخل ہوا اور اس نے بھی ایسا ہی کیا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا جواب بھی "وعلیک "سے دیا ، پھر تیسرا یہودی آیا اور اس نے بھی اسی طرح "السام علیک" کہا اور اسکا بھی جواب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیک کہکر دیا ، اب جب مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے غصے میں آکر کہا "اے بندروں اور سوروں کی اولاد تم پر ہلاکت اور اللہ تعالی کا غضب نازل ہو کیا تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں سلام کرتے ہو جن الفاظ میں اللہ تعالی نے آپ کو سلام نہیں کیا ہے ، یہ سنکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا " رکو" اللہ تعالی بدکلامی و بدزبانی کو پسند نہیں فرماتا ، ان {بدبختوں }نے ایک بات کہی اور ہم نے اسکا جواب دے دیا ، انکی بات تو ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچائے گی البتہ میری بددعاان پر قیامت تک مسلط رہے گی ،واقعہ یہ ہے یہ یہود جسقدر ہم سے ان باتوں میں چڑھتے ہیں کسی اور بات میں نہیں چڑھتے کہ

1 : اللہ تعالی نے ہمیں یوم جمعہ کی تو فیق بخشی اور وہ اس سے بھٹک گئے ،

2: اللہ تعالی نے ہمیں قبلہ {ابراہیمی }کی تو فیق بخشی اور وہ اس سے بھٹک گئے ،

3 : اور اللہ تعالی نےہمیں امام کے پیچھے آمین بولنے کی تو فیق بخشی ''،

{مسند احمد 6 ص135،السنن الکبری للبیھقی 2 ص56}

زیر بحث حدیث اور اس حدیث کو ملانے سے پتہ چلتا ہے خصوصی طور پر چار کام سلام کرنا ، یوم جمعہ کو اہمیت دینا ، قبلہ ابرہیمی کا اہتمام کرنا اور امام کے پیچھے بآواز بلند آمین کہنا یہ وہ کام ہیں جو یہود پر بھی مشروع تھے لیکن وہ بطور عناد اور اپنے رسولوں کی مخالفت میں ان کاموں کو کلیۃ ترک کردئے ،اور اب جب مسلمانوں کوان پر عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انھیں اس پر حسد ہوتا ہےکیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلمان ان امورکی فضیلت سے دوچار ہوں ، یہ حدیث دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ امام کے پیچھے بآواز بلند آمین کہنے کی مشروعیت اور فضیلت پر واضح دلیل ہے ، کیونکہ اس حدیث میں مذکورہ کام اسلام کے ان ظاہری شعائر میں داخل ہیں جن پر عمل کرتے دیکھکر اللہ کے دشمنوں کو مسلمانوں سے حسد ہوتا ہے اب اگر امام کے پیچھے آمین بولنا بآواز بلند نہ ہو بلکہ آہستہ ہو تو اسے سننے اور یہود کے اس سے چڑھنے اور حسد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، یہیں سے یہ حدیث ہمارے ان بھائیوں کو بھی متنبہ کرتی ہے جو مسلکی تعصب کی بنا پر آواز سے آمین بولنے والوں سے چڑھتے اور ناراض ہوتے ہیں ،بلکہ ان میں سے بعض منبر پر بیٹھ کر صراحت کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ " زور سے آمین بولکر لوگ ہماری نماز خراب نہ کریں ''،ہمارے یہ بھائی ذراسوچیں کہ ایسا ذہن رکھنے والے لوگ دانستہ یا نا دانستہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر معترض اور یہود کی سنت پر عمل کررہے ہیں ،


فائدے :

1 : زورسے آمین بولنا ، السلام علیکم کہنا ، اور یوم جمعہ کا اہتمام انبیاء علیہم السلا م کی سنت میں داخل ہے ،

2 : السلام علیکم کہکر اپنے بھائی سے سلام کرنا اور امام کے پیچھے آواز سے آمین بولنا ایسی سنت ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کو چڑھ ہے ،

3 : یہود ایسی قوم ہے کہ حسد کرنا انکی خاص صفت ہے ،

4 : حسد کرنا اللہ تعالی کی نافرمانی اور اسکی مقرر قردہ تقدیر پر اعتراض ہے ،



نام نگار : آمین بالجہر وحسد یہود

مضمون نگار: شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بشکریہ : مكتب توعية الجاليات الغاط | خلاصۂ دروس >> ہفتہ واری دروس word >> آمین بالجہر وحسد یہود /حدیث:124
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
بھائی صاحب ذرا آمین کے بارے وضاحت کیجئے میرے خیال میں آمین دعا ہے اور دعا میں اخفاء (آہستہ)افضل ہے ۔
محترم پاکستان اوپر حدیث میں لگتا ہے آپ کا خیال ہی بیان کیا گیا ہے؟ فیا اسفیٰ۔ایک طرف حدیث اور ایک طرف آپ کا خیال آگیا۔اوراس خیال نے آپ کو حدیث پر عمل کرنے سے بھی روک دیا۔
کیا دین اب خواب و خیال کا ہی نام رہ گیا ہے؟
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
بھائی صاحب ذرا آمین کے بارے وضاحت کیجئے میرے خیال میں آمین دعا ہے اور دعا میں اخفاء (آہستہ)افضل ہے ۔
پاکستان بھائی حدیث بیان کی جا رہی ہے خیالی پلاؤ نہیں.
آپ صلی الله علیہ وسلم نماز میں ایسا ہی کرتے تھے اگر آمین آہستہ کہنی ہوتی تو آپ صلی الله علیہ وسلم کبھی بلند آواز سے آمین نہیں کہتے.
 

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
نفس حدیث میں جس کو موضوع کاعنوان بنایاگیاہے آمین بالجہر اوربالسر کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ نفس آمین کا مسئلہ ہے۔ اس کو کھینچ تان کر آمین بالجہر قراردینااصولی اعتبار سےدرست نہیں ہے۔ آپ آمین بالجہر کے قائل ہوں بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن جوحدیث اس مبحث سے خالی ہے اس کو کھینچ تان کر آمین بالجہر تک پہنچانا "تاویل"کی کون سی قسم ہے؟
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
نفس حدیث میں جس کو موضوع کاعنوان بنایاگیاہے آمین بالجہر اوربالسر کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
محترم ندوی صاحب آپ دوبارہ غور کریں اسی حدیث میں بھی آمین بالجہر اور بالسر کا مسئلہ ہے۔
نفس آمین کا مسئلہ ہے۔
جی جی نفس آمین مسئلہ کے ساتھ بالجہر بھی ہے۔
اس کو کھینچ تان کر آمین بالجہر قراردینااصولی اعتبار سےدرست نہیں ہے۔
جب موجود ہے تو پھر اصولی اعتبار سے کیسے درست نہ ہو؟
آپ آمین بالجہر کے قائل ہوں بڑی خوشی کی بات ہے۔
لیکن یہ خوشی آپ نہیں لینا چاہتے ؟
لیکن جوحدیث اس مبحث سے خالی ہے اس کو کھینچ تان کر آمین بالجہر تک پہنچانا "تاویل"کی کون سی قسم ہے؟
محترم تاویل نہیں۔
 

پاکستان

مبتدی
شمولیت
مئی 25، 2012
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
49
پوائنٹ
0
محترم پاکستان اوپر حدیث میں لگتا ہے آپ کا خیال ہی بیان کیا گیا ہے؟ فیا اسفیٰ۔ایک طرف حدیث اور ایک طرف آپ کا خیال آگیا۔اوراس خیال نے آپ کو حدیث پر عمل کرنے سے بھی روک دیا۔
کیا دین اب خواب و خیال کا ہی نام رہ گیا ہے؟
محترم حدیث کو غور سے پڑھیئے اور مجھے سمجھائے کہ کس لفظ کا مطلب ہے (امام کے پیچھے آمین بولنے) اور اس کے ساتھ یہ بھی سمجھا ئیے کہ آمین باالجہر ہی مراد ہے ۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

پاکستان

مبتدی
شمولیت
مئی 25، 2012
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
49
پوائنٹ
0
پاکستان بھائی حدیث بیان کی جا رہی ہے خیالی پلاؤ نہیں.
آپ صلی الله علیہ وسلم نماز میں ایسا ہی کرتے تھے اگر آمین آہستہ کہنی ہوتی تو آپ صلی الله علیہ وسلم کبھی بلند آواز سے آمین نہیں کہتے.
ہر نماز ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہر رکعت میں بلند آواز سے آمین فرماتے ؟؟؟؟؟؟؟؟ اور اگر نہیں تو یہ کیسا پتہ چلا اس حدیث میں جہری ہی کی بات ہورہی ہے اور ویسے آپس کی بات ہے ناراض نہ ہونا کہیں دعامیں بھی لوگ آمین آمین تو کہتے ہیں کہیں وہ تو مراد نہیں ؟؟؟؟؟؟؟ آپ سمجھائے مہربانی کرکے غصہ نہ کرنا
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
محترم حدیث کو غور سے پڑھیئے اور مجھے سمجھائے کہ کس لفظ کا مطلب ہے (امام کے پیچھے آمین بولنے) اور اس کے ساتھ یہ بھی سمجھا ئیے کہ آمین باالجہر ہی مراد ہے
۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
پیارے پاکستان آپ نے جو بات پہلے کی تھی میں نے اسی پر کچھ کہا تھا۔آپ کی پہلی بات یوں تھی
’’بھائی صاحب ذرا آمین کے بارے وضاحت کیجئے میرے خیال میں آمین دعا ہے اور دعا میں اخفاء (آہستہ)افضل ہے ۔ ‘‘
تو بیچ میں یہ نیو باتیں کہاں سے لے کر آ گئے ؟
 
Top