• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آن لائن دم کرنے کی شرعی حیثیت

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,357
ری ایکشن اسکور
425
پوائنٹ
209
آن لائن دم کرنے کی شرعی حیثیت

تحریر: مقبول احمد سلفی /دعوہ سنٹر حی السلامہ


آج کل لوگ موبائل کے ذریعہ رقیہ اور دم کرتے اور کرواتے ہیں ، یہ طریقہ دین میں نوایجاد ہے، دراصل یہ رقیہ ہے ہی نہیں لیکن عوام میں یہ طریقہ بھی رقیہ شرعیہ کے نام پر رائج ہے ۔ چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد دیوبندی اور بریلوی ہے جن کے یہاں کوئی کام جائز ہوتا ہے تو وہ لوگوں میں بہت مشہور ہوجاتا ہے ۔ موبائل کےذ ریعہ رقیہ کی شہرت اسی جماعت سے ہوئی ہے۔
احناف کے جامعہ العلوم الاسلامیہ (کراچی، پاکستان) کے دار الافتاء سے سوال کیا کہ آج کل اکثر عامل موبائل فون پر کال کے ذریعہ دم کرتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے تو دار الافتاء نے جواب دیا کہ یہ چیزین تجربات سے تعلق رکھتی ہیں ، اگر خلاف شرع دم درود کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور اس طرح دم کرنے سے مریض پر اثر ہوتا ہوتو شرعا گنجائش معلوم ہوتی ہے۔(منقول از جامعہ کی ویب سائٹ فتوی نمبر:143101200399)
یہ دیکھیں شریعت کے نام پر کس طرح غیرشرعی فتاوی دئے جاتے ہیں دراصل ایسے فتاوی سے امت میں گمراہی پھیلی اور پھونکوں والی سرکار پیدا ہوئی۔
افسوس تب ہوتا ہے جب کوئی خود کو قرآن وحدیث پرچلنے والا کہے اور وہ بھی قرآن وحدیث سے ہٹ کر بدعتی طریقہ پر دم کرے ۔ مجھے یقینی علم ہے کہ بعض اہل حدیث حضرات بھی موبائل کے ذریعہ آن لائن دم کرتے ہیں۔ اللہ کی پناہ
شرعی دم کا طریقہ کیا ہے ؟ آئیے ہم حدیث رسول سے جانتے ہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنها" ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث على نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت انفث عليه بهن، وامسح بيد نفسه لبركتها"، فسالت الزهري: كيف ينفث؟، قال: كان ينفث على يديه ثم يمسح بهما وجهه(صحيح البخاري:5735)
ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی خود پر دم کرے تو معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس ) پڑھ کر اپنے ہاتھوں میں پھونک مار کر اپنے چہرہ اور بدن پر پھیرلے اور جب کوئی دوسرے پر دم کرے تو یہی معوذات پڑھ کر مریض پر پھونک ماردے۔
صحیح بخاری کی دوسری روایت الفاظ اس طرح وارد ہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم:كان إذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح بيده رجاء بركتها(صحيح البخاري:5016)
ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ پر مرض کی شدت بڑھ گئی تب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہی تینوں سورتیں پڑھ کر دم کیا کرتی تھیں لہذا رقیہ اور دم کےلئے ڈھیر ساری آیات اور دعائیں پڑھنی ضروری نہیں ہیں ، یہ تین سورتیں پڑھنا بھی کافی ہیں چاہے مرض جتنا شدید ہو اور زیادہ پڑھنے میں بھی حرج نہیں ہے، متعدد قرآنی آیات و سورت اور ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کریں۔
دم کا شرعی طریقہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جب کوئی راقی کسی پر دم کرے تو قرآن اور ماثورہ دعائیں پڑھ کر بلاواسطہ مریض پر دم کرے ، حتی کہ رکاڈنگ سننا بھی رقیہ نہیں ہے گوکہ قرآن سننے سے مریض کو فائدہ پہنچے۔ رقیہ کی اصل صورت و کیفیت یہ ہے کہ قرآن اور مسنون اذکار وادعیہ پڑھ کرمریض پربغیرحائل وبلاسطہ دم کرے ۔
شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا ہے کہ موبائل کےذ ریعہ رقیہ کرنے کا کیا حکم ہے توآپ نے جواب دیا کہ یہ مبالغات میں سے ہے ، یہ رقیہ نہیں ہے ، رقیہ کا طریقہ یہ ہے کہ قاری مریض پر دم کرے بغیر کسی واسطہ کے۔
لہذا ہمیں معلوم ہوگیا کہ موبائل فون کےذ ریعہ دم کرنا غیرشرعی اور بدعتی طریقہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
آخر میں رقیہ کرنے سے گزارش ہے کہ رقیہ سنٹرکھول کرخود کو اسی کام کے لئے متفرغ نہ کریں کیونکہ فتنے کے اس دور میں اس کے بڑے مفاسد دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آپ بھی ان فتنوں اور مفاسد کے شکار ہوسکتے ہیں نیزاگر آپ بھی موبائل پر دم کررہے ہیں تو اس عمل سے بازآجائیں کیونکہ یہ رقیہ نہیں ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ جو آدمی موبائل پردم کرے اس سے ہرگز دم نہ کرائیں بلکہ آپ خود سے دم کریں یا آپ جن کے بارے میں جانتے ہیں یہ صالح و تقوی شعار ہیں ان سے دم کرائیں ، بھلے نیک آدمی سے پانی پر دم کراکر استعمال کریں مگراس میدان میں تجارتی لوگوں سے پرہیز کریں۔
 
Top