• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آکسیجن آرہا ہے محمدﷺ کے شہر سے

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
تراوش ِ قلم:عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

داعی و مترجم جمعیۃ الدعوۃ و الإرشاد و توعیۃ الجالیات۔میسان۔ طائف ‘سعودی عرب

الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام و الأتمان الأکملان علی أشرف الأنبیاء و المرسلین۔۔۔ أما بعد

ہمارے ہند و پاک ‘نیپال و بنگلہ دیش اور دیگر کتنے ایسے ممالک ہیں ‘جہاں کے مسلم و غیر مسلم لوگ روزی روٹی کمانے کے لئے اقامت پژیر ہیں‘ایک سروے کے مطابق صرف مملکت سعودی عرب میں چالیس لاکھ ہندوستانی اقامت گزین ہیں ‘اندازہ کیجئے اگر خلیجی ممالک کےدروازہ بند ہوجائیں تو کتنے افراد کے یہاں چولہے جلنا بھی بند ہوجائیں‘اور کتنے غریب لوگ نان شبینہ کو ترس جائیں‘یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مجال ِ انکار نہیں۔

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں اپنی دعوتی ‘تبلیغی ‘اسلامی‘دینی اور قرآنی مدد کے لئے مشہور و معروف ہے، دنیا کا ایسا کوئی ملک نہ ہوگا ‘جہاں پر مملکت سعودی عرب کی طرف سے کوئی شمع نہ جلتی ہوگی ‘جہاں پر سعودی عرب کی طرف سے کوئی اسلامی مرکز قائم نہ ہوا ہوگا‘مملکت سعودی عرب کی طرف سے کوئی داعی بحال نہ ہوا ہوگا‘جہاں پر سعودی عرب کا چھپا ہوا قرآن موجود نہ ہوگا ‘مصحف ِ مدینہ موجود نہ ہوگا ‘اورمجمع الملک فہد۔مدینہ منورہ۔ کی طرف شائع شدہ قرآن کریم کا ترجمہ معانی قرآن ِ کریم نہیں پایا جاتا ہوگا ‘اسی پر بس نہیں ‘بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جب بھی کوئی بحران آتا ہے‘سعودی عرب اس کی امداد رسانی کے لئے بیکل ہوجاتا ہے ‘اس کے تعاون کے لئے دست ِ تعاون دراز کرنے میں ذرا برابر تاخیر نہیں کرتا ‘اور انسانی امداد و تعاون کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتا اور ہر بار ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے ‘لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بہیترے لوگ ایسے آپ کو مل جائیں گے جو سعودی دشمنی میں اپنی مثال آپ رکھتے ہیں‘اس کی لغزشیں شمار کرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘اور مملکت ِ سعودی عرب کی انسان نوازی ‘دریا دلی ‘منہج ِ توحید پر کاربندی ‘کتاب و سنت پر عمل در آمد اور حکمرانی اور قرآن و حدیث کی پاسبانی ایک آنکھ انہیں نہیں بھاتی ‘اس میں وہ لوگ بھی انتہائی پیش پیش نظر آتے ہیں‘جو لوگ مملکت کے احسانات تلے سر تا سر دبے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں قائم دعوتی مراکز ‘یہاں موجود علماء کی معتد بہ اور معتبر ٹیم ‘سعودی حکمرانوں کی علماء نوازی اور علم دوستی ‘شہریان ِ مملکت کی دریا دلی ‘انسان نوازی ‘باہمی تعاون و ہمدردی اور سخاوت و فیاضی‘یہاں موجود حرمین شریفین اور ان کی خدمات و انجازات پر نکتہ چینی کرنا (گویا)وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور شبانہ روز سعودی دشمنی کے دلائل فراہم فرماتے رہتے ہیں۔

ابھی چندہفتے قبل کی ہی تو بات تھی کہ ماہ رمضان المبارک 1442 ھ کی مناسبت سے سعودی عرب نے ہندوستانی مسلمانوں کوچارسوٹن کھجوروں کاتحفہ عنایت فرمایاتھا‘جس کی ہر چہار سو تعریفیں ہوئی تھیں‘اکابر و اصاغر توصیفی کلمات کہنے پر مجبور ہوئے تھے۔

دوسری طرف چشم ِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ بادشاہ ِ مملکت خادم الحرمین شریفین ۔کنگ سلمان بن عبد العزیز ۔حفظہ اللہ۔ نے کوئی پچاس لاکھ ریال خرچ کرکےاس سال دنیابھرکے دس لاکھ روزہ داروں کے افطارکاانتظام کیاہے‘جس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم اور انتہائی کم ہے

مملکت ِ سعودی عرب نے اسلامی مدارس، توحیدی مراکز اور دینی مدارس‘اور مساجد و مکاتب کےجو جال دنیا کے مختلف ممالک و اقطار میں بچھائے ہیں‘اس کی مثال ڈھونڈھے نہیں ملتی ہے ۔ یہ بات بغیر کسی تامل و تردد کہی جا سکتی ہے کہ مملکت کی دینی خدمات اور اسلامی مساعی کا ہی مظہر ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں خالص اسلامی کرنیں بکھری پڑی ہیں۔

ہمارا ملک ِ عزیز کورونا کی وبائی صورت حال کے جن نازک مراحل سے گزر رہا ہے‘عالمی منظر نامہ میں جس طرح سے ہندوستانی صورت ِ حال کی جس طرح سے شناخت ہوئی ہے‘وہ جگ ظاہر ہے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے ‘س سے مجال ِ انکار نہیں کہ اسلامیان ِ ہند کے ساتھ جس طرح سے سوتیلا اور ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ‘وہ حد درجہ افسوس ناک ہے‘اور خطرناک بھی ‘گودی میڈیا نے مسلمانوں کی شبیہ جس طرح بگاڑ رکھی ہے‘وہ اس پر مستزاد ہے ‘ہندوستانی مساجد و مدارس پر جس طرح میلی نگاہیں ڈالی جا رہی ہیں‘وہ ناقابل بیان ہے‘اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حال ِ زار پر رحم فرمائے ۔

ادھر تقریبا دو سال سے جس طرح کورونا کی مار پڑی ہے‘اہل نظر اس سے بھی خوب واقف ہیں‘کیا امیر کیا فقیر ‘کیا غریب کیا وزیر سب پریشان اور بد حال سے ہوگئے ہیں۔

ایسے حالات اور ملکی تناظر میں رب کریم نے سعودی عرب کو توفیق بخشی ہے کہ اس نے انسانیت نوازی‘ملکی ہمدردی کی ایسی تاریخ رقم فرمائی کہ رہتی دنیا تک کے لئے قابل ِ تقلید نمونہ بن گیا ‘امید ہے کہ دونوں ملکوں کے خیر سگالانہ جذبے کو مزید تقویت ملے گی اور ترقی کی راہ میں مزید قدم زن ہوں گے‘اور الحمد للہ مملکت ِ سعودی عرب کے اس حسین اور خوش کن اقدام کی چو طرفہ ستائش کی جا رہی ہے ‘اور کیا جانا چاہئے ‘اللہ کریم سے بہ تضرع و ابتہال دعا ہے کہ وہ اہل شر کے شر ‘ارباب ِ فّتن کے فتنوں سےمملکت کی حفاظت فرمائے‘حاسدوں کے حسد اور جلن خوروں کے جلن سے مملکت کو محفوظ و مصؤن فرمائے ‘آمین یا رب العالمین ‘ساتھ ہی یہ بھی دعا ہے کہ رب کریم مملکت ِ سعودی عرب کو اسلامی‘دینی ‘انسانی ‘دعوتی ‘تبلیغی ‘قرآنی اور جملہ قسم کی خدمات زیادہ سے زیادہ توفیق ارزانی فرمائے ‘آمین

کل بتاریخ ۲۴ اپریل ۲۰۲۱ء سعودی حکومت نےہندوستان کو(۸۰ میٹرک ٹن )آٹھ سوٹن آکسیجن مفت بھیج کرخدمت انسانیت کاایک ریکارڈقائم کیاہے‘مملکت کے اس اقدام اور تعاون کی عالمی پیمانے پر تعریف ہورہی ہے‘اور بعض ثناخوان یہاں تک کہہ رہے کہ ((آکسیجن آرہا ہے محمدﷺ کے شہر سے)بحران کی اس گھڑی میں نہ صرف مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ دوسروں کے کام آنا چاہیے بلکہ جو اس میدان میں آگے آتے ہیں، ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی حوصلہ افزائی بھی ہمارا دینی واخلاقی فریضہ ہونا چاہیے‘مگر حد ہے بعض ملت فروش ‘ناہنجار اور اندھ بھکتوں کو یہ خدمت بھی راس نہیں آرہی ہے‘اور یہاں بھی سعودی دشمنی کو مختلف پیرایوں سے بیان کرتے نہیں تھکتے ‘اور اس کے لئے مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں

مملکت ِ انسانیت یعنی مملکتِ سعودی عرب کے اس فیاضانہ تعاون اور دریا دلی پر ہم تمام ہندوستانی باشندے دل کے نہاں خانے سے مملکت کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘اور بالخصوص فرماں روائے مملکت خادم الحرمین الشریفین ۔الملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود۔ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظہما اللہ کی خدمت عالی مرتبت میں ارمغان تشکر و امتنان اور ہدیہ ٔ تقدیر و احترام پیش کرتے ہیں







 

اٹیچمنٹس

شمولیت
مئی 27، 2016
پیغامات
256
ری ایکشن اسکور
74
پوائنٹ
71
افراط وتفریط سے ہمیشہ بچنا چاہیے
خواہ کسی پر تنقید کرتے ہوئے ہو یا پھر کسی تعریف وتوصیف کرتے وقت مبالغہ آرائی اور تناقض اہل علم کے شایان شان نہیں۔
 
Top