1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

أن ابن عمر كان إذا قدم من سفر دخل المسجد ، ثم أتى القبر ، فقال : السلام عليك يا رسول الله ،

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏جولائی 27، 2014۔

  1. ‏جولائی 27، 2014 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,662
    موصول شکریہ جات:
    422
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

  2. ‏دسمبر 25، 2014 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,926
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    یہ روایت متعدد کتب احادیث میں بسند صحیح مروی ہے ، مثلا:

    امام مالك رحمه الله (المتوفى:179)نے کہا:
    عن عبد الله بن دينار، قال: رأيت عبد الله بن عمر «يقف على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فيصلي على النبي صلى الله عليه وسلم، وعلى أبي بكر وعمر»[موطأ مالك ت عبد الباقي: 1/ 166 واسنادہ صحیح ]

    امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211)نے کہا:
    عن معمر، عن أيوب، عن نافع قال: كان ابن عمر إذا قدم من سفر أتى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «السلام عليك يا رسول الله، السلام عليك يا أبا بكر، السلام عليك يا أبتاه [مصنف عبد الرزاق: 3/ 576 واسنادہ صحیح]

    یہ موقوف روایت ہے یعنی ایک صحابی کا عمل ہے اوراس کی سند صحیح ہے ۔
    یادرہے کہ یہ سلام ، سلام تخاطب نہیں بلکہ سلام دعاء ہے ۔ چونکہ قبرستان کی زیارت کے وقت بھی سلام دعاء کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ قبررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تو یہاں مدفون اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں صحابہ ابوبکر وعمرفاروق رضی اللہ عنہما کے لئے بھی یہی دعاء کرتے تھے۔
    لہٰذا اس روایت سے صرف یہ ثابت ہوتاہے کہ قبرستان یا قبررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے وقت اہل قبور کے لئے سلامتی کی دعاء کرنی چاہئے ۔

    اور جولوگ اس روایت سے فوت شدہ لوگوں کو پکارنے یا قبروں پربدعات وخرافات کی دلیل لیتے ہیں ۔ان کے اس عمل کے لئے اس روایت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں