• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجتہاد یا تاویل کرنے والے مسلمان عالم کے بارے میں اہلسنّت کا مسلک

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
اجتہاد یا تاویل کرنے والے مسلمان عالم کے بارے میں اہلسنّت کا مسلک
اہلسنّت والجماعت جہاں اہل بدعات کو فرداً فرداً کافر یا فاسق کہنے میں جلدی کرنے سے احتیاط برتتے ہیں تاآنکہ ان پر قیام حجت اور ازالہ شبہات نہ ہو جائے ، وہاں وہ کسی مسلمان عالم کو کسی بناپر غلط اجتہاد یا دور کی تاویل کی وجہ سے کافر یا فاسق حتیٰ کہ مرتکب گناہ قرار دینے کو بھی روا نہیں سمجھتے خاص طور پر اگر تاویل ان مسائل میں کی گئی ہو جو ظنیات اور اختلافی ہوں۔امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[وہ مسلمان علماء جو علم کلام میں اجتہاد کرلیتے ہیں، ان میں سے اگر کسی کے کلام میں غلطی سرزد ہوگئی ہے تو بھی اس کی تکفیر جائز نہیں ہے…چنانچہ جاہلوں کو مسلمان علماء کی تکفیر کا کام سونپ دینا بہت ہی بڑا جرم ہے۔اصل میں اس کی بنیاد خوارج اور روافض سے جاملتی ہے جو اپنے تئیں امور دین میں کچھ غلطیوں کی بناپر ائمہ مسلمین کی تکفیر کرتے ہیں ۔اہلسنّت والجماعت کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ علماء امت کی محض کسی غلطی یا لغزش کی بناپر تکفیر جائز نہیں بلکہ سوائے رسول اکرم کے ہر کسی کی بات لی بھی جاسکتی ہے اور ترک بھی کی جاسکتی ہے اور وہ عالم جس کی کسی غلطی کی بناپر اس کی کوئی بات ترک کرنے کے قابل ہو،ضروری نہیں کہ وہ کافر یا فاسق یاگنہگار ہو…] (مجموع الفتاویٰ ،ج ۳۵ ص ۱۰۰)
قبوری شرک میں مبتلا لوگوں کی بابت صحیح موقف یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں رہنے والوں کو اس شرک اکبر کے ارتکاب پر عذر نہیں دیا جائے گا ۔مگر جو لوگ انہیں جہالت کا عذر دیتے ہیں ان کی غلطی اجتہادی نوعیت کی ہے جس کی بنا پر انہیں کافر کہنا غلط ہے ۔
اللجنۃ الدائمہ سعودی عرب قبر پرستوں کو ان کی جہالت کی وجہ سے مسلمان سمجھنے والے موحدین کو کافر کہنے والوں کا رد کرتے ہوئے کہتی ہے :
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ وآلہ وصحبہ وبعد:
کسی شخص کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ دینی مسائل میں اسے لا علمی کی بنیاد پر معذور قرار دیا جائے یا نہیں اس کا دارو مدار اس بات پر بھی ہے کہ اسے یہ مسئلہ کماحقہ پہنچا بھی ہے یا نہیں اور اس بات پر بھی کہ یہ مسئلہ کس حد تک واضح ہے اور کس حد تک اس میں غموض اورا خفاء پایا جاتاہے اور اس بات پر بھی کہ کسی شخص میں اس بات کو سمجھنے کی استعداد کس حد تک ہے ۔اس لیے جو شخص کسی تکلیف یا مصیبت کو دور کرنے کے لیے قبروں میں مدفون افراد سے فریاد کرتا ہے اسے وضاحت سے بتانا چاہئے کہ یہ شرک ہے اور اس پر اس حد تک اتمام حجت ہونا چاہئے کہ تبلیغ کا فرض اد اہو جائے اس کے بعد بھی اگر وہ شخص قبر پرستی پر اصرار کرے تو وہ مشرک ہے اس سے دنیا میں غیر مسلموں والا سلوک کیا جائے اور اگر اسی عقیدہ پر مرجائے تو آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہو گا ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
﴿رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا﴾ (النساۗء:165/4)
’’(ہم نے)خوشخبری دینے اور تنبیہ کرنے کے لیے رسول(بھیجے)تاکہ رسولوں (کے آنے) کے بعد لوگوں کے پاس (حق کو قبول نہ کرنے کی)کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ غالب و حکمت والا ہے ۔‘‘
﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا﴾(بنی اسرائیل:۱۵)
’’اور ہم عذاب نہیں بھیجتے حتیٰ کہ رسول بھیج دیں ۔‘‘
﴿ وَاُوْحِيَ اِلَيَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِہٖ وَمَنْۢ بَلَغَ﴾(الانعام:۱۹)
’’(اے نبی !آپ فرمادیں)میری طرف یہ قرآن وحی کے ذریعے بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ساتھ میں تم کو (اللہ کے عذاب سے)ڈرائوں اور (ان کو بھی )جن تک یہ (پیغام) پہنچے۔‘‘
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس امت میں سے جو یہودی یا عیسائی میرے بارے میں سن لے (یعنی اسے معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول بناکر بھیجا ہے )پھر وہ اس (دین )پر ایمان لائے بغیر مر جائے جو(دین)مجھے دے کر بھیجا گیاہے ،وہ شخص(ضرور)جہنمی ہو گا ۔‘‘(مسلم :۱۵۳)
اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مواخذہ تبھی ہو سکتا ہے جب کسی کو وضاحت سے خبر دی جا چکی ہو اور اس پر حجت قائم ہو چکی ہو ۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں وہ اسلام کی دعوت کے متعلق سنتا ہے ،پھر وہ ایمان نہیں لاتا، نہ اہل حق سے مل کر حق معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے کہ جیسے اسے دعوت پہنچی ہو اور پھر وہ کفر پر اڑا ہوا ہو ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ مذکورہ بالا حدیث اس مسئلہ کی تائید میں پیش کی جا سکتی ہے ۔اس کے علاوہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا وہ قصہ بھی دلیل بن سکتا ہے جب سامری نے انہیں گمراہ کر دیا تھا اور وہ بچھڑا پوجنے لگے تھے ۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام اللہ سے ہم کلام ہو نے کے لیے جاتے وقت اپنے پیچھے ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب بنا کر گئے تھے ۔ جب ہارون علیہ السلام نے انہیں بچھڑے کی پوجا سے منع کیا تو انہوں نے کہا:
﴿ قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْہِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى﴾ (طہ:۹۱)
’’ہم تو اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے حتیٰ کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس آجائے ۔‘‘
انہوں نے شرک کی طرف بلانے والے کی دعوت مان لی اور توحید کی دعوت دینے والے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں شرک اور دھوکے کی بات مان لینے میں معذور قرار نہیں دیا کیونکہ توحید کی دعوت موجود تھی اور موسیٰ علیہ السلام کی دعوت توحید پر بھی طویل زمانہ نہیں گزرا تھا ۔قرآن مجید میں اللہ تعا لیٰ نے شیطان کے جہنمیوں سے جھگڑے اور شیطان کا ان سے اظہار براء ت کا واقعہ بیان کیا ہے ،اس سے بھی مذکورہ بالا موقف کی تائید ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللہَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُم مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴾ (ابراہیم:22/14)
’’جب معاملے کافیصلہ ہو جائے گاتو شیطان کہے گا بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا اور پھر وعدہ خلافی کی ۔میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا مگر میں نے تمہیں (گمراہی کی طرف)بلایا،تم نے میری بات مان لی۔تو(اب)مجھے ملامت نہ کرو ،اپنے آپ کو ملامت کرو ۔میں تمہیں مصیبت سے چھڑا سکتا ہوں نہ تم مجھے چھڑا سکتے ہو ۔اس سے پہلے (دنیا میں )تم جو مجھے(اللہ کا)شریک بناتے رہے ہو (کہ اللہ کے احکام کو چھوڑ کر میری باتیں مانتے رہے ہو )میں اس کا انکار کرتا ہوں ، بے شک ظالموں کے لیے ہی اذیت ناک سزا ہے ۔‘‘
انہوں نے شیطان کے وعدے کو سچ مان لیا تھا ،شیطان نے ان کے سامنے جھوٹ کو سچ کے رنگ میں پیش کیا اور شرک جیسے گھنائونے جرم کو خوبصورت بنا کر پیش کیا اور وہ اس کے پیچھے لگ گئے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس معاملے میں معذور قرار نہیں دیا ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر اس شخص کے لیے عظیم ثواب کا سچا وعدہ موجود تھا جو اس وعدے کی تصدیق کر کے اس کی شریعت قبول کر لے اور اس کے مطابق سیدھے راستے پر گامزن ہو جائے ۔جن علاقوں میں مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود ہے ،ان کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے رہنے والوں کو دو گروہ اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک گروہ طرح طرح کی شرکیہ اور غیر شرکیہ بدعات کی طرف بلارہا ہے ۔وہ لوگوں کو دھوکا دینے اور اپنی بدعت کو عام کرنے کیلیے ضعیف حدیثوں اور عجیب قصے کہانیوں کا سہارا لیتاہے اور انہیں دلکش انداز میں بیان کر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔دوسرا گروہ حق اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے اور اس کے بارے میں کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلائل پیش کرتا ہے اور فریق مخالف کے دعووں کی غلطی اور فریب کو واضح کرتا ہے۔اس فریق نے حق کو واضح کرنے اور خاص و عام تک پہنچانے میں جو کوششیں کی ہیں ،وہ قیام حجت کے لیے کافی ہیں،اگر چہ اس فریق کی افرادی تعداد کم ہی ہو ۔کیونکہ حق بیان کرنے میں دلیل کا اعتبار ہوتا ہے کثرت تعداد کا نہیں ۔جو شخص سمجھ بوجھ رکھتا ہے اور اس قسم کے علاقے میں رہائش پذیر ہے ،وہ اہل حق کی باتیں سن کر حق کو پہچان سکتاہے ۔بشر طیکہ وہ تلاش حق کی کوشش کرے ،خواہشات نفسانی اور عصبیت سے بچ کررہے ،دولت مندوں کی دولت اور سرداروں کی سرداری دیکھ کر دھو کہ میں نہ آئے ۔اس کے غور و فکر کا معیار درست ہو ،عقل و فہم سے دست بردار نہ ہو چکا ہو ۔وہ ان لوگوں میں شامل نہ ہو جن کی کیفیت ان آیات مبارکہ میں بیان ہوئی ہے :
﴿اِنَّ اللہَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَاَعَدَّ لَہُمْ سَعِيْرًا خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا﴾ (الاحزاب:۶۴-۶۸)
’’اللہ نے کافروں کو یقیناً دھتکار دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی آگ (جہنم)تیار کی ہے ،وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے انہیں کوئی دوست ملے گا نہ مدد گار ۔جس دن آگ میں ان کے چہرے ادھر ادھر (الٹ پلٹ)کیے جائیں گے ۔(اس دن)وہ کہیں گے ’’کاش! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اورکہیں گے، اے ہمارے مالک! ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی ا طاعت کی تو انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کر دیا ،اے ہمارے رب!انہیں دگنا عذاب دے اور انہیں بڑی لعنت کر‘‘۔
البتہ جو شخص غیر اسلامی ملک میں رہتاہے اور اس نے اسلام ،قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ نہیں سنا ،تو اگر فرض کریں کہ ایسا کوئی شخص موجود ہے تواس کا حکم اہل فترت کی طرح ہے (جو ایسے زمانے میں تھے کہ سابقہ نبی کی تعلیمات فراموش کی جا چکی تھیں اور نیا نبی ابھی مبعوث نہیں ہوا تھا ۔)مسلمان علماء کا فرض ہے کہ اسے دین اسلام کے عقائد اوراعمال کی تعلیم دیں تاکہ اس پر حجت قائم ہو اوراس کا عذر ختم ہو جائے ۔قیامت کے دن ایسے شخص سے وہی معاملہ کیا جائے گا جو ان افراد سے کیا جائے گا جو دنیا میں جنون اور کم سنی کی وجہ سے مکلف ہی نہیں تھے ۔باقی رہے وہ شرعی احکام جو عام لوگوں کے لیے واضح نہیں ہوتے ،مثلاً ان میں وجہ دلالت بہت خفی ہے یا دلائل باہم متعارض ہیں اور ترجیح میں علماء مختلف آراء رکھتے ہیں، تو اس قسم کے مسائل میں اختلاف کرنے والے پر ایمان یا کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا ۔بلکہ یہ کہاجاتاہے کہ اس نے صحیح کہا یا اس سے غلطی ہوئی وہ عند اللہ معذور ہے اور اسے اجتہاد کا ثواب بہر حال ملے گا اور جس کا اجتہاد صحیح ہوا اسے دگنا ثواب ملے گا ۔اس قسم کے مسائل سمجھنے کی صلاحیت میں تفاوت پایا جاتا ہے ،قرآن و حدیث کی نصوص سے واقف ہونے ،صحیح اور ضعیف احادیث میں امتیاز اور ناسخ و منسوخ کی پہچان وغیرہ میں بھی سب علماء برابر نہیںہوتے۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ جو اہل توحید قبر پرستوں کو کافر سمجھتے ہیں ،ان کے لیے یہ درست نہیں کہ اپنے ان اہل توحید بھائیوں کو کافر کہیں جو قبر پرستوں کو کافر قرار دینے میں تامل کا شکار ہیں ۔اصل میں ان کے سامنے فتویٰ لگانے میں یہ شبہ ہے کہ ان قبر پرستوں کو کافر قرار دینے سے پہلے ان پر اتما م حجت ضرور ی ہے ،بخلاف غیر مسلموں کے مثلاً :یہودی ،عیسائی یا کمیونسٹ کہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں اور جو انہیں کافر نہیں سمجھتا اس کا کفر بھی واضح ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے حالات درست فرمائے اور دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔ہمیں اور انہیں نفس کے شر اور گناہوں کی شامت سے محفوظ رکھے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم بغیر علم کے اللہ تعالی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ نہ کہیں۔یہ سب اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور وہی قادر ہے۔ وباللہ التوفیق وصلیٰ اللہ علیٰ نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔ (اللجنۃ الدائمہ، فتاویٰ داراالافتاء سعودی عرب،جلد2،ص،101)
علمائے کرام کا یہ فتویٰ با لکل درست ہے کہ کوئی غلط فہمی کی بنا پر منافق یا کافر کو مسلم سمجھ کر اس کی حمایت کرے تو وہ خود کافر نہیں ہو گااس کی دلیل واقعہ افک ہے ۔ جس میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی اور مدینہ میں اس بات کو بنیاد بنا کر خوب پروپیگنڈا کیا ۔آپ کو اتنی اذیت پہنچائی کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’کون اس شخص سے میرا بدلہ لے گا جس نے میرےگھر والی کے مسئلہ میں مجھے ایذا پہنچائی ؟‘‘
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا حکم دیجئے اگر وہ میرے قبیلہ کا فرد ہے ‘ میں اس کی گردن مار دیتا ہوں ۔ اگر وہ خزرج قبیلہ کا فرد ہے تو جو آپ کا حکم ہو گا وہی ہم کریں گے۔یہ سن کر سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ خزرج کے سردار تھے ، وہ نیک آدمی تھے لیکن ان پر قومی حمیت غالب آگئی اور کہنے لگے اللہ کی قسم تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم اسے قتل کر سکتے ہو ۔سیدنا اسید بن حضیررضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے تم جھوٹ بولتے ہو اللہ کی قسم ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔پس تم منافق ہو اسی لیے منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتے ہو۔ اوس اور خزرج کے دونوں قیبلے آپس میں جھگڑنے لگے قریب تھا کہ وہ آپس میں لڑ پڑیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہے تھے ۔(بخاری :۴۷۵۰)
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ عبداللہ بن ابی کی حمایت کی لیکن اس کے باوجود وہ خود منافق نہیں ہوئے ۔
اگر کوئی عالم دین بدعت کا مرتکب ہو یا کسی بدعتی کی موافقت کرتا ہو تو کیا وہ بھی ان میں شامل ہو گا؟
شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
الحمد للہ! ہم نے یہ سوال شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے سامنے پیش کیا تو ان کا جواب تھا : ’’نہیں وہ ان میں شامل نہیں ہو گااور نہ ہی ان کی جانب منسوب کیا جائے گا، اس لیے کہ وہ تو صرف کسی ایک مسئلہ میں موافق ہوا ہے لہٰذا اسے مطلقاً ان کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔اس کی مثال اس طرح ہے :
جو شخص امام احمدرحمہ اللہ کے مسلک پر ہو لیکن اس نے کسی ایک مسئلہ میں امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک اختیار کیا تو کیا ہم اسے مالکی کہیں گے؟ نہیں اسے مالکی نہیں کہا جائے گا۔ تو اسی طرح اگر کوئی فقیہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک پر ہو اور وہ کسی معین مسئلہ میں شافعی مسلک پر عمل کرے تو کیا ہم اسے شافعی کہیں گے؟ نہیں اسے شافعی نہیں کہا جائے گا۔چنانچہ اگر ہم کسی معتبر اور نصیحت میں معروف عالم دین کو اہل بدعت کا کوئی مسئلہ لیتے ہوئے دیکھیں تو یہ صحیح نہیں کہ ہم کہیں وہ بھی ان بدعتیوں میں شامل ہو گیا ہے اور ان کے طریقہ پر ہے بلکہ ہم یہ کہیں گے : ہم ان سے کتاب اللہ، سنت رسول اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی دیکھتے ہیں اور جب وہ اس مسئلہ میں غلطی کر بیٹھے تو ان کی یہ غلطی اجتھاد کی بنا پر ہے کیونکہ اس امت کا اجتھاد کرنے والا اگر صحیح اجتھاد کرے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر غلطی کر بیٹھے تو اسے ایک اجر حاصل ہو تا ہے ۔اور جو کوئی شخص کسی ایک غلط کلمہ کی بنا پر سارا حق ہی رد کر دے تو وہ گمراہ ہے ، خاص کر جب یہ غلطی جسے وہ غلط خیال کرتا ہے غلط نہ ہو، اسے غلط بلکہ گمراہ یا بعض اوقات تو اسے کافر قرار دیتے ہیں۔ اللہ اس سے محفوظ رکھے ایسا کرنا بہت ہی برا اور غلط ہے ۔اور جو کسی دوسرے کو کسی سبب یا معصیت کی بنا پر کافر قرار دے تو اس کا یہ مسلک تو خوارج سے بھی زیادہ شدید ہوگا کیونکہ خوارج تو مرتکب کبیرہ کو کافر قرار دیتے ہیں نہ کہ کسی بھی معصیت کی بنا پر … …(لقاء الشہری للشیخ محمد بن صالح العثیمین:ص۱۵ )(الاسلام سوال جواب:فتویٰ :۹۷۸۸)
ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
 
Top