• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احمد رضا خان بریلوی نے جان بوجھ کر قرآن پاک کے ترجمہ میں تحریف کی

وقاص خان

مبتدی
شمولیت
اگست 14، 2012
پیغامات
27
ری ایکشن اسکور
109
پوائنٹ
0
بھائی غیر جانبداری، تو انصاف کے لئے شرط ہے۔ اور تعصبانہ خیالات کی گرد کو ذہن سے صاف کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن جہاں واقعی غلطی موجود ہو وہاں تو تعصب، جانبداری، مسلک پرستی وغیرہ کے سے الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔
آپ یہ دیکھئے کہ اگر آپ کی تشریح کو مان لیا جائے کہ مشرکین دراصل بتوں کی پوجا کرتے تھے ، نا کہ صرف پکارتے تھے، تو یہ سوچئے کہ اس سے قرآن نازل کرنے والے اللہ کے بارے میں کیا تصور پیدا ہوتا ہے؟ گویا اللہ تعالیٰ کو جو پوجا کے لئے درست لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا اور نہیں کیا (نعوذباللہ)، اس کی تصحیح خاں صاحب نے کر دی؟
ٹھیک ہے کہ تشریح میں اختلاف ہو جایا کرتا ہے۔ لیکن اپنے مسلک کے ثبوت کے لئے تراجم میں ہی تحریف کر کے وہ معانی داخل کر دینا جس کی نہ لغت سے تصدیق ہوتی ہو نا سلف صالحین سے، یہ تو صریح زیادتی ہے اور اس کا دفاع کرنا یا تو قلت فہم کا نتیجہ ہو سکتا ہے اور یا سخت جانبداری کا۔ آپ نے چونکہ وضاحت کر دی کہ آپ جانبدار نہیں، لہٰذا ہم اسے آپ کی کم فہمی کا نتیجہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ میں ایک کم فہم انسان ہوں۔ مجھ سے کم فہم انسان بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ اردو میں استعمال ہونے والا لفظ "پوجا" (جو کہ ہندی زبان سے لیا گیا ہے) بتوں کی عبادت کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ہر زبان کا اپنا اسلوب ہے، اور اہل زبان سے بہتر اس زبان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ قرآن پاک کی آیات کے مطلب سمجھنے میں تو بعض اوقات اہل زبان بھی بھول کر گئے۔
اگر ہم قرآنی آیات کے ظاہری مطلب ہی کے چکر میں پھنس کر رہ گئے تو ایسے میں بے تحاشہ نام گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ترجمہ میں تحریف کی ہے، لیکن اس سے موضوع کوئی دوسرا رنگ اختیار کرجائے گا۔ صرف احمد رضا ہی کو ہم پکڑ کر بیٹھ گئے تو مطلب یہی لیا جائے گا کہ اسی کے بارے میں ہی کچھ کہنا مقصود ہے۔ اس لئے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی بات کی۔
میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اس دعا کرنے کا الگ ثواب ہے کہ نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے)
دعا کو عبادت میں شمار کیا جانا چاہئے یا نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے) اگر آپ کا جواب میں نہیں میں ہے تو پھر واقعی احمد رضا اس معاملے میں بہت بڑی غلطی پر ہے۔
میں اس بات کی وضاحت کر گیا تھا کہ احمد رضا لفظی معنی کی بجائے روح المعانی میں چلا گیا ہے۔ ادعوا۔ تدعوا وغیرہ۔ پکارنا یا دعا کرنا۔ بات بہت واضح ہے۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اس دعا کرنے کا الگ ثواب ہے کہ نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے)
دعا کو عبادت میں شمار کیا جانا چاہئے یا نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے) اگر آپ کا جواب میں نہیں میں ہے تو پھر واقعی احمد رضا اس معاملے میں بہت بڑی غلطی پر ہے۔
میں اس بات کی وضاحت کر گیا تھا کہ احمد رضا لفظی معنی کی بجائے روح المعانی میں چلا گیا ہے۔ ادعوا۔ تدعوا وغیرہ۔ پکارنا یا دعا کرنا۔ بات بہت واضح ہے۔
محترم، آپ کی بات صد فیصد درست ہوتی اگر خاں صاحب نے ہر جگہ ہی ایک جیسا ترجمہ کیا ہوتا۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا ہے کہ جن آیات سے غیراللہ کو ندا دینے کی تردید ہوتی تھی وہاں تو پوجنے کا معانی کر دیا ہے اور جہاں یہ تردید ممکن نہ تھی وہاں انہوں نے درست معانی پکارنا، ندا، بلانا ہی کئے ہیں۔
آپ ہی کہئے کہ اپنے مزعومہ عقائد کو قرآن سے ثابت کرنے کا یہ طریقہ تحریف کے زمرے میں کیونکر نہیں آنا چاہئے؟
 

طالب علم

مشہور رکن
شمولیت
اگست 15، 2011
پیغامات
227
ری ایکشن اسکور
574
پوائنٹ
104
مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ میں ایک کم فہم انسان ہوں۔ مجھ سے کم فہم انسان بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ اردو میں استعمال ہونے والا لفظ "پوجا" (جو کہ ہندی زبان سے لیا گیا ہے) بتوں کی عبادت کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ہر زبان کا اپنا اسلوب ہے، اور اہل زبان سے بہتر اس زبان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ قرآن پاک کی آیات کے مطلب سمجھنے میں تو بعض اوقات اہل زبان بھی بھول کر گئے۔
اگر ہم قرآنی آیات کے ظاہری مطلب ہی کے چکر میں پھنس کر رہ گئے تو ایسے میں بے تحاشہ نام گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ترجمہ میں تحریف کی ہے، لیکن اس سے موضوع کوئی دوسرا رنگ اختیار کرجائے گا۔ صرف احمد رضا ہی کو ہم پکڑ کر بیٹھ گئے تو مطلب یہی لیا جائے گا کہ اسی کے بارے میں ہی کچھ کہنا مقصود ہے۔ اس لئے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی بات کی۔
میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اس دعا کرنے کا الگ ثواب ہے کہ نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے)
دعا کو عبادت میں شمار کیا جانا چاہئے یا نہیں؟ (بحیثیت مسلمان آپ کا جواب ہاں میں ہونا چاہئے) اگر آپ کا جواب میں نہیں میں ہے تو پھر واقعی احمد رضا اس معاملے میں بہت بڑی غلطی پر ہے۔
میں اس بات کی وضاحت کر گیا تھا کہ احمد رضا لفظی معنی کی بجائے روح المعانی میں چلا گیا ہے۔ ادعوا۔ تدعوا وغیرہ۔ پکارنا یا دعا کرنا۔ بات بہت واضح ہے۔
اگر احمد رضا خان صاحب کے فارمولے پر عمل کیا جائے تو اس عربی عبارت کا ترجمہ کیا ہو گا؟؟؟
الدعاء ھو العبادۃ
یعنی
عبادت عبادت ہے

یا

پوجا عبادت ہے

احمد رضا خان نے کچھ ایسا ہی کام کیا ہے جیسا کہ آج کل کے صحافی اور میڈیا والے کرتے ہیں کہ خبر کو reportہی کچھ اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ اس کے معانی اور مفاہیم میں یکسر تبدیلی نظر آتی ہے اور ایک مخصوص گروہ کے نظریات یا عقائد یا خواہشات کے عین یا برعکس نظر آتی ہے۔
اگر ان آیات کا صیح ترجمہ کیا جاتا تو بریلویت کے عقیدے پر گہری ضرب پڑتی ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔
 
شمولیت
نومبر 18، 2014
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
54
السلام علیکم!
نوٹ: یہ پوسٹ اور اس کے اندر کی گئی تحقیق محترم ارشاد اللہ مان کی کتاب تلاش حق سے لی گئی ہے۔ مکمل استفادے کے لئے اس کتاب کے صفحہ نمبر 181 سے 199 تک کا مطالعہ کیا جائے۔
میں یہ پوسٹ کرنے سے پہلے تمام بریلوی حضرات سے درخواست کروں گا کہ وہ کم ازکم دو بار احمد رضا خان صاحب کے 'شہرہ آفاق' ترجمہ 'کنز الایمان' کا بغور مطالعہ کریں اور اس پوسٹ میں نیچے زکر کردہ مقامات کا دل سے تمام تعصبات کو کچھ دنوں کے لئے پرے رکھتے ہوئے مطالعہ کریں اور اگر ہماری بات سچ پائیں تو اللہ کے سامنے حاضری کا خیال رکھتے ہوئے، مشکلات میں صرف اللہ کو پکاریں۔ اس پوسٹ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احمد رضا خان بریلوی نے جان بوجھ کر قرآن پاک کے ترجمہ میں تحریف کی تھی۔
مصنف کتاب صفحہ نمبر 188 پر لکھتے ہیں:
پکارنے کامعاملہ چونکہ بڑا اہم ہے، اس لیے اس معاملہ پر مکمل اور تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ میرے سامنے اس وقت "المعجم المفھرس لاءلفاط القرآن الکریم" ہے، یہ کتاب عربی میں ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ قرآن مجید میں فلاں لفظ کتنی دفعہ وارد ہوا ہے اور یہ کس کس سورت اور آیت میں ہے۔ اس کے صفح 326 تا 330 پر ((دعو)) سے بننے والے تمام الفاظ کی مکمل فہرست درج ہے۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے، الفاف کے بعد بریکٹ کے اندر وہ تعداد درج ہے ، جتنی تعداد میں یہ لفظ قرآن کے اندر وارد ہوا ہے:
دعا(5)
دعاکم (2)
دعانا(2)
دعوا(6)
ادعو(4)
تدع(4)
تدعوا(5)
تدعون(17)
تدعونا(2)
تدعوننی(3)
تدعوہم(5)
ندع(2)
ندعوا(4)
یدع (5)
یدعوا(8)
یدعوکم (4)
یدعون(23)
ادع(10)
ادعوا(14)
مثال کے طور پر احمد رضا خان کے ترجمہ کے امیجز یہاں لگائے گئے ہییں اور سرخ رنگ غلطی کی نشاندہی کے لئے جبکہ سبز رنگ درستگی کی نشاندہی کے لئے استعمال کی گیاہے
تدعون:
قرآن پاک میں جہاں جہاں تدعون غیر اللہ کی پکار کے لئے استعمال ہوا ہے ، بریلوی صاحب نے جان بوجھ کر وہاں عبادت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ ثبوت کے طور پر یہ آیات ملاحظہ فرمائیے۔
http://img34.imageshack.us/img34/5742/tadoonawrong.gif



http://img32.imageshack.us/img32/8301/tadoonawrong2.gif

یہاں پہ یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں پر تدعون کا ترجمہ پوجنا ہونا ممکن نہ تھا یا وہاں پر غیر اللہ کی پکار زیر بحث نہ تھی وہاں پہ احمد رضا خان صاحب نے ترجمہ صیح کیا ہے
http://img35.imageshack.us/img35/681/tadoonacorrect.gif

یدع، یدعوا، یدعون:
یہاں پہ بھی وہی کام کیا ہے احمد رضا خان صاحب نے جہاں پہ غیراللہ کی پکار کے عقیدے پر زد پڑتی تھی وہاں پر پوجنا اور جہاں پر ضرورت نہ تھی یا ترجمہ نہیں ہو سکتا تھا تو وہاں پر پکارنا
http://img35.imageshack.us/img35/806/yadoonawrong.gif
http://img29.imageshack.us/img29/3245/yadoorightandwrong.gif
http://img268.imageshack.us/img268/6263/yadoonacorrect.gif
http://img268.imageshack.us/img268/6263/yadoonacorrect.gif







کچھ مزید ثبوت
http://img36.imageshack.us/img36/4645/adoowrightandwrong.gif



بریلوی دوستوں سے چار سوالات ہیں کہ:
1) کیا احمد رضا خان بریلوی نے ایسا کسی دینی مصلحت کے تحت کیا تھا؟
2) یہ ان کی علمی لغزش تھی
3) یہ علمی بد دیانتی کی بد ترین مثال ہے
4) یہ ترجمہ بالکل درست ہے جبکہ ہمارے اعتراضات ہماری کم علمی کا ثبوت ہیں
پوری تحقیق کے لئے فاضل مصنف کی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے، شائع کردہ دارالاندلس۔ اس پوسٹ میں نمونہ کے طور پر کچھ آیات کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ عقل والو سوچو، اللہ کے شریک ٹھہرانے سے رک جاو
http://img34.imageshack.us/img34/5742/tadoonawrong.gif
فوٹو شو نی ہو رہی ہیں
 

عبدالعزيز

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 24، 2017
پیغامات
169
ری ایکشن اسکور
78
پوائنٹ
29
صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کسی پر بھی
" حکم " لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیئے.
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,109
ری ایکشن اسکور
327
پوائنٹ
156
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مندرجہ ذیل آیات میں ”د ع و“ اور ”ع ب د“ کے مادے سے بنے مختلف الفاظ جہاں اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ سیاق و سباق کے اعتبار سے”دعو“ اور ”عبد“ مترادف المعنیٰ ہیں بالکل اسی طرح ”دعو“ اور ”عبد“ کے استحقاق کو بھی صرف ا للہ تعالٰی کے لیے خاص کر رہے ہیں۔

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴿البينة: ٥﴾
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴿الزمر: ٢﴾
قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي ﴿الزمر: ١٤﴾
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ ﴿الأعراف: ٢٩﴾
هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿يونس: ٢٢﴾
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ﴿العنكبوت: ٦٥﴾
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ ﴿لقمان: ٣٢﴾
فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴿غافر: ١٤﴾
هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿غافر: ٦٥﴾
وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا ﴿٤٨﴾ فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا ﴿٤٩﴾
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
﴿غافر: ٦٠﴾
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿غافر: ٦٦﴾
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿الأنعام: ٥٦﴾

مندرجہ ذیل آیات سے پتہ چلتا ہے کہ صرف غیر اللہ کی عبادت کرنا ہی شرک نہیں بلکہ ان کو پُکارنا(دعا کرنا) بھی شرک ہے۔

إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ﴿فاطر: ١٤﴾
وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ أَشْرَكُوا شُرَكَاءَهُمْ قَالُوا رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ شُرَكَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِن دُونِكَ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿النحل: ٨٦﴾

مندرجہ ذیل آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ”من دون اللہ“ میں انبیاء ، رسل، اولیاء،صلحاء،جن اور ملائکہ بھی شامل ہیں۔

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿المائدة: ١١٦﴾
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٩٤﴾
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
﴿التوبة: ٣١﴾
أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا ﴿الكهف: ١٠٢﴾
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ ﴿الفرقان: ١٧﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ وَكَانُوا قَوْمًا بُورًا ﴿الفرقان: ١٨﴾
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ ﴿سبإ: ٤١﴾
 
Last edited:
شمولیت
نومبر 28، 2018
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
46
السلام علیکم!
نوٹ: یہ پوسٹ اور اس کے اندر کی گئی تحقیق محترم ارشاد اللہ مان کی کتاب تلاش حق سے لی گئی ہے۔ مکمل استفادے کے لئے اس کتاب کے صفحہ نمبر 181 سے 199 تک کا مطالعہ کیا جائے۔
میں یہ پوسٹ کرنے سے پہلے تمام بریلوی حضرات سے درخواست کروں گا کہ وہ کم ازکم دو بار احمد رضا خان صاحب کے 'شہرہ آفاق' ترجمہ 'کنز الایمان' کا بغور مطالعہ کریں اور اس پوسٹ میں نیچے زکر کردہ مقامات کا دل سے تمام تعصبات کو کچھ دنوں کے لئے پرے رکھتے ہوئے مطالعہ کریں اور اگر ہماری بات سچ پائیں تو اللہ کے سامنے حاضری کا خیال رکھتے ہوئے، مشکلات میں صرف اللہ کو پکاریں۔ اس پوسٹ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احمد رضا خان بریلوی نے جان بوجھ کر قرآن پاک کے ترجمہ میں تحریف کی تھی۔
مصنف کتاب صفحہ نمبر 188 پر لکھتے ہیں:
پکارنے کامعاملہ چونکہ بڑا اہم ہے، اس لیے اس معاملہ پر مکمل اور تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ میرے سامنے اس وقت "المعجم المفھرس لاءلفاط القرآن الکریم" ہے، یہ کتاب عربی میں ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ قرآن مجید میں فلاں لفظ کتنی دفعہ وارد ہوا ہے اور یہ کس کس سورت اور آیت میں ہے۔ اس کے صفح 326 تا 330 پر ((دعو)) سے بننے والے تمام الفاظ کی مکمل فہرست درج ہے۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے، الفاف کے بعد بریکٹ کے اندر وہ تعداد درج ہے ، جتنی تعداد میں یہ لفظ قرآن کے اندر وارد ہوا ہے:
دعا(5)
دعاکم (2)
دعانا(2)
دعوا(6)
ادعو(4)
تدع(4)
تدعوا(5)
تدعون(17)
تدعونا(2)
تدعوننی(3)
تدعوہم(5)
ندع(2)
ندعوا(4)
یدع (5)
یدعوا(8)
یدعوکم (4)
یدعون(23)
ادع(10)
ادعوا(14)
مثال کے طور پر احمد رضا خان کے ترجمہ کے امیجز یہاں لگائے گئے ہییں اور سرخ رنگ غلطی کی نشاندہی کے لئے جبکہ سبز رنگ درستگی کی نشاندہی کے لئے استعمال کی گیاہے
تدعون:
قرآن پاک میں جہاں جہاں تدعون غیر اللہ کی پکار کے لئے استعمال ہوا ہے ، بریلوی صاحب نے جان بوجھ کر وہاں عبادت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ ثبوت کے طور پر یہ آیات ملاحظہ فرمائیے۔
http://img34.imageshack.us/img34/5742/tadoonawrong.gif



http://img32.imageshack.us/img32/8301/tadoonawrong2.gif

یہاں پہ یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں پر تدعون کا ترجمہ پوجنا ہونا ممکن نہ تھا یا وہاں پر غیر اللہ کی پکار زیر بحث نہ تھی وہاں پہ احمد رضا خان صاحب نے ترجمہ صیح کیا ہے
http://img35.imageshack.us/img35/681/tadoonacorrect.gif

یدع، یدعوا، یدعون:
یہاں پہ بھی وہی کام کیا ہے احمد رضا خان صاحب نے جہاں پہ غیراللہ کی پکار کے عقیدے پر زد پڑتی تھی وہاں پر پوجنا اور جہاں پر ضرورت نہ تھی یا ترجمہ نہیں ہو سکتا تھا تو وہاں پر پکارنا
http://img35.imageshack.us/img35/806/yadoonawrong.gif
http://img29.imageshack.us/img29/3245/yadoorightandwrong.gif
http://img268.imageshack.us/img268/6263/yadoonacorrect.gif







کچھ مزید ثبوت
http://img36.imageshack.us/img36/4645/adoowrightandwrong.gif



بریلوی دوستوں سے چار سوالات ہیں کہ:
1) کیا احمد رضا خان بریلوی نے ایسا کسی دینی مصلحت کے تحت کیا تھا؟
2) یہ ان کی علمی لغزش تھی
3) یہ علمی بد دیانتی کی بد ترین مثال ہے
4) یہ ترجمہ بالکل درست ہے جبکہ ہمارے اعتراضات ہماری کم علمی کا ثبوت ہیں
پوری تحقیق کے لئے فاضل مصنف کی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے، شائع کردہ دارالاندلس۔ اس پوسٹ میں نمونہ کے طور پر کچھ آیات کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ عقل والو سوچو، اللہ کے شریک ٹھہرانے سے رک جاو
http://img34.imageshack.us/img34/5742/tadoonawrong.gif
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم عبداللہ کشمیری صاحب یہ امیج کھل نہیں رہے کسی ایسے طریقے سے آپ لوڈ کریں تاکہ آسانی سے کھل جائیں۔
یا پھر ایک مہربانی کریں یہ تمام تصاویر مجھے واٹس آپ کر دیں۔جزاک اللہ خیرا
00966596484586 میرا واٹس آپ نمبر
 
Top