• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اذا کے بارے میں

شمولیت
فروری 21، 2019
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
17
✍⁩ ہدایت اللہ فارس
--------------------------------------
ظرف زمان ہے، یہ معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے یہ اکثر ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اس کے معنی کو مستقبل کی طرف پھیر دیتا ہے۔
مثلاً: إذا جاء رمضان (شرط) فتحت ابواب الجنة ( جواب شرط)
اور کبھی کبھی یہ فعل مضارع پر بھی داخل ہوتا ہے،اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اس کا جواب فعل مضارع ہو جیسے ایک شاعر کے شعر میں ہے: والنفس راغبة إذا رغبتها. وإذا ترد إلى قليل تقنع
چند مواقع ایسے ہیں جن میں جواب شرط پر فاء کا داخل کرنا واجب ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(١) اذا کا جواب جملہ اسمیہ ہو جیسے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌۖ...
(٢) جواب فعل طلب ہو یعنی امر، نھی واستفہام میں سے کوئی ہو نحو:
*امر کی مثال*: یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُوا۟ وُجُوهَكُمۡ وَأَیۡدِیَكُمۡ....

*نھی کی مثال*: إذا سمعتم بالطاعون في أرض فلا تدخلوها وإذا وقع بأرض وانتم بها فلا تخرجوا منها (مسند احمد)

*استفہام کی مثال*: إذا رأيت حامدا فماذا تقول له؟
 
Top