• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ارتداد اور اس کے اسباب (تلخیص خطبۂ جمعہ)

شمولیت
فروری 21، 2019
پیغامات
60
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
56
*ارتداد اور اس کے اسباب*
تلخیص خطبۂ جمعہ
(خطیب وملخص؛ ہدایت اللہ فارس)
؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀
آسان الفاظ میں ارتداد کہتے ہیں کسی شخص کا دین اسلام کو ترک کردینا، پھر چاہے وہ کسی اور مذہب کو اختیار کرے یا لادینی بن جائے۔
آج دنیا میں مغربی تہذیب (Western civilizati یا Western culture) سے متاثر افراد کے درمیان دن بدن ارتداد کی لہر تیز ہوتی جارہی ہے
اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ جاننے سے پہلے قرآن کریم کی اس آیت پر غور کر لیتے ہیں،
اللہ فرماتا ہے: وَإِن تَتَوَلَّوۡا۟ یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا یَكُونُوۤا۟ أَمۡثَـٰلَكُم
اگر تم دین اسلام سے منہ موڑوگے تو جان رکھو کہ اللہ تعالی تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لا کھڑا کرے گا جو تمہاری طرح بالکل نہیں ہوں گے۔
یعنی وہ ہر معاملے میں شرعی احکام کو فالو کرنے والے ہوں گے اور فتنوں کے دور میں ایمان کو ترجیح دیں گے
اس آیت میں ایک طرف جہاں یہ اشارہ موجود ہے کہ کچھ ناسمجھ لوگ دین اسلام کو ترک کریں گے تو وہیں یہ بھی وضاحت کر دی گئی کہ کسی کا مرتد ہونا نہ تو اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے نہ اہل اسلام کو اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ رب العالمین کبھی اسلام کو مٹنے نہیں دے گا، بلکہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں اسلام کی حقانیت کو پیدا کرکے اسلام کو بلند رکھے گا۔

ایک طرف یہ آیت اور دوسری طرف Pew research centre کی ریپورٹ جس میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال تقریباً ایک لاکھ افراد اسلام ترک کرتے ہیں، اور اسی کی رپورٹ کے مطابق 2010 سے 20 تک سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا دھرم اسلام ہی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ترک کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے

اب کچھ اہم وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں کہ آخر اس قدر تیزی سے ارتداد کیوں پھیل رہا ہے؛

سب سے بڑی وجہ لیبرازم جیسے نظریہ کو فالو کرنا ہے۔
جس کی ابتدا 17 اور 18ویں صدی کے دوران یورپ میں مقابلہ اور ریکشن کے طور پر ہوئی، جب پادریوں نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور ایسی ایسی پابندیاں عائد کر دی جو انسانی حقوق کے مخالف تھی تو کچھ مفکرین نے فریڈم اور اکوالیٹی کا نعرہ بلند کیا، جس کا ظاہری مقصد یہی تھا کہ انسان اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں لیکن ان مذہبی لوگوں نے انھیں مذہبی پابندیوں میں قید کردیا ہے،
اور ان مفکرین نے عیسائی مذہب کے ساتھ تمام مذاھب کو جوڑ دیا کہ جب عیسائی مذہب کے ماننے والے عوام پر اس طرح ظلم کررہے ہیں تو ہر مذہب والے ایسے ہی ہوتے ہوں گے، جس میں اسلام کو زیادہ ہائی لائٹ رکھا گیا کیوں کہ اسلام ہر طرح کی بے حیائی سے روکتا ہے اور انہیں فریڈم کے نعرہ تلے لوگوں میں اپنی من چاہی حکومت قائم کرنی ہے۔
پھر انہوں نے عورتوں کے حق میں فیمنزم کا نعرہ لگایا، جس میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ عورتیں اپنی مرضی کے مالک ہیں، وہ اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کا حق رکھتی ہیں، گھر سے باہر نکل کر کمائی کرنے کا حق رکھتی ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مذہب نے انھیں گھر اور پردے میں قید کردیا ہے!
یہ نعرہ لگا کر کس قدر عورتوں کو غلام بنایا گیا اس کا اندازہ اس ظاہری آزادی سے ہونے والے نقصان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
ریپورٹ یہ بتاتی ہے کہ آج یوروپین ممالک میں چالیس فیصد ایسے بچے ہیں جو بغیر شادی کے پیدا ہوئے ہیں اور ان چالیس میں 80 فیصد بچوں کو یہ نہیں پتا کہ ان کے والد کون ہیں
اور 97 فیصد عورتیں ایسی ہیں جو گھر کا کام بھی خود کرتی ہیں اور بچوں کو پالنے کے لیے باہر جاب بھی کرتی ہیں، کیوں کہ ان کے مطابق وہی عورت کامیاب ہیں جو اپنے پیر پر کھڑی ہو۔
اور اسی نظریہ کا ثمرہ ہے کہ آج ان ممالک میں طلاق عام ہوگیا ہے، لوگ شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں UN، World Population Review وغیرہ کی ریپورٹ میں دس ایسے ممالک گنائے گئے ہیں جہاں سب سے زیادہ طلاقیں ہوتی ہے جن میں اکثر ممالک یوروپین ہیں
آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ امریکہ میں 40 سے 45 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں باوجود کہ امریکہ ان دس ممالک میں نویں نمبر پہ آتا ہے!

اس کے نقصان میں سے یہ بھی ہے آج ان ممالک میں کثیر تعداد میں لوگ Sexually Disease کے شکار ہیں، مختلف عورتوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا کررہے ہیں جن بیماریوں کی روک تھام کے لیے امریکہ ہر سال 16 سے 20 بلین ڈالر خرچ کرتی ہے اور شادی کرنے والوں کو بینیفٹ دیا جاتا ہے، کیوں کہ لوگ شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں
ظاہر ہے جب انھیں اپنی خواہشات پوری کرنے کی کھلی آزادی ہے تو بھلا شادی کیوں کرے
(جب انھیں اپنی خواہشات کا مالک بنا دیا گیا ہے تو پھر نہ انھیں کسی خدا کا خوف رہا نہ حکومت کی طرف سے کسی سزا کا ڈر۔۔۔۔)
یہ تو وہ چیزیں ہیں جو آپسی رضامندی سے ہوتی ہے ورنہ جو جبرا ہوتا ہے وہ اس سے زیادہ بھیانک ہے!
ان ممالک میں جہاں یہ نظریہ رائج ہے کہ سب کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا حق حاصل ہے
ان میں ہر چھ عورتوں میں ایک عورت ایسی ہوتی ہے جس کے ساتھ کبھی نہ کبھی زندگی میں ریپ ہوا ہوتا ہے، باہر جاب کرنے والی عورتوں میں 80 فیصد عورتیں سیکچول ہراسمنٹ کے شکار ہوتی ہیں
اور انڈین میڈیا کی کرپا سے انڈیا بھی ریپ کیس کے معاملے تیسرے یا چوتھے نمبر پہ آچکا ہے!
آج حجاب پر باتیں ہورہی ہیں کہ یہ عورتوں کی آزادی کے خلاف ہے، انھیں اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کا حق ہے، انسان کا دل صاف ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ
پتا ہے اس کے پیچھے کی سچائی کیا ہے؟
صرف اور صرف عورتوں کا استعمال
ریپورٹ کے مطابق وہ پروڈیکٹ جن میں تنگ لباس پہنے عورتوں کی تصویر ہوتی ہے وہ دوسرے پروڈیکٹ کے مقابلے کئی گنا زیادہ سیل ہوتا ہے
اگر بات دل کے صاف ہونے کی ہوتی تو پھر لوگ کیوں ان ننگی تصویروں کو دیکھ کہ اٹریکٹ ہوتے ہیں، بغیر تصویر والا پروڈکٹ اس طرح کیوں نہیں بکتا؟
ان کاروباری لوگوں کو اچھی طرح پتا ہے لوگوں کو کیا بھاتا ہے تبھی وہ تنگ لباس کو عورتوں کے لیے آزادی قرار دیا ہے اور تم دل صاف ہونے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!
اسی پر بس نہیں بلکہ پردہ اتارنے سے عورتوں کو مردوں کے سامنے اچھا دکھنے کی بیماری الگ ہے،
مکھڑا خوبصورت دکھنے کے لے طرح طرح کے کریم لگانا ہر روز الگ لباس کی تلاش کا ہونا تاکہ موڈرن دکھے، اور ان ساری چیزوں کی وجہ سے بعض عورتیں ڈپریشن میں مبتلا ہوکر خود کشی کر لیتی ہیں۔
وہیں ایک حجاب پہننے والی عورت کو نہ دس مردوں کے سامنے خوبصورت دکھنے کی فکر ہوتی ہے کہ وہ مختلف کریم کا استعمال کریں، اور نہ ہر روز مختلف لباس کی تلاش ہوتی ہے۔
اور سچائی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنی بیزنس کے گروتھ کے لیے اس طرح عورتوں کو ظاہری آزادی کے جھانسے میں مبتلا کر رکھے ہیں اور میڈیا والوں کو پڑھا دیا کہ حجاب کے نقصانات پر باتیں کرو ڈیبیٹ کرو تاکہ ہمارے کاروبار چمکتا رہے اور ٹھپ نہ پڑے۔
اندازہ لگائیے کس خوبصورتی سے عورتوں کو غلام بنایا گیا ہے اور ان پر ظلم کیا جاتا ہے!
جبکہ اسلام نے عورتوں کی عزت نفس کے تحفظ کے لیے کہا: وَقَرۡنَ فِی بُیُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَـٰهِلِیَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ
کہ عورتیں اپنے گھروں میں رہیں اور بے پردگی کا مظاہرہ نہ کریں
اسلام نے ہر معاملے مرد و عورت کے درمیان اکوالیٹی کو مد نظر رکھا ہے، وہ اکوالیٹی نہیں جس کا یہ لوگ نعرہ لگاتے ہیں، جس میں انصاف کے بجائے محض غلامی ہے!
اسلام اس اکوالیٹی کی بات کرتا ہے جس میں انصاف ہو
کیوں کہ یہ لوگ جس اکوالیٹی کی بات کرتے ہیں وہ اسے اصلا ثابت ہی نہیں کر سکتے
پہلے دونوں کے جنسیت میں اکوالیٹی تو ثابت کردیں پھر برابری کی بات کرنا۔۔۔۔
اللہ نے مرد وعورت کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ دونوں میں برابری ممکن نہیں، ہاں انصاف دونوں میں برابر رکھا گیا ہے، اس لیے عورتوں کو گھر کا کام سونپا گیا اور مردوں کو باہر کا، کیوں کہ مرد جسما وعقلا مضبوط ہوتے ہیں۔
یاد رکھیں! اصلی آزادی اسلام میں ہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس طرح کی آزادیوں پر روک لگا دیا ہے جو دوسروں کی حق تلفی سے حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ اسلام میں آزادی کا تصور انصاف کے ساتھ مربوط ہے۔

دوسری وجہ؛ سائنٹیزم ہے
واضح رہے! اسلام سائنس کے خلاف نہیں ہے، مسلمانوں میں بڑے بڑے سائنسداں گزرے ہیں۔
ہاں' اسلام سائنٹیزم کے سخت خلاف ہے جس میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ کسی چیز کی معرفت صرف سائنس سے ممکن ہے، سائنس نے جو ثابت کردیا وہی ثابت ہے!
اپنی عقل کا استعمال کریں اور سوچیں کہ کیا یہ نظریہ واقعتا سو فیصد درست ہے؟!
اگر ہے تو پھر ہمارے پردادا کون تھے سائنس کیسے ثابت کرے گی
کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ڈی این اے کے زریعے ممکن ہے
اچھا! ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ڈی این اے ٹیسٹ کرائے ہوئے ہیں مشکل سے ایک دو، پھر باقی لوگ کیسے یقین کریں؟!
یا یہ کہ جب یہ مشینیں نہیں تھی تب لوگ کیسے تسلیم کرتے تھے کہ فلاں نام کا شخص ہمارے پردادا ہوا کرتے تھے انھیں کی نسل سے ہم ہیں، یا وہ عورت جسے ہم ماں کہتے ہیں وہ سچ میں ہماری ماں ہیں ہوسکتا ہے کوئی اور ہو۔۔۔!
اور بہت ساری چیزیں ہیں
ظاہر ہے ان ساری چیزوں سے آگہی متواتر خبروں سے ہوتی ہے۔
ہر معاملے میں سائنس کام نہیں آتی
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ سائنس کو بس معرفت کا ایک ذریعہ مانا جائے ناکہ سائنس ہی کو سب کچھ تسلیم کر لیا جائے
اچھا' اسی سائنٹیزم میں Darwinian Evolution جیسے اسلام مخالف نظریہ بھی آتا ہے، جس کے مطابق انسان اور کچھ جانور (جیسے چمپانزی) قدیم وقت میں ایک مشترکہ نسل سے نکلے، اور وقت کے ساتھ الگ الگ ارتقاء پذیر ہوئے۔" گویا چمپانزی رشتے میں ان کے چچازاد اور کزن لگتے ہیں!
(مزے کی بات یہ ہے کہ اس نظریہ سے تمام سائنسداں کبھی متفق نہیں ہوئے بلکہ کچھ ایسے بھی نام ملتے ہیں جنھیں انکار کرنے کی وجہ سے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔)
اس نظریہ کے پیچھے چھپی ان کی منافقت اور مقصد کو جاننے کی کوشش کریں
اس نظریہ کو تسلیم کرنے سے قرآن کی ان آیتوں کی نفی لازم آئے گی جن میں قصہ خلق آدم کی وضاحت موجود ہے، اور قرآن کی کسی آیت کا انکار انسان کو کافر بنا دیتا ہے۔
ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ ان کے ان نظریات کو فالو کریں، کیوں کہ انھیں لادینیت پھیلانا ہے تبھی وہ اپنی مرضی کی حکومت کر سکیں گے، اور من چاہے قوانین نافذ کر سکیں گے تاکہ کاروباری میں ترقی حاصل ہوتی رہے
ان ساری چیزوں کے پیچھے یہی تو خاص مقصد ہے، بڑے لوگ ایسے ہی کھیل کھیلتے ہیں جسے عوام سمجھ نہیں پاتے۔
ورنہ کوئی کہے کہ ہماری مرضی کے مطابق حکومتی قوانین بھی لاگو ہونے چاہیے، یا ان کے نافذ کردہ قوانین کے خلاف مورچہ نکالے پھر دیکھیے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس وقت فریڈم اور اکوالیٹی نام کے رہ جاتی ہے!
افسوس کی بات ہے کہ لوگ ان حقیقتوں کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ بڑی آسانی کے ساتھ ان نظریات کو مختلف انداز میں زور وشور سے فروغ دیا جا رہا ہے جس کے جھانسے میں دین کی بنیادی تعلیم سے ناآشنا ہمارے مسلم نوجواں بھی گرفتار ہورہے ہیں

یہ کچھ بنیادی وجوہات میں سے ہیں مزید آگے موقع ملا تو بیان کیا جائے گا ان شاءاللہ
اللہ سے دعا ہے کہ ان کی منافقت کو سمجھنے کی ہمارے اندر صلاحیت پیدا کرے، ہمیں ان کی مکاریوں سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ ایمان پر قائم رکھے آمین
 
Top