• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اساتذہ اور مشائخ کے حقوق

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
کچھ دن پہلے ایک دوست آصف علی نے توجہ دلائی کہ بعض اوقات کوئی صاحب کوئی کام کہتے ہیں جو ہم وقت پر نہیں کر سکتے تو وہ اس کا شکوہ رکھ لیتے ہیں یا شکایت کا اظہار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو آپ کو ایک ہی کام کہا تھا اور آپ نے وہ بھی نہ کیا حالانکہ شکایت کرنے یا شکوہ رکھنے والے صاحب کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جسے انہوں نے ایک کام کہا ہے، وہ ان پندرہ میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اس دن میں اس شخص کو صرف ایک ہی کام کہا ہے۔ اس سے میرا ذہن علماء اور مدرسین کے اس حق کی طرف متوجہ ہوا جس کا عام طور لوگ خیال نہیں رکھتے۔

ہمارے معاشرے میں بہت لوگ ایسے ہیں جو دین کی تعلیم وتعلم، درس وتدریس، وعظ ونصیحت، دعوت وارشاد یا بحث وتحقیق میں اپنے اوقات کا ایک بڑا حصہ لگا دیتے ہیں۔ مدرس قرآن ہی کی مثال کو لے لیں کہ جنہیں اللہ تعالی نے اچھا درس قرآن دینے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ اب ان کے کچھ دروس تو روٹین کے ہوتے ہیں جو ان کی جملہ دیگر دینی اور دنیاوی مصروفیات مثلا ملازمت اور گھر بار وغیرہ کی ذمہ داریوں کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ اور ان کے بعض دروس ایسے ہوتے ہیں جو عارضی یا وقتی ہوتے ہیں کہ جن کا تقاضا ان کے بعض سامعین کی طرف سے آتا ہے کہ وہ یہ درس ان کے گھر، مسجد یا گاؤں وغیرہ میں بھی فلاں اوقات میں دیں۔ یہ سامعین یقینا ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مدرس کے چاہنے والے ہوتے ہیں، ان کے درس سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے درس سے دوسروں کو بھی مستفید کروانا چاہتے ہیں۔ مدرس قرآن کے شیڈول میں بعض اوقات اس کی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ کسی اضافی درس کے لیے علیحدہ سے وقت نکال پائیں لیکن لوگ اصرار کرتے ہیں لہذا بعض مدرسین اس اصرار کی بناء پر یا اس وجہ سے لوگ انہیں متکبر نہ سمجھیں یا شکوہ وشکایت کا اظہار نہ کریں، یا تبلیغ کی دینی ذمہ داری کے احساس وغیرہ جیسی وجوہات کی بناء پر ایسے دروس قرآن کی بھی حامی بھر لیتے ہیں جس کی گنجائش ان کے گھر یا دیگر علمی ودعوتی کام کو کسر لگائے بغیر نہیں نکلتی۔ لہذا یہ لوگ عموما یہ سب کچھ ایک مشین کی طرح کرتے بھی رہتے ہیں اور اس پر اپنے اہل خانہ اور خود اپنی ذات میں پریشانی کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک محقق یا ریسرچر کی مثال لے لیں۔ کوئی ایک صاحب انہیں ایک حدیث کے بارے کہتے ہیں کہ اس کا حوالہ چاہیے جبکہ ایک دوسرے صاحب ان سے ایک دوسری حدیث کی صحت کے بارے معلوم کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک تیسرا دوست ان سے اپنے ایک مضمون کی اصلاح مانگ رہا ہے تو چوتھے صاحب کسی مسئلے میں تحریری فتوی کے طلبگار ہیں۔ اب ہر ایک کےنزدیک انہوں نے ان سے ایک ہی کام کہا ہے لیکن ہر ایک کو یہ معلوم نہیں سوائے محقق کے کہ انہیں کتنے لوگوں نے ایک ہی دن میں کتنے کام کہے ہیں یا وہ اپنی ملازمت، گھر بار اور اپنی روٹین کی منظم دینی مصروفیات کے علاوہ کتنا وقت اس قسم کی دینی خدمات کے لیے نکال سکتے ہیں؟

ایک عالم کی مثال لے لیں۔ ان سے موبائل پر مسئلہ پوچھنے والا شخص ایک ہی مسئلہ پوچھتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس دن میں بیسواں شخص ہے، جو اس عالم دین سے ایک مسئلہ پوچھ رہا ہے۔ اس لیے بعض اوقات ایسے علماء یا داعیان دین کہ جن کی طرف لوگ کثرت سے رجوع کرتے ہیں، سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے موبائل اکثر بند رہتے ہیں یا وہ اپنا موبائل نہیں اٹھاتے۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی اپنی ذاتی یا گھریلو زندگی تو بالکل ختم ہو ہی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ان کی منظم دینی مصروفیات بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک عالم دین نے بتلایا کہ ان کا گھر میں اپنی اہلیہ سے اکثر یہ اختلاف رہتا ہے کہ ان کا موبائل گھر میں داخل ہونے کے بعد آف رہنا چاہیے کیونکہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کا وقت ہے جو وہ دوسرے لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ اہلیہ اور بچوں کا موقف ہے کہ اہل خانہ کا وقت یعنی ان کا حق، لوگوں کو دینا کس طرح جائز ہے اور وہ بھی دین کے نام پر؟

ایسے میں ان لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے جو ایسے مدرسین، علماء، داعیان دین یا واعظین کی طرف کسی مسئلہ میں رجوع کرتے ہیں کہ ان سے اس قدر اصرار نہ کریں کہ وہ اپنی ذات میں تنگ ہو کر مروت میں آپ کا کوئی کام کریں بلکہ کسی مطالبے کے اظہار میں ہمیشہ ایسا انداز اختیار کریں کہ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں اور اگر کسی کام سے ناں بھی کرنا چاہیں تو سہولت سے ناں کر سکیں اور ان کی ناں کو محسوس بھی نہ کریں۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
جزاک اللہ خیرا برادر
آپ نےایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جو ہمارے روزمرہ کے معمول میں ہے۔ عموماً سائل کو دوسری طرف کے مسائل کا علم نہیں ہوتا، اس لئے وہ بسا اوقات سوئے ظن میں مبتلا ہوجاتا ہے

لیکن میں تصویر ایک دوسرا رُخ پیش کرتا ہوں۔ اس فورم میں بعض زمرے ایسے بنائے گئے ہیں، جن میں عام ممبر علمائے کرام سے سوالات پوچھتے ہیں۔ اور جوابات کا حق صرف علمائے کرام کو ہی ہے، جو کہ درست ہے۔ یہ ایک خالصتاً دینی فورم ہے۔ جس کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام الناس کے سوالات الجھنوں کا مستند جواب دیا جائے۔ فورم کے بہت سے علمائے کرام فیس بک اور دیگر سوشیل ویب سائٹ پر بھی مصروف ہیں۔ ان کی تحاریر اور کمنٹس بھی مسلسل منظر عام پر آرہی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ لوگوں کے پوچھے گئے سوالات کے بروقت جوابات دینے کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے۔ آپ ان زمروں میں جاکر دیکھ لیجئے مہینوں سے سوالات جوابات کے منتظر دکھائی دیں گے۔ اور بہت سے دئے گئے جوابات بھی کئی کئی مہینوں کے بعد دئے گئے ہیں۔
یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ نیٹ ورلڈ کتنی فاسٹ ہے۔ جو یہاں سوال یا فتویٰ طلب کرتا ہے، اسے توقع ہوتی ہے کہ دوچار دنوں میں تو اسے جواب مل جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اگر دس پندرہ یا ایک دو ماہ بات اسے جواب ملا بھی تو کیا ملا۔ ہوسکتا ہے اس دوران اسے اس کی ”ضرورت“ ہی نہ ہو۔ یا اسے کہیں اور سے جواب مل گیا ہو۔

میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ سوال جواب والے زمرے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ زیداہ سے زیادہ تین یوم کے اندر اندر سائل کو جواب دے دیا جائے۔ اس کام کے لئے فورم پر موجود زیادہ سے زیادہ علما کو انوالو کیا جائے۔ اور جب تک ایسا نہ ممکن نہ ہو، اس زمرے کو ہی لاک کردیا جائے۔
والسلام
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
علماء سے برتاؤ کے حوالے سے کچھ باتیں ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ :

"آج کی نوجوان نسل کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ جونہی وہ کچھ سیکھ لیتے ہیں وہ سمجھ بھیٹتے کہ وہ عالم بن گئے-

[الحدا والنور ٨٦١]

شیخ البانی مزید فرماتے ہیں:

" میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ جو اپنے آپ کو ہمارے دعوت کے ساتھ منسلک کرتے ہیں، وہ کچھ وقت کے بعد اپنے آپ سے بہت متاثر ہو جاتے ہیں اور دھوکے میں پڑ جاتے ہیں- چند ایک کتابیں پڑھنے کے بعد تم دیکھو گے کہ وہ اپنے آپ کو (دین کے معاملے میں) میں خود مختار سمجھنے لگتے ہیں- اگر کوئی شخص ان کو نشاندھی کرائے کہ شیخ کی رائے اس مسلے میں یہ ہے تو آگے سے کہہ دیتے ہیں کہ "شیخ کی اپنی رائے ہے اور میری اپنی"-

[الحدا النور ٢٥٦]

ابن القیم:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہالت ایک بیماری ہے اور اسکا علاج علماء سے پوچھنا ہے –

[الد 'داء، صفحہ ٨، afatwa.com]

عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا:

" یہ بات درست ہے کہ ایک عقلمند شخص تین طرح کے لوگوں کی بے قدری نہ کرے:

علماء کی، حکمرانوں کی اور اپنے مسلمان بھائی بھائی کی- جو شخص بھی علماء کی بے قدری کرے گا وہ اخروی زندگی سے محروم رہے گا، جو شخص بھی حکرانوں کی بے قدری کرے گا وہ دنیوی زندگی سے محروم رہے گا اور جو شخص بھی اپنے بھائی کی بے قدری کرے گا وہ اچھے اخلاق ؤ کردار سے محروم رہے گا-

[الذہبی، سير أعلام النبلاء ١٧:٢٥١]

عون بن عبد اللہ نے فرمایا:

" میں نے امیر المومنین عمر بن عبد العزیز سے عرض کیا:

" کہا جاتا ہے کہ: اگر تم میں ایک عالم بننے کی صلاحیت ہو تو جہاں تک ممکن ایک عالم بننے کی کوشش کرو، اور اگر تم نہیں بن سکتے تو پھر ایک طالب علم بنو، اور اگر طالب علم بننے کی بھی صلاحیت نہیں ہے تو پھر ان سے (علماء ؤ طالب علم) سے محبت کرو، اگر تم ان سے محبت کے قابل بھی نہیں ہو تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو-"
عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا:
" سبحان اللہ نے اس (آخری ) بندے کو بھی مہلت دی ہے-"


[ابو ہیثمہ فصوی، معارفت التاریخ ٣/٣٩٨،٣٩٩، ابن عبدالبر جامع البیان العلم ، ١.١٤٢-١٤٣]

الشعبی نے کہا:

" زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ایک دفعہ اپنے ( گھوڑے یا اونٹ) پر چڑھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لگام کو پکڑ لیا ( تا کہ سواری کو روانہ کر سکے)، اس پر زید بن ثابت نے (ابن عباس کے احترام میں) کہا:

" او! اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کے بھائی ایسا مت کرو"-

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:

" ہمیں اپنے علماء کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنے کو کہا گیا ہے (کہ انکی عزت اور احترام کی جائے) "-

زین بن ثابت نے کہا:

" مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ"- ابن عباس نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا اور زید بن ثابت نے نے اسے چوما اینڈ کہا:

" اور ہمیں اہل بیت کے ساتھ یہی برتاؤ کرنے کا کہا گیا ہے"-


[ابو بکر ال دینوری، المجلصہ ؤ جواہر العلم ٤:١٤٦]

10.1) اپنے شیخ (جس سے آپ علم حاصل کرتے ہو) سے حسن سلوک ۔

علم صرف کتابوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا؛ علم کے حصول کے لئے ایک شیخ کا ہونا لازم ہے، جس پر آپکا یقین ہو ،جو کہ آپ کے لئے علم کے بند دروازے کھولے اور جب آپ غلطی کرو تو وہ آپ کی رہنمائی کرے- آپ پر لازم ہے کہ آپ انسے حن سلوک کے ساتھ پیش آؤ، کیونکے یہی فلاح اور علم میں ثابت قدمی کا راستہ ہے – آپ اپنے شیخ کو عزت دو، اسکی قدر کرو اور اس سے نرمی کا برتاؤ کرو- جب آپ اپنے شیخ کی صحبت میں ہو اور جب انسے ہمکلام ہو تو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرو- مناسب طریقے سے سوالات پوچھواور ادب کے ساتھ انکو سنو- انکے ساتھ بحث کی کوشش مت کرو، نہ ہی گفتگو میں انسے آگے بڑھو اور نہ ہی انکی موجودگی میں حد سے زیادہ باتیں کرو- کثرت سوالات سے پرہیز کرو اور انکو ا س بات پر مجبور مت کرو کہ وہ تمہارے ہر سوال کا جواب دے خاص طور پر جب آپ لوگوں کے سامنے ہوں کیونکہ لوگ سمجھیں گے کہ آپ دکھاوا کر رہے ہو اور آپکا شیخ بھی آپ کے سوالات بیزار ہو جائے گا- انکو انکے نام یا عرفیت سے مت بلاؤ، بلکہ کہو: "او شیخ"، یا "او میرے شیخ" یا " او ہمارے شیخ" –

اگر آپکے خیال میں شیخ نے غلطی کی ہے ، تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کے آپکی نگاہ میں شیخ کی قدر ؤ عزت کم ہو جاۓ کیونکے یہ حرکت آپکو انکے علم سے محروم کر دیگی- کون ہے جو غلطی سے پاک ہے؟ کون ہے جو غلطی نہیں کرتا؟
[دیکھئے: ہلیت طالب العلم شیخ بکر ابو زید ]


تمام اچھائی اللہ کی طرف سے ہے اور تمام غلطیاں میری طرف سے- اللہ ہم سب پر رحم کرے-

http://forum.mohaddis.com/threads/علماء-کرام-سے-علم-کے-حصول-کی-ضرورت-اور-اہمیت.26146/page-3#post-210029
 
Top