• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی عقیدہ کے خصائص

شمولیت
مئی 14، 2018
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
21
*اسلامی عقیدہ کے خصائص*:
اسلامی عقیدہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ہے، یہ ہر اعتبار سے مکمل ہے، اس کے اندر کسی قسم کا نقص و کمی نہیں ہے، اللہ رب العزت کا فرمان ہے:{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا}[سورة المائدة:3] "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا".
لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ جس دین کو اللہ عزوجل مکمل قرار دے؛ اس کی اصل ہی مکمل نہ ہو، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"اس نے خبر دی ہے کہ اس نے ان کے لئے اور ان کی امت کے لئے ان کے دین کو مکمل کر دیا ہے، اور ان پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے، پھر تو یہ محال ہے کہ اللہ پر ایمان کے باب اور اس سے متعلق علم کو ملتبس اور مشتبہ چھوڑدیا گیا ہو، اور اللہ کے اسماء حسنی و صفات علیا سے متعلق کیا واجب ہے، کیا جائز ہے، اور کیا ممتنع ہے ان کے درمیان تمیز نہ کی گئی ہو[دیکھیں:الفتوى الحموية الكبرى،ص: 178].
اور امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"انہوں نے لوگوں کو ان کے رب و معبود کے بارے میں ان کی سمجھ کی آخری حد تک بتادیا، اور اللہ کے نام و صفات اور افعال کے بارے میں کبھی تفصیل تو کبھی اختصار کے ساتھ اس طرح وضاحت فرمائی کہ اللہ سبحانہ کی معرفت اس کے مؤمن بندوں کے دلوں میں روشن ہو گئی، اور شک و شبہ کے بادل اس طرح چھٹ گئے جیسے چودھویں چاند کے طلوع ہونے پر بادل چھٹ جاتے ہیں[جلاء الأفهام،ص:179-180] .
واضح رہے کہ اسلامی عقیدہ نہ صرف مکمل ہے بلکہ ہر طرح کی زیادتی و نقصان، اور تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے، جیسا کہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے اس امت کے لئے اس کے دین کی ایسی حفاظت فرمائی ہے کہ اس امت کے دین کے علاوہ کسی بھی دین کی اس جیسی حفاظت نہیں کی ہے؛ کیونکہ اس امت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو اس دین کے مٹے ہوئے آثار(سنن متروکہ) کی تجدید کرے گا، جیسا کہ ہم سے پہلے تمام انبیاء کرام کا دستور رہا ہے، چنانچہ جب کسی نبی کے دین(کے آثار) مٹنے لگتے تو اس کے بعد کوئی دوسرا نبی آتا؛ جو اس کی تجدید کرتا، اور اسی لئے اللہ سبحانہ نے خود اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے(تفسیر ابن رجب الحنبلي[1/602]).
مذکورہ سطور سے معلوم ہوا کہ اسلامی عقیدہ توقیفی ہے؛ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو (مخصوص) مباحث عقیدہ پر چھوڑا ہے، ان کے لئے ہر چیز کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے(دیکھیں: مباحث في عقيدة أهل السنة لسنة العقل، ص:38، اور المدخل لدراسة العقيدة للبريكان، ص:62).
لہذا امت پر واجب ہے کہ ان ہی حدود کے اندر رہے؛ جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے(مدخل لدراسة العقيدة الإسلامية لعثمان جمعة ضميري، ص: 383).
نبی علیہ الصلاة و السلام نے عقیدے کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرمایا ہے، اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جسے بیان نہ کیا ہو، بنا بریں ان امور کا التزام کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے:
1- ہمیں یہ تحدید کرنا ہے کہ مصادر عقیدہ صرف کتاب وسنت ہیں.
2- کتاب و سنت کے اندر جو کچھ آیا ہے اس کا ہم التزام کریں گے، كسی بھی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دین کے اندر کوئی ایسی ایجاد لائے جس کے بارے میں اسے یہ گمان ہو کہ اس کا التزام کرنا یا اس کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ عز وجل نے دین کو مکمل کر دیا ہے، اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، پھر بھی اگر کوئی ایسی سعی مذموم کی کوشش کرتا ہے تو یاد رہے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے واضح ہے:"من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد"[صحيح البخاري(2697) و صحیح مسلم(1718)]"جو کوئی ہمارے اس دین میں کوئی نئی ایجاد لائے؛ جو اس کا حصہ نہ ہو تو وہ مردود ہے".
3- کتاب وسنت پر جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کا ہم التزام کریں گے، اور ان الفاظ سے ہم اجتناب کریں گے جن کو بدعتیوں نے ایجاد کیا ہے، کیونکہ عقیدہ توقیفی ہے، اور یہ منجملہ ان مسائل میں سے ہے، جن کا علم صرف اللہ کو ہے(مباحث في عقيدة أهل السنة والجماعة للعقل، ص: 39).
چنانچہ اسلامی عقیدہ کچھ ایسے غیبی مسائل کو شامل ہے جن کے ادراک کے لئے عقل کی گنجائش نہیں ہے، اور ان غیبی مسائل کا دار و مدار اللہ عز وجل، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی ظاہری و باطنی تسلیم اور مطلق تصدیق پر ہوتا ہے، جیسا کہ امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"اللہ نے عقلوں کے لئے ادراک کے تئیں ایک ایسی حد مقرر کر دی ہے کہ اس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی ہیں، اور نہ ہی ہر مطلوب کے ادراک کے تئیں ان کے لئے کوئی راستہ مقرر کیا ہے [الاعتصام(2/831)].
یہی وجہ ہے اسلامی عقیدہ کے پیرو کار عقیدہ کے مسائل میں ان ہی حدود پر قائم رہتے ہیں؛ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، کیونکہ وہ "غیب" پر ایمان رکھتے ہیں، اور ان کے اسی وصف کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:{يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ}[سورة البقره:3] "جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہےاس میں سے خرچ کرتے ہیں".
جب یہ واضح ہو گیا کہ عقیدہ کے زیادہ تر مسائل ہمارے لئے غیبی ہیں، اور ہم ان پر ایمان بھی رکھتے ہیں، تو پھر ضروری ہے کہ:
1- ہم اللہ عزوجل، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر تسلیم خم کریں، اور کتاب وسنت میں وارد احکامات کے لئے جھکنا ہی دراصل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جھکنا ہے۔
2- چونکہ عقیدہ اور اس کے نصوص غیبی ہیں، اس لئے صرف بیان وتوضیح، اور اقامت حجت کی غرض سے منہج سلف کا التزام کرتے ہوئے ہم ان پر غور وخوض کریں[الشرح والإبانة لابن بطة العكبري، ص:123-127، والشريعة للآجري، ص:54-67].
3- ہم نصوص عقیدہ کی تاویل نہ کریں، اور نہ ہی انہیں ان کے ظاہری معانی سے بغیر کسی ایسی شرعی دلیل کے پھیریں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔
اسلامی عقیدہ کی منجملہ خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے اندر شمولیت بھی پائی جاتی ہے؛ یعنی اس کے اندر ہر چھوٹی بڑی چیز کو واضح کر دیا گیا ہے، اور ان کے لئے ایسا عمدہ اور متقن نظام بنا گیا ہے؛ جو اعمال، اقوال، سلوک، اور زندگی کے تمام گوشے کو شامل ہے، لہذا بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ہے؛ جب تک کہ وہ اپنی زندگی کے سارے معاملات کے ساتھ اس دین کے سامنے سر تسلیم خم نہ کر دے۔
اسلامی عقیدہ نے دینی امور ہوں یا دنیاوی معاملات کسی بھی چیز کو بیان کرنے میں غفلت نہیں کی ہے، بلکہ ہر چیز کو بڑے ہی بسط و ایضاح کے ساتھ بیان کیا ہے، چنانچہ اللہ عز وجل نے اپنی کتاب کے اندر ہر چیز کو بیان کر دیا ہے، اور امت جن چیزوں کی ضرورت مند تھی؛ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخوبی واضح فرما دیا ہے، اسلامی عقیدہ کی شمولیت کے چند مظاہر یہ ہیں:
1- اس نے انسان کو اس دنیا کا ایک کامل تصور عطا کیا ہے جس میں وہ بسر کرتا ہے۔
2- ہر اس معاملے کو اجاگر کیا ہے؛ جس سے انسان کی زندگی درستگی پر قائم رہتی ہے۔
3- اس نے انسانی زندگی کے ہر زاویے کو بیان کر نے کا اہتمام کیا ہے، اس کی پیدائش سے لے کر موت تک، قبر، اور جنت و جہنم میں سے کس کا کہاں ٹھکانہ ہوگا، غرضیکہ زندگی سے متعلق سارے احوال کو بیان کردیا ہے.
اسلامی عقائد کی ایک یہ بھی امتیازی خصوصیت ہے کہ ان کے اندر وسطیت بھی پائی جاتی ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ:
1- یہ سب سے اچھے اور سب سے بہترین عقائد ہیں.
2- یہ سب معتدل عقائد ہیں.
3- اسلامی عقائد میں افراط و تفریط نہیں ہے.
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے:"پس دین(کا معاملہ) اس میں غلو کرنے والے اور اس سے اعراض کرنے والے کے درمیان قائم ہے، اور بہترین لوگ وہ جنہوں نے درمیانی پہلو کو اپنایا ہے"[إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان(1/82)].
یقیناً کوئی بھی انسان چند محدود صفحات میں بلکہ کئی ایک جلدوں میں بھی اسلامی عقیدے کے خصائص کو بیان نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بے شمار ہیں، پھر بھی اختصار کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی عقیدہ:
1- یہ ربانی ہے.
2- یہ مکمل ہے.
3- یہ محفوظ ہے.
4- یہ توقیفی ہے.
5- یہ غیبی ہے.
6- اس کے اندر شمولیت و تکامل پایا جاتا ہے.
7- یہ وسطیت پر قائم ہے.
{رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ}[سورة آل عمران:8].
نوٹ: اس مضمون کا بیشتر حصہ استاذ محترم دکتور عبد القادر عطاء صوفی/ حفظہ اللہ کی کتاب "المفيد في مهمات التوحيد" سے مستفاد ہے.
 
Top