• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد۔(اخبارکا عنوان) ہمیشہ دیر کر دیتا ھوں

makki pakistani

سینئر رکن
شمولیت
مئی 25، 2011
پیغامات
1,325
ری ایکشن اسکور
3,052
پوائنٹ
282
سعودی عرب نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان سمیت 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا










ریاض (نیٹ نیوز) سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اپنی قیادت میں 34 ملکی اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ سعودی خبر ایجنسی کے ایس اے کے مطابق اتحاد میں پاکستان بھی ہوگا، تاہم ایران شامل نہیں۔ محمد بن سلمان کا کہنا ہے اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہر اس دہشتگرد کا مقابلہ کرے گا جو امت مسلمہ کے مقابل آئے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان، ترکی، مصر، قطر، اردن، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، مالی، نائیجریا، بحرین، تیونس، سوڈان، صومالیہ، آیٹوری کاسٹ چاڈ، ٹوگو سینیگال، سیرالیون بینن مراکش، بحرین، لبنان، کویت، فلسطین ملٹری الائنس کا حصہ ہوں گے۔ اتحاد کا آپریشنل مرکز ریاض میں ہوگا جہاں سے فوجی آپریشنز کے سلسلے میں رابطہ رکھا جائے گا اور ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ریاض سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق چاہے کسی بھی فرقے سے ہو لیکن انہیں فساد پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ امت مسلمہ کو تمام دہشتگرد گروپوں کے ناپاک عزائم سے بچانا مسلم قائدین کی ذمہ داری ہے۔ ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان نے کہا اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہر اس دہشتگرد کا مقابلہ کرے گا جو امت مسلمہ کے مقابل آئے گا۔ اس اتحاد کا مقصد عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے رکھے جائینگے اور مکمل تعاون کیا جائے گا۔ اعلان کے مطابق اتحاد کا مقصد تمام دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کی کارروائیوں سے اسلامی ممالک کو بچانا، فرقہ واریت کے نام پر قتل کرنے، بدعنوانی پھیلانے یا معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے روکنا ہے۔ دریں اثناءجرمن وزیر دفاع اور سولاونڈرلین نے سعودی عرب کی طرف سے 34 رکنی اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کے قیام سے داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کیخلاف جاری کارروائیوں میں مدد ملے گی، دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے امریکہ، ترکی، چین، ایران یورپ سب کو کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان ممالک سے اختلافات سے داعش کو فائدہ اور طاقت ملی۔ امریکہ نے دہشت گردی کا مقابلے کرنے کیلئے 34 اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے انقرہ میں کہا کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کے تحت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مقابلے کیلئے سنی عرب ممالک کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان نے اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔ پاکستان کی وزارتِ دفاع کی ترجمان ناریتا فرہان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارتِ دفاع اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دے سکتی اور دفتر خارجہ اس حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح کریگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بار بار رابطہ کرنے پر کہا کہ اس پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔


نوائے وقت۔
 

arifkarim

مبتدی
شمولیت
مئی 11، 2015
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
17
ریاض (نیٹ نیوز) سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اپنی قیادت میں 34 ملکی اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ سعودی خبر ایجنسی کے ایس اے کے مطابق اتحاد میں پاکستان بھی ہوگا، تاہم ایران شامل نہیں۔
تو پھر اسے سنی اتحاد کا نام دیں، اسلامی اتحاد کا نہیں۔
 

hanzal_alvi

مبتدی
شمولیت
دسمبر 05، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
سعودی عرب نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان سمیت 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا










ریاض (نیٹ نیوز) سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اپنی قیادت میں 34 ملکی اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ سعودی خبر ایجنسی کے ایس اے کے مطابق اتحاد میں پاکستان بھی ہوگا، تاہم ایران شامل نہیں۔ محمد بن سلمان کا کہنا ہے اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہر اس دہشتگرد کا مقابلہ کرے گا جو امت مسلمہ کے مقابل آئے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان، ترکی، مصر، قطر، اردن، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، مالی، نائیجریا، بحرین، تیونس، سوڈان، صومالیہ، آیٹوری کاسٹ چاڈ، ٹوگو سینیگال، سیرالیون بینن مراکش، بحرین، لبنان، کویت، فلسطین ملٹری الائنس کا حصہ ہوں گے۔ اتحاد کا آپریشنل مرکز ریاض میں ہوگا جہاں سے فوجی آپریشنز کے سلسلے میں رابطہ رکھا جائے گا اور ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ریاض سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق چاہے کسی بھی فرقے سے ہو لیکن انہیں فساد پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ امت مسلمہ کو تمام دہشتگرد گروپوں کے ناپاک عزائم سے بچانا مسلم قائدین کی ذمہ داری ہے۔ ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان نے کہا اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہر اس دہشتگرد کا مقابلہ کرے گا جو امت مسلمہ کے مقابل آئے گا۔ اس اتحاد کا مقصد عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے رکھے جائینگے اور مکمل تعاون کیا جائے گا۔ اعلان کے مطابق اتحاد کا مقصد تمام دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کی کارروائیوں سے اسلامی ممالک کو بچانا، فرقہ واریت کے نام پر قتل کرنے، بدعنوانی پھیلانے یا معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے روکنا ہے۔ دریں اثناءجرمن وزیر دفاع اور سولاونڈرلین نے سعودی عرب کی طرف سے 34 رکنی اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کے قیام سے داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کیخلاف جاری کارروائیوں میں مدد ملے گی، دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے امریکہ، ترکی، چین، ایران یورپ سب کو کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان ممالک سے اختلافات سے داعش کو فائدہ اور طاقت ملی۔ امریکہ نے دہشت گردی کا مقابلے کرنے کیلئے 34 اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے انقرہ میں کہا کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کے تحت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مقابلے کیلئے سنی عرب ممالک کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان نے اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔ پاکستان کی وزارتِ دفاع کی ترجمان ناریتا فرہان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارتِ دفاع اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دے سکتی اور دفتر خارجہ اس حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح کریگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بار بار رابطہ کرنے پر کہا کہ اس پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔


نوائے وقت۔
اب دفتر خارجه نے اس اتحاد میں شمولیت کی تصدیق کر دی هے...
 

hanzal_alvi

مبتدی
شمولیت
دسمبر 05، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
کیا یه اتحاد مسلمانوں کے مقبوضه علاقے بھی واگذار کروائے گا....؟؟؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,221
پوائنٹ
402
جب تک صورت حال واضح نہیں ہوتی باقاعدہ قوانین و غیرہ اس وقت تک تو یہ اعلان ہی ہے
اور اگر یہ اتحاد عالم اسلام کے حق میں بہتر ہے تو ہمیں اس کی تقویت کے لیے دعا کرنی چاہیے
اور جہاں تک امریکی بیان کا تعلق ہے تو یہ میڈیا وار بھی ہو سکتی ہے کہ کہ ہمارا میڈیا ہمیشہ کتے کے پیچھے بھاگتا ہے اپنا کان کبھی نہیں دیکھتا
لہذا انتظار کریں اور یہ ضرور ذہن میں رکھیں کہ اس اعلان سے قبل ہی جنرل راحیل شریف کا دورہ سعودی عرب بھی ہوا تھا وغیرہ وغیرہ
 
Top