• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں چار شادیوں کی اجازت کا پس کالم نگار ڈاکٹر راشدہ قریشی کے خیالات

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
حقیقت تو یہی ہے کہ آقائے دو جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ و سلام کی شادی مبارک جب عرب کی نیک و پاکدامن تاجر خاتون حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے انجام پائی تو آپؐ نے اپنی پہلی زوجہ کی زندگی میں کوئی دوسری شادی نہ کی چنانچہ حیات طیبہ کے مطابق پہلی بیوی کی موجودگی میں کسی دوسری کو لے کر آنے کا تصور ہی نہیں ملتا۔ قرآن پاک میں ''بیوی'' کے حقوق' والدین یہ احسان' یتیموں' مسکینوں و بیوائوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر و تاکید تو ہے لیکن سوکن کے حقوق کا تصور تک نہیں ملتا۔ یہ مبالغہ قرآن کی آیت ''اودتم دو دو چار چار سے جنہیں تم پسند کرو نکاح کر لو'' سے پیدا کیا جاتا ہے۔ ہمیں آیات قرآنی کو ان کے سیاہ و سباق سے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس آیت مبارکہ کا نزول جنگ بدر کے ان کٹھن حالات میں ہوا۔ جب لاتعداد مسلمان مرد بدر کی جنگ میں شہید ہو گئے اور انکی بیویاں پیچھے غیر محفوظ و بے آسرا رہ گئیں۔ اس آیت کا مقصد دراصل بدر کی جنگ میں شہید ہو جانیوالے مردوں کی بیوائوں کو تکریم سے اپنے نکاح میں لے لینے کا حکم ہے تاکہ اس طرح شہیدان بدر کی عورتوں کو تحفظ حاصل ہوتا... یہ حکم بھی ہر شخص کیلئے نہیں تھا بلکہ ان مردوں کیلئے تھا جو بیک وقت اپنی منکوحہ عورتوں کی انصاف سے کفالت کرنے کی سکت رکھتے تھے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نہ کہ مبالغ و مغالطے پھیلانے کی... کافروں نے تو اسلام میں ایک سے زائد شادیوں کے مبالغ کا بے حد پروپیگنڈا کیا جو کہ کارفوں کے دل کے کرود' حسد اور منافقت کا بین ثبوت رہا ہے۔ ہمارے اپنے دینی بھائیوں نے بھی اپنے گھر کی شریف بیوی کے خلاف اس آیت مبارکہ کو برعکس اس آیت کی روح کے استعمال کیا۔ جب اس آیت مبارکہ کی روح اور مثبت پہلو کو معاشرے کے شر انگیز عناصر نے ناجائز استعمال کیا تو عملاً نتیجتاً خاندانی نظام بکھرا' گھر ٹوٹے' نسلیں تباہ ہوئیں۔ فتنے ' فساد پھوٹے بلکہ بیشتر گھرانوں میں نوبت قتل و غارت تک بھی پہنچ جاتی ہے اور اللہ کو شر انگیزی سخت ناپسند ہے... اللہ تبارک و تعالیٰ زمین پہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ فتنے قتل کی طرف لی جاتے ہیں لیکن الہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ فتنہ قتل سے زیادہ شدید ہے... بیوی کی موجودگی میں بچوں کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنا فتنہ ہی ہوتا ہے؟ مرد خفیہ دوستیاں کریں' نامحرم عورتوں سے باتیں و ملاقاتیں کریں' حدوں سے آگے بڑھیں' گھر کی عورت کو دھوکہ دیں ' جھوٹ بولیں پھر شادیوں تک نوبتیں لے آئیں اور پھر اپنی کج رویوں کا جوز اسلام میں چار شادیاں لے آئیں... بھئی یہ کہاں کا اسلام ہے جس کے آغاز سے انجام تک کا ہر قدم غیر اسلامی و غیر شرعی ہے؟ نفس کی پیروی میں' حرص و طمع و ذہنی پسماندگی و ظلم و ناانصافی کے زور پر ہونے والی گناہ کی شادیوں کی مقدس' مطہر و منور رحمتہ اللعالمین کی شادیوں سے کیا مماثلت (نعوذ باللہ) حضورؐ کی شادیاں حکمت سے بھرپور و مشیت الٰہی ثابت ہوئیں... جسے پڑھنے و سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں اس مختصر کالم پہ اس پر روشنی ڈالنے سے معذور ہوں۔ یہ وضاحت میں کسی اور کالم کیلئے سنبھال رکھتی ہوں۔ اس وقت ادراک کیلئے ایک واقعہ پیش کرنا چاہوں گی کہ حضرت فاطمۃ الزھراؓ کو حضرت علیؓ کی چند باتوں سے گمان ہوا کہ وہ دوسری شادی کرنیوالے ہیں۔ خاتون جنت سیدہ فاطمہؓ رنج و ملال کے ساتھ اپنے ابا حضور محمد مصطفیٰؐ کے پاس تشریف لائیں اور اپنا گمان و اندیشہ بیان کیا۔ حضورؐ نے حضرت علیؓ کو بلایا۔ حضرت علیؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا ''علیؓ ' فاطمہ میرے جگر کا گوشہ ہے اگر اسے رنج ہوا تو مجھے رنج ہو گا۔'' حضرت علیؓ سب کچھ سمجھ گئے اور دوسرے نکاح کا خیال ترک کر دیا۔ (حضرت علیؓ کی دیگر شادیاں حضرت فاطمتہ الزہرہؓ کی رحلت کے بعد انجام پائیں۔ہمارے پیارے حبیبؐ تو یا امتی یا امتی پکارتے تھے۔ اپنی اولاد سے بھی زیادہ اپنی امت کیلئے بیتاب رہتے تھے آپؐ جب فاطمتہ الزہرہؓ کو رنج میں نہیں دیکھ سکتے تو ہمارے پیارے نبیؐ امت کی شریف زادیوں کا رنج کس طرح پسند فرمائیں گے؟
جناب والا... اسلام اتنا بے پرواہ بھی نہیں ہے' اسلام مرد کو شادیوں کی یوں کھلی چُھٹی بھی نہیں دیتا جس طرح آپ معاشرتی ہیجانی کیفیتوں کو نظر انداز کر کے مرد کواس کے کسی پیدائشی حق کے طور پر دے رہے ہیں۔ اسلام عائلی زندگی میں عورت کے ساتھ مرد کو بھی تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ شادی ہو جائیے تو صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو بھی اپنی بیوی کی دلجوئی کرنے بلکہ بیوی کی دل آزاری کرنے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضورؐ کا ارشاد مبارک ہے ''عربی'' ترجمہ (تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھا ) اب کوئی بتائیے کہ اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر کوئی مرد دوسری تیسری اور چوتھی سے مراسم پیدا کرے اور شادی تک کی باتیں بنائیے تو وہ اپنی اہلیہ کیلئے کس طرح اچھا ہوگا؟ علماء کرام تو اسلام میں مردانہ جبلت و نفسیات کے خیال و لحاظ کا پرچار کرتے رہتے ہیں ارے بھائی اسلام پر عورت و مرد دونوں کی نفسیات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر میں لاتا ہے۔ بس ناانصافی و ظلم و شر و فتنے سے روکتا ہے' معاشرتی انصاف و عدل کا درس دیتا ہے۔ جو زیادہ طاقت میں ہوتا ہے' انصاف کے معاملے میں وہ زیادہ ذمہ دار بھی ہوتا ہے اور جس کے پاس منصفی کے فرائض آ جاتے ہیں۔ اسے چاہئے کہ وہ حقوق العباد کے معاملے میں اللہ سے ڈرے کیونکہ اللہ سے عدل و انصاف کے حوالے سے ضرور پوچھے گا اور اس وقت لوگوں کی حمائتیں ' دولت و طاقت و حیلے بہانے کچھ کام نہ آئیے گا... اسلامی نظریاتی کونسل میں ایسے علماء کرام کا ہونا ضروری ہے جو اسلامی تعلیمات کو عملی مسائل و ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر نہ دیکھیں... جو معاشرتی تقاضوں کے عین مطابق دینی و قانونی تعبیریں و تاویلیں پیش کرنے کے اہل ہوں' جو گھریلو امن سے لے کر معاشرتی امن کو پیش نظر رکھیں۔ اسلام مرد کو دوسری شادی کی مان مانی کرنے اسے کہیں زیادہ زور دے کر حیاء و شرم و شرافت و نفس سے جنگ یعنی جہاد اکبر کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ وفاقی و شرعی عدالت و عدالت عظمیٰ جس قانون کیلئے اپنا حتمی فیصلہ صادر کر چکی ہے کہ قانونی طور پر مرد پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا تو پھر اسلامی نظریاتی کونسل کا اس بحث کو چھیڑنے کا کیا مقصد ہے؟؟
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
جی محترم عمران بھائی اہم اعتراضات پر رائے دینے کی کوشش کرتا ہوں
پہلا اعتراض
آپؐ نے اپنی پہلی زوجہ کی زندگی میں کوئی دوسری شادی نہ کی
اسکی دو وجوہات ہو سکتی ہیں
1-پہلی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنا ممنوع ہے
2-پہلی سے محبت یا تعلق ایسا ہے کہ اسکی وجہ سے مرد دوسری شادی کو مناسب نہیں سمجھتا

اب محترمہ نے خود ہی پہلی وجہ سمجھ لی حالانکہ اگر یہی وجہ ہوتی تو پھر ہر شادی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے مگر باقی شادیوں پر آپ نے یہ اصول نہیں اپنایا پس اس سے موصوفی کی باقی دلیلوں کو اسی بات سے پرکھا جا سکتا ہے کہ وہ کیسے ہوں گے

دوسرا اعتراض
قرآن پاک میں ''بیوی'' کے حقوق' والدین یہ احسان' یتیموں' مسکینوں و بیوائوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر و تاکید تو ہے لیکن سوکن کے حقوق کا تصور تک نہیں ملتا۔

وہی مغرب کی عینک لگانے کی وجہ سے قرآن میں بیویوں میں انصاف کا حکم ہی نظر نہیں آرہا اور احادیث میں بھی کچھ نہیں مل رہا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو عائشہ رضی اللہ عنھا سے زیادہ دلی محبت ہونے پر بھی پریشان کہ کہیں یہ بھی شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو
ویسے مزے کی بات ہے کہ آگے موصوفہ نے خود ہی قرآن کا وہ حکم لکھ بھی رکھا ہے کہ دوسری شادی تب کرنی ہے جب انصاف کر سکیں جنانچہ کہتی ہیں
یہ حکم بھی ہر شخص کیلئے نہیں تھا بلکہ ان مردوں کیلئے تھا جو بیک وقت اپنی منکوحہ عورتوں کی انصاف سے کفالت کرنے کی سکت رکھتے تھے۔
واہ رے مغرب پرستی- تیری کون سی کل سیدھی
(اصل میں تھا اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی)

تیسرا اعتراض
یہ مبالغہ قرآن کی آیت ''اودتم دو دو چار چار سے جنہیں تم پسند کرو نکاح کر لو'' سے پیدا کیا جاتا ہے۔ ہمیں آیات قرآنی کو ان کے سیاہ و سباق سے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جی یہ سیاق و سباق ان محترمہ کو ہے زیادہ پتا ہے محترم انس بھائی سے ملاقات میں پتا چلا تھا کہ انھوں نے پی ایچ ڈی تفسیر میں ہی غالبا کی ہے مگر ان موصوفہ کے ہاں خاک ہی چھانی ہے پس میرا محترم بھائی کے لئے برادرانہ مشورہ ہے کہ خود انکو بھی اور اپنی جامعہ کے لڑکوں کو بھی ان سے سیاق و سباق کے مطابق تفسیر سیکھنے کا اہتمام کروانا چاہیے یعنی جو سیاق و سباق آج تک کوئی نہ سمجھ سکا وہ تفسیر یہ کروائیں گی

چوتھا اعتراض
یہ حکم بھی ہر شخص کیلئے نہیں تھا بلکہ ان مردوں کیلئے تھا جو بیک وقت اپنی منکوحہ عورتوں کی انصاف سے کفالت کرنے کی سکت رکھتے تھے۔
ویسے یہی بات اوپر مان نہیں رہی تھیں کہ سوکن کے حقوق کا تذکرہ نہیں پس دوسری شادی ناجائز ہو گئی لیکن یہاں قرآن سے ہی خود تذکرہ ذکر کر دیا
جہاں تک نا انصافی کے اعتراض کی وجہ سے دوسری شادی ہی نا جائز ہونے کی بات ہے تو اس طرح تو مسلمانوں کے حکمران بننے کا حق بھی شریعت میں انکو ہے جو عدل کرنے والے ہوں پس کیا موصوفہ ان تمام لوگوں کو حکمران نہیں مانتی جو اس وقت ظالم بنے ہوئے ہیں اس طرح تو بہت سے معاملات ختم کرنے پڑیں گے مگر وہاں یہ اپنی تفسیر کی پھلجریاں نہیں بکھیرتیں بلکہ اپنی مرضی کی جگہ پر اپنی مرضی کی حد تک شریعت سے مغرب کی خدمت کروانا چاہتی ہیں

پانچواں اعتراض
جب اس آیت مبارکہ کی روح اور مثبت پہلو کو معاشرے کے شر انگیز عناصر نے ناجائز استعمال کیا تو عملاً نتیجتاً خاندانی نظام بکھرا' گھر ٹوٹے' نسلیں تباہ ہوئیں۔ فتنے ' فساد پھوٹے بلکہ بیشتر گھرانوں میں نوبت قتل و غارت تک بھی پہنچ جاتی ہے
یہ مغرب پسندوں کو مولویوں کے مناظروں اور اختلافی باتوں پر تو اعتراض ہوتا ہے کہ ان پر پابندی لگائی جائے کیونکہ ان سے لڑائیاں جنم لیتی ہیں مگر جب یہی کام سیاستدان انتخابات میں کرتے ہیں جہاں وہ ایک ملک کو بھی دو ٹکڑے کر دیتے ہیں تو اس سیاست پر کبھی کسی نے پابندی لگانے کا نہیں سوچا بلکہ لڑائی کو کنٹرول کرنے کی ہی بات کی ہے
اس سے واضح یہ نظر آتا ہے کہ انکو مولویوں کی اختلافی باتوں کی اہمیت پتا ہوتی جیسے انتخابات کی اہمیت پتا ہے تو مولیوں پر بھی پابندی کی بجائے ایسا قانون بنایا جاتا کہ بریلوی، اہل حدیث، دیوبندی، شیعہ کو کہتے کہ تم نے جو بھی بات کرنی ہے صرف بتانے کی حد تک کرنی ہے کسی کو نشانہ نہیں بنانا تو لڑائی ختم ہو جاتی اور فائدہ اصلی اہل سنت کا ہی ہوتا مگر ذلک قولھم بافواھھم وما تخفی صدورھم اکبر (جو انکے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی بدتر ہے)
کیا اصل فساد صرف دوسری شادی سے پھوٹنے چاہیں یا پھر مجبور ہو کر ادھر ادھر منہ مارنے سے- پس پابندی تو ان کاموں پر لگنی چاہئے جس کے الٹا لائسنس دیے ہوئے ہیں بلکہ اب تو اپنی مرضی سے کچھ کرنے پر لائسنس کی بھی ضرورت نہیں
ویسے آج کل بے دین بیویاں شوہر کا ادھر ادھر منہ مارنا تو پسند کر لیتی ہیں مگر دوسری شادی عذاب لگتی ہے کیونکہ انکو شوہر سے محبت نہیں بلکہ مال سے محبت ہوتی ہے جو دوسری شادی کی صورت میں تقسیم ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس طرح غلط نظریات ہونے کی وجہ سے جو فساد پھوٹتا ہے اسلام اسکو اہمیت نہیں دیتا

جاری ہے
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
ڈائریکٹ اسلامی تعلیمات کی مخالفت اور مغرب کی نمک خواری تو اب نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس سے اِن لوگوں کا مکروہ چہرہ عوام الناس کے سامنے آتا ہے ، اب اسلامی تعلیمات اور دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کی تاویلات کر کے اپنا مکروہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ اگر عوام الناس میں سے پڑھے لکھے لوگ جب اعتراض کریں تو اسلامی تعلیمات کو ہی تاویل کر کے پیش کر دیا جائے۔ انا للہ وانا الیہ رجعون
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
چھٹا اعتراض
بیوی کی موجودگی میں بچوں کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنا فتنہ ہی ہوتا ہے؟ مرد خفیہ دوستیاں کریں' نامحرم عورتوں سے باتیں و ملاقاتیں کریں' حدوں سے آگے بڑھیں' گھر کی عورت کو دھوکہ دیں ' جھوٹ بولیں پھر شادیوں تک نوبتیں لے آئیں اور پھر اپنی کج رویوں کا جوز اسلام میں چار شادیاں لے آئیں...بھئی یہ کہاں کا اسلام ہے جس کے آغاز سے انجام تک کا ہر قدم غیر اسلامی و غیر شرعی ہے؟
شادی میں دھوکہ ہوتا ہے کہ خفیہ تعلق میں دھوکہ ہوتا ہے پس اگر محترمہ واقعی پہلی بیویوں کے حق میں مخلص ہیں تو حقوق نسواں کے قانون کے خلاف بھی بات کریں جس نے فحاشہ عورتوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے جس سے پہلی بیوی کے حقوق وہ فحاشہ عورتیں غضب کرتی ہیں
ہر قدم غیر اسلامی تو خآلی خفیہ دوستیاں ہے جس پر بولا نہیں جاتا کیونکہ مغرب کی سنت ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور صحابہ کی سنت سے اتنا بغض کہ غیر اسلامی ہونے کی کوئی دلیل ہی نہیں دی اور رٹ بار بار لگائے جا رہی ہیں

ساتواں اعتراض
نفس کی پیروی میں' حرص و طمع و ذہنی پسماندگی و ظلم و ناانصافی کے زور پر ہونے والی گناہ کی شادیوں کی مقدس' مطہر و منور رحمتہ اللعالمین کی شادیوں سے کیا مماثلت (نعوذ باللہ) حضورؐ کی شادیاں حکمت سے بھرپور و مشیت الٰہی ثابت ہوئیں... جسے پڑھنے و سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں اس مختصر کالم پہ اس پر روشنی ڈالنے سے معذور ہوں۔ یہ وضاحت میں کسی اور کالم کیلئے سنبھال رکھتی ہوں۔
جی آپ کی تفسیر کی روشنی اچھی طرح دیکھ لی ہے یہ مغربی تفسیر کی روشنی آپ اپنے تک ہی رکھیں
البتہ آپکی باقی شادیوں میں جس حکمت کا اشارہ دیا گیا ہے اسکی بات کر لیتے ہیں کہ آپ پہلے اعتراض میں دو نمبر کے ساتھ تیسرے نمبر کا اضافہ کرنا چاہتی ہیں کہ جی پہلی شادی کے وقت جو دوسری شادی نہیں کی تھی وہی اصل اسوہ کی مثال ہے اور جو بعد میں شادیاں کیں وہ کسی مصلحت کے تحت کیں پس وہ ہمارے لئے مثال نہیں بن سکتیں تو آپکی بات مان لیتے ہیں کہ یہ بھی احتمال ہے مگر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ نے اس احتمال کے خلاف عمل نہیں کیا اور زیادہ شادیاں کیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو اسکی تفسیر نہیں بتائی کیونکہ صحابہ کے لئے تو اسوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زندگی تھی

آٹھواں اعتراض
حضورؐ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا ''علیؓ ' فاطمہ میرے جگر کا گوشہ ہے اگر اسے رنج ہوا تو مجھے رنج ہو گا۔'' حضرت علیؓ سب کچھ سمجھ گئے اور دوسرے نکاح کا خیال ترک کر دیا۔ (حضرت علیؓ کی دیگر شادیاں حضرت فاطمتہ الزہرہؓ کی رحلت کے بعد انجام پائیں۔
مثال بھی ایسی دی کہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور خود تسلیم کر لیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی بعد میں شادیاں کیں اور بعد والی شادیاں اکٹھی ہوئی تھیں ایک کے فوت ہونے کے بعد دوسری نہیں کی تھی (ویسے کوشش تو یہ کی ہے کہ شیعہ کی طرح باقی صحابہ کو چھوڑتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو ہی لیا کیونکہ دوسرے صحابہ نے تو اس نظریے کے خلاف کیا تھا)
اس سے تو واضح پتا چلتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس نظریہ کے خلاف کیا اور وجہ یہ پتا چلتی ہے کہ پہلی بیوی کے وقت انکے ادب اور احترام کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا ورنہ پابندی نہیں تھی بلکہ اصل میں تو وجہ یہ تھی کہ علی رضی اللہ عنہ ابو جہل کی پیٹی سے شادی کر رہے تھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کی بیٹی کو اپنی بیٹی کے ساتھ اکٹھا نہیں دیکھنا چاہتے تھے

جاری ہے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
نواں اعتراض
ہمارے پیارے حبیبؐ تو یا امتی یا امتی پکارتے تھے۔ اپنی اولاد سے بھی زیادہ اپنی امت کیلئے بیتاب رہتے تھے آپؐ جب فاطمتہ الزہرہؓ کو رنج میں نہیں دیکھ سکتے تو ہمارے پیارے نبیؐ امت کی شریف زادیوں کا رنج کس طرح پسند فرمائیں گے؟
جہاں تک دوسری شادی پر پہلی بیوی کے رنج کی بات ہے تو وہ رنج مندرجہ ذیل قسم کا ہو سکتا ہے

1-مال کی تقسیم کا رنج
جہاں تک اس رنج کی بات ہے تو ایک دفعہ مال کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی کی تھی تو اس پر آپ نے قرآن کے حکم کے مطابق انکو اختیار دے دیا تھا تفصیل کا وقت نہیں

2-محبت کی تقسیم کا رنج
اسلام اس کی وجہ سے بھی شادی سے منع نہیں کرتا کیونکہ جب پہلی شادی ہوتی ہے تو ماں اور بہن بھائیوں کی محبت تقسیم ہو جاتی ہے بلکہ اس تقسیم ہونے سے بہت سے فتنے بھی پھیلتے ہیں جیسے اور موصوفہ نے ان فتنوں کو بھی شادی نہ کرنے کی دلیل بنایا ہے پس پھر تو پہلی شادی بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ محبت کے تقسیم ہونے سے ساس بہو اور نند بھابھی دیور وغیرہ کے کتنے فساد پھوٹتے ہیں پس شادی پر ہی پابندی لگا دینی چاہئے اور مغرب کی طرح کھلا چھوڑ دیں

3-جنس کی تسکین نہ ہونے کا رنج
میرے خیال میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے اسکو طاقت دی ہے اور اگر مان بھی لیا جائے تو اوپر موصوفہ نے خود اقرار کیا ہے کہ خفیہ دوستیاں لگای جاتی ہیں پس جب شادی دوسری نہ ہو گی تو خفیہ دوستیاں تو اور زیادہ ہوں گی پھر معاملہ تو اسی طرح رہے گا بلکہ زیادہ نقصان ہو گا

دسواں اعتراض
شادی ہو جائیے تو صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو بھی اپنی بیوی کی دلجوئی کرنے بلکہ بیوی کی دل آزاری کرنے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضورؐ کا ارشاد مبارک ہے ''عربی'' ترجمہ (تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھا ) اب کوئی بتائیے کہ اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر کوئی مرد دوسری تیسری اور چوتھی سے مراسم پیدا کرے اور شادی تک کی باتیں بنائیے تو وہ اپنی اہلیہ کیلئے کس طرح اچھا ہوگا؟علماء کرام تو اسلام میں مردانہ جبلت و نفسیات کے خیال و لحاظ کا پرچار کرتے رہتے ہیں ارے بھائی اسلام پر عورت و مرد دونوں کی نفسیات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر میں لاتا ہے۔ بس ناانصافی و ظلم و شر و فتنے سے روکتا ہے' معاشرتی انصاف و عدل کا درس دیتا ہے۔ جو زیادہ طاقت میں ہوتا ہے' انصاف کے معاملے میں وہ زیادہ ذمہ دار بھی ہوتا ہے
یہ دل آزاری اور رنج ایک ہی چیز ہے اور جتنی پہلی بیوی کی دل آزاری نہ کرنے کی بات کی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ ماں کی دل آزاری نہ کرنے کی بات کی گئی ہے تو جب پہلی شادی پر ہی ماں کی محبت تقسیم ہو جاتی ہے جیسے ہر ماں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیٹا اب کم وقت دینے لگا ہے تو پہلی بیوی کو ہی ختم کر دیں گے

گیارواں اعتراض
اسلامی نظریاتی کونسل میں ایسے علماء کرام کا ہونا ضروری ہے جو اسلامی تعلیمات کو عملی مسائل و ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر نہ دیکھیں... جو معاشرتی تقاضوں کے عین مطابق دینی و قانونی تعبیریں و تاویلیں پیش کرنے کے اہل ہوں' جو گھریلو امن سے لے کر معاشرتی امن کو پیش نظر رکھیں۔
علماء کو اسلامی تعلیمات کو معاشرے کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے لگ گئے تو پھر تو وہ معاشرے کے تقاضے رہ جائیں گے اسلامی تعلیمات کہاں رہ جائیں گی اور پھر میرا سوال ہے کہ اسکے لئے علماء کی کیا ضرورت ہے اللہ کو اسلامی تعلامیات کا دھوکا لازمی دینا ہے ویسے ہی آپ جیسے دانشوروں کو یہ فریضہ سونپ دیا جائے میرے خیال میں محترم انس بھائی کی جامعہ میں جو ایم فل کی کلاسیں (اسلامی معاشیات) پر ہو رہی ہیں اس میں اب معاشرے کے تقاضوں کے مطابق اسلامی بسنت وغیرہ جیسے موضوع بھی شروع کر دینے چاہیں کیونکہ کل کو ان دانشوروں نے آپ کے ٹھیٹ اسلامی تعلیمات کے علماء کو وقعت نہیں دینی پھر کیا کریں گے

بارواں اعتراض
اسلام مرد کو دوسری شادی کی مان مانی کرنے اسے کہیں زیادہ زور دے کر حیاء و شرم و شرافت و نفس سے جنگ یعنی جہاد اکبر کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
اس جہاد کی تاکید کا رونا تو پہلی شادی پر بھی رویا جا سکتا ہے

تیرواں اعتراض
وفاقی و شرعی عدالت و عدالت عظمیٰ جس قانون کیلئے اپنا حتمی فیصلہ صادر کر چکی ہے کہ قانونی طور پر مرد پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا تو پھر اسلامی نظریاتی کونسل کا اس بحث کو چھیڑنے کا کیا مقصد ہے؟؟
غور کریں کہ جو اصل بات ہے وہ انھوں نے منہ سے نکال ہی دی کہ وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمی (سپریم کورٹ)
یعنی انکے یاں بھی وفاقی شرعی عدالت بڑی عدالت نہیں بلکہ سپریم کورٹ بڑی عدالت ہے کیونکہ اسکے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ تبدیل کر سکتی ہے استادِ محترم حافظ طاہر اسلام عسکری بھائی دیکھیں کہ کس طرح سچ نکل جاتا ہے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
محترم بھائی یہ تین دفعہ قبول ہے قبول ہے قبول کی طرح کیا معاملہ ہے (ابتسامہ)
 
Top