• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس تعارض کا حل مطلوب ھے.

شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
صحیح بخاری میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کی روایت میں الفاظ ہیں "ثم دناالجباررب العزة "....الخ
جبكہ صحیح مسلم میں واضح نصوص اسکے خلاف ھیں کہ جبریل علیہ السلام آپکے قریب ھوئے تھے نا کہ اللہ تعالی.
واقعہ بھی یہی ھے. سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ھے .بعض علماء نے اسکا یہ جواب دیا ھے کہ یہ الفاظ شریک کے تفردات میں میں سے ھیں. لیکن ابن حجر اسکا تعاقب کرتے ھوئے فرماتے ھیں: وفی دعوی التفرد نظرفقد وافقہ کثیر بن خنیس .....عن انس کما اخرجہ سعید بن یحی بن سعید الاموی فی کتاب المغازی من طریقہ.....الفتح ۱۳/
۴۸۰
میں کہتاھوں(ابوالمحبوب) کثیر بن خنیس کی یہی روایت تفسیر طبری میں بھی ھے.
علماء کرام سے التماس ھے کہ اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں.
جزاکم اللہ خیرا.
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,707
پوائنٹ
310
صحیح بخاری میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کی روایت میں الفاظ ہیں "ثم دناالجباررب العزة "....الخ
جبكہ صحیح مسلم میں واضح نصوص اسکے خلاف ھیں کہ جبریل علیہ السلام آپکے قریب ھوئے تھے نا کہ اللہ تعالی.
واقعہ بھی یہی ھے. سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ھے .بعض علماء نے اسکا یہ جواب دیا ھے کہ یہ الفاظ شریک کے تفردات میں میں سے ھیں. لیکن ابن حجر اسکا تعاقب کرتے ھوئے فرماتے ھیں: وفی دعوی التفرد نظرفقد وافقہ کثیر بن خنیس .....عن انس کما اخرجہ سعید بن یحی بن سعید الاموی فی کتاب المغازی من طریقہ.....الفتح ۱۳/
۴۸۰
میں کہتاھوں(ابوالمحبوب) کثیر بن خنیس کی یہی روایت تفسیر طبری میں بھی ھے.
علماء کرام سے التماس ھے کہ اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں.
جزاکم اللہ خیرا.



حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس مضمون کے تحت یہ بات(وفی دعوی التفرد نظرفقد وافقہ۔۔۔۔۔۔) کی اس میں یہ الفاظ تو حافظ صاحب نے اس سیاق کے ساتھ لائے ہیں۔۔۔۔
وَقَعَ فِي رِوَايَةِ شَرِيكٍ يَعْنِي هَذِهِ أَوْهَامٌ أَنْكَرَهَا الْعُلَمَاءُ أَحَدُهَا قَوْلُهُ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ غَلَطٌ لَمْ يُوَافَقْ عَلَيْهِ وَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ فَرْضَ الصَّلَاةِ كَانَ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ فَكَيْفَ يَكُونُ قَبْلَ الْوَحْيِ انْتَهَى وَصَرَّحَ الْمَذْكُورُونَ بِأَنَّ شَرِيكًا تَفَرَّدَ بِذَلِكَ وَفِي دَعْوَى التَّفَرُّدِ نَظَرٌ فَقَدْ وَافَقَهُ كَثِيرُ بْنُ خُنَيْسٍ بِمُعْجَمَةٍ وَنُونٍ مُصَغَّرٌ عَنْ أَنَسٍ كَمَا أَخْرَجَهُ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ فِي كِتَابِ الْمَغَازِي مِنْ طَرِيقِهِ قَوْلُهُ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ أَكَّدَ هَذَا بِقَوْلِهِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ

جو کہ نیند اور بیداری کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔
بات واضح کیجئے جزاکم اللہ خیرا
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترمی آپ فتح الباری میں ملاحظہ فرمائیں ان الفاظ کو بھی تفردات میں شمار کیا گیا ھے.
اور کثیر بن خیس کا جو ابن حجر نے حوالہ دیا ھے.اسمیں یہ الفاظ موجود ھیں.ملاحظہ فرمائیں.
عن کثیر عن انس قال ....قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "لما عرج بی...........فدنا ربک فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی....الخ.
تفسیر طبری.سورہ النجم.
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,707
پوائنٹ
310
محترمی آپ فتح الباری میں ملاحظہ فرمائیں ان الفاظ کو بھی تفردات میں شمار کیا گیا ھے.
اور کثیر بن خیس کا جو ابن حجر نے حوالہ دیا ھے.اسمیں یہ الفاظ موجود ھیں.ملاحظہ فرمائیں.
عن کثیر عن انس قال ....قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "لما عرج بی...........فدنا ربک فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی....الخ.
تفسیر طبری.سورہ النجم.

میں نے انکار نہیں کیا کہ یہ الفاظ انکے تفردات میں نہیں ہیں۔۔۔ لیکن جن الفاظ کے ساتھ آپ نے انکو جوڑا ہے انکے ساتھ یہ مذکور نہیں ہیں جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے،،،
اور طبری میں بھی صحیح بخاری والے الفاظ ہیں
حدثنا الربيع، قال: ثنا ابن وهب، عن سليمان بن بلال، عن شريك بن أبي نمر، قال: سمعت أنس بن مالك يحدثنا عن ليلة المسرى برسول الله صلى الله عليه وسلم "أنه عرج جبرائيل برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السماء السابعة، ثم علا به بما لا يعلمه إلا الله، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا الجبار ربّ العزة فتدلى حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى، فأوحى الله إليه ما شاء، فأوحى الله إليه فيما أوحى خمسين صلاة على أمته كلّ يوم وليلة،۔۔

وہ الگ بات ہے کہ امام طبری نے تفسیر میں جبریل علیہ السلام کی وضاحت کی ہے
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترم ھوسکتا ھے مجھ سے تسامح ھوگیا ھو.
لیکن تعارض کا ازالہ کیسے ھوگا؟
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
اور تفسیر طبری میں کثیر ھیں سورہ نجم میں. آپنے جو سند پیش کی ھے وھ کس سورہ میں ھے؟
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,707
پوائنٹ
310
اور تفسیر طبری میں کثیر ھیں سورہ نجم میں. آپنے جو سند پیش کی ھے وھ کس سورہ میں ھے؟

شيخ میں نے سورہ نجم سے ہی حوالہ دیا ہے۔۔۔

آپ ایسے کریں کہ آپ کو جس جس جگہ میں اشکال ہے وہ پوری سند ذکر کر دیں تا کہ مسئلہ واضح ہو جائے۔۔۔ صحیح بخاری کی بھی مکمل حدیث اور صحیح مسلم اور طبری کی بھی مکمل حدیث اور سند ذکر کر دیں تا کہ مسئلہ مکمل واضح ہو اور اشکال کو رفع کیا جا سکے۔۔۔جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترم آپنے جو روایت نقل کی ھے وہ پہلے ھے
میری ذکر کردہ روایت بعد والی ھے۔
سند ملاحظہ فرمائیں۔
حدثنا خلاد بن اسلم قال: اخبرنا النضر قال : اخبرنا محمد بن عمروبن علقمة بن وقاص الليثي عن كثير عن انس بن مالك۔۔۔۔الخ۔
 
Top