• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

*اصولوں پر جو آنچ آئے توٹکرانا ضروری ہے*

afrozgulri

مبتدی
شمولیت
جون 23، 2019
پیغامات
32
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
17
تحریر: افروز عالم ذکر اللہ سلفی، گلری،ممبئی

محترم قارئین کرام:

شہریت ترمیم بل (CAB)Citizenship Amendment Act کے پاس ہونے کے بعد وطن عزیز ہندوستان سخت ترین حالات ومسائل سے دو چار ہے اس بل کی وجہ سے ملک کی جمہوریت اور آئین کو سخت دھچکا لگا ہے اور ملک کی شبیہ داغدار ہوئی ہے. شہریت قانون کے بہانے بی جے پی و آر ایس ایس ملک کی تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔آج ملک بھر میں نفرت کی ہوا چل رہی ہے ،ملک میں جس طرح سے ہٹلر شاہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی و آر ایس ایس اپنے انتخابی ایجنڈے کے تحت پورے ملک کو آگ کے حوالے جھونک رہی ہے وہ بہت ہی تشویش ناک اور حیرت کن ہے مذکورہ قانون امت شاہ جی کی ہٹ دھرمی و ناسمجھی سے لایا گیا قانون ہے جو ملک میں دبے کچے لوگوں کے ساتھ انتقامی کارروائی ہے۔ بی جے پی سی اے بی قانون کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے ناکام بنانا ہم سب برادرانِ وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بروقت ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اس قانون کو واپس لے ورنہ ملک میں مزید فتنے بڑھنے وپنپنے کا اندیشہ ہے ۔ سیٹیژن شب بل جو اب بدقسمتی سے ایک کالے قانون میں تبدیل چکا ہےیہ جمہوری ملک ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے اور دستور ہند کے بالکل منافی ہے، اس قانون کے مضمرات آئندہ چل کر ہمارے اس ملک کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اس قانون کے مضمرات جب اپنی بھیانک شکل میں سامنے نظر آئیں گے تو جولوگ کسی وجہ اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکیں گے (یا کاغذات کے گم ہونے ،جل جانے،گھروں سے چوری ہوجانے،یا سیلاب میں بہہ جانے یا نا بن پانے سے وغیرہ) تو ان کے لئے یہ قانون تباہی وبربادی کاسبب ثابت ہوگا۔
آج اس بل کے خلاف ملک کے لاکھوں،کروڑوں انصاف پسند شہری احتجاج کررہے ہیں٬اس ظالمانہ قانون کو حکومتِ وقت کو واپس لینا چاہیےاورآئین ہند کی بالا دستی کو قائم رکھنے کی فکرکرنی چاہیئے،شہریت بل سے مسلمانوں کو جو خارج کیا گیا ہے وہ سراسر نا انصافی پر مبنی ہے۔مسلمان وہ ہیں جو اس ملک کی تعمیر وترقی میں برابر کے شریک رہے ہیں اور دستوری اور تاریخی اعتبار سے برابر کے شہری ہیں اس لیے حکومت ہند کو اس بل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے.
ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
اور لوگ یہ سمجھتے ہیں آزاد ہیں ہم
کیوں ہمیں یہ لوگ سمجھتے ہیں یہاں پردیسی
ایک عرصے سے اس دیس میں آباد ہیں ہم
مانا کے تعمیرِ وطن میں ہو تم بھی برابر کے شریک
پر در و دیوار تم ہو ، تو بنیاد ہیں ہم

شہریت ترمیم بل (CAB)Citizenship Amendment Act اس ایکٹ میں مسلم اور غیر مسلم کو شہریت دینے میں تفریق ہے۔ در اصل اس ایکٹ کا استعمال این آر سی کے وقت مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ کرنا ہے تاکہ باقی مذاہب کے لوگوں کے پاس اگر شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویز درست نہ بھی ہوں تو بھی اس ایکٹ کے تحت ان کو شہریت دی جا سکے لیکن مسلمانوں کے پاس اگر شہریت ثابت کرنے کے لیے صحیح دستاویزات نہ ہوں گے تو اس ایکٹ کے تحت ان کو کوئی راحت نہیں ہے اس لیے اس ایکٹ کی مخالفت سبھی دھرم کے لوگوں اور تمام سیکولر طبقے کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ یہ قانون آئین کے بنیادی اقدارکے منافی ہے اوراس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے اسلئے اس ایکٹ کو کالعدم قراردیاجائے، یہ قانون آئین کی دفعہ 14/ اور 21/ کے منافی ہے، اس ایکٹ میں غیر قانونی مہاجرکی تعریف میں مذہب کو بنیادبناکر تفریق کی گئی ہے اور اس کا اطلاق صرف مسلمانوں پر کیا گیا ہے جب کہ ہندو،سکھ، بدھشٹ، جین، پارسی کو غیر قانونی مہاجر کے دائرہ سے باہر کردیا گیا ہے جو کہ دستورکی دفعہ 14سے متصادم ہے۔ اس کے علاوہ دستورہند کا بنیادی ڈھانچہ سیکولرازم پرمبنی ہے اس ایکٹ میں اصل بنیادکو نقصان پہنچایا گیا ہے، اس ایکٹ کے نتیجہ میں آسام میں این آرسی کی فہرست سے باہر ہونے والے ہندوکوشہریت ایکٹ کی دفعہ (6B)کے تحت شہریت کا حق مل جائے گا، جبکہ صرف مسلمانوں کو یہ حق نہیں ملے گا، جو کہ عصبیت اور امیتازپرمبنی ہے۔
دیش میں جس طرح سے آئے دن زناکاری (ریپ کانڈ) کی خبریں آرہی تھیں،اس سے پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی تھی ،ملک میں بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے
بڑی بڑی فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں،ملک کے معاشی حالات ابتر ہو چکے ہیں، حکو مت ان پر دھیان نہ دیکر صرف مذہبی لارڈ کے ذریعے ملک بھر میں نفرت پھیلا رہی ہے جو سوائے تشدد بھڑکانے کے اور کچھ نہیں ہےجس کو دبانے کے لیے مودی جی وامت شاہ جی نے اس کالے قانون کو لانے کی کوشش کی ہے جو خود ان کے لئے وبال جان بنا ہے لہذا اب بھی وقت ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے مودی جی و امت شاہ اور بل کی حمایت کرنے والے وغیرہ سب اس قانون کو واپس لیں ۔

اس بل سے ملک کے لاکھوں،کروڑوں غیر مسلم انصاف پسند ،دانشور، اہل علم، اور امن پسند شہری سخت تشویش وحیرت و استعجاب میں مبتلا ہیں تو وہیں پر مسلمانوں کو بھی ذہنی اور قلبی طور پر تکلیف و بے چینی پہونچی ہے جسے محسوس بھی کیا گیا ہے۔

اپنے جان، مال،دین اور اہل وعیال کی حفاظت ہماری یہ ساری قیمتی چیزیں آج داؤں پر لگی ہوئی ہیں،ہمارا ، ہمارے بچوں، اور مراکز و مساجدومدارس کا وجود خطرہ میں ہے،
اس لیے اپنے وجود کو باقی رکھنے کیلئے ابھی اٹھ کھڑے ہو کیونکہ:

*ہم کو ہر حال میں مقتل سے گزرنا ہوگا*

*ہم اگر بچ بھی گئے پھر بھی ہمیں مرنا ہوگا*

*اگلی نسلوں کو تباہی سے بچانے کیلئے*

*جو بھی کرنا ہے اسی نسل کو کرنا ہوگا*

ہمیں آزمایا ضرور گیا مگر تکلیف تب اور ہوئی جب CAB سی اے بی قانون پر صدر جمہوریہ کا دستخط بلا سوچے سمجھے ہوا ۔صدر جمہوریہ کا دستخط کردینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے کم از کم صدر مملکت کو تو یہاں کے دستور، یہاں کی جمہوریت کو تار تار کرنے سے بچانے کیلیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر جب سبھی آریس ایس نظریات کے حامل افراد اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوں تو پھر ایسے ملک میں جمہوریت کی بات کرنا ہی بیکار ہے وبے سود نظر آتی ہے۔کیونکہ مذکورہ بل جمہوریت، انصاف اور آئین کے خلاف ہے، لوگ مذہب سے بلند ہوکر اس کی مخالفت کررہے ہیں۔
آج یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ و طالبات سڑک پر آگئے ہیں تو انتظامیہ کے پسینے نکلنے لگے ہیں ذرا تصور کیجیے اگر ہر شہر میں لوگ احتجاج میں جمع ہوجائیں تو کیا ہوگا ؟؟ کسی بھی ظالم حکمراں کو آپکی بات ماننی اور تسلیم کرنی پڑے گی۔ ملک بھرکی یونیورسیٹیوں اور تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی متحدہوکر اس کے خلاف آواز بلندکررہے ہیں صرف کمی مدارس کے طلبہ کی نظر آتی ہے ۔ چہار سمت سے آزادی کے نعرے کی گونج سنائی دے رہی ہے،اسکول و کالج میں تعلیمی نظام تقریباً بند کردیے گئے ہیں ،اسٹوڈنٹس خود جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سڑکوں و میدانوں پر نکل آئے ہیں جنہیں خاکی وردی میں ملبوس پولیس والے گولیوں سے چھلنی کررہے ہیں، پر امن احتجاجیوں کو بھی لاٹھیوں سے مار مار کر لہولہان کررہے ہیں ،دستور ہند کی پاسداری کرنے والے غیر مسلم بھائیوں نے بھی اس کی سخت مذمت کی ہے اور اس کی مخالفت کرنے میں ابھی بھی پیش پیش ہیں. اور حقیقت میں اس مسئلے کو کسی دھرم اور مذہب کی بنیاد پر دیکھنا کسی طرح ملک اور ملک میں رہنے والےلوگوں کے حق میں نہیں ہے، اس لیے اس بل کو مشترکہ طور پر چیلنج کرنے کی ضرورت ہے. مختلف یونیورسٹیوں کے ہزاروں و لاکھوں مسلم و غیرمسلم طلبہ وطالبات کی ھمت اور جرأت و جذبہ وبے باکی کو میں سلام پیش کرتا ہوں جومختلف مذاھب سے تعلق رکھنےکےباوجود سی اے بی (C.B.A) کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے تھے اور ابھی کر بھی رہے ہیں اور پارلیمنٹ و ایوانوں تک اپنی بات پہونچا رہے ہیں تاکہ اس C.A.Bسٹیزن امینڈمنڈ ایکٹ کی پرزور مذمت ہو سکے اور اس بل کو واپس لیا جاسکے اور اسے قانونی شکل نہ دی جاسکے ۔*

میں اپنی طرف سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت ہماری خاموشی بہت بڑا جرم ثابت ہورہی ہے اس بل کی مخالفت میں جگہ جگہ مظاہرے رونما ہو رہے ہیں اور ہم خاموش بیٹھے ہیں ۔ملک کے موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ ہند سے عموماً اور قائدین و برادرانِ وطن سے خصوصاً میری گزارش بلکہ پر زور اپیل ہے کہ پوری شدت کے ساتھ اس انسانیت دشمن حکومت کے خلاف پر امن احتجاج کریں، یہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس سلسلے ميں یہ نہ دیکھیں کہ کون مرکزی قائد اس تحریک میں عوام کے ساتھ ہے یا نہیں ہے اور یہ احتجاج صرف اور صرف شہروں ہی میں محدود نہ ہو بلکہ اپنے اپنے علاقوں میں بلا کسی مسلکی و ملی اختلاف و انتشار کے،گاؤں گاؤں ،بستی بستی، میں بھی ہونا ضروری ہے۔

اس احتجاج میں غیر سیاسی برادران وطن کو ضرور شامل کریں جس طرح گاندھی جی نے مسلمانوں کو آگے رکھ کر ملک کو آزاد کرایا تھا۔تمام سیاسی رہنماؤں کو جن کی پارٹی نے اس ظالمانہ بل کی تائید کی ہے آگاہ کردیں کہ وہ اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر ملت اسلامیہ ہند کے ساتھ ان کی فلاح وبہبود کے لیے کھڑے ہو جائیں ورنہ وہ سیاسی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے ۔ تمام مسلمان مسلکی طوق سے آزاد ہو کر اس ظالمانہ بل کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند متحد ہوجائیں ۔ پوری ملت اسلامیہ ہند میں صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ ،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے طلبہ کا یکجہتی احتجاج اور غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئےدیکھا گیا لھذا ہم ان طلبہ و طالبات کے اس جرأت مندانہ اقدام پر بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ملک کی حفاظت کیلئے ہم نے کبھی اپنی جانوں کی قربانی دی ہے اس کی حفاظت و آبیاری کے لیے ہم پھر کبھی اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔اور جیتے جی اس کے اصولوں پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

اصولوں پر جو آنچ آئے توٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہوتو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

آج جو طلباء و طالبات دستور ہند کی حفاظت کیلئے سڑکوں پر ہیں انہیں پولیس گولیوں سے بھون رہی ہے ،طالبات پر بھی لاٹھیاں برسائیں جارہی ہیں ہم کھلے لفظوں میں ان خاکی وردی والوں کی مذمت کرتے ہیں جو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ان کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان طلباء پر گولیاں چلانے سے یہ تحریک دبے گی نہیں نہ ختم ہوگی ،بلکہ نوجوانوں سے مزید انقلاب کی لہر اٹھے گی
جس کو روک پانا مشکل ہوجائے گا،پوری تحریک میں پولیس کا رویہ بھی بڑا گھناؤنا رہا ہےجو نہتے طلباء وطالبات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کیمپس میں گھس کر طلباء پر ظلم و بربریت کرنا ،جامعہ ملیہ دہلی میں بغیر اجازت کے گھس کر طلباء پر فائرنگ کرنا سراسر غلط ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔پھر بھی عظیم احتجاج کے لیے 19 /دسمبر کی تاریخ کو جگہ جگہ طے کی گئی کیونکہ اسی دن اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل نے ملک کی خاطر جام شہادت نوش کیا تھا، اس عظیم مارچ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں نے ملک کو بچانے کی خاطر احتجاج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت قانونی لڑائی کے ساتھ ساتھ سڑک پر بھی آنا ہوگا۔

ہم حکومت دہلی سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تحقیقات کرائے کہ جامعہ ملیہ میں گھسنے والے خاکی وردی والے ہیں یا ہاف چڈی میں آریس ایس کے غنڈے ہیں لہذا اس پرکیجروال حکومت فورا نوٹس لیتے ہوئے جانچ کرائے تمام لوگوں کو پوری طاقت اور مضبوط حکمت عملی کیساتھ لے کر چلیں اپنے وقت اور صلاحیت کو صحیح استعمال میں لاتے ہوئے اس تحریک کو کامیاب بنائیں، یہ تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ایسے وقت میں صحافیوں سے روابط مضبوط کریں لوگوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ابھاریں اور ان میں ہمت باندھنے کا کام کریں خوف وہراس قطعاً نہ دلائیں،حزب مخالف کی منشا ہی خوف وڈر دلاکر اپنا مقصد حاصل کرنا ہے لھذا مقابلہ کیلئے مکمل تیار رہیں اس بل کو رجیکٹ کروانے کیلئے آسان تدابیر لوگوں کو سمجھائی جائیں اور تمام تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کریں، غیر مسلم سیکولر تنظیموں سے رابطے مضبوط رکھیں اور ماہر سیاست دانوں سے رابطہ کرتے ہوئے کھل کر میدان میں آئیں احتجاج اس قدر ہو کہ فرقہ پرستوں کے ناک میں دم کر دیں کیونکہ جمہوریت میں حقوق کے حصول کا یہ واحد طریقہ ہے شرافت اب بے سود نظر آتا ہے۔ہم سب نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں لہذا اب وقت بزدلی کا نہیں ہے قطعاً بزدل نہ بنیں ،آپ زندہ اور حساس قوم سے تعلق رکھتے ہیں آپ کا رعب اور دبدبہ ہمیشہ سے ہے اور رہے گا جب تک تمہارے اندر ایمان کی کرن پوری طرح سے چمکتی رہی تو بڑے سے بڑے ظالم و جابر حکومتوں کی کلائیاں تم سب نے مروڑ کر ان کی حکومتوں کو خاک میں ملا دیا تھا تو ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ اپنے عزائم و حوصلے بلند رکھیں ،لوگوں کو حوصلہ دلائیں ،بھگوا قوت واثر کو بے اثر کردیں ۔ ہزاروں سال سے ہم نے اس ملک کی ترقی وعظمت کے لئے اپناخون‌ پسینہ بہایاہے ایسے کیسے بھلا دوچار لاٹھی ڈنڈے ہمارے جذبات کو سرد کرسکتی ہیں ،انقلابات یوں ہی دوچار دس دن میں رونما نہیں ہوتے،نہ ہی ہفتہ دس دن میں تاریخیں رقم پا تی ہیں۔نہ ہی مہینوں میں جاکر حقوق ملتے ہیں ،بلکہ یہ تو سالوں اور صدیوں کاسفر ہوتاہے۔ موجودہ حکومت سن لے وقتی طور کی طاقت یہ غرور تک پہونچاتی ہے اور یہ غرور انسان میں ہو تو انسان کو اور جماعت یا پارٹی میں ہو تو اس جماعت وپارٹی کو برباد کردیتی ہے ۔ساری پارٹیاں الیکشن آتے ہی سیکولرزم کا چوغہ پہن لیتی ہیں بعد میں جب ان سے حقوق کی بات ہوتی ہے تو آپس میں مل کر چھیننے کا کام کرتی ہیں لہذا اب اقلیتی طبقے کو ان مگر مچھ کے آنسو بہانے والی پارٹیوں و نیتاؤں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔مرکز میں موجود اس سرکار کو نہ تو ہمارے آنسوؤں کی پرواہ ہے نہ ہماری جانوں کا احترام ہے اگر آج یہ لمحہ گزر گیا تو صدیاں افسوس کریں گی کہ کاش ہم خاموش نہ ہوتے کاش ہم کچھ قدم مضبوط رکھتے:
"وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ" اپنے آپ کو دشمن کے مقابلے میں تیار کرلو تاکہ دشمن جنگ سے پہلے ہی ڈر جائے اور ہتھیار ڈال دے ۔
آخر کب تک ایسے ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہوگے ، کیوں اپنی سرکاری نوکری کی فکر کر رہے ہو کیوں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہو جتنے طلبہ وطالبات اپنی جان کا نذرانہ پیش کررہے ہیں،دن رات اپنی نیندیں حرام کر رہے ہیں اپنا سکون مسمار کر رہے ہیں اور اُن کے تعلق سے ہر سیکنڈ میں آنے والی ظلم وتشدد کی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر صرف خون کے آنسو پی کر رہے جا رہے ہیں دیکھیں اُنکا بھی مستقبل ہے اُنکا بھی شوق و خواب ہے لیکن ساری چیزوں کو قربان کر رہے ہیں صرف اور صرف مُلک و ملت کے خاطر وقت دے رہے ہیں ۔

ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کا برابر کا حصہ ہے لہذا جو لوگ صرف نفرت کی زبان سمجھتے ہیں وہی یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، ہم ایک سیکولر جمہوری ملک کا حصہ ہیں، اپنے جائز مطالبات و حقوق کے لیے اپنی آواز اٹھانا ہمارا حق بنتا ہے لہٰذا پرزور احتجاج کریں، تاکہ حکومت کے ذمہ داروں وایوانوں تک یہ پیغام پہنچے اور ہماری صدا گونجے کہ یہ جمہوری ملک تانا شاہی اور ظلم و استبداد کی بنیادوں پر نہیں چل سکتا ہے ، وطن عزیز کی بنیاد سیکولرازم ہے نہ کہ فسطائیت و منوادیت، اس سے ملک کا آئین مذہبی رواداری کا آئینہ دار ہے۔ یہ ملک ہمیشہ جمہوری تھا اور رہے گا مودی حکومت کبھی بھی اسے بانٹ کر ہندو راشٹر نہیں بناسکتی ہے اگر دیش میں آر ایس ایس نظام کو لاگو کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ملک تباہ و برباد ہو جائیگا ۔ لھذا ہمارے لیے آپسی اتحاد بھی بہت ضروری ہے آپ کا ساتھ دینے کے لیے غیر مسلم بھائیوں میں ابو طالب اور عبداللہ بن اریقط جیسی شخصیات بھی ہیں خوشی کی بات تو یہ ہے کہ ملک کے اکثر غیرمسلم طبقات بھی کیب CAB پر ہمارا ساتھ دے رہے ہیں ایسے میں ہمیں بھی ایک ہونا ہوگا ۔آج اس وقت ملت کے افراد جس اضطرابی کیفیت سے گزر رہے ہیں، شاید آپ ان سے بخوبی واقف ہیں، ہر شخص بےچینی کے عالم میں ہے۔ مستقبل کے تئیں فکر مند ہے۔آج اس وقت امت کو قیادت کے فقدان کا شدت سے احساس ہو رہاہے، قیادت کی فقدان کی وجہ سے ہر شخص قیادت کی کوشش کر رہا ہے ہر شخص کا دل کچھ کرنے کے جذبہ سے لبریز ہے۔ لیکن اسے راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ ایسی حالت میں آخر کیا کیا جائے۔ کیا یہ ممکن ہے آپ تمام لوگ سارے گلے شکوے بھلا کے فقہی مسائل کو درکنار کرکے ایک پلیٹ فارم پر آجائیں ، حراستی کیمپ میں مذہبی بنیاد پر تفریق نہیں کی جائےگی ۔ اس وقت کیا حالت ہو گی اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین
آج اگر یہاں کے آئین ، یہاں کی جمہوریت کو بچانے کیلیے سر دینے کی باری آئے گی تو ہم آپنے بزرگوں کی تاریخ سے سبق لیتے ہوئے سر دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے آج ہمیں‌ اپنے‌بوڑھے ماں‌باپ کے لئے لڑناہوگا ۔ہمیں‌اپنی بہنوں کی آبرو و سلامتی کے لیے لڑناہوگا ۔ہمیں‌اپنے‌بہتر مستقبل کے لئے لڑناہوگا۔ہمیں اپنے بچوں کے لئے لڑناہوگا ۔ہمیں اپنے‌ملک کےآئین‌کی سلامتی کے لئے لڑناہوگا، ہمیں اپنی مٹی کے لئے لڑناہوگا ،ہمیں اپنے وجود کے لئے قانونی لڑائی لڑنا ہوگا

*خدا نے‌آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی*
*نہ ہو جس کوخیال خود‌اپنی حالت کے بدلنے کا*

ہمیں‌جذباتیت،ناعاقبت اندیشی سے اوپر اٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔جوش کو ہوش کے ساتھ استعمال کرناہوگا وقت کے ساتھ ہمیں بہترین‌منصوبہ بندی بھی کرنی‌ہوگی ۔

تمام برادران وطن سے دردمندانہ اپیل ہے کہ کیب CAB کے خلاف مہم کو صرف مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر نہ دیکھیں بلکہ آئین کی بحالی اور اس کی حفاظت کے لیے ہر انصاف پسند شہری کو آگےلائیں، نہایت سنجیدگی، عقلمندی اور پر امن اور دستوری طریقے سے متحدہ اور مشترکہ طورپر اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے. کسی طرح کی جذباتیت یا قانون کو ہاتھ میں لینا ملک اور باشندگان وطن اور خصوصاً مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے، دونوں ایوانوں سے بل پاس ہونے کے بعد بھی ہمارے لیے عدالت کے دروازے کھلے ہیں، ہمیں اپنی عدلیہ سے پوری امید ہے کہ انصاف ملے گا اور انصاف پسند برادری ہمارے ساتھ آئے گی. ان شاء اللہ.
تمام مسلم تنظیموں کے متحدہ اور مشترکہ فیصلہ کے ذریعہ انصاف پسند غیر مسلم جماعتوں اور شخصیات کو لے کر اس بحران اور تشویشناک حالات سے نکلنے اور نمٹنے کی کوشش کی جاتی، لیکن افسوس کہ ایسی کوئی بات بڑے پیمانے پر اب تک نہیں بن سکی. لیکن ہم مایوس نہیں ہیں آنے والےجمعہ کو تمام ائمہ وخطباء حضرات اپنے منبر سے اس تعلق سے لوگوں کو آگاہ کریں اور وہاں علاقے کے لوگوں کو جوCAB اورNRC پر بات کر سکنے کے اہل ہوں انھیں ساتھ لے کر اس بل پر اپنا احتجاج درج کرائیں ،میرا مقصد تکلیف میں ڈالنا نہیں بلکہ سوئے لوگوں کو جگاناہے امید ہے کہ ساری لوگ اس سلسلے میں متحد ہوکر پر امن اور دستوری طور پر پوری قوت سے اس قضیہ کا حل سوچیں گے اور منصفانہ صدا بلند کرکے نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے.ان شاء اللہ تعالیٰ

اللہ!!! ان ظالموں کو ہدایت دے ،اور ہم سبھی لوگوں کو پکا و سچا داعی بنائے اور اعداء اسلام کی شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے،اللہ تعالی تمام بھائیوں و بہنوں کی جان ومال و آبرو کی حفاظت فرمائے ۔ جو لوگ ملک میں حقوق کے لیےجدوجھد کر رہے ہیں وہ صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی لڑ رہے ہیں اس حالت میں ہم پر ان کا یہ حق ہے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں ۔"اَللّھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ، وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ، وَانْصُرْھُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اَللّھُمَّ الْعَنِ الْکَفَرۃَ الّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِِیْلِكَ، وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ، وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَآءكَ، اَللّھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ، وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ، وَاَنْزِلْ بِھِمْ بَأسَكَ الّذِیْ لاَ تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ"اور ظالموں کے حق میں یہ دعا کریں "اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ، اَللّھُمَّ اِنّا نَجْعَلُكَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ" اے اللہ کتاب کو نازل کرنے والے،جلد حساب لینے والے (مخالف گروہوں کو شکست سے دوچار فرما ،اے اللہ ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلاک کر رکھ دے ۔(رواہ البخاری:2933 واللفظ لہ و صحیح مسلم:1742)- آمین تقبل یا رب العالمین

afrozgulri@gmail.com
18/12/2019


Sent from my Redmi Note 7S using Tapatalk
 
Top