• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دخول جنت کی بنیادی شرط !

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دخول جنت کی بنیادی شرط !

یاد رکھیں ! کتاب و سنت ( قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ ) کے اتباع کے علاوہ دوسرے تمام شخصی طریقے، مذاھب و مسالک کی تقلید کرنا انسان کو ھلاکت کے گڑھے میں پہنچا دیتا ھے۔ جب کہ قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ کو کامل و مکمل جان کر اس کی اتباع انسان کو کامیابی اور نجات کی راستے تک پہنچا دیتا ھے۔


یاد رکھیں ! جس نے اپنے محبوب نبی محمد کریم ﷺ کے علاوہ کسی امتی شخص کو شریعت کا امام اعظم جانا اور نبی کریم ﷺ کی اتباع کو چھوڑ کر کسی امتی شخص کو اپنا امام جان کر اس کی تقلید کی تو وہ شخص ہلاک اور تباہ ھوا۔ اپنے رسول ﷺ کی سنت ( صحیح آحادیث ) پر کسی امتی شخص کی بات و قول کو ترجیح دینے والے شخص کا سارا عمل و مشقت ضائع و برباد ھے، اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل اور خاب و خاسر رھے گا۔

کتاب و سنت ( قرآن و صحیح آحادیث رسول ﷺ) کی اتباع کے بجائے اپنے خود ساختہ بزرگوں اور آئمہ کی اندھی تقلید کرنے والوں کو اگر یقین نہیں آتا تو پڑھیئے الله تعالی کا ارشاد جب قیامت کے دن ہر ظالم یعنی کافر، مشرک، منافق اور مبتدع وغیرہ اپنے انجام کو دیکھ کر دنیاوی زندگی میں مخالفت رسول ﷺ پر افسوس کا اظہار کرکےاپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے ہی کاٹ کر کہے گا:

﴿ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴿ ٢٧﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴿٢٨﴾ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا (﴿ ٢٩﴾ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿٣٠﴾ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا ﴿٣١﴾" [ الفرقان : سورۃ رقم ٢۵]

"اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول ﷺ کی راە اختیار کی ھوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ھوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراە کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو ( وقت پر ) دغا دینے ولا ھے۔ اور رسول ( ﷺ ) کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ اور اسی طرح ھم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناە گاروں کو بنا دیا ھے، اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے والا اور مدد کرنے والا کافی ھے۔"

اورجیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ:


کُلُّ أُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَی [بخاری رقم 7280]۔

''ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا'' صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا کہ: '' جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا''۔ [بخاری رقم 7280]۔

الله تعالی نے تمام مسلمانوں پر اپنےاٴحکام کی پابندی اور اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول الله ﷺ کے اٴحکام و اٴوامر کی اتباع کو ضروری قرار دیا ھے۔ اس کے متعلق چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں :

1- ﴿ من یطع الرسول فقد اٴطاع الله ﴾ (النساۂ آیت 80 )
"جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے الله کی اطاعت کی۔"

2- ﴿ اٴطیعوا الله واٴطیعوا الرسول ﴾ (النساۂ آیت 59)

"الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کا کہا مانو۔"

3- ﴿... وما آتاکم الرسول فخذوە وما نہاکم عنە فانتہوا،...﴾ (الحشر آیت 7)

"اور رسول تمہیں جو حکم دے اسے لے لو اور جس چیز سے وە منع کرے اس سے رک جاوٴ"

4- ﴿ لقد کان لکم فی رسول الله اٴسوة حسنة ﴾ ( الاَحزاب آیت 21 )

"بے شک تمہارے لۓ الله کے رسول میں بہترین نمونہ ھے"

5- ﴿ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفر لکم ذنوبکم ﴿31﴾ قل أطيعوا الله والرسول، فإن تولوا فإن الله لا يحب الكافرين ﴿32﴾ [ آل عمران ]

"آپ کہہ دیں اگر تم الله تعالی کو محبوب رکھنا چاھتے ھو تو میری اتباع کرو اس وقت الله تعالی تمہیں محبوب رکھے گا اور تمہارےگناھوں کو بخش دے گا۔" کہہ دیجئے! کہ الله تعالی اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ موڑ پھیر لیں تو بے شک الله تعالی کافروں سے محبت نہیں کرتا۔"

یعنی اس آیت کریمہ آل عمران (31) میں الله تعالی نے واضح فرمایا ھے کہ اتباع رسول ﷺ کی وجہ سے صرف تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ھوں گے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاوٴگے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ھے بارگاہ الہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔

اس آیت کریمہ آل عمران (32) میں الله تعالی کی اطاعت کے ساتھ اطاعت رسول ﷺ کی پھر تاکید کرکے واضح کر دیا کہ اب نجات اگر ھے تو صرف اطاعت محمدی میں ھے اور اس سے انحراف کفر ھے اور ایسے کافروں کو الله تعالی پسند نہیں فرماتا۔ چاھے وہ الله تعالی کی محبت و قرب کے کتنے ہی دعوے دار ھوں۔ اور اس آیت میں حجیت حدیث کے منکرین اور اتباع رسول ﷺ سے گریز کرنے والوں دونوں کے لئے سخت وعید ھے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ھے۔ اٴغاذنا الله منە۔

باقی دنیا میں ہر صاحب عقل وبصیرت مرد و عورت کو اپنے بساط کے مطابق سعی و تحقیق کرکے حق وباطل میں فرق و پہچان کرنا چاہیۓ اور پھر حق کو دل ہی سے قبول کرکے اس کی اتباع کرنا چاہیۓ۔

" اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا إتباعه، اللهم أرنا الباطل باطلًا وارزقنا إجتنابە۔
الله تعالی سے دعاگو ھوں کہ ھم سب کو حق قبول کرنے اور پھر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین-


( إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت )
وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔

( والله تعالی اٴعلم )
 

muhammadshaukat9

مبتدی
شمولیت
دسمبر 07، 2015
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دخول جنت کی بنیادی شرط !

یاد رکھیں ! کتاب و سنت ( قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ ) کے اتباع کے علاوہ دوسرے تمام شخصی طریقے، مذاھب و مسالک کی تقلید کرنا انسان کو ھلاکت کے گڑھے میں پہنچا دیتا ھے۔ جب کہ قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ کو کامل و مکمل جان کر اس کی اتباع انسان کو کامیابی اور نجات کی راستے تک پہنچا دیتا ھے۔


یاد رکھیں ! جس نے اپنے محبوب نبی محمد کریم ﷺ کے علاوہ کسی امتی شخص کو شریعت کا امام اعظم جانا اور نبی کریم ﷺ کی اتباع کو چھوڑ کر کسی امتی شخص کو اپنا امام جان کر اس کی تقلید کی تو وہ شخص ہلاک اور تباہ ھوا۔ اپنے رسول ﷺ کی سنت ( صحیح آحادیث ) پر کسی امتی شخص کی بات و قول کو ترجیح دینے والے شخص کا سارا عمل و مشقت ضائع و برباد ھے، اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل اور خاب و خاسر رھے گا۔

کتاب و سنت ( قرآن و صحیح آحادیث رسول ﷺ) کی اتباع کے بجائے اپنے خود ساختہ بزرگوں اور آئمہ کی اندھی تقلید کرنے والوں کو اگر یقین نہیں آتا تو پڑھیئے الله تعالی کا ارشاد جب قیامت کے دن ہر ظالم یعنی کافر، مشرک، منافق اور مبتدع وغیرہ اپنے انجام کو دیکھ کر دنیاوی زندگی میں مخالفت رسول ﷺ پر افسوس کا اظہار کرکےاپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے ہی کاٹ کر کہے گا:

﴿ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴿ ٢٧﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴿٢٨﴾ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا (﴿ ٢٩﴾ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿٣٠﴾ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا ﴿٣١﴾" [ الفرقان : سورۃ رقم ٢۵]

"اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول ﷺ کی راە اختیار کی ھوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ھوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراە کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو ( وقت پر ) دغا دینے ولا ھے۔ اور رسول ( ﷺ ) کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ اور اسی طرح ھم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناە گاروں کو بنا دیا ھے، اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے والا اور مدد کرنے والا کافی ھے۔"

اورجیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ:


کُلُّ أُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَی [بخاری رقم 7280]۔

''ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا'' صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا کہ: '' جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا''۔ [بخاری رقم 7280]۔

الله تعالی نے تمام مسلمانوں پر اپنےاٴحکام کی پابندی اور اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول الله ﷺ کے اٴحکام و اٴوامر کی اتباع کو ضروری قرار دیا ھے۔ اس کے متعلق چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں :

1- ﴿ من یطع الرسول فقد اٴطاع الله ﴾ (النساۂ آیت 80 )
"جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے الله کی اطاعت کی۔"

2- ﴿ اٴطیعوا الله واٴطیعوا الرسول ﴾ (النساۂ آیت 59)

"الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کا کہا مانو۔"

3- ﴿... وما آتاکم الرسول فخذوە وما نہاکم عنە فانتہوا،...﴾ (الحشر آیت 7)

"اور رسول تمہیں جو حکم دے اسے لے لو اور جس چیز سے وە منع کرے اس سے رک جاوٴ"

4- ﴿ لقد کان لکم فی رسول الله اٴسوة حسنة ﴾ ( الاَحزاب آیت 21 )

"بے شک تمہارے لۓ الله کے رسول میں بہترین نمونہ ھے"

5- ﴿ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفر لکم ذنوبکم ﴿31﴾ قل أطيعوا الله والرسول، فإن تولوا فإن الله لا يحب الكافرين ﴿32﴾ [ آل عمران ]

"آپ کہہ دیں اگر تم الله تعالی کو محبوب رکھنا چاھتے ھو تو میری اتباع کرو اس وقت الله تعالی تمہیں محبوب رکھے گا اور تمہارےگناھوں کو بخش دے گا۔" کہہ دیجئے! کہ الله تعالی اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ موڑ پھیر لیں تو بے شک الله تعالی کافروں سے محبت نہیں کرتا۔"

یعنی اس آیت کریمہ آل عمران (31) میں الله تعالی نے واضح فرمایا ھے کہ اتباع رسول ﷺ کی وجہ سے صرف تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ھوں گے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاوٴگے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ھے بارگاہ الہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔

اس آیت کریمہ آل عمران (32) میں الله تعالی کی اطاعت کے ساتھ اطاعت رسول ﷺ کی پھر تاکید کرکے واضح کر دیا کہ اب نجات اگر ھے تو صرف اطاعت محمدی میں ھے اور اس سے انحراف کفر ھے اور ایسے کافروں کو الله تعالی پسند نہیں فرماتا۔ چاھے وہ الله تعالی کی محبت و قرب کے کتنے ہی دعوے دار ھوں۔ اور اس آیت میں حجیت حدیث کے منکرین اور اتباع رسول ﷺ سے گریز کرنے والوں دونوں کے لئے سخت وعید ھے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ھے۔ اٴغاذنا الله منە۔

باقی دنیا میں ہر صاحب عقل وبصیرت مرد و عورت کو اپنے بساط کے مطابق سعی و تحقیق کرکے حق وباطل میں فرق و پہچان کرنا چاہیۓ اور پھر حق کو دل ہی سے قبول کرکے اس کی اتباع کرنا چاہیۓ۔

" اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا إتباعه، اللهم أرنا الباطل باطلًا وارزقنا إجتنابە۔
الله تعالی سے دعاگو ھوں کہ ھم سب کو حق قبول کرنے اور پھر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین-


( إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت )
وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔

( والله تعالی اٴعلم )
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
یاد رکھیں ! کتاب و سنت ( قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ ) کے اتباع کے علاوہ دوسرے تمام شخصی طریقے، مذاھب و مسالک کی تقلید کرنا انسان کو ھلاکت کے گڑھے میں پہنچا دیتا ھے۔ جب کہ قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ کو کامل و مکمل جان کر اس کی اتباع انسان کو کامیابی اور نجات کی راستے تک پہنچا دیتا ھے۔
جناب آپ پر پہلے یہ لازم تھا کہ ان تمام شخصی طریقے، مذاھب و مسالک کو قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ کا مخالف ثابت کرتے پھر ان کے نقش قدم پر چلنے الوں کو برسر غلط کہتے۔ ایک غلط مفروضہ پر پوری عمارت قائم کرنے کی ناروا کوشش دین کی خدمت نہیں۔
جب تک دین میں ”تقیہ“ کرنے والے نہیں گھسے تھے مسلم کفار پر غالب تھے۔ اور اب مسلم امہ کا جو حال ہے اس کے پیچھے یہی ”تقیہ“ کرنے والے لوگ ہیں جن کا آپ لوگ شکار ہیں۔
للہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بتاؤ اور مسلمانوں میں جوڑ پیدا کرنے کی کوشش کرو نہ کہ منافرت۔ اللہ تعالیٰ مجھے، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو ان ”تقیہ“ کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دخول جنت کی بنیادی شرط !

یاد رکھیں ! کتاب و سنت ( قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ ) کے اتباع کے علاوہ دوسرے تمام شخصی طریقے، مذاھب و مسالک کی تقلید کرنا انسان کو ھلاکت کے گڑھے میں پہنچا دیتا ھے۔ جب کہ قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ کو کامل و مکمل جان کر اس کی اتباع انسان کو کامیابی اور نجات کی راستے تک پہنچا دیتا ھے۔


یاد رکھیں ! جس نے اپنے محبوب نبی محمد کریم ﷺ کے علاوہ کسی امتی شخص کو شریعت کا امام اعظم جانا اور نبی کریم ﷺ کی اتباع کو چھوڑ کر کسی امتی شخص کو اپنا امام جان کر اس کی تقلید کی تو وہ شخص ہلاک اور تباہ ھوا۔ اپنے رسول ﷺ کی سنت ( صحیح آحادیث ) پر کسی امتی شخص کی بات و قول کو ترجیح دینے والے شخص کا سارا عمل و مشقت ضائع و برباد ھے، اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل اور خاب و خاسر رھے گا۔

کتاب و سنت ( قرآن و صحیح آحادیث رسول ﷺ) کی اتباع کے بجائے اپنے خود ساختہ بزرگوں اور آئمہ کی اندھی تقلید کرنے والوں کو اگر یقین نہیں آتا تو پڑھیئے الله تعالی کا ارشاد جب قیامت کے دن ہر ظالم یعنی کافر، مشرک، منافق اور مبتدع وغیرہ اپنے انجام کو دیکھ کر دنیاوی زندگی میں مخالفت رسول ﷺ پر افسوس کا اظہار کرکےاپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے ہی کاٹ کر کہے گا:

﴿ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴿ ٢٧﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴿٢٨﴾ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا (﴿ ٢٩﴾ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿٣٠﴾ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا ﴿٣١﴾" [ الفرقان : سورۃ رقم ٢۵]

"اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول ﷺ کی راە اختیار کی ھوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ھوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراە کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو ( وقت پر ) دغا دینے ولا ھے۔ اور رسول ( ﷺ ) کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ اور اسی طرح ھم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناە گاروں کو بنا دیا ھے، اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے والا اور مدد کرنے والا کافی ھے۔"

اورجیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ:


کُلُّ أُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَی [بخاری رقم 7280]۔

''ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا'' صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا کہ: '' جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا''۔ [بخاری رقم 7280]۔

الله تعالی نے تمام مسلمانوں پر اپنےاٴحکام کی پابندی اور اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول الله ﷺ کے اٴحکام و اٴوامر کی اتباع کو ضروری قرار دیا ھے۔ اس کے متعلق چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں :

1- ﴿ من یطع الرسول فقد اٴطاع الله ﴾ (النساۂ آیت 80 )
"جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے الله کی اطاعت کی۔"

2- ﴿ اٴطیعوا الله واٴطیعوا الرسول ﴾ (النساۂ آیت 59)

"الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کا کہا مانو۔"

3- ﴿... وما آتاکم الرسول فخذوە وما نہاکم عنە فانتہوا،...﴾ (الحشر آیت 7)

"اور رسول تمہیں جو حکم دے اسے لے لو اور جس چیز سے وە منع کرے اس سے رک جاوٴ"

4- ﴿ لقد کان لکم فی رسول الله اٴسوة حسنة ﴾ ( الاَحزاب آیت 21 )

"بے شک تمہارے لۓ الله کے رسول میں بہترین نمونہ ھے"

5- ﴿ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفر لکم ذنوبکم ﴿31﴾ قل أطيعوا الله والرسول، فإن تولوا فإن الله لا يحب الكافرين ﴿32﴾ [ آل عمران ]

"آپ کہہ دیں اگر تم الله تعالی کو محبوب رکھنا چاھتے ھو تو میری اتباع کرو اس وقت الله تعالی تمہیں محبوب رکھے گا اور تمہارےگناھوں کو بخش دے گا۔" کہہ دیجئے! کہ الله تعالی اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ موڑ پھیر لیں تو بے شک الله تعالی کافروں سے محبت نہیں کرتا۔"

یعنی اس آیت کریمہ آل عمران (31) میں الله تعالی نے واضح فرمایا ھے کہ اتباع رسول ﷺ کی وجہ سے صرف تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ھوں گے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاوٴگے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ھے بارگاہ الہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔

اس آیت کریمہ آل عمران (32) میں الله تعالی کی اطاعت کے ساتھ اطاعت رسول ﷺ کی پھر تاکید کرکے واضح کر دیا کہ اب نجات اگر ھے تو صرف اطاعت محمدی میں ھے اور اس سے انحراف کفر ھے اور ایسے کافروں کو الله تعالی پسند نہیں فرماتا۔ چاھے وہ الله تعالی کی محبت و قرب کے کتنے ہی دعوے دار ھوں۔ اور اس آیت میں حجیت حدیث کے منکرین اور اتباع رسول ﷺ سے گریز کرنے والوں دونوں کے لئے سخت وعید ھے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ھے۔ اٴغاذنا الله منە۔

باقی دنیا میں ہر صاحب عقل وبصیرت مرد و عورت کو اپنے بساط کے مطابق سعی و تحقیق کرکے حق وباطل میں فرق و پہچان کرنا چاہیۓ اور پھر حق کو دل ہی سے قبول کرکے اس کی اتباع کرنا چاہیۓ۔

" اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا إتباعه، اللهم أرنا الباطل باطلًا وارزقنا إجتنابە۔
الله تعالی سے دعاگو ھوں کہ ھم سب کو حق قبول کرنے اور پھر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین-


( إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت )
وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔

( والله تعالی اٴعلم )
اللہ تعالی آپ کو عقل نصیب کرے، مفت میں اپنی توانائی بھی خرچ کر رہے ہیں اور دوسروں کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ایسی چیز پر ورق سیاہ کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے جس کو وہ سب لوگ جانتے اور مانتے ہیں جن میں ایمان کی کوئی چنگاری دل کے کسی تاریک ترین گوشے میں کہیں دبی پڑی ہو۔ کیا آپ زبردستی مسلمانوں کا ایمان چیننا چاہتے ہیں اور کہلوانے چاہتے ہیں کہ اس خطہ زمین پر آپ کے سوا سارے گویا کافر اور اللہ و رسول کے دشمن بستے ہیں! کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اس فورم کو غیر مقلدیت کی پرچار کے بجائے اسلام کی تبلیغ کیلئے استعمال کرتے اور اپنی پرواز مسلکی برتری کے خبط سے آزاد کرکے ذرا اونچی اڑان بھرتے اور اسلام کے آفاقی اصول، امت اجابت اور امت دعوت سب کے سامنے اجاگر کرتے (بشرطیکہ آپ اس کے اہل ہوں)۔ آپ کے ہم مذہب بھائی تو شاید آپ کے ان "دلائل" سے بے حد مسرور و مسحور ہوئے ہوں گے لیکن پتہ ہے کہ دعوی اور دلیل کی مطابقت کس طرح ہوتی ہے،،،، اس کا پتہ روایتی غیرمقلدیت پر جم کر قطعا نہیں چلے گا۔ ذرا اپنے فرقے کے خول سے باہر نکل کر بھی بات کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں۔ وہ فرقے جنہوں نے سواد اعظم کو کافر یا گمراہ کہہ کر مقبول ہونے کی کوشش کی ہے، ان کا انجام سوائے اسلام اور صفحہ ہستی سے مٹنے کے اور کچھ نہ ہوا۔ صرف ایک فرقہ اس سے مستثنی ہے اور وہ ہے شیعہ جو تقیہ کے سہارے چل اور پل رہا ہے۔ اللہ کی پناہ! نظریات اس حد تک باطل نہ ہوجائیں کہ باقی امت سے توثیق نہ ہوسکے تو پھر یا تو خود کافر بننا پڑے یا ان کو کافر بنانا پڑے یا بصورت دیگر ساری عمر تقیہ کا لبادہ اوڑھ کرباقی امت سے نظریں بچانی پڑیں۔ اگر آپ اس نہج پر چلیں جو ایک زمانے میں اہل حدیث کرام، محدثین عظام کا تھا تو شاید آپ کو بطور ایک جائز اورصحیح اسلامی مسلک و مذہب کے قبول کرنے میں عامۃ المسلمین کو اتنی لے دے نہ کرنی پڑے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تاریخ کا ایک دور تھا جو اب گزر چکا جس کے اپنے لوگ اور اپنے تقاضے تھے، روایت، درایت، اسناد، جرح و تعدیل وغیرہ پر جتنا کام ان حضرات نے فرمایا، وہ لاجواب تھا، اس کے بعد اب آپ جیسے اناڑیوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ میں اور آپ خود ان ہی کے خوشہ چیں اور مقلد ہیں گو کہ تقلید نام آپ کو پسند نہیں۔ اب چونکہ زمانہ وہ نہ رہا ، ترجیحات وہ نہ رہیں اور کام کی نوعیت وہ نہ رہی جو محدثین سابقین کے دور مسعود میں تھی کہ کھرے کو کھوٹے سے الگ کرنے کیلئے در در کی خاک چھاننی پڑتی اور پھر کہیں جاکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔ تو اب بند کمرے میں کمپیوٹر سکرین کے سامنے گھنٹوں چوکڑی مار کر مختلف ویب سائٹس سے رطب و یابس جمع کرکے کوئی محدثین کی ہم سری کے سہانے خواب دیکھے گا تو اپنی ہی چارپائی سے اوندھے منہ گرے گا۔ کیا نرے نام رکھنے سے اور کسی مسلمان پر کافر، مشرک اور بدعتی کا لیبل لگانے سے آپ خیر سے "اہل حدیث" بن جائیں گے، ہرگز نہیں! آپ کی مثال امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ جیسی ہے (مگر اس سے بے حد کمزور ہے کیونکہ ان جیسا تقوی،، حافظہ اور علم آپ کے پاس کہاں ہے اور خیر سے وہ جمہور کو گمراہ اور مشرک بھی نہیں سمجھتے تھے۔) کہ ایک زمانہ بعد جب کہ امام داود ظاہری رحمہ اللہ کا مذہب مندرس اور فناء ہوچکا تھا ان کو اس پر عمل کی سوجھی اور پھر اس مذہب کی کتابیں حفظ کرکے اس کو حیات تازہ بخشنے کی کوشش کی لیکن تاریخی طور پر ثابت ہے کہ اہل ظواہر کا مسلک اس کے بعد بھی قبول عام حاصل نہ کرسکا۔ اچھا یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا، تو اس سے بڑی کوئی گمراہی نہیں ہوسکتی کہ حدیث پڑھ کر آپ پوری امت سے بمع اس کے اولیاء اللہ کے بیزار ہوجائیں اور اس کے مقتدیان کو مشرکین اور مقتدایان کو لات، منات و سومنات کے صف میں کھڑا کرکے اوپر سے آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے غلط استدلالات کی مہریں بھی ثبت کرلیں۔ امت کے برے دن کیا کم تھے کہ مسند حدیث کے رکھوالے اہل اسلام کو ایمان ہی سے فارغ کرکے جہنم بھیجنا شروع کردیں! معاذ اللہ۔ ۔۔ آپ کم از کم اپنے بزرگوں پرتو اعتماد کیا کریں اور قرآن و حدیث کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا آلہ کار نہ بنائیں۔ کیا اچھا بہانہ تراش لیا ہے آپ نے قرآن و حدیث سے پہلو تہی کرنے کا، "ہم صرف قرآن و حدیث کو مانتے ہیں"۔ کاش کہ ایسا ہی ہوتا۔۔ لیکن عقل ہی نہ ہو تو قرآن سے آپ كو آخر کیا فائدہ ملے گا،،،، الٹا گمراہ ہوں گے۔حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ان الله يرفع بهذا لكتاب اقواما و يضع بها آخرين۔ رواه مسلم عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه تو قرآن سے تو ان ہی کو ہدایت مل سکتی ہے جو منجملہ اور شرائط و صفات کے بالخصوص نمبر ایک ،عقل والے ہوں: انما يتذكر اولو الالباب [زمر:9] ، نمبر دو ،متقی ہوں: هدى للمتقين [بقره:2] ۔ اب آئیے دیکھیں، اس فرقے کی اکثریت (باستثناء تمام علماء و صلحاء مثل نواب صدیق حسن خان صاحب اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب وغیرہ)عقل سے عاری پنساری ہے۔ نیز خود تو کیا متقی ہوتے، متقین ہی کو گالیاں دینا اپنا مذہبی فريضہ اور وظیفہ سمجھتے ہیں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,484
پوائنٹ
791
آپ کی مثال امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ جیسی ہے (مگر اس سے بے حد کمزور ہے کیونکہ ان جیسا تقوی،، حافظہ اور علم آپ کے پاس کہاں ہے اور خیر سے وہ جمہور کو گمراہ اور مشرک بھی نہیں سمجھتے تھے۔) کہ ایک زمانہ بعد جب کہ امام داود ظاہری رحمہ اللہ کا مذہب مندرس اور فناء ہوچکا تھا ان کو اس پر عمل کی سوجھی اور پھر اس مذہب کی کتابیں حفظ کرکے اس کو حیات تازہ بخشنے کی کوشش کی لیکن تاریخی طور پر ثابت ہے کہ اہل ظواہر کا مسلک اس کے بعد بھی قبول عام حاصل نہ کرسکا۔
جناب کی معلومات کی رسائی اسی قدر کہ :بس ’’ بجرگوں ۔۔سے سن رکھا ہے کہ امام ابن حزم ظاہری کا ’’ مذہب دنیا میں نہیں چل سکا ،اور اندھے مقلدین کی مارکیٹ میں بھر مار ہے ۔
بھائی ۔۔ابن حزم رحمہ اللہ نے کب کسی جدید مذہب کی بنیاد رکھی ۔۔اور اس کی دعوت دی ۔ ؟؟
معروف حقیقت ہے کہ وہ تقلید کے سخت خلاف تھے
انہوں نے بڑی محنت اور اخلاص سے مروجہ فقہوں کا سنت نبویہ سے فرق اور اختلاف بتا کر احادیث و سنت مرتب فرمادیں ۔
ان کی محنت سے امت کے مختلف طبقے استفادہ کر رہے ہیں ، حتی کہ ان کے سخت دشمن بھی ۔۔
یہی ابن حزم ؒ کا مقصد تھا ۔
لیکن تقلید کے اندھیروں میں سرگرداں لوگ ان سے الرجک ہیں ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اللہ تعالی آپ کو عقل نصیب کرے، مفت میں اپنی توانائی بھی خرچ کر رہے ہیں اور دوسروں کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ایسی چیز پر ورق سیاہ کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے جس کو وہ سب لوگ جانتے اور مانتے ہیں جن میں ایمان کی کوئی چنگاری دل کے کسی تاریک ترین گوشے میں کہیں دبی پڑی ہو۔ کیا آپ زبردستی مسلمانوں کا ایمان چیننا چاہتے ہیں اور کہلوانے چاہتے ہیں کہ اس خطہ زمین پر آپ کے سوا سارے گویا کافر اور اللہ و رسول کے دشمن بستے ہیں!
یہ محض آپ تقلیدی خوف ہے ، کہ کوئی آپ کو ’’ اللہ و رسول کے دشمن ‘‘ کہنا چاہتا ہے ،
ہماری دعوت ہے کہ تقلید کے اندھے خول سے نکل کر قرآن و سنت کی پیروی اپنانی چاہئے ،
مسلک و فرقہ کی دعوت ہمارا راستہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــ۔
اور سواد اعظم سے مراد اگر بدعات میں لتھڑا ہوا ہجوم ہے،تو ہر صاحب ایمان جانتا ہے :کہ اس بڑے ہجوم کی بدعات کی تردید عین اسلام ہے ،
اور بدعات کے دفاع میں احادیث نبویہ کا مذاق اڑانے والوں کیلئے ہم ان شاء اللہ ۔یہ فرمان نبوی پیش کرتے رہیں گے :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ:
کُلُّ أُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَی [بخاری رقم 7280]۔
''میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا'' صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا کہ: '' جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا''۔ [بخاری رقم 7280]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کوئی ’’ وقت ضائع ‘‘ کرنا کہتا ہے ،تو یہ اسکی محرومی ہے ۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
جناب کی معلومات کی رسائی اسی قدر کہ :بس ’’ بجرگوں ۔۔سے سن رکھا ہے کہ امام ابن حزم ظاہری کا ’’ مذہب دنیا میں نہیں چل سکا ،اور اندھے مقلدین کی مارکیٹ میں بھر مار ہے ۔
ہوشیار میاں! میں کوئی سنی سنائی سنا رہا ہوں، ذرا اپنے بزرگوں سے تحقیق تو کرلو یا خود ہی تحقیق کرلو کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ کو حرب و کرب میں خصوصی طور پر بلایا جاتا ہے بلکہ آپ کی باقاعدہ دہائی دی جاتی ہے۔ ؛-) میں تو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ آپ لوگ اپنی عقل خام کو کام میں نہیں لاتے اس لئے آفتاب کیلئے بھی دلائل کے انبار مانگتے ہیں۔بانهم قوم لا يفقهون۔ آج مسلک ظاہری کا پتہ ذرا آپ دکھائیے،کہاں پر ہے؟ ہاں اگر آپ خود ہی اہل ظاہر ہیں تو صاد، بات آسان ہوجائے گی۔ لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنی طرف منسوب نہ کرنا ورنہ مزید سبکی ہو جائے گی۔ شیعہ بھی ہمارے بزرگوں کو "اپنا" کہتے ہیں، ان کے سارے ائمہ (سوائے غیر موجود امام غائب کے) اہل سنت ہیں اور کسی بھی مشہور و معروف اہل سنت کو اپنا دکھانا شیعہ کی مشہور صفت ہے۔ اسی سے وہ عوام میں اپنے مسلک کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ آپ نے بھی شیعہ کی یہ سنت مستعار لیکر عار لیا ہے۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
بھائی ۔۔ابن حزم رحمہ اللہ نے کب کسی جدید مذہب کی بنیاد رکھی ۔۔اور اس کی دعوت دی ۔ ؟؟
تو میں نے کب کہا! میں نے تو کہا امام داود کے پرانے مذہب کو زندہ کرنا چاہا پر ان کی سعی نامشکور ہی رہی!!
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
"یہ محض آپ تقلیدی خوف ہے ، کہ کوئی آپ کو ’’ اللہ و رسول کے دشمن ‘‘ کہنا چاہتا ہے "،
معاف کیجیئے! یہ "تقلیدی" نہیں بلکہ "تنقیدی" خوف ہے اور اس خوف بلکہ دہشت کو پھیلانے والے "دہشت گرد" آپ ہی کے اندر پناہ گزین ہیں۔ آپ کا طرز تخاطب اس کی صاف چغلی کھاتا ہے باقی آپ کی متمسک جو آیات و احادیث ہیں ان کا مصداق کفار و مشرکین ہیں تو آپ کا مقلدین پر ان کو فٹ کرنا اس کی سلطانی گواہ ہے کہ آپ باقی اہل اسلام سے بیزار ہیں۔
----
"ہماری دعوت ہے کہ تقلید کے اندھے خول سے نکل کر قرآن و سنت کی پیروی اپنانی چاہئے ،"
اندھی تقلید کا شکار تو آپ خود ہی ہیں! جو باتیں آپ کے اندر گردش میں ہیں بس وہی آپ کا مذہب ہیں اور اسی کو لیکر ہر ایک بھانت کی بھانت کی بولیاں بول کر اسے اچھالتا رہتا ہے اور کسی کو تحقیق کی توفیق نہیں ہوتی۔ پھر کوئی بات کسی نے تحقیق سے غلط ثابت کردی تو اگر کوئی جواب سوجھا تو خیر ورنہ یہ "ملا دوپیازی" نسخہ تو ہر وقت بڑا کار آمد اور تیر بہدف ہوتا ہے "ہم کسی کے مقلد نہیں"! اسی لئے تو آپ کا مذہب تحسبهم جميعا و قلوبهم شتى کی بہترین تصویر ہے۔ آپ کے اس چھوٹے سے فرقے میں کتنے ذیلی فرقے ہیں جن کا سوائے آپس میں افتراق رکھنے اور امت میں اسے پھیلانےکے اور کسی چیز پر اتفاق نہیں!! حالانکہ ہر ایک "اہل حدیث" ہونے کا مدعی ہے اور قرآن و حدیث پر سب کا نام کی حد تک اتفاق ہے تو پھر یہ اتنا سخت اختلاف کیوں؟؟ کیا یہ بعینہ شیعوں کے اندرونی انتشار کے مثل نہیں جو ہے تو برائے نام ایک فرقہ مگر دراصل مجموعہ ہے ہزاروں مختلف الخیال چھوٹے فرقوں کا۔
نواب صاحب کے بقول تو سلف میں ہر ایک مقلد تھا! فلا تجد احدا من الائمة الا و هو مقلد من هو اعلم منه في بعض الاحكام۔ [الجنة، ص 68]
------
"مسلک و فرقہ کی دعوت ہمارا راستہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
کاش! آپ کا اس پر عمل بھی ہوتا۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
سوال:

کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حنفی یا شافعی ہونے کا حکم دیا ہے؟


جواب:

ہر گز نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

(دیکھئے سورہ آل عمران آیت: 32)

ملا علی قاری حنفی (1014ھ)فرماتے ہیں:

"یہ معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ نے کسی کو حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی ہونے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس پر مجبور کیا ہے کہ اگر وہ عالم ہوں تو کتاب و سنت پر عمل کریں اور اگر جاہل ہوں تو علماء کی تقلید کریں (یعنی مقلد جاہل ہوتا ہے)۔"


(شرح عین العلم و زین الحلم ج 1 ص 446)

تنیبہ:

ملا علی قاری نے یہاں "تقلید کریں" کا لفظ غلط استعمال کیا ہے۔ مسئلے پوچھنا اور ان پر عمل کرنا تقلید نہیں کہلاتا بلکہ اتباع و اقتداء کہلاتا ہے۔ لہٰذا صحیح الفاظ درج ذیل ہیں:
"اور اگر جاہل ہوں تو علماء کی اتباع کریں۔"
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
سوال:

کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حنفی یا شافعی ہونے کا حکم دیا ہے؟


جواب:

ہر گز نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

(دیکھئے سورہ آل عمران آیت: 32)

ملا علی قاری حنفی (1014ھ)فرماتے ہیں:

"یہ معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ نے کسی کو حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی ہونے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس پر مجبور کیا ہے کہ اگر وہ عالم ہوں تو کتاب و سنت پر عمل کریں اور اگر جاہل ہوں تو علماء کی تقلید کریں (یعنی مقلد جاہل ہوتا ہے)۔"


(شرح عین العلم و زین الحلم ج 1 ص 446)

تنیبہ:

ملا علی قاری نے یہاں "تقلید کریں" کا لفظ غلط استعمال کیا ہے۔ مسئلے پوچھنا اور ان پر عمل کرنا تقلید نہیں کہلاتا بلکہ اتباع و اقتداء کہلاتا ہے۔ لہٰذا صحیح الفاظ درج ذیل ہیں:
"اور اگر جاہل ہوں تو علماء کی اتباع کریں۔"
مجتہد صاحب! اگر آپ اتنے ہی سمجھدار تھے تو پھر ملا علی قاری کا حوالہ نقل کرنے کی آپ کو کیا ضرورت درپیش تھی کہ الٹا انہی پر برس پڑے! :-))) آپ نے تو خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی رسید کی۔ یعنی ان کی باقی بات درست تھی لیکن شومئ قسمت سے انہوں نے نام غلط استعمال کیا ہے۔ قاری صاحب کو کیا پتہ تھا کہ ان کے قارئین غیر مقلدین بھی ہوسکتے ہیں ورنہ وہ بیچارےکبھی "اتباع" کی جگہ " تقلید" کا لفظ لکھنے کی غلطی نہ کرتے۔ ویسے یہ اب بھی کوئی مشکل کام نہیں، آپ تو ویسے بھی متون میں "تصحیح" کرتے رہتے ہیں، آئندہ کسی ایڈیشن میں درستگی فرمالیں گے۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ ان اہل ظواہر کی تو حقیقت کی جگہ لفظ سے سروکار ہوتا ہے اور تقلید کا لفظ ان کی لغت میں نہیں!! یہ بات آپ کی بھلی تھی،، ایمان سے۔
ویسے مجتہد صاحب! دو تین سوال میرے بھی ذہن میں کھٹک رہے ہیں:
1۔ اللہ تعالی نے ہمیں کہاں پر "غیر مقلد" یا اگر آپ کو برا لگے "اہل حدیث" بننے پر مجبور کیا ہے؟؟؟
2۔ تقلید اور اتباع (اقتداء) میں اصولی طور پر کیا فرق ہے؟ اور کیا یہ فرق آپ قرآن و حدیث سے دکھا سکیں گے؟؟؟ اچھا میں ذرا نرمی کروں، کیا اصول کی کتابوں سے آپ مجھے دکھا سکتے ہیں؟
3۔ مجتہدین عظام کی پیروی اتباع (اقتداء) ہے یا تقلید؟ قرآن و حدیث سے ورنہ اصول کی کتابوں سے اپنا موقف ثابت کریں۔
اگر آپ اس سے عاجز ہیں تو بھی صاف بتا دیجئے۔
 
Top