• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اطاعت لغیر اللہ تکفیر کی بنیاد ہے۔

شمولیت
فروری 07، 2013
پیغامات
453
ری ایکشن اسکور
924
پوائنٹ
26
اطاعت لغیر اللہ تکفیر کی بنیاد ہے۔


اس بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یہ جو لوگوں نے احبار ورھبان کو رب بنالیا تھا تو یہ انہوں نے تحلیل وتحریم میں ان کی اطاعت کی تھی اس کی دو قسمیں تھیں :

1 انہیں معلوم تھا کہ ان علماء نے دین تبدیل کردیا ہے اس کے باوجود ان کی پیروی کی اور وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرنے اور حلال کردہ کو حرام کرنے (کے جواز)عقیدہ رکھتے تھے صرف اپنے زعماء ورؤساء کی اتباع میں حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ علماء وزعماء رسولوں کے دین کی مخالفت کررہے ہیں تو یہ عمل کفر ہے اللہ ورسول ﷺنے اسے شرک کہا ہے اگرچہ وہ لوگ ان زعماء وعلماء کے آگے سجدہ نہیں کرتے تھے نہ ہی ان کے لیے نمازیں پڑھتے تھے لہٰذا اگر کسی کومعلوم ہو کہ فلاں شخص اللہ ورسول ﷺکی مخالفت کررہا ہے اور پھر بھی اس کی اتباع کرتاہوتو یہ مشرک ہے جس طرح یہود مشرک قرار پاتے تھے ۔
2 وہ لوگ تھے جنہیں معلوم تھا کہ تحلیل وتحریم گناہ ہے غلط ہے مگر پھر بھی زعماء وعلماء کی پیروی کرلی تو یہ گناہ گار ہیں جیسا کہ بعض مسلمان یہ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے کہ فلاں کام گناہ ہے پھر بھی کرلیتے ہیں تو یہ گناہ گار شمار ہوتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی تھے (جو تحلیل وتحریم کو اعتقادًا جائز نہیں سمجھتے تھے۔(مجموع الفتاوی:۷/۷۰))
 

بنت حوا

مبتدی
شمولیت
مارچ 09، 2013
پیغامات
95
ری ایکشن اسکور
246
پوائنٹ
0
اطاعت لغیر اللہ تکفیر کی بنیاد ہے۔

اس بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یہ جو لوگوں نے احبار ورھبان کو رب بنالیا تھا تو یہ انہوں نے تحلیل وتحریم میں ان کی اطاعت کی تھی اس کی دو قسمیں تھیں :

1 انہیں معلوم تھا کہ ان علماء نے دین تبدیل کردیا ہے اس کے باوجود ان کی پیروی کی اور وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرنے اور حلال کردہ کو حرام کرنے (کے جواز)عقیدہ رکھتے تھے صرف اپنے زعماء ورؤساء کی اتباع میں حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ علماء وزعماء رسولوں کے دین کی مخالفت کررہے ہیں تو یہ عمل کفر ہے اللہ ورسول ﷺنے اسے شرک کہا ہے اگرچہ وہ لوگ ان زعماء وعلماء کے آگے سجدہ نہیں کرتے تھے نہ ہی ان کے لیے نمازیں پڑھتے تھے لہٰذا اگر کسی کومعلوم ہو کہ فلاں شخص اللہ ورسول ﷺکی مخالفت کررہا ہے اور پھر بھی اس کی اتباع کرتاہوتو یہ مشرک ہے جس طرح یہود مشرک قرار پاتے تھے ۔
2 وہ لوگ تھے جنہیں معلوم تھا کہ تحلیل وتحریم گناہ ہے غلط ہے مگر پھر بھی زعماء وعلماء کی پیروی کرلی تو یہ گناہ گار ہیں جیسا کہ بعض مسلمان یہ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے کہ فلاں کام گناہ ہے پھر بھی کرلیتے ہیں تو یہ گناہ گار شمار ہوتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی تھے (جو تحلیل وتحریم کو اعتقادًا جائز نہیں سمجھتے تھے۔(مجموع الفتاوی:۷/۷۰))
سمیر بھائی یہ تو آپ نے عام لوگوں کا بیان ذکر کر دیا۔لیکن جو عالم ہیں؟جنہیں پتہ ہے کہ قرآن و حدیث میں یہ مسئلہ اس طرح نہیں جس طرح ہماری فقہ میں بیان ہے۔مثلا:انور شاہ کشمیری جو ٢٠ سال تک یہی سوچتا رہا کہ حدیث تو ٹھیک ہے،لیکن ہماری فقہ کے مطابق نہیں ہے،اب اس کی تاویل کیسے کی جائے؟یا اس کے علاوہ باقی علماء،جو ١٠،١٠ سال مدرسوں میں گذارتے ہیں۔
اور دس سال مدرسے میں گذارنے کے بعد بھی صحیح حدیث کی بجائے فقہ کو اہمیت دیتے ہیں۔اورتحلیل اور تحریم میں غیر اللہ(امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ) کی فقہ کی اطاعت کرتے ہیں۔
آخر ان کو تو کافر ہی ہونا چاہئے نہ۔۔۔
اب اتنے مسلمان بھی اچھے نہیں ہوتے۔۔کچھ کو تو مرتد ہونا ہی چاہئے۔۔۔کیا خیال ہے سمیر خان؟؟
 
شمولیت
فروری 07، 2013
پیغامات
453
ری ایکشن اسکور
924
پوائنٹ
26
دیوبندیوں کی اطالعت لغیر اللہ کے بارے کیا کہنا ہے موصوف کا؟
جب انسان صحیح بات کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے۔ تو اسی طرح کے سوال کرتا ہے۔جس طرح کا سوال القول السدید نے کیا ہے۔ لیکن القول السدید کو شاید یہ معلوم نہیں کہ قرآن مجید نے صحیح بات کے مقابلے میں اس قسم کے سوالات کو فرعونی طریقے سے تعبیر کیا ہے۔ یاد کرو جب فرعون موسیٰ علیہ السلام کے دلائل سے عاجز ہوگیا تو اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کیا سوال کیا تھا؟؟؟؟ کچھ یاد ہے القول السدید؟؟؟ میں آپ کو بتاتا ہوںسنیں:
فما بال القرون الأولى (سورة طه)
موسیٰ علیہ السلام زبردست جواب کے ساتھ فرعون کو لاجواب کردیا:
قال علمها عند ربي في كتاب لا يضل ربي ولا ينسى

( قال فما بال القرون الأولى ( 51 ) قال علمها عند ربي في كتاب لا يضل ربي ولا ينسى ( 52 ) الذي جعل لكم الأرض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وأنزل من السماء ماء فأخرجنا به أزواجا من نبات شتى ( 53 ) )

( قال ) فرعون : ( فما بال القرون الأولى ) ومعنى " البال " : الحال ، أي : ما حال القرون الماضية والأمم الخالية ، مثل قوم نوح وعاد وثمود فيما تدعونني إليه فإنها كانت تعبد الأوثان وتنكر البعث؟ . ( قال ) موسى : ( علمها عند ربي ) أي : أعمالهم محفوظة عند الله يجازي بها .

وقيل : إنما رد موسى علم ذلك إلى الله لأنه لم يعلم ذلك ، فإن التوراة أنزلت بعد هلاك فرعون وقومه .

( في كتاب ) يعني : في اللوح المحفوظ ، ( لا يضل ربي ) أي : لا يخطئ . وقيل : لا يضل عنه شيء ولا يغيب عن شيء ، ( ولا ينسى ) [ أي : لا يخطئ ] ما كان من أمرهم حتى يجازيهم بأعمالهم . وقيل : لا ينسى أي : لا يترك ، فينتقم من الكافر ويجازي المؤمن
.
 

بنت حوا

مبتدی
شمولیت
مارچ 09، 2013
پیغامات
95
ری ایکشن اسکور
246
پوائنٹ
0
جب انسان صحیح بات کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے۔ تو اسی طرح کے سوال کرتا ہے۔جس طرح کا سوال القول السدید نے کیا ہے۔ لیکن القول السدید کو شاید یہ معلوم نہیں کہ قرآن مجید نے صحیح بات کے مقابلے میں اس قسم کے سوالات کو فرعونی طریقے سے تعبیر کیا ہے۔ یاد کرو جب فرعون موسیٰ علیہ السلام کے دلائل سے عاجز ہوگیا تو اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کیا سوال کیا تھا؟؟؟؟ کچھ یاد ہے القول السدید؟؟؟ میں آپ کو بتاتا ہوںسنیں:
سوال گندم جواب چنا
سمیر خان
بات اصول کی ہو رہی ہے جو آپنے پیش فرمائے۔اب انہی اصولوں میں کی زد میں آنے سے اپنی مرضی کے افراد کو بچا لیں اور اپنی مرضی کے افراد کو اس کی زد میں لے آئیں ۔۔یہ تو کوئی انصآف کی بات نہیں۔
سوال میرا بھی یہی تھا،اور القول السدید کا بھی یہی ہے۔
تم صاف کہہ دو کہ دیوبندی بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔اس کے بعد باقی گفتگو۔۔۔موضوع سے دور نہیں جائے گی۔ان شاء اللہ
 
شمولیت
فروری 07، 2013
پیغامات
453
ری ایکشن اسکور
924
پوائنٹ
26
بنت حوا کا اس فورم پر ایک ہی مسئلہ ہے۔اور وہ مسئلہ ہے کہ دیوبندیوں اور حنفیوں کو ان تحاریر کی روشنی میں کافر اور مشرک قرار دے دو بس! تو بنت حوا کو چین آجائے گا۔یہ تمام اقوال جن علماء کی کتابوں سے پیش کیے گئے ہیں ۔ان میں عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی غیر کی اطاعت کرے یا اللہ کے قانون کے علاوہ کسی غیر کے قانون سے فیصلہ کرے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے علاوہ کسی اور کی اسی طرح اطاعت کرے جیسی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتا ہے۔یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہو۔کسی اور کے فیصلے پر راضی ہو۔ان تحاریر میں ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر علماء سلف نے یہ بیان کیا کہ یہ کفر اور شرک ہے۔حنفی مسلک ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ سے قبل ہی وجود میں آچکا تھا۔ لیکن کیا ان آئمہ نے اپنی کسی تحریر میں یہ بیان کیا کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کی روشنی میں حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی کافر اور مشرک قرار پاتے ہیں۔ایسی جہالت کا علماءِ سلف میں کوئی قائل نہیں ہے۔حیرت کی بات ہے کہ موصوفہ چاہتی ہیں کہ ان تحاریر کی روشنی میں دیوبندیوں کو کافر قرار دے دیا جائے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
اب کوئی انصاف کی بات کرے کہ جو لوگ موصوفہ کے ان پوسٹوں پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسارہے ہیں وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے ہم اپنے پوسٹوں میں دیوبندیوں کو کافر اور مشرک قرار دے دیں تاکہ یہ خوشی سے اچھل پڑیں۔اب اگر کوئی شخص قرآن مجید کی اس آیت کو یہاں فورم پر بیان کرے: ان الشرک لظلم عظیم ۔تو کیا اس شخص سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ اس آیت کی روشنی میں دیوبندیوں کو کافر اور مشرک قرار دو؟ عجیب صورتحال ہے ان لوگوں کی کہ ان کی یہ خواہش ہے کہ کسی طریقے احناف کی تکفیر کردو۔تو یہ خوشی سے جھوم اٹھیں گے ۔ اور آپ کو پکا سلفی قرار دے دیں گے۔لیکن اگر آپ نے کہیں پرویزمشرف ، کیانی، گیلانی ، زرداری ،راجہ اشرف وغیرہ کو طواغیت اور کافر قرار دے دیا تو۔ تو یہ لوگ آپ کا اس فورم پر جینا حرام کردیں گے۔ اور آپ کو پکا تکفیری قرار دے کر آپ کے پوسٹوں کو ماڈریٹ کرنا شروع کردیں گے۔
ہم موصوفہ کو کہتے ہیں کہ جو طریقہ آپ نے اپنے طاغوتی حکمرانوں کو بچانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ نہایت ہی بھونڈا طریقہ ہے۔ دیرپا نہیں ہے۔ بہت جلد اس کے اثرات مٹ جائیں گے۔ موصوفہ چاہتی ہیں کہ تمام پوسٹوں کا رخ عصر ھاضر کے طواغیت کے بجائے۔ فقہی مسالک کی طرف موڑ دیا جائے ۔ اور ان عصر حاضر کے ان طواغیت کو ان پوسٹوں کی زد میں آنے سے بچایا جائے۔
ہم موصوفہ کو کہتے ہیں کہ اگر آپ ان تحاریر کی روشنی میں کسی کو کافر اور مشرک قرار دینا چاہتی ہیں تو اس کام کی ابتداء خود کریں ۔ اور اپنے پوسٹوں میں دھڑلے سے کسی کی بھی تکفیر کریں۔ہم نے تو بات کو اسی طرح سے پیش کیا ہے جس طرح سے علماء سلف نے اپنی کتابوں میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کسی مسلک ، کسی فقہی مسلک ، کی تکفیر اور تسفیق کے بجائے قرآن وسنت سے ثابت شدہ اصول بیان کردیے ہیں ۔ اب ان کی زد میں چاہے دیوبندی آئے یا اہل حدیث آئے۔اس کی نہ ان ان علماء کو پرواہ تھی نہ ہی ہمیں ہے۔ کیونکہ حق بات بیان کرنا واجب ہے۔
لہٰذا اصولوں پر بحث کرنے کی بجائے اس بات پر سارا زور صرف کردینا کہ کیا ان اقوال کی روشنی میں حنفی اور دیوبندی کافر نہیں ہیں۔ تو ایسا نہ تو سلف سے ثابت ہے اور نہ ہی ہم اس جہالت کے قائل ہیں۔ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے پوسٹوں میں پیش کیے جانے والے اقوال عام ہیں۔چاہے ان کی زد میں اہل حدیث آئے یا شافعی آئے ۔
 
شمولیت
جنوری 19، 2013
پیغامات
301
ری ایکشن اسکور
571
پوائنٹ
86
سمیر صاحب آپ نے قسم اٹھائی ہے کہ اھلحدیثوں کو ہی مشرک ثابت کرنا ہے دیوبندیوں کے بارے میں تو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے
 
شمولیت
جنوری 19، 2013
پیغامات
301
ری ایکشن اسکور
571
پوائنٹ
86
سمیر صاحب ہم یہ نھیں کہتے کہ دیوبندیوں کو کافر کہو ۔لیکن آپ کو چونکہ دیوبندیوں کے علاوہ سب مشرک نظر آتے ہیں
 
شمولیت
فروری 07، 2013
پیغامات
453
ری ایکشن اسکور
924
پوائنٹ
26
ہم اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ایسی باتوں سے کہ اہل حدیثوں اور دیوبندیوں کو کافر کہیں

سمیر صاحب آپ نے قسم اٹھائی ہے کہ اھلحدیثوں کو ہی مشرک ثابت کرنا ہے دیوبندیوں کے بارے میں تو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے
ہم اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ایسی باتوں سے کہ اہل حدیثوں اور دیوبندیوں کو کافر کہیں
 
شمولیت
جنوری 19، 2013
پیغامات
301
ری ایکشن اسکور
571
پوائنٹ
86
بھائی جان آپ کی یہ بات بہت اچھی لگی ۔لیکن آپ کے فتووں کی روشنی میں جو کے محدث فورم پر موجود ہیں کوئی مسلماں بچتا ہی نہیں ۔
 
Top