1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعمال صالحہ کب قبول ہوتے ہیں؟

'خیر وشر' میں موضوعات آغاز کردہ از موحد آدمی, ‏اکتوبر 17، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 17، 2012 #1
    موحد آدمی

    موحد آدمی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 11، 2012
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    81
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​


    کوئی بھی عمل اس وقت تک عبادت نہیں بنتاجب تک کہ اس میں دوچیزیں نہ پائی جائیں ۔

    اوروہ دوچیزیں یہ ہےکہ کمال محبت اورکمال تذلل ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے:
    اوراللہ تبارک وتعالی نےارشادفرمایاہے:
    اوراللہ تعالی نےاپنےاس فرمان میں اسےجمع کردیاہے:

    توجب اس چیزکاعلم ہوگیاتویہ بھی علم ہوناچاہئےکہ عبادت صرف موحدمسلمان کی ہی قبول ہوتی ہے ۔


    جیساکہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے:
    عائشہ رضی اللہ تعالی عنہابیان کرتی ہیں کہ
    یعنی وہ بعث ونشورپراورقیامت پرایمان نہیں رکھتاتھااورنہ ہی وہ اس لئےعمل کرتا رہا کہ وہ اللہ تعالی کےسامنے پیش ہوگا ۔

    پھریہ کہ مسلمان کی عبادت اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں بنیادی طورپردوشرطیں نہ ہوں ۔

    اول : اللہ تعالی کےلئےاخلاص نیت :

    وہ اس طرح کہ بندےکےسارےاقوال وافعال اوراعمال ظاہری اورباطنی سب کےسب اللہ تعالی کی رضااورخوشنودی کےلئےہوں کسی اورکےلئےنہیں ۔

    دوم : عبادت اس طریقےاورشریعت کےمطابق ہوجس کااللہ تعالی نےحکم دیاہے ۔

    اوروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمتابعت اورپیروی واتباع سےہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجوکہاہےوہ کیاجائےاورجس سےروکاہےاس سےرکاجائےاوران کی مخالفت نہ کی جائےاورنہ ہی کوئی ایسی نئی عبادت یاطریقہ ایجادکرلیاجائےجوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت نہیں ۔

    اوران دونوں شرطوں کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے:
    ابن کثیررحمہ اللہ تعالی کاقول ہے:
    لہذا قبول عمل کےیہ دوضروری ارکان ہیں کہ وہ اللہ تعالی کےلئےخالص اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کےمطابق ہوناچاہئے ۔ا

    واللہ اعلم .

    بشکریہ: اسلام قیو اے۔انفو

    شیخ محمد صالح المنجد
     
  2. ‏اکتوبر 18، 2012 #2
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    جزاک اللہ خیرا
    کہیں پڑھا تھا کہ ایک تیسری چیز بھی ضروری ہے اور وہ ہے اکل حلال۔
     
  3. ‏اکتوبر 18، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله :" إن الله تعالى طيب لا يقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال تعالى: يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً [المؤمنون]، وقال تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ [البقرة:]، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يده إلى السماء: يا رب ! يا رب ! ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب له ؟رواه مسلم [ رقم : 1015 ]
     
  4. ‏اکتوبر 19، 2012 #4
    موحد آدمی

    موحد آدمی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 11، 2012
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    81
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جزاک اللہ خیرا بھائیو۔
    میرا ایک سوال ہے؟
    کیا یہ تیسری چیز جو آپ نے یہاں ذکر کی ، یہ شرط ہے یا کہ دوسری شرط کی شق؟
    وضاحت فرما دیں۔
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏اکتوبر 19، 2012 #5
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔۔۔۔
    مفید معلومات شیئر کی ہیں۔۔۔ ویسے میری ناقص رائے میں اکل حلال کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں ہیں جن کی وجہ سے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔۔۔۔ لیکن کیا وہ سب صورتیں شرائط کہلائیں گی، یہ واقعی ہی قابل غور نقطہ ہے۔۔
    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں