• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل

ابن بشیر الحسینوی

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
1,098
ری ایکشن اسکور
4,469
پوائنٹ
376
الحمدللہ اس مبارک کتاب طبع دوم ، حتمی ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے جس کو دار ابن بشیر نے مکتبہ بیت السلام کی مشارکت سے شائع کیا ہے ۔
بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کی خدمت افضل ترین عبادات و اعمال میں سے ایک ہے، شروع سے لیکر اب تک مختلف انداز سے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے رہے ہیں، عصرِ حاضر میں بھی یہ سلسلہ زور وشور سے جاری ہے، کسی بھی مصنف و مؤلف کی بہت بڑی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا نام قرآن وحدیث کے خدمتگاروں میں آجائے، شیخ ضیاء الرحمن الاعظمی جنہوں نے ایک غیر مسلم خاندان میں آنکھ کھولی، اللہ تعالی نے بعد میں نورِ اسلام سے منور کیا، اور مزید یہ کہ شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تعلیم وتعلیم کے لیے چن لیا، عرصہ دراز تک عالم اسلام کی مایہ ناز یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ میں استاذِ حدیث کے طور پر مقرر رہے، بلکہ کلیۃ الحدیث کے لیے بطور ’عمید‘ یعنی ہیڈ اور ڈین کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں، جبکہ مسجدِ نبوی میں درسِ حدیث کا سلسلہ تو آج بھی جاری و ساری ہے، اللہ تعالی شیخ کے علم وفضل اور عمر میں برکت عطا فرمائے۔
اللہ تعالی نے اتنی عظمتوں سے سعادتوں سے نوازا تو شیخ نے بھی دنیا سے منہ موڑ کر خدمتِ حدیث کو ہی شب وروز کی مصروفیت بنالیا، ’الجامع الکامل‘ کے نام سے عظیم الشان حدیث انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا، جس کا پہلا ایڈیشن ہاتھ و ہاتھ نکل گیا، حالانکہ پہلے ایڈیشن میں شیخ نے یہ صراحت کی ہوئی تھی کہ یہ اس کا ابتدائی نسخہ ہے، آئندہ ایڈیشن میں کئی ایک اصلاحات کی جائیں گی، عزم وہمت جوان ہو تو اللہ تعالی رستے کھول دیتا ہے، چند ہی سالوں میں اس کا دوسرا ایڈیشن بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکا ہے۔ الحمدللہ۔
کتاب کے اس نئے ایڈیشن میں درج ذیل خوبیاں موجود ہیں:
1.مصنف نے انتھک محنت وکوشش کے بعد یہ دعوی کیا ہے کہ اس میں تمام صحیح احادیث کو جمع کردیا گیا ہے۔
2. کتاب میں 67 کتب(مرکزی عناوین )، 5605 ابواب (ذیلی عناوین) اور 16546صحیح احادیث ہیں۔19 جلدوں پر مشتمل صفحات کی تعداد 14736ہے ۔جبکہ پہلی طبع 12 جلدوں میں تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نئے ایڈیشنز میں کس قدر اضافہ جات ہوں گے۔
3.ہر باب کے اخیر میں ضعیف روایات کی نشاندہی نیز ہر حدیث کی محدثانہ انداز میں تحقیق کی گئی ہے۔
4.اس ایڈیشن میں ترقیم موجود ہے، اور مصنف کے مطابق یہ کتاب کا حتمی وقابل اعتماد ایڈیشن ہے۔
5.جاپانی کریم کاغذ اورمضبوط جلد کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ناشر:دار ابن بشیر للنشر والتوزیع
0092 3024056187
كتاب كی رعایتی قیمت 20 ہزار روپے پاکستانی ہے، جبکہ اصحاب الخیر اس ’کارِ خیر‘ میں شریک ہوں تو ناشر اسے اہل علم میں فری تقسیم کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ ویسے کتاب سے محبت و عشق کی کہانی بھی عجب ہے،فری میں تقسیم کرنی ہو تو علم کے شائقین شمار سے باہر، ہر بندہ ابن تیمیہ، لیکن اگر کسی کتاب کو چھپوانے یا نشر کرنے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہو، تو بات کرکے دیکھیں ’ہُو‘ کا عالم ہوگا، گویا آپ نے ابو جہل کی بستی میں علم کی بات شروع کردی ہے۔ اس زمانے میں بھی اگر کچھ نہ کچھ لکھا جارہا، اور چھپ رہا ہے، تو یہ غنیمت سمجھیے۔ اللہ ایسے لوگوں کو توفیق دیتا رہے۔ الجامع الکامل جیسی کتابیں روز روز نہیں لکھی جاتیں، اگر ہمارے زمانے میں ایسی مبارک کوششیں کاوشیں کرنے والے موجود ہیں، تو ہمیں بھی ان عظیم الشان لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
میں جب یہ کتابیں دیکھتا ہوں، اور ان کی قیمت دیکھتا ہوں، اور دوسری طرف لاکھوں کروڑوں کی مجالس ومحافل منعقد ہوتے دیکھتا ہوں، تو فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ الجھن کدھر ہے؟ فنڈ دینے والوں میں؟ لینے والوں میں؟ یا علم وتحقیق کا بیڑھ اٹھانے والوں میں ؟ کہ عوام جو ایک گویے اور واعظ کو ایک گھنٹے کا پچاس ہزار دیتی ہے، وہ تصنیف وتحقیق کے لیے پندرہ بیس ہزار دینے کو تیار کیوں نہیں ہوتی؟ وہ جو ایک رات کے لیے لاکھوں کروڑں لگا کر جلسہ منعقد کرتے ہیں، وہ کسی ایک کتاب کی نشر واشاعت کا بجٹ اٹھانے سے کیوں گھبراتے ہیں؟
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,104
پوائنٹ
412
اس زمانے میں بھی اگر کچھ نہ کچھ لکھا جارہا، اور چھپ رہا ہے، تو یہ غنیمت سمجھیے۔
میں تو اس لئے پریشان رہتا ہوں کہ ہمارے ہندستان میں عربی کتابیں ملتی ہی نہیں ہیں۔ کچھ مکتبات فروخت کرتے بھی ہیں تو دار الفکر اور دار الکتب العلمیۃ جیسی طبعات کو فروخت کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم تو یہ کہ منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں۔ کم از کم تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تخصص حدیث کا طالب علم ہونے کے باوجود کتب حدیثیہ اور کتب رجال کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی۔
 
Top