• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الطاف خود کو پولیس کے حوالے کر دیں، لارڈ نذیر

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,421
پوائنٹ
521
الطاف خود کو پولیس کے حوالے کر دیں، لارڈ نذیر

لندن : برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں خو د کو پولیس کے حوالے کر دیں تاکہ ان پر لگے جانے والے الزامات کی حقیقت معلوم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی پولیس اور حکومت کے خلاف بیان بازی کر کے الطاف حسین اپنے مقاصد پورے نہیں کرسکتے، انہیں عمران فاروق اور منی لانڈرنگ کیس میں پولیس سے تعاون کرنا چاہیے۔

اپنے ایک انٹرویو میں لارڈ نذیر احمد نے بتایا کہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف ٹھوس شواہد برطانوی پولیس کے حوالے کردیےہیں۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین صاف وشفاف ہیں جس کا وہ اکثر اظہار کرتے ہیں تو پولیس کے پاس ازخود جانے میں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے،اس طرح وہ اپنا نام اور گھر کلیئر کراسکتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد کا گھیرا تنگ

انہوں نے دعوی کیا کہ الطاف حسین ثابت نہیں کرسکتے کہ لارڈ نذیر کو کوئی استعمال کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں ،سوچ سمجھ کر کرتا ہو ں،میں نے الطاف حسین کے خلاف کوئی بے بنیاد بات نہیں کی، ان کے خلاف پہلے مجھے عمران خان نے کراچی میں ہونے والے مختلف واقعات کی وڈیوز دکھائیں اور ان کے پاس 12 مئی کے حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود تھے۔

لارڈ نذیر نے کہاکہ بعد ازاں سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ان کے پاس آئے، ان کے پاس ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے ٹھوس ثبوت کی فائلیں موجود تھیں جس پر انہوں نے ان کے ہمراہ تفتیشی اداروں کو آگاہ کیا اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن پولیس کے ساتھ ایک میٹنگ اور ملاقات بھی کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمنوں کے خلاف کھڑا ہونا میری قانونی واخلاقی ذمہ داری ہے، کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف ہم برطانیہ میں آواز بلند کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔

لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ الطاف حسین کو برطانیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنی جان کے لیے پاکستان میں خطرہ محسوس کیا تو برطانیہ میں انہیں پناہ دی گئی اگر ان پرغلط الزامات لگیں گے تو وہ بغیر کسی فیس کے ان کا دفاع کریں گے۔

پاکستان کو لمحہ کی خبر

علاوہ ازیں برطانیہ میں پاکستانی وکلا کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ جو شخص برطانیہ میں پناہ گزین ہو اس کے مالی معاملات حکومت برطانیہ کی نظر میں رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین برطانوی حکومت کی نظر سےایک لمحہ کے لیے بھی اوجھل نہیں ہوئے، قانون کے مطابق اگر کوئی شخص نہ کوئی تجارت کرتا ہے اور نہ ہی ملازمت اور نہ ہی اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرتا ہے اور اس کی ایک سیاسی جماعت ہے اور پارٹی کے اکاﺅنٹس میں رقم بھی نظر نہیں آتی اور پھر اس کے گھر سے ایک بڑی رقم برآمد ہوجائے جس کی وہ وضاحت نہ کرسکے کہ یہ رقم اس کے پاس کیسے آئی تو برطانیہ کے منی لانڈرنگ قانون کے تحت لازمی کارروائی ہوتی ہے اور یہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی؟۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف حکومت پاکستان اور مختلف سیاسی جماعتو ں نے بڑے مضبوط ثبوت پہلے ہی فراہم کر رکھے ہیں جس میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، جنوبی افریقا کے راستے ناجائز رقم کا برطانیہ پہنچنا بھی شامل ہے ۔

امجد ملک کے مطابق ایسی رقوم غیر قانونی طریقے سے پہنچتی ہیں توایسی صورت میں نہ صرف رقم بلکہ جائیداد بھی ضبط ہوجاتی ہے اور اس مقدمے کے تمام اخراجات برطانوی قانون کے تحت مذکورہ جائیداد کو فروخت کر کے پورے کیے جاتے ہیں ،اس طرح کے مقدمات کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے لاکھوں پاﺅنڈ خرچ ہوتے ہیں اور یہ اخراجات ملزم کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا قانون انصاف کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے جس دن برطانیہ میں انصاف کا نظام ناکام ہو گیا، اس دن برطانیہ بھی ناکام ہو جائے گا ۔

امجد ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین نے برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا ہے، برطانوی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہوں نے ایک ہیجان انگیز تقریر کر کے الیکٹرانک میڈیا کو یرغمال بنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران فاروق کا قتل لندن میں ہوا ہے اس لیے اس کی تفتیش بھی لندن میں ہی ہوگی، برطانوی قونصل خانے پر مظاہرہ کر کے متحدہ نے برطانوی حکومت کو دھمکی دینے کی کوشش کی ۔

دی نیوز ٹرایب: Ubaid Mughal Jul 4th, 2013
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,421
پوائنٹ
521
الطاف سے متعلق بی بی سی کی دستاویزی فلم
لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ان دنوں ڈاکٹر عمران فاروق قتل، منی لانڈرنگ اور مخالفین کو دھمکی دینے جیسے معاملات میں برطانیہ میں جوابدہی کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور یہ معاملات میڈیا کا ہاٹ ایشو بنے ہوئے ہیں۔

دی نیوز ٹرائب کے ہم وطن ادارے (بی بی سی ٹو) نے اس حوالے سے ایک دستاویزی ویڈیو بھی تیار کی ہے جس میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منی لانڈرنگ، الطاف حسین کی جانب سے مخالفین کو قتل کی دھمکیوں جیسے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

دستاویزی ویڈیو میں لندن میٹرو پولیٹن کمشنر سر برنرڈ ہوگن ہووو کی 14 جنوری کی ایک تقریر دکھائی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کےحوالے سے پاکستانی اداروں نے دو افراد کو کراچی سے حراست میں لیا جنہوں نے برطانیہ بھی آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان افراد تک رسائی حاصل کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ عمران فاروق قتل کیس میں ہمیں اہم شواہد مل سکتے ہیں۔

ویڈیو میں الطاف حسین کا محل نما گھر بھی دکھایا گیا جہاں گزشتہ دنوں پولیس نے 55 گھنٹے تک تلاشی لی تھی اور وہاں سے نقد رقوم اور مختلف دستاویزات کو قبضے میں لے لیا تھا۔

دستاویزی فلم میں الطاف حسین کی وہ تقاریر بھی دکھائی گئیں جس میں انہوں نے بوری تیار کرنے کی بات کی، وہ ویڈیو بھی دکھائی گئیں جس میں انہوں نے مخالفین کو ٹھونکنے اور برطانوی حکومت کو دھمکی دی تھی۔

فلم میں برطانوی ٹیررازم بیرسٹر علی نسیم کو ان ویڈیو کا جائزہ لیتے اور تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا، انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ الطاف حسین نے مخالفین کو دھمکیاں دی ہیں۔

فلم میں ایم کیو ایم کے سابق رکن نعیم احمد کی گفتگو بھی دکھائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بالکل پرامن جماعت نہیں ، اس کے کئی مسلح گروہ کراچی میں کام کرتے ہیں، تشدد اس جماعت کی پہچان ہے، الطاف حسین اپنے مخالفین کو قتل کرانے کے احکامات براہ راست لندن سے ہی دیتے ہیں۔

فلم میں ایک سابق پاکستانی پولیس افسر کی گفتگو دکھائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے میرے قتل کے براہ راست احکامات جاری کئے جس کی وجہ سے مجھے ملک چھوڑنا پڑا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے 20 کے قریب پولیس کے ساتھی ایم کیو ایم کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں جتنے بھی مسلح افراد پکڑے جاتے ہیں ان میں 80 فیصد کا تعلق ایم کیو ایم سے ہوتا ہے، جو لوگ پکڑے جاتے ہیں وہ چھوٹ بھی جاتے ہیں کیونکہ عدالت ٹھوس ثبوت اور گواہی مانگتی ہے اور لوگ گواہی دینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ پھر وہ نہ خود محفوظ رہتے ہیں اور نہ ان کے اہل خانہ محفوظ رہتے ہیں۔

فلم میں الطاف حسین کے مزاحیہ ویڈیو اور ایک ٹی وی پروگرام میں انہیں خود کھانا پکاتے ہوئے دکھایا گیا۔

نمائندہ بی بی سی نے ان ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین گزشتہ دو دہائیوں سے لندن میں رہ رہے ہیں اور خود کو ایک لبرل اور اعتدال پسند لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن کراچی کے حالات کوئی اور کہانی بیان کرتے ہیں۔

فلم میں الطاف حسین کے اس خط کا بھی ذکر کیا گیا جو انہوں نے 2001ء میں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو لکھا جس میں انہوں نے دہشتگردی کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔

اس خط پر نیویارک ٹائم کے ایک تجزیہ کار کو تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کی شخصیت چونکہ متنازعہ تھی لٰہذا برطانوی حکومت نے اس خط کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی۔

ویڈیو میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا انٹرویو بھی دکھایا گیا جس میں ان سے الطاف حسین کے گھر سے نکلنے والی رقم اور غیر معمولی جائیداد کے کاغذات برآمد ہونے سے متعلق سوالات کئے گئے۔

سب سے پہلے فاروق ستار نے الطاف حسین کی وہ تقاریر جو انہیں دکھائی گئیں تھی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری ویڈیو سیاق وسباق سے ہٹ کر تیار کی گئی ہے اور یہ الطاف حسین کے خلاف عالمی میڈیا کے پروگرام کا حصہ ہے۔

الطاف حسین کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم پر فاروق ستار نے کہا کہ چونکہ اس معاملے پر ابھی انکوائری ہو رہی ہے لٰہذا ہمیں اور آپ کو اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہئے۔

Ubaid Mughal Jul 11th, 2013
 
Top