• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ کا ارادۂ کونیہ اور ارادۂ شرعیہ

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
اہل بیت کی فضیلت والے تھریڈ میں ارادہ کونیہ اور شرعیہ کی بحث شروع ہوگئی تھی، لہٰذا اسے نئے تھریڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ!

آپ اگر پوسٹ کو پڑھ لیتے تو یہ بےتکہ سوال نہ کرتے
یہ ہے دعویٰ

اہل بیت اطہار وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی گندگی کو دور کردیا ہے
لفظ طہارت سے کبھی اعمال خبیثہ کی آلودگی سے پاکی مقصود ہوتی ہے
اور اس کی دلیل یہ ہے
اے نبی کے اہل بیت اللہ تعالٰی یہی چاھتا ہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں پاک صاف کردے ۔ الاحزاب : 33
اولاً: صحت مند گفت وشنيد کرنے کيلئے شائستہ زبان کا استعمال بہت ضروری ہے۔

ثانياً: آپ کا دعویٰ يہ تھا کہ طہارت کی تين قسمیں ہيں اور اہل بيت تينوں قسموں کے اعتبار سے پاک ہيں۔

پھر جب آپ نے دلیل ذکر کی تو صرف دوسری قسم کی طہارت کی دلیل ذکر کی۔ اہل بیت کے حوالے سے پہلی اور تیسری قسم کی طہارت کی دلیل پیش ہی نہیں کی۔

اور اہل بیت کی دوسری قسم کی طہارت کی جو دلیل آپ نے پیش کی ہے وہ بھی اپنا مقصود ادا نہیں کر رہی۔
کیونکہ آیت کریمہ ﴿ إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ﴾ میں يريد سے مراد اللہ تعالیٰ کا ’ارادۂ شرعیہ‘ (یعنی ایک خواہش کا اظہار) ہے، ’ارادۂ کونیہ‘ (یعنی حتمی فیصلہ) نہیں ہے۔

اور ’ارادۂ شرعیہ‘ کیلئے لازمی نہیں کہ وہ پورا بھی ہو۔ مثلاً فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِ‌يدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا ٢٧ ﴾ ... سورة النساء
یعنی اے امت محمدیہ! اللہ تعالیٰ تو تم پر رجوع فرمانا چاہتے ہیں لیکن جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں (یعنی اہل کتاب: یہود ونصاریٰ) وہ تمہیں گمراہ کر دینا چاہتے ہیں۔

اب دیکھئے درج بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ارادۂ شرعیہ (اپنی ایک خوشی) ذکر کی ہے کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم سب کے گناہ معاف ہو جائیں اور تم سب صحیح راہ پر چلو لیکن تمہارے دشمن تمہیں گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔

اس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ ارادۂ شرعیہ کا پورا ہونا ضروری نہیں ہے۔

بہرام بھائی! اگر آپ کی دی ہوئی دلیل کو ہی تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری امت محمدیہ (بشمول فجار وفساق لوگوں کے) اہل بیت کی طرح پاک ہے کیونکہ فرمانِ باری ہے:

﴿ مَا يُرِ‌يدُ اللَّـهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَ‌جٍ وَلَـٰكِن يُرِ‌يدُ لِيُطَهِّرَ‌كُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ٦ ﴾ ۔۔۔ سورة المائدة

اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ آپ نے اپنے موقف کی دلیل پیش نہیں کی۔

اہل بیت کو پوری کائنات پر فضیلت حاصل ہے

یہ ہے اس کی دلیل
اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی اہل بیت کی اساس و بنیاد ہیں اسی وجہ سے
اہل بیت کو پوری کائنات پر فضیلت حاصل ہے
میرے عزیز بھائی! یہ بات مسلّم ہے کہ نبی کریمﷺ افضل البشر ہیں، سید الانبیاء والمرسلین ہیں۔ لیکن اسلام میں اصل اہمیت تقویٰ اور پرہیزگاری کی ہے نہ کہ رشتے داری کی۔ ﴿ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌ ١٣ ﴾ ... سورة الحجرات
اسی لئے لازمی نہیں کہ نبی کریمﷺ کے بعد سب سے افضل آپ کے اہل بیت ہی ہوں۔ (ویسے بھی نبی کریمﷺ کے اہل بیت میں کفار بھی شامل ہیں، مثلاً آپ کے چچا ابو لہب، ابو طالب وغیرہ)
البتہ اگر نبی کریمﷺ کے رشتے داروں میں کوئی مومن، متقی اور پرہیزگار بھی ہے تو اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے، لیکن علی الاطلاق اسے پوری امت پر فضیلت دینے کیلئے الگ دلیل کی ضرورت ہے۔

اسی لئے تمام مسلمانوں کا (شیعوں کو چھوڑ کر) اتفاق ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد امت محمدیہ میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر﷜، پھر سیدنا عمر﷜ اور پھر سیدنا عثمان﷜ ہیں۔
سیدنا ابن عمر﷜ سے مروی ہے: كنا نقولُ ورسولُ اللهِ ﷺ حَيٌّ : أفضلُ أمةِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم بعدَه: أبو بكرٍ، ثم عمرُ، ثم عثمانُ ۔۔۔ صحيح أبي داؤد

یہی موقف سیدنا علی﷜ کا بھی تھا کہ لہٰذا سیدنا محمد بن حنفیہ﷫ سے مروی ہے: قلت لأبي : أي الناس خير بعد رسول اللهِ ﷺ؟ قال: أبو بكر، قال: قلت: ثم من ؟ قال: ثم عمر، قال: ثم خشيت أن أقول : ثم من فيقول : عثمان . فقلت : ثم أنت يا أبة ؟ قال : ما أنا إلا رجل من المسلمين ۔۔۔ سنن أبي داؤد

امید ہے اب آپ بغیر پڑھے کوئی اعتراض نہیں فرمائیں گے
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرً‌ا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ١٢ ﴾ ۔۔۔ سورة الحجرات
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
اور اہل بیت کی دوسری قسم کی طہارت کی جو دلیل آپ نے پیش کی ہے وہ بھی اپنا مقصود ادا نہیں کر رہی۔
کیونکہ آیت کریمہ ﴿ إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ﴾ میں يريد سے مراد اللہ تعالیٰ کا ’ارادۂ شرعیہ‘ (یعنی ایک خواہش کا اظہار) ہے، ’ارادۂ کونیہ‘ (یعنی حتمی فیصلہ) نہیں ہے۔

اور ’ارادۂ شرعیہ‘ کیلئے لازمی نہیں کہ وہ پورا بھی ہو۔ مثلاً فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِ‌يدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا ٢٧ ﴾ ... سورة النساء
یعنی اے امت محمدیہ! اللہ تعالیٰ تو تم پر رجوع فرمانا چاہتے ہیں لیکن جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں (یعنی اہل کتاب: یہود ونصاریٰ) وہ تمہیں گمراہ کر دینا چاہتے ہیں۔

اب دیکھئے درج بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ارادۂ شرعیہ (اپنی ایک خوشی) ذکر کی ہے کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم سب کے گناہ معاف ہو جائیں اور تم سب صحیح راہ پر چلو لیکن تمہارے دشمن تمہیں گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔

اس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ ارادۂ شرعیہ کا پورا ہونا ضروری نہیں ہے۔

بہرام بھائی! اگر آپ کی دی ہوئی دلیل کو ہی تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری امت محمدیہ (بشمول فجار وفساق لوگوں کے) اہل بیت کی طرح پاک ہے کیونکہ فرمانِ باری ہے:

﴿ مَا يُرِ‌يدُ اللَّـهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَ‌جٍ وَلَـٰكِن يُرِ‌يدُ لِيُطَهِّرَ‌كُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ٦ ﴾ ۔۔۔ سورة المائدة

اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ آپ نے اپنے موقف کی دلیل پیش نہیں کی۔
اللہ تعالیٰ کا ارادۂ شرعیہ‘ (یعنی ایک خواہش کا اظہار) ضروری نہیں کہ پوری ہو( نعوذباللہ)
اب تو اللہ کی خواہش بھی پوری نہیں ہوسکتی پھر کون ایسا ہے جس کی خواہش پوری ہو ۔

اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤo

اس آیت مبارکہ میں اللہ کی دو خواہشیں بیان ہوئی
١۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے ۔
٢۔ اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے ۔
اللہ تعالیٰ کی پہلی خواہش کہ وہ مسلمانوں پر سختی نہیں کرنا چاھتا پوری ہوئی کہ نہیں ہوئی اور اللہ کی اس خواہش کو پورا کون کرے گا ؟
اللہ تعالیٰ کی دوسری خواہش کہ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو پاک کردے یہاں ہر قسم کی آلودگی سے پاک کرنے کی بات نہیں ہوئی جس طرح اہل بیت کے لئے اور اس آیت مبارکہ میں وضو ، اور تیممم کے احکام بیان ہوئے ہیں جو کہ نماز کے لئے ضروری ہیں پوری آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے
اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤo
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
اللہ تعالیٰ کا ارادۂ شرعیہ‘ (یعنی ایک خواہش کا اظہار) ضروری نہیں کہ پوری ہو ( نعوذباللہ)
اب تو اللہ کی خواہش بھی پوری نہیں ہوسکتی پھر کون ایسا ہے جس کی خواہش پوری ہو ۔
اگر اللہ تعالیٰ اپنی ہر مرضی (ارادۂ شرعیہ) کو ہم پر مسلط کردیں تو پھر اختیار ہی ختم ہوجائے اور ہم بھی دیگر مخلوقات کی طرح مجبورِ محض ہوجائیں۔

پھر (فرشتوں کی طرح) مجبوراً نیکی کرنے کی بنا پر ہم جنت کے مستحق بھی نہ ہوں گے اور گناہ ہم کر ہی نہ سکیں گے۔

البتہ اللہ کا ہر حکم (ارادۂ کونیہ) ضرور پورا ہوتا ہے۔

محترم بھائی! شائد آپ کو ارادۂ کونیہ اور ارادہ شرعیہ کی تقسیم کا علم نہیں ہے، اس کی تفصیلات میں اگلی پوسٹ میں واضح کر دیتا ہوں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
ارادہ کونیہ
’کَون‘ بمعنیٰ ہونے سے ہے، یعنی ہر شے (خواہ وہ اللہ کو پسند ہے یا نہیں) جو قیامت تک ہونی ہے، وہ اللہ نے پہلے ہی اپنے ازلی ودائمی علم سے لکھ دی ہے جسے تقدیر کہا جاتا ہے۔

اس اعتبار سے سیدنا آدم﷤ کا اللہ کا نیک بندہ ہونا اللہ کا ’ارادہ کونیہ‘ ہے۔
اسی طرح شیطان کا اباء وتکبر بھی اللہ کا ’ارادۂ کونیہ‘ ہے۔

کیونکہ یہ دونوں چیزیں وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔ جو چیز واقع ہوجائے وہ اللہ کا ’ارادۂ کونیہ‘ ہوتا ہے۔ ہمیں اس کا علم اس کے واقع ہونے سے ہوتا ہے کہ اس بارے میں اللہ کا ’ارادۂ کونیہ‘ یہ تھا۔

درج بالا مثال سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جو کچھ کائنات میں ہوتا ہے وہ ضروری نہیں کہ اللہ کی مرضی اور خوشی (جسے ارادۂ شرعیہ کہتے ہیں، جس کی وضاحت آگے آئے گی) بھی ہو۔ البتہ وہ اللہ کا حکم (ارادۂ کونیہ) ضرور ہوتا ہے، فرمانِ باری ہے:
﴿ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ ﴾ ۔۔۔ سورة البقرة
﴿ وَلَو شِئنا لَـٔاتَينا كُلَّ نَفسٍ هُدىٰها وَلـٰكِن حَقَّ القَولُ مِنّى لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ ١٣ ﴾ ۔۔۔ سورة السجدة
اگر ہم چاہتے تو سب کو ہدایت دے دیتے (اور سب جنتی ہوجاتے) لیکن میری بات سچ ثابت ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔
جہنم کو جنوں اور لوگوں سے بھرنا اللہ کا ارادہ شرعیہ نہیں بلکہ ارادہ کونیہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی مرضی وخوشی یہ ہرگز نہیں ہے کہ اللہ کے بندے جہنم میں جا کر آگ میں جلیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سے ہماری ماؤں سے بھی زیادہ محبّت کرتے ہیں۔

اوپر پیش کی گئی آدم﷤ وشیطان کی مثال میں شیطان کا انکار واستکبار اللہ کی خوشی ومرضی (ارادۂ شرعیہ) تو نہیں البتہ اللہ کا حکم (ارادۂ کونیہ) ضرور تھا۔ اللہ کے حکم یا اجازت کے بغیر شیطان کبھی انکار وتکبّر نہیں کر سکتا تھا۔ اللہ نے انسانوں کی طرح جنّوں کو بھی اختیار دیا ہوا ہے جس کا شیطان نے غلط استعمال کیا۔

اس ساری وضاحت کی ضرورت اس لئے ہے کہ بعض نادان یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کے خالق ہیں شر کے نہیں، اللہ تعالیٰ صرف ہدایت دیتے ہیں گمراہ نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔
ان کے نزدیک شائد شر کا خالق شیطان ہے یا گمراہ کرنے والا شیطان ہے۔ یہ عقیدہ مجوسیوں کا ہے جن کے نزدیک خیر اور شر دونوں کا خدا الگ الگ ہوتا ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ رب العٰلمین کی پیدا کردہ ہے، لہٰذا اس میں حکم بھی صرف اللہ رب العٰلمین کا ہی چلے گا، فرمانِ باری ہے: ﴿ أَلا لَهُ الخَلقُ وَالأَمرُ‌ ۗ تَبارَ‌كَ اللَّهُ رَ‌بُّ العـٰلَمينَ ٥٤ ﴾ ۔۔۔ سورة الأعراف
اس کائنات میں مکھی بھی اللہ کے حکم کے بغیر پر نہیں مار سکتی۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
ارادۂ شرعیہ
’شرع‘ سے ہے، بمعنیٰ اللہ کی مرضی وخوشی (خواہ وہ پوری ہو یا نہیں۔) اللہ کی خوشی اور رضا کیا ہے؟ اس کا علم ہمیں انبیاء ورسل﷩ پر اُتاری گئی وحی (شریعت) سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو شریعت (اپنی مرضی یا دوسرے الفاظ میں ارادۂ شرعیہ) کا پابند نہیں کیا، فرمانِ باری ہے:
﴿ لا إِكر‌اهَ فِى الدّينِ ۖ قَد تَبَيَّنَ الرُّ‌شدُ مِنَ الغَىِّ ۚ فَمَن يَكفُر‌ بِالطّـٰغوتِ وَيُؤمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُر‌وَةِ الوُثقىٰ لَا انفِصامَ لَها ۗ وَاللَّـهُ سَميعٌ عَليمٌ ٢٥٦ ﴾ ۔۔۔ سورة البقرة
﴿ إِنّا هَدَينـٰهُ السَّبيلَ إِمّا شاكِرً‌ا وَإِمّا كَفورً‌ا ٣ ﴾ ۔۔۔ سورة الإنسان
﴿ أَلَم نَجعَل لَهُ عَينَينِ ٨ وَلِسانًا وَشَفَتَينِ ٩ وَهَدَينـٰهُ النَّجدَينِ ١٠ ﴾ ۔۔۔ سورة البلد

انسانوں اور جنوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات (بشمول ملائکہ) اللہ تعالیٰ کے ارادۂ شرعیہ کی پابند ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اختیار ہی نہیں دیا کہ وہ اللہ کی خوشی کے خلاف کر سکیں، فرمانِ باری ہے:
﴿ أَفَغَيرَ‌ دينِ اللَّـهِ يَبغونَ وَلَهُ أَسلَمَ مَن فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ طَوعًا وَكَر‌هًا وَإِلَيهِ يُر‌جَعونَ ٨٣ ﴾ ۔۔۔ سورة آل عمران
کیا وه اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (83)

﴿ ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ وَهِىَ دُخانٌ فَقالَ لَها وَلِلأَر‌ضِ ائتِيا طَوعًا أَو كَر‌هًا قالَتا أَتَينا طائِعينَ ١١ ﴾ ۔۔۔ سورة فصلت
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں (11)

اسی لئے انسانوں اور جنوں کے علاوہ کوئی جنّت یا جہنم میں نہیں جائے گا، کیونکہ صرف انہیں ہی دنیا میں خیر وشر کا محدود اختیار ملا ہے جو اس اختیار کا صحیح استعمال کرتا ہے وہ جنّتی ہے (کیونکہ اس نے اختیار کے باوجود خیر کو پسند کیا) اور جو غلط استعمال کرتا ہے وہ جہنمی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ دیگر مخلوقات کی طرح انسان اور جن بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی وخوشی (ارادۂ شرعیہ) کے پابند ہیں تو گویا پھر جن وانس بھی مجبورِ محض ہوں گے پھر انہیں نیکی کرنے پر جنّت اور گناہ کرنے پر جہنّم کا حقدار نہیں ہونا چاہئے۔

یہی وہ باریک نکتہ ہے جو جبریہ اور قدریہ نہ سمجھ سکے تو افراط وتفریط کی بناء پر گمراہ ہوگئے، کچھ نے تو کہا کہ انسان مجبورِ محض ہے، اس کے پاس اختیار ہے ہی نہیں۔ جبکہ کچھ نے تقدیر کا ہی انکار کر دیا اور (جہمیہ کی طرح) انسان کو ہی اپنے افعال کا خالق قرار دیا۔ حالانکہ فرمانِ باری ہے: ﴿ وَاللَّـهُ خَلَقَكُم وَما تَعمَلونَ ٩٦ ﴾ ۔۔۔ سورة الصافات یعنی ہم جو بھی (اچھا یا برا عمل) کرتے ہیں اللہ کے دئیے ہوئے اختیار سے ہی کرتے ہیں، اسی اعتبار سے ہماری ہدایت یا گمراہی دونوں کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا ارادۂ کونیہ اور ارادۂ شرعیہ ایک ہی ہوتا ہے۔
بعض اوقات ایک شے اللہ کا ارادہ کونیہ تو ہوتا ہے، شرعیہ نہیں
اور بعض اوقات ایک شے اللہ کا ارادہ شرعیہ تو ہوتا ہے، ارادۂ کونیہ نہیں

اس کی مثال اوپر پیش کی گئی مثال ہی ہے، مثلاً

سیدنا آدم﷤ کا درخت کا پھل کھانا اللہ کا ارادۂ کونیہ تھا (کیونکہ وہ واقع ہوا تھا)، شرعیہ نہیں (کیونکہ وہ اللہ کی مرضی نہیں تھی)
سیدنا آدم﷤ کا توبہ کرنا اللہ کا ارادۂ کونیہ اور شرعیہ دونوں تھا (کیونکہ ایسے ہی واقع ہوا اور اسی میں اللہ کی رضا بھی تھی۔)

شیطان کا سیدنا آدم﷤ کو سجدہ کرنے سے انکار اور تکبر اور پھر اس پر اصرار اللہ کا ارادۂ کونیہ تھا، شرعیہ نہیں۔

تمام لوگوں کا مسلمان ہونا: یہ اللہ کا ارادہ شرعیہ (یعنی اللہ کی رضا اور خوشی) تو ہے، لیکن ان کا ارادۂ کونیہ نہیں (کیونکہ اللہ کو اپنے لا زوال علم کی بناء پر معلوم ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہنّم تیار کر رکھی ہے۔

رحمۃ للعالمین ہونے کی بناء پر کبھی کبھی یہ بات نبی کریمﷺ کے دل میں بھی آتی کہ سب مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا:
﴿ وَلَو شاءَ رَ‌بُّكَ لَـٔامَنَ مَن فِى الأَر‌ضِ كُلُّهُم جَميعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكرِ‌هُ النّاسَ حَتّىٰ يَكونوا مُؤمِنينَ ﴿٩٩﴾ وَما كانَ لِنَفسٍ أَن تُؤمِنَ إِلّا بِإِذنِ اللَّـهِ ۚ وَيَجعَلُ الرِّ‌جسَ عَلَى الَّذينَ لا يَعقِلونَ ١٠٠ ﴾ ۔۔۔ سورة يونس
یہاں مشیت سے مراد اللہ تعالیٰ کا ارادۂ شرعیہ ہے جو پورا نہیں ہوا۔ اس آیت کریمہ سے علم ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادۂ شرعیہ ضروری نہیں کہ پورا ہو اور اگر یہ پورا ہوتا تو یہ جبر ہوتا، حالانکہ اللہ نے انسانوں اور جنوں کو اختیار دیا ہے، لہٰذا ان کیلئے دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
کفارِ مکہ بھی ارادۂ کونیہ اور شرعیہ میں تفریق نہ کرنے کے بناء پر بعض اوقات اپنے شرک اور گناہوں کی (اللہ کے ارادۂ کونیہ کی) یہ دلیل پیش کرتے کہ اس دنیا میں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا لہٰذا اگر یہ شرک غلط ہوتا تو نہ ہم شرک کر سکتے نہ ہی ہمارے آباؤ اجداد:
﴿ وَقالَ الَّذينَ أَشرَ‌كوا لَو شاءَ اللَّـهُ ما عَبَدنا مِن دونِهِ مِن شَىءٍ نَحنُ وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّ‌منا مِن دونِهِ مِن شَىءٍ ۚ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ فَهَل عَلَى الرُّ‌سُلِ إِلَّا البَلـٰغُ المُبينُ ٣٥ وَلَقَد بَعَثنا فى كُلِّ أُمَّةٍ رَ‌سولًا أَنِ اعبُدُوا اللَّـهَ وَاجتَنِبُوا الطّـٰغوتَ ۖ فَمِنهُم مَن هَدَى اللَّـهُ وَمِنهُم مَن حَقَّت عَلَيهِ الضَّلـٰلَةُ ۚ فَسير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَانظُر‌وا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ ٣٦ إِن تَحرِ‌ص عَلىٰ هُدىٰهُم فَإِنَّ اللَّـهَ لا يَهدى مَن يُضِلُّ ۖ وَما لَهُم مِن نـٰصِر‌ينَ ٣٧ ﴾ ۔۔۔ سورة النحل

تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب ارادۂ شرعیہ سے دیا ہے کہ اللہ نے رسولوں کو شریعت دے کر بھیجا اور تمام انبیائے کرام﷩ نے اپنی قوم کو توحید کی طرف اور ردّ کی طرف دعوت دی ہے لیکن ان کے ذمہ صرف پہنچانا تھا، ٹھونسنا نہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ اگرچہ خیر وشر دونوں کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں: ﴿ قُل أَعوذُ بِرَ‌بِّ الفَلَقِ ١ مِن شَرِّ‌ ما خَلَقَ ٢ ﴾ ۔۔۔ الفلق اور اللہ کی طرف دونوں کی نسبت کی جا سکتی ہے کیونکہ اختیار انہیں کا ہی دیا ہوا ہے لیکن ادب کا تقاضا یہ ہے کہ خیر کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے اور شر کی نسبت اپنی یا شیطان کی طرف۔ فرمانِ نبویﷺ ہے: « والخير كله في يديك، والشر ليس إليك » ۔۔۔ صحيح مسلم کیونکہ اللہ شر کے خالق تو ہیں، فاعل نہیں ہیں۔ اللہ کی پیدا اشیاء کا غلط استعمال انہیں شر بناتا ہے وہ اصلا شر نہیں ہوتیں۔

مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زبان جیسی نعمت عطا کی، جس سے انسان گفتگو (اچھی یا بری) کر سکتا ہے۔ اگر انسان اسی زبان سے جھوٹ بولے، فحش کلامی یا غیبت کرے، کسی پر تہمت لگائے تو اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کی نسبت اللہ کی طرف ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ زبان کے خالق ہیں اور اللہ نے ہمیں سچ اور جھوٹ دونوں کا اختیار دیا تھا۔ لیکن اس اختیار کا غلط استعمال انسان نے کیا، یہ انسان کا فعل ہے اور ورغلانے والا شیطان ہے، اس اعتبار سے جھوٹ اور غیبت وغیرہ کی نسبت انسان یا شیطان کی طرف ہونی چاہئے، اور یہی اللہ کے ساتھ ادب کا تقاضا بھی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
 
Top