• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالی کے لئے لفظ "جسم" استعمال کرنا کیسا ہے ؟

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
ابن عثیمین کی عبارت بہت اصولی اور بہترین ہے، انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا اثبات کیا ہے جو ثابت ہیں۔ اور قائل کو ہر دو اعتبار سے بہترین جواب دے دیا ہے، انہیں جواب نہیں آیا تو غصے میں آکر ابن عثیمین وغیرہ علماء پر تجسیم کی تہمت لگادی۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
"ما کان مبتدعا من الالفاظ یجب استفصال صاحبه والنظر الی مراده فان کان یرید معنی صحیحا قبل منه ذلک ونبه علی انه لا یجوز استعمال مثل هذه الالفاظ. وان کان مراده نفی ما وصف الله به نفسه من العلو والاستواء والنزول فالمعنی باطل واللفظ باطل"
(بیان تلبیس الجھمیه ۹ ط الریاض.)
یہ عبارت بھی کہیں نہ مل سکی ، نہ "تلبیس الجہمیہ " میں ،نہ امام ابن تیمیہ کی کسی اور کتاب میں ،
اس کا حوالہ بھی دیجئے گا ۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ
محترم شیخ @خضر حیات حفظہ اللہ

نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی یہ دونوں عبارات میں تضاد ہے یا میں صحیح طرح سے ان کی عبارت سمجھ نہیں پایا ؟

پہلا اسکین
FB_IMG_1551609745753.jpg


دوسرا اسکین
PicsArt_02-28-09.42.09.jpg
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
کچھ دن مصروفیت کے سبب جواب نہیں لکھ سکتا ؛
اس لئے معذرت خواہ ہوں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ
محترم شیخ @خضر حیات حفظہ اللہ

نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی یہ دونوں عبارات میں تضاد ہے یا میں صحیح طرح سے ان کی عبارت سمجھ نہیں پایا ؟

پہلا اسکین
21217 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں

دوسرا اسکین
21218 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
تضاد نہیں ہے۔
تفویض سے مراد کیفیت کی تفویض ہے، اس کے معنی کی نہیں۔ ہاں بعض لوگ معنی کی تفویض کرتے ہیں، جو درست نہیں۔
حاشیہ میں بھی شاید یہی وضاحت ہے۔
دوسری جو معیت کی تاویل کی گئی ہے، اس حوالے سے سلفی علما کا موقف یہ ہے کہ یہ تاویل ہے ہی نہیں، جس کی تفصیل نواب صاحب بھی بیان کردی، اور غالبا یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے۔
میرا علم اس حوالے سے بالکل ناقص ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی تاویل وغیرہ کچھ نہیں کرنا چاہیے، اللہ کی معیت کو مطلق بھی مانیں، مقید بھی مانیں، لیکن اپنی طرف سے اس میں صغرے کبرے ملا کر نتائج نکال کر کوئی عقیدہ نہ رکھیں۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
تضاد نہیں ہے۔
تفویض سے مراد کیفیت کی تفویض ہے، اس کے معنی کی نہیں۔ ہاں بعض لوگ معنی کی تفویض کرتے ہیں، جو درست نہیں۔
حاشیہ میں بھی شاید یہی وضاحت ہے۔
دوسری جو معیت کی تاویل کی گئی ہے، اس حوالے سے سلفی علما کا موقف یہ ہے کہ یہ تاویل ہے ہی نہیں، جس کی تفصیل نواب صاحب بھی بیان کردی، اور غالبا یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے۔
میرا علم اس حوالے سے بالکل ناقص ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی تاویل وغیرہ کچھ نہیں کرنا چاہیے، اللہ کی معیت کو مطلق بھی مانیں، مقید بھی مانیں، لیکن اپنی طرف سے اس میں صغرے کبرے ملا کر نتائج نکال کر کوئی عقیدہ نہ رکھیں۔
جزاکم اللہ خیرا یا شیخ محترم
محترم شیخ نواب صاحب رحمہ اللہ کی اس عبارت کی ذرا وضاحت کر دیں ۔
اپنی کتابالاحتواء علی مسئله الاستواء ص ۱۰ میں فرماتے ہیں :
یہاں معیت سے علمی معیت مراد ہے ۔۔۔۔ یہ مطلب بیان کرنا مفسرین کے نذدیک تفسیر ہے نہ کہ تاویل۔
اور مجموعہ رسائل عقیدہ ص ۱۰۳ میں فرماتے ہیں :
تاویل تکذیب کی ایک شاخ اور فرع ہے ۔ ایک جماعت نے اللہ تعالی کے قرب اور معیت کی تاویل علم و قدرت اور احاطے کے ساتھ کی ہے ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اس میں پہلا سکین "مجموعہ رسائل عقیدہ " کے تیسرے حصہ کا ہے ،
https://archive.org/details/MajmouaRasialEAqeeda3/page/n103

محولہ بالا عبارت حاشیہ سمیت یونیکوڈ میں پیش ہے ، جس سے بات واضح ہوجائے گی :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفات الہیہ میں تفویض اور تاویل:
صفات الہیہ کے مسئلے میں صرف دو قول ہیں۔ ایک قول ہے تفویض کے ساتھ تسلیم کرنا (1)
مذهب سلف کا ہے اور یہی حق، سچ اور راجح ہے۔ امام مالکؒ نے فرمایا تھا : "
اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے تعلق سوال کرنا بدعت ہے۔"
دوسرا قول تاویل ہے۔ یہ طریقہ خلف کا ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تاویل دراصل تکذیب کی ایک شاخ اور فرع ہے۔ ایک جماعت نے اللہ تعالی کے قرب و معیت کی تاویل علم، قدرت اور احاطے کے ساتھ کیا ہے۔ سو یہ آیات متشابہ ہیں، ان میں غور و خوض کرنا بے سود ہے، جب کہ آیات استوامحكمات ہیں۔ لہذا ایک مومن کے لائق یہ ہے کہ وہ سب صفات الہیہ پر ایمان لائے اور ان کی کیفیت میں غور وفکر کرنے سے احتراز کرے اور سلف کے منہج سے تجاوز کرنے کو جائز نہ سمجھے "۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حاشیہ :
(1)یہ و صفات باری تعالی کے ضمن میں تفویض کا اطلاق دو معانی پر ہوتا ہے؛
(1) تفویض المعنى والكيفية: یعنی صفات باری تعالی کے اثبات میں قرآن و حدیث میں جو الفاظ مذکور ہیں (جیسے استوا، وجه، بدیع، بصر وغیرہ) ہم ان کا معنی جانتے ہیں نہ اس کی کیفیت ہی کا علم رکھتے ہیں۔
(2)تفويض الكيفية دون المعنی: یعنی صفات باری تعالی کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ کا معنی ومفہوم تو واضح اور معلوم ہے، لیکن ہم ان کی کیفیت سے ناواقف ہیں، جیسے امام مالکؒ کا فرمان ہے کہ "الاستواء معلوم،والكيف مجهول» یعنی استوا کا معنی ومفہوم تو معلوم اور واضح ہے لیکن اس کی کیفیت و ماہیت مجہول ہے۔ *
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اول الذکر معنی کے اعتبار سے تفویض کا عقیدہ ائمہ سلف اور اہل سنت کا عقیدہ نہیں، بلکہ یہ اشاعرہ اور اہل بدعت کا عقیدہ ہے، کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالی نے صفات کے ضمن میں جو الفاظ ذکر کیے ہیں، کوئی بھی ان کے معنی سے آگاہ نہیں، نہ رسول اللہ کا ، نہ صحابہ کرام اور نہ سلف امت۔ گویا یہ الفاظ عبث اور بے فائده ہی ذکر کیے گئے ہیں، جن کا کوئی معنی و مطلب اورمقصود نہ تھا۔ اس بیان و توضیح سے اس نظریے کا بدیہی البطلان ہونا معلوم ہو جا تا ہے۔
مزید برآں ائمہ سلف سے صفات باری تعالی کے معانی سے متعلق صریح نصوص وارد ہوئی ہیں، جیسے استوا کا معنی ارتفاع اور علو ثابت ہوتا ہے لیکن ان کی کیفیت کا علم نہیں۔ اہل سنت اگرچہ صفات باری تعالی کا اثبات کرتے ہیں، لیکن وہ تشبیہ کا کلیۃً انکار کرتے ہیں، کیونکہ فرمان باری تعالی ہے: ( لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) الشورٰ 11، اس آیت کریمہ میں جہاں تشبیہ وتمثیل کی نفی کی گئی ہے، وہاں اللہ تعالی کے لیے صفا ت سمع و بصر کا اثبات بھی کیا گیا ہے، جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ صفات کے اثبات سے تشبیہ اور تمثیل لازم نہیں آتی۔
الغرض اول الذکر معنی کے اعتبار سے تفویض کو ائمہ سلف کا عقیدہ قرار دینا درست نہیں، البتہ ثانی الذکر معنی کے اعتبار سے عقیدہ سلف پرتفویض کا اطلاق درست ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ایسے مشتبہ الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top