• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ سے دُعا میں فوت شدگان کا وسیلہ ڈالنا اللہ تعالیٰ کی توہین وشرک!

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,332
پوائنٹ
800
اللہ تعالیٰ کو بلا واسطہ پکارنا اور درمیان میں فوت شدگان کا وسیلہ نہ ڈالنا

بسم اللہ، والحمد للہ والصلاۃ والسلام علیٰ رسول اللہ! ... اما بعد!
اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہوئے اللہ کو ڈائریکٹ بغیر کسی واسطہ کے پکارنا چاہیے ﴿ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ﴾ ... سورة غافر: 60 کہ ’’تمہارا رب کہتا ہے "مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘
جب صحابہ کرام﷢ نے اس کے متعلّق نبی کریمﷺ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے خود جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ ... سورة البقرة: 186 کہ ’’اور اے نبﷺ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔‘‘
اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، پھر وسیلہ ڈالنے کی ضرورت!
گویا اللہ تعالیٰ ہم سے دور نہیں کہ ہمیں کسی اور کا وسیلہ ڈالنے کی ضرورت پڑے، اللہ تعالیٰ ہم سے بہت قریب ہیں : ﴿ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ﴾ ... سورة هود: 61 کہ ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔‘‘
نیز فرمایا: ﴿ قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ﴾ ... سورة سبأ: 50 کہ ’’کہو اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے۔‘‘
نیز فرمایا: ﴿ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴾ ... سورة الواقعة:85 کہ’’اُس وقت تمہاری (ورثا کی) بہ نسبت ہم (اللہ تعالیٰ) اُس (مرنے والے) کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔‘‘
بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہہ کر بات کی ختم فرما دی ﴿ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴾ ... سورة ق:16 کہ’’ہم اس (انسان) کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں۔‘‘
دُعا میں فوت شدگان کا وسیلہ ڈالنا شرک کی ایک نوع اور اللہ ہی توہین ہے!
اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہوئے فوت شدگان کا وسیلہ ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کو ان کا واسطہ دینا اللہ تعالیٰ کی توہین اور اللہ کے ساتھ شرک ہے، توہین اس طرح کہ گویا اللہ تعالیٰ کو دنیاوی افسروں اور امراء پر قیاس کیا جاتا ہے کہ جس طرح ان تک رسائی کیلئے واسطے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ تک رسائی کیلئے شائد واسطے کی ضرورت ہے؟ حالانکہ دنیاوی امراء وافسران سفارش کرنے والوں کے زیر بار ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں ان کی ماننا پڑتی ہے لیکن کیا اللہ تعالیٰ پر بھی کوئی اس طرح نعوذ باللہ رعب جما سکتا ہے، (نقل کفر، کفر نہ باشد) حالانکہ فرمان باری تعٰالیٰ ہے: ﴿ فلا تضربوا لله الأمثال ﴾ ... سورة النحل: 74 کہ ’’اللہ رب العٰلمین کیلئے (دنیاوی) مثالیں بیان نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے کتنا سچ فرمایا کہ دل کٹ کر رہ جاتا ہے: ﴿ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴾ ... سورة الحج: 74 کہ ’’اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے۔‘‘ بلکہ اگر کسی کو اگر سمجھایا جائے کہ بھائی اس طرح کرنا اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں، بلکہ اس میں اللہ کی توہین ہے تو بجائے اس کے کہ اس کے دل میں اللہ دل اور رعب پیدا ہو وہ اپنی حقیقت بھول کر اپنے رب العٰلمین کے متعلّق آیاتِ کریمہ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے بحث ومباحثہ شروع کر دیتا ہے ﴿ أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ ﴾... سورة يس:77 کہ ’’کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟‘‘ (اس موضوع کی مزید تفصیل دیکھنے کیلئے مولانا محمد اقبال کیلانی﷾ کی کتاب ’توحید کے مسائل‘ کا مطالعہ کریں، جس کا لنک ’اہل توحید بھائی‘ نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر فرمائیں۔)
اور شرک اس طرح کہ اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿ أَلَا للهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ﴾ ... سورة الزمر: 3 کہ ’’خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو‘‘
اس آیت کریمہ سے درج ذیل باتوں کا معلوم ہوا:
  1. صرف اللہ وحدہ لا شریک کو پکارنا اور بلا واسطہ پکارنا ہی خالص عبادت ہے، اور اس میں کسی کا وسیلہ ڈالنا گویا ملاوٹ ہے﴿ أَلَا للهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ﴾
  2. جو اللہ سے دعا کرتے ہوئے (فوت شدگان کا) وسیلہ ڈالتے ہیں، تو گویا وہ انہیں اللہ کے علاوہ اولیاء بناتے ہیں ﴿ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ﴾ اور یہ گویا کہ ان کی عبادت ہی ہے ﴿ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلْفَىٰ ﴾ گویا کہ یہ اللہ کے فرمان کے مطابق شرک ہوا۔
  3. ایسے لوگ دین میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کا سبب ہیں ﴿ إِنَّ اللهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴾
  4. ایسے لوگ جھوٹے اور بہت بڑے کافر ہیں ﴿ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ﴾
واللہ تعالیٰ اعلم!​
 
شمولیت
اکتوبر 16، 2011
پیغامات
106
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
65
اسلام علیکم ! محترم انس نضر صاحب ،ماہنامہ محدث میں عرصہ قبل انداز ٢٠٠٠ ء تا ٢٠٠٤ ء وسیلہ کے موضوع پر مضمون شائع ہوا تھا ،اس مضمون میں دعا میں بوسیلہ ،بصدقہ ،بحرمت ،بطفیل اور بحق جیسے الفاظ کے استعمال کرنے پر منع کیا گیا ہے اور ساتھ احناف کی کتب کی حوالہ جات بھی تھے۔ ملک سے دور ہونے کی وجہ سے وہ شمارہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے ،اور شمارہ کا سن یاد نہیں ،اگر ممکن ہو سکے تو وہ شمارہ مجھے ای میل کے ذریعہ مل جائے ۔ و السلام
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
اسلام علیکم ! محترم انس نضر صاحب ،ماہنامہ محدث میں عرصہ قبل انداز ٢٠٠٠ ء تا ٢٠٠٤ ء وسیلہ کے موضوع پر مضمون شائع ہوا تھا ،اس مضمون میں دعا میں بوسیلہ ،بصدقہ ،بحرمت ،بطفیل اور بحق جیسے الفاظ کے استعمال کرنے پر منع کیا گیا ہے اور ساتھ احناف کی کتب کی حوالہ جات بھی تھے۔ ملک سے دور ہونے کی وجہ سے وہ شمارہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے ،اور شمارہ کا سن یاد نہیں ،اگر ممکن ہو سکے تو وہ شمارہ مجھے ای میل کے ذریعہ مل جائے ۔ و السلام
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عزیز بھائی پرچہ محدث میں وسیلہ کے متعلق شائع ہونےوالے مضامین کی لسٹ پیش ہے اور آپ محدث کے تمام شمارے یہاں آن لائن دیکھ سکتے ہیں اور ساتھ ڈاؤنلوڈ بھی کرسکتے ہیں۔
1۔’وابتغو الیہ الوسلیۃ ‘ میں الوسیلہ سے کیا مراد ہے ..... جلد۵عدد۳/۲۲-۲۷
2۔وسیلہ کی حقیقت [کتاب وسنت اور علماے سلف کی روشنی میں/ ۳؍اقساط ] ..... جلد۱۴عدد۵/۲۸-۳۸ ..... جلد۱۴عدد۶/۲۴-۴۱ ..... جلد۱۴عدد۷/۸-۱۵
3۔وسیلہ کے اَحکام ..... جلد۳۱عدد۳/۱۱
4۔وسیلہ کے اَحکامات ..... جلد۳۱عدد۶/۸-۱۰
5۔غیر اللہ کا وسیلہ پکڑنا اور دُعا کرنا ..... جلد۳۳عدد۱۰/۲۹
6۔اصحابِ کہف یا انبیائِ کرام کے نام کے تعویذ لٹکانے اور ان کا وسیلہ ..... جلد۷عدد۲/۳۸-۳۹
7۔غیر اللہ کا وسیلہ پکڑنا اور دُعا کرنا ..... جلد۳۳عدد۱۰/۲۹
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
313
پوائنٹ
127
مجھے حیرت و تعجب اس بات پر ہے کہ قرآن میں بیشمار دعایئں ہیں جیسے : ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ الخ اور ربنا ظلمنا انفسنا اور رب اغفر وارحم وغیرہ وغیرہ ،اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشمار دعایئں سکھائی ہیں ان میں کہیں واسطہ کا ذکر نہیں ہے ان سب دعاوں میں ڈائریکٹ اللہ سے مانگنے کا ذکر ہے پھر یہ لوگ کیوں کذب بیانی سے باز نہیں آتے ۔ یہ لوگ آدم علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ لیکر دعا کیا تھا اور اس کیلئے ایک موضوع ومن گھڑت روایت جس کا ذکر کتاب فضائل اعمال تالیف زکریا کاندہلوی کے فضائل ذکر میں موجود ہے ۔سے لیتے ہیں جبکہ آدم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اسکا ذکر قرآن میں وجود ہے اور وہ ہے :ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔ اے اللہ ہم نے اپنے آپ پر بہت ظلم کرلیا ہے اگر تونے ہم کو معاف نہیں کیا تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔ کوئی بتاے کہ اس میں کہاں واسطے کا ذکر ہے آخر مسلمان کیوں نہیں سمجھتا ۔اس کو اپنے آپ پر غور کرنا چاہئے کہ پیدا ہوا تھا تو اسوقت کتنا چھوٹا تھا اور اب کتنا بڑا ہوگیا ہے روزانہ بڑھتا جاتا ھے کیا ہے کوئی جو اسکو روزانہ ربڑ کیطرح کھینچتا رہتا ہے ہرگز نہیں ،صرف اللہ تعالی اسکو بڑھاتا ہے ،اسی طرح صرف اللہ سے بغیر کسی واسطہ کے دعا کرنی چاہئے البتہ اپنے نیک اعمال کا واسطہ لے سکتا ہے مثلا یوں کہے :اے اللہ میں نے یہ نمازصرف تیری رضا کیلئے پڑھی ہے یا میں نے فلاں نیک کام صرف تیری رضاکیلئے کیا ہے تو میرے اس عمل کو قبول کرکے میری فلاں پریشانی کو دور کردے ۔ نیک اعمال کا واسطہ لینا جائز ہے ۔باقی کسی ولی یا نبی کا واسطہ لیکر دعا کرنا غلط ہے ۔ کفار مکہ واسطہ کی بناء پر مشرک قرار پاے ۔
 
Top