• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کی رضا ماں باپ کی رضا میں ہے

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
باب البر والصلۃ کی چوتھی حدیث درج ذیل ہے

وعن عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما عن النبی ﷺ قال
رضی اللہ فی رضی الوالدین وسخط اللہ فی سخط الوالدین (اخرجہ الترمذی وصححہ الحاکم وبن حبان)
عبد اللہ بن عمرو بن عاص روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
اللہ کا راضی ہونا ماں باپ کے راضی ہونے میں ہےاور اللہ کا ناراض ہونا ماں باپ کے ناراض ہونے میں ہے
اسے ترمذی نے روایت کیا اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کو راضی کرنا فرض ہے اور انھیں ناراض کرنا حرام ہے ۔۔۔کیونکہ ان کی رضا میں اللہ کی رضا اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے ۔۔۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے حق کے ساتھ والدین کا حق ملا کر ذکر فرمایا

ان اشکر لی ولوالدیک
میرا اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کر

وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا
اور تیرے رب نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
والدین کا حکم صرف اس صورت میں مانا جائے گا جب وہ اللہ کے حکم کے خلاف نہ ہو ۔۔۔گویا والدین کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے تابع ہو ۔۔اگر اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو تو والدین کا حکم نہیں مانا جائے گا۔۔۔مثلا والدین ایسا کام کرنے کا حکم دیں جس سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہو یا ایسے کام سے روکیں جو اللہ نے فرض کیا ہو تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

لا طاعۃ فی معصیۃ انما الطاعۃ فی معروف ( متفق علیہ )
اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے ‘ اطاعت صرف معروف میں ہے متفق علیہ

خصوصا اگر وہ شرک کا حکم دیں تو ان کی اطاعت جائز نہیں
وان جھداک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما ( لقمان)
اور اگر تیرے ماں باپ تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو تو ان کا کہنا نہ مان
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے جہاد کی اجازت مانگی آپﷺنے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ۔۔؟
اس نے کہا جی ہاں!
آپﷺ نے فرمایاتو انھیں میں جہاد کر (البخاری الجہاد)
امام بخاری نے اس حدیث پر باب باندھا ہے ۔۔الجھاد باذن الابوین۔۔۔ماں باپ کی اجازت کے ساتھ جہاد
اس کی شرح میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں
جمہور علماء فرماتے ہیں جب ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک منع کر دے تو جہاد حرام ہے ۔۔۔بشرطیکہ دونوں مسلمان ہوں کیونکہ ان سے حسنِ سلوک اس پر فرضِ عین ہے اور جہاد فرضِ کفایہ ہے۔۔۔۔البتہ جب جہاد فرض ہو جائے تو کوئی اجازت نہیں لی جائے گی (فتح الباری)
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
جب جہاد فرضِ عین ہو جائے تو اس وقت اگر کوئی شخص ماں باپ کے کہنے کی وجہ سے جہاد پر نہ جائے تو اللہ کے عذاب کا خطرہ ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں

قُل إِن كانَ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخوٰنُكُم وَأَزوٰجُكُم وَعَشيرَتُكُم وَأَموٰلٌ اقتَرَفتُموها وَتِجـٰرَةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَسـٰكِنُ تَرضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّـهِ وَرَسولِهِ وَجِهادٍ فى سَبيلِهِ فَتَرَبَّصوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّـهُ بِأَمرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لا يَهدِى القَومَ الفـٰسِقينَ ﴿٢٤
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (24)
 
Top