• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کی قسم جشن عید میلاد النبی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
شمولیت
مارچ 10، 2019
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
میلادالنبی کا موجد ابو سعید بن ابی الحسن علی بن محمد الملقب الملک المعظم مظفر الدین اربل (اربل) موصل المتوفی رمضان 630
اور جواز کا فتویٰ دینے والا ابو الخطاب عمر بن الحسن المعروف المتوفی 633ہجری
اس سے قبل نہ صحابہ کرام نے ، نہ تابعین نے، نہ تبع تابعین نے اور نہ ہی سلف میں سے کسی نے منایا۔ اور نہ ہی کسی نے اس کی اجازت دی ، لہذا یہ بدعت ہے۔جس کا وجود ایک بادشاہ کے ہاتھوں محض اپنی بادشاہت قائم رکھنے کے لئے ہوا ہے۔ اور شکم پرست عالم نے اجازت دی۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ
قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعینؒ،تبع تابعینؒ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا
اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ
قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعینؒ،تبع تابعینؒ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا
اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔
@اسحاق سلفی السلام علیکم
محترم،
صحابہ کرام کے ایام منانا کیا بدعت نہیں ہے۔ یوم صدیق اکبررضی اللہ عنہ ، یوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی منائے جاتے ہیں اور مخصوص دن جلوس نکالے جاتے ہیں کانفرنس ہوتی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کافی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا انتقال ہوا آپ نے بھی تو کسی کا ایام نہیں منایا ۔پھر اس دن کو منانے والوں پر بدعت کا فتوی کیوں نہیں لگتا۔ (چاہے چھوٹے پیمانے پر ہی منایا جائے)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
صحابہ کرام کے ایام منانا کیا بدعت نہیں ہے۔ یوم صدیق اکبررضی اللہ عنہ ، یوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی منائے جاتے ہیں اور مخصوص دن جلوس نکالے جاتے ہیں کانفرنس ہوتی ہے ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہوں ، یا ان کے بعد کوئی اور بزرگ کسی کے بھی ولادت و وفات کے ایام منانا جائزنہیں ،
شرع شریف میں کسی کے ایام منانا ثابت نہیں ،اگرکوئی مناتا ہے تو اس سے اس کی دلیل طلب کرناچاہیئے،
ہاں وقتاً فوقتاً انبیا کرام علیہم السلام اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے حالات و سیرت اور فضائل جو صحیح نصوص سے ثابت ہوں خطبات و دروس میں بیان کرنا ایمان کے لوازم سے ہے۔ جیسا کہ اہل حق کے علما وخطبا یہ ذمہ داری نبھاتے رہتے ہیں۔
 

ابو حسن

رکن
شمولیت
اپریل 09، 2018
پیغامات
154
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
76
but I think there is no any issue if we celebrate it what is bidaat in it
محترمہ آپ کا جواب بھی کمال کا ہے

آپ پر یہ مثال کامثبت رہے گی کہ

ایک عالم نے سیدنا یوسف علیہ السلام اور زلیخا کا طویل قصہ بیان کیا اور جب قصہ ختم ہوا تو آپ جیسی محترمہ نے عالم سے یہ سوال کہ یہ زلیخا عورت تھی یا مرد ؟
 
Top