• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابن حبان رح کی کتابیں

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

امید ہے سب برادران خیریت سے ہوں گے

امام ابن حبان کی کتب میں ایک صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان کے نام سے ہے، اور دوسری الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان کے نام سے
ان میں کیا فرق ہے؟
نیز ایک کتاب
موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان کے نام سے بھی ہے؟
ان سب میں کیا فرق ہے؟

شکریہ
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
السلام علیکم

امید ہے سب برادران خیریت سے ہوں گے

امام ابن حبان کی کتب میں ایک صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان کے نام سے ہے، اور دوسری الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان کے نام سے
ان میں کیا فرق ہے؟
نیز ایک کتاب
موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان کے نام سے بھی ہے؟
ان سب میں کیا فرق ہے؟

شکریہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الاحسان یا ترتیب ابن بلبان، حافظ علاءالدین بن علی بن بلبان الفارسی کی صحیح ابن حبان کی فقہی ترتیب کی کاوش ہے۔ موارد الظمآن حافظ ہیثمی کی کتاب ہے جس میں انہوں نے صحیح ابن حبان کی ان روایات کو جمع کیا ہے جو صحیحین میں موجود نہیں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
امام ابن حبان کی کتب میں ایک صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان کے نام سے ہے، اور دوسری الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان کے نام سے
ان میں کیا فرق ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
محترم قاضی صاحب !
امام ابن حبان ؒ
ان کا پورا اسم گرامی : محمد بن حبان بن أحمد بن حبان أبو حاتم، ا البُستي (المتوفى: 354 ھ) ہے ،
انہوں نے شرائط پر صحیح احادیث پر مشتمل کتاب مرتب کی ، جس کا نام ( المسند الصحيح على الأنواع والتقاسيم ) رکھا ،
اس کتاب کی ترتیب سابقہ کتب حدیث سے بالکل مختلف تھی ، یہ نہ فقہی ابواب پر مرتب تھی ، نہ مسانید کی طرز پر تھی ، بلکہ جیسا کہ وہ خود
اپنی کتاب کے شروع میں لکھتے ہیں انکی یہ کتاب حسب ذیل پانچ اقسام پر مشتمل تھی:
(۱) پہلی قسم اللہ تعالی کے بندوں پر احکامات
(۲) دوسری قسم : اللہ نے بندوں کو جن امور سے منع فرمایا ہے
(۳) اخبار و تاریخ و سیر ، جن کی معرفت اہل ایمان کیلئے ضروری ہے
(۴) مباح امور اور اشیاء
(۵) نبی اکرم ﷺ کے خصوصی اور انفرادی افعال و احوال
فرأيتها تنقسم خمسة أقسام متساوية متفقة التقسيم غير متنافية.
فأولها الأوامر التي أمر الله عباده بها.
والثاني النواهي التي نهى الله عباده عنها.
والثالث إخباره عما احتيج إلى معرفتها.
والرابع الإباحات التي أبيح ارتكابها.
والخامس أفعال النبي صلى الله عليه وسلم التي انفرد بفعلها.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ترتیب و طرز تدوین سے طالب علم کیلئے استفادہ کرنے میں بہت مشکلات تھیں ، انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کتاب سے استفادہ کو آسان بنانے کی غرض سے
امام الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي (المتوفى: 739 ھ) جو آٹھویں صدی ہجری کے مصر کے بہت محقق عالم تھے انہوں نے
(الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان ) کے نام سے ابن حبان ؒ کی اس کتاب کو موجودہ ترتیب پر مرتب فرمایا ،
ابن بلبان کی اسی ترتیب کو (صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان ) بھی کہہ دیا جاتا ہے ،
مزید تفصیل کیلئے (الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان ) طبع مؤسسۃ الرسالہ کے نسخہ میں شیخ شعیب الارناؤط کا مقدمہ پڑھیں ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان کے نام سے بھی ہے؟
موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان
مشہور جید محدث أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر الهيثمي (المتوفى: 807هـ) کی کتاب ہے ،
جو صحیح ابن حبان کی ان احادیث کو شامل ہے جو صحیحین میں نہیں ، وہ خود کتاب کے شروع میں لکھتے ہیں :
زَوَائِد صَحِيح أبي حَاتِم مُحَمَّد بن حبَان البستي رَضِي الله عَنهُ على صَحِيح البُخَارِيّ وَمُسلم رَضِي الله عَنْهُمَا مُرَتبا ذَلِك على كتب فقه أذكرها لكَي يسهل الْكَشْف مِنْهَا فَإِنَّهُ لَا فَائِدَة فِي عزو الحَدِيث إِلَى صَحِيح ابْن حبَان مَعَ كَونه فِي شَيْء مِنْهُمَا ‘‘
کہ موارد میں صحیح ابن حبان کی وہ احادیث ہیں جو صحیحین سے زائد ہیں ، اس کو میں نے فقہی ترتیب سے پیش کیا ہے تاکہ تلاش و حصول میں آسانی رہے ، اور مقصد یہ کہ جو صحیح ابن حبان کی جو حدیث صحیحین میں موجود ہے اس کیلئے صحیح ابن حبان کے حوالے کا فائد نہیں ،( اسلئے صرف زوائد
صحیح ابن حبان کا حوالہ دیا جائے جو موارد کی موجودگی میں آسان ہوگا )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top