1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابن شھاب الزھری، مدلس؟؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏مارچ 31، 2011۔

  1. ‏مارچ 31، 2011 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیا امام ابن شھاب الزھری، مدلس تھے؟ please دلایل کے ساتھ ثابت کیجیے۔ جزاک اللہ خیر!
     
  2. ‏مارچ 31، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی مدلس کیا ہوتا ہے
     
  3. ‏مارچ 31، 2011 #3
    siddique

    siddique مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    170
    موصول شکریہ جات:
    895
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    assalm ulukum
    g haan aap muddalis thay.magar sath sath woh bahut siqha bhi thay aur hujjat bhi thay aur bahut mashoor tabai hai.aur ibn omner sahabe kay jalil ul qadar farzand imam salam kay shagird thay.
    example.imam bikhari ki juz fateha khalfil imam ka hafez zubair ali zai nay tahqeeq takhreej aur sharha ke hai.jis ka naam nasr ul bari hai.jo is website per dastiyab hai.muddalis jab عن say riwayat karta hai tu uski hadees zaeef hute hai.jabtak kay woh use hadees ko sama ya haddasna say riwayat na karay.is kitab ki pehle hadees zuhri ki wajhe say zaeef hai.
    muddalis aur tadlis kay baray main hafeez zubair ali zai sahab ki kitab fatawa ilmiya jild no 1 page no 569 per iska jawab deya gaya hai.jo kay tasale baksh hai.aur yeh kitab is websites per maujud hai.
    aur imam zuhuri kay baray main fazail e sahaba kitab page no 134 per inke shaan aur diffa main mukhtasar sa magar tasali bakhs jawab hai.yek kitab ircpk.com per dastiyab hai.agar spell mistake ghalat hu tu darguzar farmaye..allaha hafeez
     
  4. ‏اپریل 01، 2011 #4
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    بھت شکریہ بھائ جان
     
  5. ‏اپریل 01، 2011 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    صدیقی بھائی آپ اردو میں لکھو۔تاکہ سمجھ بھی آئے اس طرح رومن انگلش میں لکھنے سے پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔
     
  6. ‏اپریل 01، 2011 #6
    ابوعمر

    ابوعمر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    358
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

    بتا بھی دیں کہ یہ مدلس کیا ہوتا ہے؟ بڑی بے چینی ہے کیونکہ مدلس کا ذکر حدیث کی تحقیق میں کئی دفعہ پڑھا لیکن سمجھ نہیں آیا کہ ہوتا کیا ہے
     
  7. ‏اپریل 02، 2011 #7
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    بھائ جان، مدلس وہ ھوتا ھے جو احادیث میں تدلیس کرتا ھے، یعنی وہ کسی ایسے شخص سے حدیث بیان کرے جس سے اس نے وہ حدیث براہ راست نہ سنی ھو، اور وہ درمیان میں اس راوی کو حظف کر جائے جس سے اس نے واقعی میں وہ حدیث سنی تھی۔

    مثلاً، ایک سند ھے، "حدثنا وکیع،--سفیان، عن عاصم، عن علقمہ، عن ابن مسعود۔

    یہ سند ضعیف ھے، کیوں کہ اس میں سفیان مدلس ھیں، یعنی انھوں نے یہ حدیث براہ راست عاصم سے نھی سنی، بلکے درمیان سے ایک راوی کو حذف کیا ھے۔ جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ھے۔ جب کوئ مدلس "عن" سے حدیث بیان کرے، تو اس میں وہ اس بات کی وضاحت نھی کرتا کہ اس نے اس سند میں کسی راوی کو گرایا ھے یا نھی، لہذا اس شبہ کی بنا پر اس کی حدیث جو عن سے مروی ھوتی ھے قابل احتجاج نھی ھوتی۔

    امام ابن الصلاح مدلس کے بارے میں فرماتے ھیں کہ:

    "مدلس پر حکم یہ ھے کے، اس کی صرف وھی حدیث قابل احتجاج ھو گی جس میں وہ سماع کی تصریح کرے، اور یہ حکم ھر اس شخص پر ھے جس نے صرف ایک بار بھی تدلیس کی ھو۔ (مقدمہ ابن الصلاح)

    لہذا، اگر مدلس سماع کی تصریح کرے، جیسے اگر کہے، "حدثنی" مجھے بیان کیا، یا "سمعت" میں نے سنا، یا "اخبرنی" مجھے خبر دی، یا ان جیسے الفاظ استعمال کرے، جس میں سماع کی تصریح موجود ھے تو تب اس کی حدیث قابل احتجاج ھو گی۔

    تفصیل کے لیے شیخ زبیر علی ذئی کی کتاب "التاسیس فی مصلہ التدلیس" کا مطالعہ کریں۔
     
  8. ‏اپریل 02، 2011 #8
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں