1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیاں اکٹھا کر رہے ہیں

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏جنوری 17، 2019۔

  1. ‏جنوری 17، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    903
    موصول شکریہ جات:
    245
    تمغے کے پوائنٹ:
    142

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    ایک دفعہ امام ابو حنیفہ نے خواب میں رسول للہ صل الله علیہ وسلم کی ہڈیوں کو بھکرے ہوئے دیکھا - آپ بہت پریشان ہوئے- آپ جلدی سے دوڑے، اور ہڈیوں کو اکھٹا کیا- اگلے دن آپ ابن سیرین رحم الله کے پاس گئے اور یہ خواب سنایا- تو ابن سیرین رحم الله نے آپ کو بشارت دی- کے مبارک ہو ابو حنیفہ- تم رسول کے دین کو، انکی احادیث کو اکھٹا کرو گے-
    کہا جاتا ہے- کہ یہ خواب فقہ حنفی کی بنیاد کی بشارت تھی-

    اس واقعہ کی کیا حقیقت ہے ؟ اس متعلق تفصیل سے بتائیں یہ واقعہ تاریخ بغداد اور امام ابن عبد البر رحمہ اللہ سے مختلف سندوں سے بیان ہوا ان ۔۔۔ ان تمام سندوں کے بارے میں تفصیلی جواب درکار ہے

    جزاک اللہ خیرا
    @خضر حیات
    @اسحاق سلفی
    @ابن داود
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 18، 2019 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علىكم ورحمة الله وبركاته!
    میرا لیپ ٹاپ ٹھیک ہو جائے، تو میں اس کی تفصیل درج کرتا ہوں، ان شاء الله
     
  3. ‏جنوری 18، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    903
    موصول شکریہ جات:
    245
    تمغے کے پوائنٹ:
    142

    انتظار رہے گا ۔
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏اپریل 30، 2019 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,613
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ?
     
  5. ‏مئی 01، 2019 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,762
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    ہم اجتماعی طور پر آپ کے لیپ ٹاپ کی صحت یابی کے ل
    ئے دعا گو ہیں۔ ابتسامہ
     
  6. ‏جولائی 16، 2019 #6
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,662
    موصول شکریہ جات:
    422
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    اِس روایت اور اِس کی مختلف سندوں کی تفصیل اور تبصرہ اللمحات کی ۲ جلد کے صفحہ ۳۳۴ سے ۳۵۴ میں موجود ہے۔
     
  7. ‏جنوری 26، 2020 #7
    asad farhan

    asad farhan مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 29، 2017
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

     
  8. ‏جنوری 29، 2020 #8
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    آپ نے جواب اقتباس ہی میں لکھ دیا ہے۔

    الجواب :
    اس خواب کی سند بالکل صحیح ہے اور یہ خواب شرعی طور پر تو حجت نہیں ہوتے ہیں لیکن فضائل میں خواب تسلیم کیے جاتے ہیں جس میں کسی کی فضیلت ہو اور یہ فضیلت امام ابن سیرین نے بتائی ہے اس خواب سے تو اسکو قبول کیا جائے گا ۔۔۔۔ باقی اس کی سند کی تفصیل کا مطالبہ ہو یا کسی راوی کا ترجمہ تو مجھے ٹیگ کر کے پوچھ سکتے ہیں
     
  9. ‏مارچ 29، 2020 #9
    اسد الطحاوی الحنفی

    اسد الطحاوی الحنفی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 15، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    43
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    یہ یہ واقعہ ثابت ہے جمہور محدثین و مفسررین اور شارحین نے یہ واقعہ امام اعظم کی سیرت اور فضائل و مناقب میں نقل کیا ہے اور اسکی سند ثابت ہے اس پر اپنی تحقیق پیش کرتا ہوں اگلے جواب میں
     
  10. ‏مارچ 29، 2020 #10
    اسد الطحاوی الحنفی

    اسد الطحاوی الحنفی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 15، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    43
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    چناچہ امام خطیب البغدادی یو ں تاریخ میں اسکی سند بیان کرتے ہیں :
    اخبرنا القاضی ابو بکر محمد بن عمر الداودی ،قال: اخبرنا عبیداللہ احمد بن یعقوب امقری قال حدثنا محمد بن محمد بن سلیمان الباغندی قال حدثنی شُعَيْبُ بنُ أَيُّوْبَ الصَّرِيْفِيْنِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الحِمَّانِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا حَنِيْفَةَ يَقُوْلُ:
    رَأَيْتُ رُؤْيَا أَفزَعَتْنِي، رَأَيْتُ كَأَنِّي أَنبُشُ قَبْرَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَتَيْتُ البَصْرَةَ، فَأَمَرتُ رَجُلاً يَسْأَلُ مُحَمَّدَ بنَ سِيْرِيْنَ.
    فَسَأَلَه، فَقَالَ: هَذَا رَجُلٌ يَنبُشُ أَخْبَارَ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-.

    تاریخ بغداد میں ایک مردود اور ضعیف واقعہ ہے کہ امام صاحب نے خواب میں دیکھا کہ میں قبر نبوی کو کھود رہا ہوں اور وہاں کی ہڈیاں جمع کرکے ترتیب سے رکھ رہا ہوں۔۔لٰہذا ابو حنیفہ نے کہا میں بصرہ گیا اور ایک اآدمی(مجہول) سے کہا کہ جاکر ابن سیرین سے تعبیر معلوم کرو، اس نے ابن سیرین سے پوچھا تو انہونے فرمایا کہ خواب دیکھنے والا اخبار نبویہ یعنی احادیث نبویہ کا استخراج کرےگا۔


    راویان کا مختصر تعارف بیان کر رہا ہوں :

    ۱۔ سند کا پہلا راوی :
    القاضی ابو بکر محمد بن عمر الداودی

    امام خطیب اور امام ذھبی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

    322- محمد بن عمر بن محمد القاضي
    أبو بكر بن الأخضر الدّاوديّ الفقيه.
    بغداديّ ثقة، إمام.
    سمع: أبا الحسن بن لؤلؤ، وأبا الحسين بن المظفَّر، وجماعة.
    وثّقه الخطيب وروى عنه.
    (تاریخ الاسلام ، امام ذھبی)

    ۲۔سند کا دوسرا راوی:
    عبیداللہ احمد بن یعقوب امقری

    امام خطیب بغدادی انکی الازدی اور امام عتیقی سے توثیق بیان کرتے ہیں :

    5522 عبيد الله بن أحمد بن يعقوب بن أحمد بن عبيد الله، أبو الحسين المقرئ، يعرف بابن البواب
    سمع الحسن بن الحسين الصواف، ومحمد بن الحسين بن حفص الأشناني، والحسن بن محمد المخرمي، وأحمد بن عبد الله بن سابور الدقاق، وإسماعيل بن موسى الحاسب، وأبا صخرة الكاتب، ومحمد بن محمد الباغندي. وإسحاق بن بيان الأنماطي، وأبا القاسم البغوي، والحسين بن محمد بن شعبة وأبا الليث الفرائضي، وإسحاق بن محمد بن مروان الغزال. حدثنا عنه الحسن بن محمد الخلال.
    والأزهري، والعتيقي، والتنوخي، وأبو القاسم الأزجي، وأحمد بن عمر بن روح النهرواني.
    سمعت الأزهري ذكر ابن البواب فقال: ثقة.
    أخبرنا الأزهري والعتيقي. قالا: توفى أبو الحسين بن البواب المقرئ في شهر رمضان من سنة ست وسبعين وثلاثمائة.
    قال العتيقي: يوم الأحد لأربع بقين من شهر رمضان قال: وكان ثقة مأمونا.
    (تاریخ بغداد)


    ۳۔ تیسرا راوی : محمد بن محمد بن سلیمان الباغندی
    امام ابن شاہین تاریخ الثقات میں امام ابن خثیمہ سے انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وذکر ابو بکر محمد بن محمد بن سلیمان بن الحارث الباغندی فقات: ثقہ کثیر الحدیث ۔(تاریخ الثقات ص 238)

    امام ابن حبان نے الباغندی کو ثقات میں درج کیا ہے اور وہ لکھتے ہیں : محمد بن سلیمابن بن الحارث ابکر بکر الباغندی سکن بغداد یروی عن عبید اللہ بن موسیٰ القراقین (وہ منفرد نہیں )
    (کتاب الثقات جلد ۱ ، ص 149)


    ۴۔چوتھا راوی: شعیب بن ایوب
    الصريفيني یہ صدوق ہیں اور تدلیس کرتے تھے
    2794- شعيب ابن أيوب ابن رزيق الصريفيني القاضي أصله من واسط صدوق يدلس من الحادية عشرة مات سنة إحدى وستين د
    (تقریب التہذیب)

    ۵۔ پانچواں راوی : امام ابو یحییٰ الیمانی شاگرد ابی حنیفہ ہیں جو ان سے یہ خواب بتانے والے ہیں

    امام ابن معین ایک جگہ کہتے ہیں ـ ابو یحییٰ الحمانی و ابنہ ثقہ

    اور پھر فرماتے ہیں ابو یحییی الحمانی ثقہ
    اور اس سے حدیث بھی روایت کرتے ہیں
    (تاریخ ابن معین ص 516 اور 670)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں