• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ترمذی کے طرزعمل سے متعلق ایک سوال ؟؟؟؟؟؟

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
دراصل ترمذی کا ذکر کرکے اورامام ترمذی کے ذریعہ مختلف مسائل کے بیان میں ائمہ اہل حدیث وفقہ کی آراء کے بیان کے اہتمام کودیکھ کر ایک سوال کرنے کوجی چاہ رہاہے۔امام ترمذی امام بخاری کے قریبی شاگرد ہیں،ان سے بہت استفادہ کیاہے،جس کو متعدد مقامات پر انہوں نے بیان بھی کیاہے،امام بخاری کی فقاہت سے ان سے زیادہ کون واقف ہوگا،اسی کے ساتھ وہ یہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ کس مسئلہ میں امام بخاری کا کیاقول ہے؟ان سب کے باوجود انہوں نے مسائل کے باب میں امام بخاری کاتذکرہ کیوں نہیں کیا؟یہ ایک علمی سوال ہے مسلکی گروہ بندی سے اسے تعلق نہیں،آخر یہ وضاحت توہونی چاہئے ناکہ امام ترمذی اسحاق فرازی کاذکرتے ہیں،یحیی بن سعید القطان کا ذکر کرتے ہیں،سفیان ثوری کا ذکر کرتے ہیں، اہل کوفہ کے عنوان سے امام ابوحنیفہ کا ذکر کرتے ہیں،امام وکیع کا ذکر کرتے ہیں اوردیگر محدثین کا بھی ذکر کرتے ہیں بس ذکر نہیں کرتے ہیں تو امام بخاری کا ،وجہ کیاہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
شاید اس لیے کہ امام بخاری علیہ الرحمہ کا کوئی خاص فقہی مذہبِ متبوع نہیں تھا ۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
امام بخاری احادیث پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور فقہ کو صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کرتے تھے جیسے اپنے تراجم میں، وغیرہ۔ باقی فقہاء کی طرح انہوں نے خاص افتاء کے فرائض انجام نہیں دیے۔ واللہ اعلم۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
امام ترمذی کی وجہ جو بھی رہی ہو، امام بخاری کے بے شمار شیوخ اور تلامذہ جنہوں نے ان کے لئے سید الفقہاء وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں، انہوں نے کچھ دیکھ کر یا سن کر ہی یہ کہا ہو گا نا۔ اور پھر ضروری تو نہیں کہ امام ترمذی نے اگر ان سے حدیث کا علم لیا تو فقہ کا علم بھی لیتے۔ سکول میں آپ کیا ہر کلاس ایک ہی استاد سے پڑھتے تھے کیا؟ نہیں، لہٰذا محض امام ترمذی کے طرز عمل پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص کر جب ہمیں ان کی اصل وجہ ہی نہیں پتہ۔
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
شاید اس لیے کہ امام بخاری علیہ الرحمہ کا کوئی خاص فقہی مذہبِ متبوع نہیں تھا ۔
یہ وجہ اس لئے درست نہیں لگتاہےکہ عبداللہ بن المبارک اور یحیی بن سعید القطان کا بھی کوئی خاص مذہب متبوع نہیں تھا،اس کے باوجود ان کے اقوال ذکر کئے گئے ہیں، مذہب متبوع سے مراد یہ ہے کہ ان کے نام سے کوئی فقہی مسلک قائم ہو جیساکہ امام احمد بن حنبل اوراسحاق فزاری وغیرہ کے نام سے مسلکی سلسلہ قائم ہواتھا۔
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
امام ترمذی کی وجہ جو بھی رہی ہو، امام بخاری کے بے شمار شیوخ اور تلامذہ جنہوں نے ان کے لئے سید الفقہاء وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں، انہوں نے کچھ دیکھ کر یا سن کر ہی یہ کہا ہو گا نا۔ اور پھر ضروری تو نہیں کہ امام ترمذی نے اگر ان سے حدیث کا علم لیا تو فقہ کا علم بھی لیتے۔ سکول میں آپ کیا ہر کلاس ایک ہی استاد سے پڑھتے تھے کیا؟ نہیں، لہٰذا محض امام ترمذی کے طرز عمل پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص کر جب ہمیں ان کی اصل وجہ ہی نہیں پتہ۔
اگرآپ خودغورکریں گے تواس جواب کاضعف معلوم ہوجائے گا،موجودہ دورمیں محدثین پر کتابیں لکھی جارہی ہیں، ان کتابوں میں ان کے ایک ایک طرزعمل کی وجہ اورسبب معلوم کیاجارہاہے،امام مسلم نے حدیث معنعن میں لقاء کی شرط لگانے والوں کے خلاف سخت جملہ کیوں استعمال کیا،امام نسائی نے احمد مصری کے خلاف تنقید غیرسدید کیوں کی،عقیدہ خلق قرآن کا جرح وتعدیل میں کیااثر پڑاہےوغیرذلک،
یہ بھی تحقیق کا ایک موضوع ہے،اوراس کو اسی نظریہ سے دیکھناچاہئے،امام بخاری کی تنقیص شان اورسوئے ادب کااس میں کوئی پہلونہیں ہے،دیگرحضرات نے ان کی فقاہت میں بڑے شاندار کلمات کہے ہیں، وہ سرآنکھوں پر،مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امام بخاری کے قریبی اورجلیل القدر شاگردوںمیں سے ایک امام ترمذی جنہیں اپنے امام بخاری کی طویل عرصہ تک شاگردی کا شرف حاصل رہاہے،اگروہ ایساکررہے ہیں تواس کی کیاوجہ ہوسکتی ہے؟
دوسرے لفظوں میں کہیں تویہ ایک تاریخی عقدہ لاینحل کی عقدہ کشائی کی جانب پہلاقدم ہے۔
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
318
پوائنٹ
127
میرے خیال میں امام بخاری کا شمار محدثین اور جرح و تعدیل کرنے والوں میں ہوتا ہے فقہاء یا فقہی اقوال میں انکا شمار نہیں ہوتا ہے اگرچہ انکی فقاہت کافی ٹھوس تھی اسی لئے جرح و تعدیل میں انکے آراء و اقوال کو ضرور دیکھیں گے حتی کہ کسی کی جرح اور تعدیل میں امام بخاری ،علی بن مدینی ،اور یحی بن معین جمع ہوجایئں تو ان کا اجتماع ہونا کافی ہے ۔واللہ اعلم بالصواب
 

HUMAIR YOUSUF

رکن
شمولیت
مارچ 22، 2014
پیغامات
191
ری ایکشن اسکور
56
پوائنٹ
57
یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتب میں ضعیف احادیث کیوں داخل کیں؟ جبکہ انکے استاذ محترم امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں صرف صحیح حدیث کو درج کرنے کا التزام کیا؟ یعنی امام ترمزی یہاں بھی اپنے استاذ کے منہج سے ہٹ گئے؟
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتب میں ضعیف احادیث کیوں داخل کیں؟ جبکہ انکے استاذ محترم امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں صرف صحیح حدیث کو درج کرنے کا التزام کیا؟ یعنی امام ترمزی یہاں بھی اپنے استاذ کے منہج سے ہٹ گئے؟
یہ درست نہیں ہے!امام بخاری نے صحت کاالتزام صرف الجامع الصحیح میں کیاہے،ورنہ امام بخاری کی ہی تالیف "الادب المفرد "بھی ہے اورالادب المفرد کو البانی صاحب نے دوحصوں میں تقسیم کردیاہے،صحیح الادب المفرد،اورضعیف الادب المفرد،اس سے پتہ چلتاہے کہ امام بخاری بالکلیہ ضعیف احادیث کے خلاف نہیں تھے یاان کی تمام کتابیں ضعیف احادیث سے خالی نہیں ہیں، دوسری جانب امام ترمذی ضعیف حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کا مقام ومرتبہ بیان کردیتے ہیں، راوی کے صحت وسقم کی جانب اشارہ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے امام ترمذی کے یہاں ضعیف احادیث ہونے کے باوجود کسی کے اس کوصحیح سمجھ لینے کا خطرہ نہیں ہے، جب کہ الادب المفرد میں ایسانہیں ہے۔
 

HUMAIR YOUSUF

رکن
شمولیت
مارچ 22، 2014
پیغامات
191
ری ایکشن اسکور
56
پوائنٹ
57
یہ درست نہیں ہے!امام بخاری نے صحت کاالتزام صرف الجامع الصحیح میں کیاہے،ورنہ امام بخاری کی ہی تالیف "الادب المفرد "بھی ہے اورالادب المفرد کو البانی صاحب نے دوحصوں میں تقسیم کردیاہے،صحیح الادب المفرد،اورضعیف الادب المفرد،اس سے پتہ چلتاہے کہ امام بخاری بالکلیہ ضعیف احادیث کے خلاف نہیں تھے یاان کی تمام کتابیں ضعیف احادیث سے خالی نہیں ہیں، دوسری جانب امام ترمذی ضعیف حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کا مقام ومرتبہ بیان کردیتے ہیں، راوی کے صحت وسقم کی جانب اشارہ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے امام ترمذی کے یہاں ضعیف احادیث ہونے کے باوجود کسی کے اس کوصحیح سمجھ لینے کا خطرہ نہیں ہے، جب کہ الادب المفرد میں ایسانہیں ہے۔
جزاک اللہ ٰخیرا @رحمانی بھائی، تو اس طرح کی کوشش امام ترمزی رحمہ اللہ نے نہیں کی کہ کچھ اس طرح ایک کتاب بالکل صحیح احادیث کی مرتب کردیتے جیسے انکے استاد ، امام بخاری رحمہ اللہ نے کی؟
 
Top