• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام دارقطنی کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا مقام - اور امام دارقطنی پر بعض الزامات کے جواب

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
یہ شوشہ سب سے پہلے أَبُو بَكْرِ بْنُ إسْحَاقَ نے چھوڑا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ بھول جاتے تھے ان کے اختلاف قرات پر بعض اقوال کی بنیاد پر یہ دعوی کیا کہ اس کو بھی بھول گئے تھے
صحابہ’ اور امہات المومنین سے بغض اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ ترک رفع کی حدیث کو ابن ابی حاتم معلول کہتے ہیں اور البانی صحیح کہتے ہیں لیکن اہل حدیث مصر رہتے ہیں کہ البانی سے غلطی ہوگئی اور ابن ابی حاتم کی بات لی جائے۔
بھائی جو مسائل آپ کے بس کی بات نہیں ، ان میں دخل نہ دیا کریں ، اب اگر آپ سے حوالہ پوچھ لیا جائے کہ ابو بکر الفقیہ کی عبارت دکھائیں جس میں انہوں نے یہ کہا ہو کہ ’’ ابن مسعود بھول جاتے تھے ‘‘ تو آپ بھی آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کردیں گے ۔
اور پھر آپ کو ابن ابی حاتم اور البانی کے درمیان ’’ بغض صحابہ ‘‘ کیسے الہام ہوگیا ہے ۔؟
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
یہ امام صاحب کو اللہ کی طرف سے بشارت ملنا صحیح ہے ۔۔۔یا ۔۔۔غلط
صاحب ’‘ درمختار ’‘ نے ٹھیک لکھا ہے ۔۔یا ۔۔غلط ؟؟؟

آپ کا جواب ملنے پر آپ کے ۔۔تاريخ بغداد ۔۔والے قصہ کا جواب ان شاء اللہ آپ کو دیا جائے گا ؛
امام ابو حنیفہ کی تعلیمات میں کیا اس بات پر زور نہیں دیا جاتا کہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر آپ کا اس طرح سے حیران ہونا میری سمجھ میں نہیں آتا کیوں کسی اور تھریڈ میں آپ ہی کی جانب سے یہ حدیث پیش کی گئی ہے کہ
بقلم اسحاق سلفی صاحب
ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر‏.‏») ضرور بیان کرتے۔

اب اگر امام ابو حنیفہ اپنے مقلدوں جو کہ کلمہ طیبہ پڑھنے والے ہیں جنت کی بشارت دیں تو اس میں حیرانی والی کیا بات ہے حیرانی تو اس وقت ہونی چاہئے جب کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پر یقین نہ کرےجیسا کہ صحیح مسلم میں بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو ھریرہ سے ارشاد فرمایا کہ "جو کلمہ طیبہ کی گواہی دلی یقین سے دے اس کو جنت کی بشارت دے دو " اور یہ ارشاد سن کر حضرت ابو ھریرہ وہاں سے چلے اور جو شخص سب سے پہلے ملا اس کو یہ بشارت سنائی اب ہونا تو یہ چاہئے تھا یہ بشارت سن کر ایسے دلی یقین کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھ کر اس بشارت کو قبول کرلینا تھا لیکن ہوا اس کے بر عکس کہ جنت کی اس بشارت کو سن کر وہ غصہ ہوگئے اور ایک زور دار ضرب حضرت ابو ھریرہ کے لگائی
امید ہے اب مجھے بھی اپنے سوال کا جواب مل جائے گا ان شاء اللہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
بہرام صاحب فرماتے ہیں ::
امام ابو حنیفہ کی تعلیمات میں کیا اس بات پر زور نہیں دیا جاتا کہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر آپ کا اس طرح سے حیران ہونا میری سمجھ میں نہیں آتا کیوں کسی اور تھریڈ میں آپ ہی کی جانب سے یہ حدیث پیش کی گئی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیارے !
آپ نے شاید ہماری بات پڑھی ہی نہیں ۔۔۔یا ۔۔پڑھنے کے باوجود حسب سابق سمجھی نہیں ؟
ساری رات کی ایک ٹانگ والی عبادت کے بعد ۔۔۔ھاتف غیب ۔۔نے براہ راست عرش کا پیام سنایا ۔۔۔کہ جا ہم نے تجھے اور تیرے مقلدوں کو بخش دیا
اصل عبارت درج ذیل ہے ::(جو ہم نے اپنے پاس موجود ۔۔درمختار شریف ۔۔سے دیکھنے کے بعدنقل کی ہے )

آپ کو شاید کسی حنفی مولوی نے یہ نہیں بتایا کہ ۔۔۔امام ابو حنیفہ نے کعبہ میں شب بیداری کرکے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کردو رکعتوں میں پورا قرآن ختم کردیا،
اور اس کے بعد بذریعہ ھاتف غیب بخشش کا سرٹیفکیٹ حاصل ۔۔اور اپنے ہر مقلد کی بخشش سرکلر بھی جاری کروایا:

مقدمہ الدر المختار
وفي حجته الاخيرة استأذن حجبة الكعبة بالدخول ليلا، فقام بين العمودين على رجله اليمنى ووضع اليسرى على ظهرها حتى ختم نصف القرآن، ثم ركع وسجد، ثم قام على رجله اليسرى ووضع اليمنى على ظهرها حتى ختم القرآن، فلما سلم بكى وناجى ربه وقال: إلهي ما عبدك هذا العبد الضعيف حق عبادتك، لكن عرفك حق معرفتك فهب نقصان خدمته لكمال معرفته، فهتف هاتف من جانب البيت: يا أبا حنيفة قد عرفتنا حق المعرفة وخدمتنا فأحسنت الخدمة، قد غفرنا لك ولمن اتبعك ممن كان على مذهبك الى يوم القيامة.
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,896
پوائنٹ
436
بھائی جو مسائل آپ کے بس کی بات نہیں ، ان میں دخل نہ دیا کریں ، اب اگر آپ سے حوالہ پوچھ لیا جائے کہ ابو بکر الفقیہ کی عبارت دکھائیں جس میں انہوں نے یہ کہا ہو کہ ’’ ابن مسعود بھول جاتے تھے ‘‘ تو آپ بھی آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کردیں گے ۔
اور پھر آپ کو ابن ابی حاتم اور البانی کے درمیان ’’ بغض صحابہ ‘‘ کیسے الہام ہوگیا ہے ۔؟
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,896
پوائنٹ
436
امام ابو حنیفہ کی تعلیمات میں کیا اس بات پر زور نہیں دیا جاتا کہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر آپ کا اس طرح سے حیران ہونا میری سمجھ میں نہیں آتا کیوں کسی اور تھریڈ میں آپ ہی کی جانب سے یہ حدیث پیش کی گئی ہے کہ
بقلم اسحاق سلفی صاحب
ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر‏.‏») ضرور بیان کرتے۔

اب اگر امام ابو حنیفہ اپنے مقلدوں جو کہ کلمہ طیبہ پڑھنے والے ہیں جنت کی بشارت دیں تو اس میں حیرانی والی کیا بات ہے حیرانی تو اس وقت ہونی چاہئے جب کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پر یقین نہ کرےجیسا کہ صحیح مسلم میں بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو ھریرہ سے ارشاد فرمایا کہ "جو کلمہ طیبہ کی گواہی دلی یقین سے دے اس کو جنت کی بشارت دے دو " اور یہ ارشاد سن کر حضرت ابو ھریرہ وہاں سے چلے اور جو شخص سب سے پہلے ملا اس کو یہ بشارت سنائی اب ہونا تو یہ چاہئے تھا یہ بشارت سن کر ایسے دلی یقین کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھ کر اس بشارت کو قبول کرلینا تھا لیکن ہوا اس کے بر عکس کہ جنت کی اس بشارت کو سن کر وہ غصہ ہوگئے اور ایک زور دار ضرب حضرت ابو ھریرہ کے لگائی
امید ہے اب مجھے بھی اپنے سوال کا جواب مل جائے گا ان شاء اللہ

 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
پیارے !
آپ نے شاید ہماری بات پڑھی ہی نہیں ۔۔۔یا ۔۔پڑھنے کے باوجود حسب سابق سمجھی نہیں ؟
ساری رات کی ایک ٹانگ والی عبادت کے بعد ۔۔۔ھاتف غیب ۔۔نے براہ راست عرش کا پیام سنایا ۔۔۔کہ جا ہم نے تجھے اور تیرے مقلدوں کو بخش دیا
اصل عبارت درج ذیل ہے ::(جو ہم نے اپنے پاس موجود ۔۔درمختار شریف ۔۔سے دیکھنے کے بعدنقل کی ہے )
جی ماموں !
میں سمجھا نہیں کہ آپ کس بات پر اعتراض فرمارہے ہیں امام ابو حنفیہ کے اللہ تعالیٰ عبادت کرنے پر یا ان کا ساری رات قرآن کی تلاوت کرنے پر یا ہاتف سے آواز آنے پر وضاحت فرمادیں کہ ان میں کس بات پر آپ کو اعتراض ہے
اور دوسری بات یہ کہ میں مانتا ہوں کہ آپ نے یہ عبارت درمختار کو دیکھ کر نقل فرمائی ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ نے جو یہ فرمایا ہے "ھاتف غیب ۔۔نے براہ راست عرش کا پیام سنایا"
اس میں عرش کس لفظ کے ترجمہ کے طور سے فرمایا ہے کیونکہ آپ کے پیش کئے گئے متن کی عربی کچھ اس طرح ہے
فهتف هاتف من جانب البيت: اس عربی متن میں نہ غیب کا کہیں ذکر ہے اور نہ عرش کا یعنی اس کا سیدھا معنی یہ ہوا کہ آپ نے درمختار کی عبارت کا مطلب جیسا آپکے نفس امارہ نے کہا ویسا ہی سمجھ لیا اور ایک ظن باطل کی بناء پر آپ نے امام ابوحنیفہ پر ایک بیکار کا الزام لگا دیا
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں نے اپنا مصحف نہیں جلایا- عثمان رضی الله عنہ کا یہ احتیاط کے لئے ایک عام حکم تھا لیکن جن کی حثیت مسلمہ تھی ان سے اس کی بازپرس نہیں کی گئی کیونکہ انہی کے دور میں قرآن آیا تھا اصل خرابی تو شمال کے ان نو مسلم علاقوں میں تھیں جہاں تلفظ کی وجہ سے مفھوم بدل رہا تھا

عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ بھولے نہیں- کیونکہ یہ فرض نہیں اور سجدہ رکوع اور تشہد جیسا فعل نہیں اس پر جھگڑا بہت قدیم ہے یہ ایک رائے ہے جس طرح اہل حدیث کی رائے ہے کہ ابن مسعود رضی الله عنہ بھول گئے-

اپنے مخصوص فقہی مسائل کے اثبات کے لئے صحابہ تک کو تختہ مشق بنانا ان پر ظلم ہے جس سے توبہ کرنی چاہیے

یہ شوشہ سب سے پہلے أَبُو بَكْرِ بْنُ إسْحَاقَ نے چھوڑا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ بھول جاتے تھے ان کے اختلاف قرات پر بعض اقوال کی بنیاد پر یہ دعوی کیا کہ اس کو بھی بھول گئے تھے
بہت خوب شکریہ
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
جامع ترمذی: (3799) میں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ نے فرمایا: (مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا؛ چنانچہ تم میرے بعد لوگوں کی اقتدا کرنا -آپ نے ابو بکر اور عمر کی جانب اشارہ فرمایا - اور عمار کے طریقے کو اپنانا، اور جو تمہیں ابن مسعود احادیث بیان کریں، انکی تصدیق کرنا)" البانی نے اسے "صحیح ترمذی" میں صحیح قرار دیا ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 10، 2013
پیغامات
389
ری ایکشن اسکور
142
پوائنٹ
91
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے بارے میں جتنی بھی لوگوں نے جرح کی ہے انہوں نے بعض چیزیں سامنے رکھ کر کی تھی یہ میرہ اپنا خیال ہے اس مین سب سے نمایاں ان کا عجمی ہونا تھا۔۔اور آپ احادیث میں کم تھے یقنن آپ اہل راء تھے لیکن آپ میں یہ بات تھی کہ غلط ہونے پر آپ رجوع کر لیتے تھے فقہ حنفی مختلف مراحل میں مرتب ہوئی ہے اس کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے تھوڑہ سا تعلق ہے ۔۔ بنو عباس کے دور میں عرب و عجم کا فرق صاف ظاہر ہوگیا تھا۔۔ بعض اہل علم و حدیث نے آپ پر جرح میں زیادتی بھی کردی ۔ ۔
 
Top