• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام سفیان ثوری کی کلبی سے روایت صحیح ہوتی ہے

ابوتراب

مبتدی
شمولیت
جنوری 10، 2017
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
29
محمد بن السائب الکلبی کا باوجود کذاب ہونے کے جب امام سفیان ثوری اس سے روایت کرے تو روایت صحیح یا حسن ہوتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نےخودکہا ہے؛

حدثنا أبراهيم بن عبد الله بن منذر الباهلى، أخبرنا يعلى بن عبيد قال قال لنا سفيان الثوري اتقوا ‌الكلبى. ‌فقيل له لانك تروى عنه. قال أنا أعرف صدقه من كذبه (العلل الصغیر للترمذی:ص۔739 وسندہ صحیح)

سفیان ثوری نے کہا کہ کلبی سے بچو کسی نے ان سے کہا کہ آپ جو کلبی سے نقل کرتے ہیں؟ توانہوں نے فرمایا کہ میں اس کے سچ اورجھوٹ کو پہچانتا ہوں۔

سفیان ثوری نے صراحت کی ہے کہ ان کو کلبی کی روایات کی تمیز تھی لہذا ان کی کلبی سے روایت صحیح یا حسن ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہوسکتا ہے کی سفیان ثوری کو کیسے علم ہوسکتا ہےکہ کلبی کب جھوٹ بول رہا ہے اور کب سچ؟

تو اس کا جواب ہے کہ کلبی نے خود سفیان ثوری کو اپنی ضعیف اور صحیح روایات کی تمیزکرا دی تھی۔

حدثنا عبد الرحمن نا عمر بن شبة نا أبو عاصم النبيل قال زعم لي ‌سفيان ‌الثوري قال قال لنا ‌الكلبي: ما حدثت عني عن ‌أبي ‌صالح عن ابن عباس فهو كذب فلا تروه (الجرح والتعدیل: 7/271 وسندہ صحیح)

سفیان ثوری نے کہا: "ہمیں کلبی نے بتایا کہ تجھے جو بھی میری سند سے عن ابی صالح عن ابن عباس بیان کیا جائے تو وہ جھوٹ ہے اسے روایت نہ کرنا"
 
Last edited:

ایوب

رکن
شمولیت
مارچ 25، 2017
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
-3
پوائنٹ
62
ماشآء اللّٰه بہت عمدہ @ابو تراب ، بعض گالی باز کی کمیٹ کو نظر انداز کیجئے گا۔ جب کوئی تحقیقی پوسٹ ڈالتا ہے تو ان کے سینوں پر سانپ لوٹتا ہے۔ اور اگر یہ گالی باز گینگ کچھ بھی بے سند، ضعیف، موضوع، غلظ تراجم کے ساتھ بھی پوسٹ کرے تو اس پر سوال بھی پوچھ لو تو پرسنل میں گالیاں بکنے لگے نگے۔
 

ابوتراب

مبتدی
شمولیت
جنوری 10، 2017
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
29
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
علم الحدیث کے یہ گل پارے کس کے کشید کردہ ہیں؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ایک صاحب نے مجھے ارسال کیا تھا تو میں نے جواب کی غرض سے شیوخ کی خدمت میں رکھا تھا۔ ان شآء اللہ جب کسی شیخ کے پاس وقت ہو تو جواب کا منتظرہوں۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,722
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
کسی مجروح راوی، اور وہ بھی جس پر ''كذاب'' کی جرح ثابت بھی ہو، اور مقبول بھی، اس پر کسی کی توثیق تک مقبول نہیں ہو سکتی، چہ جائیکہ کہ جارح کے کلام میں خود اس کے كذاب ہونے کی جرح ہو، لیکن محض اس سے روایت نقل کرنے سے دیگر ائمہ کی ''كذاب'' کی جرح رفع ہو سکے!
اول تو امام سفیان ثوری کے اس کلام کے ثبوت میں بھی کلام ہے!
دوم کہ امام سفیان ثوری رحمه الله کے اپنے اسی كلام میں خود محمد بن سائب الكلبی پر كذاب کی جرح ہے،
سوم سفیان ثوري رحمه الله کی محمد بن سائب الكلبی سے روایت کا مقصود ائمہ حدیث نے یوں بیان کیا ہے:
باب في رواية الثقة عن غير المطعون عليه أنها تقويه، وعن المطعون عليه أنها لا تقويه حدثنا عبد الرحمن قال سألت أبي عن رواية الثقات عن رجل
غير ثقة مما يقويه؟ قال إذا كان معروفا بالضعف لم تقوه روايته عنه وإذا كان مجهولا نفعه رواية الثقة عنه.
حدثنا عبد الرحمن قال سألت أبا زرعة عن رواية الثقات عن رجل مما يقوى حديثه؟ قال أي لعمري، قلت: الكلبي روى عنه الثوري، قال إنما ذلك إذا لم يتكلم فيه العلماء، وكان الكلبي يتكلم فيه، قال أبو زرعة حدثنا أبو نعيم نا سفيان نا محمد بن السائب [الكلبي] وتبسم الثوري [قال أبو محمد] قلت لأبي ما معنى رواية الثوري عن الكلبي وهو غير ثقة عنده؟ فقال كان الثوري يذكر الرواية عن الكلبي على الإنكار والتعجب فتعلقوا عنه روايته عنه و [ان] لم تكن روايته عن الكلبي قبوله [له] .

ملاحظہ فرمائیں: صفحه 36 جلد 02 الجرح والتعديل ۔ أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ) - طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية، بحيدر آباد الدكن، الهند - دار إحياء التراث العربي، بيروت
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 36 جلد 02 الجرح والتعديل ۔ أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ) - طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية، بحيدر آباد الدكن، الهند - تصوير دار الكتب العلمية
قال ابن أبي حاتم: سألت أبي عن رواية الثقات عن رجل غير ثقة، مما يقويه؟.
قال: إذا كان معروفا (بالضعف) ، لم تقوه، روايته عنه، وإن كان مجهولا نفعه رواية الثقة عنه. قال: وسمعت أبي يقول: إذا رأيت شعبة يحدث عن رجل فاعلم أنه ثقة. إلا نفرا بأعيانهم.
وسألت أبا زرعة عن رواية الثقات عن الرجل، مما يقوي حديثه؟
قال: إي لعمري.
قلت: الكلبي روى عنه الثوري.
قال: إنما ذلك إذا لم يتكلم فيه العلماء، وكان الكلبي يتكلم فيه.
قلت: فما معنى رواية الثوري عنه، وهو غير ثقة عنده؟
قال: كان الثوري يذكر الرواية عن الرجل على الإنكار والتعجب، فيعلقون عنه روايته عنه. ولم تكن روايته عن الكلبي قبوله له.
وذكر العقيلي بإسناده له عن الثوري، قال:
إني لأروي الحديث على ثلاثة أوجه: أسمع الحديث من الرجل وأتخذه دينا، وأسمع الحديث من الرجل أوقف حديثه، وأسمع الحديث من الرجل لا أعبأ بحديثه وأحب معرفته.

ملاحظہ فرمائیں: صفحه 381 جلد 01 شرح علل الترمذي ۔ زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، السَلامي، البغدادي، ثم الدمشقي، الحنبلي (المتوفى: 795هـ)- مكتبة المنار، الزرقاء – الأردن
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 381 جلد 01 شرح علل الترمذي ۔ زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، السَلامي، البغدادي، ثم الدمشقي، الحنبلي (المتوفى: 795هـ)- مكتبة الرشد، الرياض
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 86 ۔ 87 جلد 01 شرح علل الترمذي ۔ زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، السَلامي، البغدادي، ثم الدمشقي، الحنبلي (المتوفى: 795هـ)- دار الملاح للطباعة والنشر، دمشق
 
Last edited:
Top