• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام فخرالدین رازی کا فضل وکمال

islaimc student

مبتدی
شمولیت
جولائی 10، 2018
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
6
امام فخرالدین رازی فضل وکمال کے اس مقام پر پہنچے کہ ان کے معاصرین میں کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ امام فخرالدین رازی فقہ ،علوم لغت ،منطق اور مذاہب کلامیہ کے جاننے میں اپنی زمانے کے افضل ترین علماء میں سے تھے۔ امام فخرالدین رازی کے علم وفضل کا شہرہ دور دراز تک پہنچا ان کا چرچا سن کر ہر شہر اور ملک کے طلباء ان کے پاس حاضر ہو کر علمی فیض حاصل کرتے اور ان کے علوم ومعارف سے استفادہ کرنے لگے امام فخرالدین رازی کی ان کتب کو عظیم عزت و شہرت عطا کی گئی کیونکہ لوگوں نے متقدمین کی کتابوں کو چھوڑ دیا اور ان کی کتابوں میں جو نظم ہے وہ ان کا ہی شروع کیا ہوا ہے اس سے پہلے کہیں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی ساری زندگی درس وتدریس میں گزار دی اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب امام صاحب سواری پر سوار ہوتے تو ان کے ساتھ تین سو طلباء پیادہ پا علم حاصل کرنے کے لیے چلتے تھے کوئی تفسیراور فقہ پڑھنے کے لیے کو ئی کلام اور طب کے لیے اورکوئی اصول اور حکمت وغیرہ کے لیے گویا کہ امام فخرالدین رازی نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین محمدیؐ کے لیے وقف کر رکھا تھا اللہ تعالیٰ کی دی ہو ئی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہو ئے احکام کے مطابق گزارنے کے بعدیکم شوال (بروز عید الفطر ) بروز پیر ٦٠٦؁ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔
صدیوں سے چھپے ہوئے امام فخرالدین رازی کےذخائر کو روئے زمین پر رہنے والے افراد کے لیے کار آمد بنانے کے لیے سب سے پہلا قدم محقق العصر مفتی محمد خان قادری نے اُٹھایا ان ذخائر میں سے بہت ہی عمدہ نفع بخش اور عظیم نظم و ترتیب کی حامل کتاب'' مفاتیح الغیب ''جوکہ ''تفسیر کبیر ''کے نام سے مشہور ہے ۔​
 
Last edited by a moderator:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
امام رازیؒ اور تقلید

سورۃ التوبہ کی آیت :
اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله والمسيح ابن مريم وما أمروا إلا ليعبدوا إلها واحدا لا إله إلا هو سبحانه عما يشركون (31)
ترجمہ :
انہوں (اہل کتاب یہود و نصاریٰ ) نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ،(سورۃ التوبہ 31)

امام فخرالدین الرازیؒ ۔۔ تفسیر کبیر ۔۔ میں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
قال شيخنا ومولانا خاتمة المحققين والمجتهدين رضي الله عنه: قد شاهدت جماعة من مقلدة الفقهاء، قرأت عليهم آيات كثيرة من كتاب الله تعالى في بعض المسائل، وكانت مذاهبهم بخلاف تلك الآيات، فلم يقبلوا تلك الآيات ولم يلتفتوا إليها وبقوا ينظرون إلي كالمتعجب، يعني كيف يمكن العمل بظواهر هذه الآيات مع أن الرواية عن سلفنا وردت على خلافها، ولو تأملت حق التأمل وجدت هذا الداء ساريا في عروق الأكثرين من أهل الدنيا.
ترجمہ :
’’ ہمارے شیخ اور خاتم المحققین وا لمجتھد ین فرماتے ہیں کہ میں نے فقہاء اور مقلدین کے ایک گروہ کا مشا ہدہ کیا ہے کہ میں نے انہیں کتاب اللہ کی متعدد ایسی آیات پڑھ کر سنائیں جو ان کے اسلاف کے خلاف تھیں تو انہوں نے صرف ان کے قبول کرنے سے منہ ہی نہیں موڑا بلکہ سرے سے کوئی توجہ ہی نہ دی ،اور مجھے تعجب خیز نظروں سے گھورنے لگے کہ ان آیات کے ظاہر پر عمل کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے اکابر ان کے خلاف کہہ گئے ہیں،
امام رازیؒ فرماتے ہیں اے مخاطب! اگر تو ٹھیک ٹھیک طور پر غور و فکر کرے تو یہ بیماری اکثر مقلدین میں گھسی ہوئی پائے گا جو اہل دنیا سے ہیں‘‘
ــــــــــــــــــــــــ
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
امام رازیؒ اور صرف اللہ کریم پر بھروسہ واعتماد


وَقَالَ الإِمَام فِي تَفْسِيره وَأَظنهُ فِي سُورَة يُوسُف عَلَيْهِ السَّلَام وَالَّذِي جربته من طول عمري أَن الْإِنْسَان كلما عول فِي أَمر من الْأُمُور على غير الله صَار ذَلِك سَببا للبلاء والمحنة والشدة والرزية وَإِذا عول على الله وَلم يرجع إِلَى أحد من الْخلق حصل ذَلِك الْمَطْلُوب على أحسن الْوُجُوه فَهَذِهِ التجربة قد استمرت لي من أول عمري إِلَى هَذَا الْوَقْت الَّذِي بلغت فِيهِ إِلَى السَّابِع وَالْخمسين فَعِنْدَ هَذَا أَسْفر قلبِي على أَنه لَا مصلحَة للْإنْسَان فِي التعويل على شَيْء سوى فضل الله وإحسانه انْتهى (طبقات شافعیہ جلد8 ص92 )
علامہ تاج الدين عبد الوهاب بن تقي الدين السبكي (المتوفى: 771هـ) طبقات الشافعیہ میں لکھتے ہیں کہ:
امام رازیؒ نے غالباً
سورہ یوسف کی تفسیر میں لکھا کہ میری عمر بھر کاتجربہ یہ ہے کہ انسان جب کسی کام میں اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی پر بھروسہ کرنا ہے تو شدت ابتلاء اور مصیبت کا سبب ہو جاتا ہے اور جب مخلوق کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ مقصد عمدہ طریقہ پر حاصل ہو جاتا ہے،
یہ تجربہ مجھ کو ابتدا سے عمر سے آج تک جب کہ میری عمر57سال ہو گئی ہے، برابر حاصل ہوتا رہا ہے اور اس سے میرے دل پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ خدا کے فضل و احسان کے علاوہ کسی چیز پر بھروسہ کرنے میں انسان کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، ))
ــــــــــــــــــــــــــــــ
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
امام رازی مشہور مفسر اور پلند پایہ فلسفی اور متکلم ہیں، اہل فلسفہ کا رد کرتے ہوئے، ان سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
چند دن پہلے ایک اقتباس پڑھا، جس میں امام ابن خزیمہ کی کتاب التوحید کو’کتاب الشرک‘ کہہ رہے تھے، محدثین اور اسما و صفات میں سلف کے موقف کے متعلق اہل فلسفہ کا یہ رویہ معروف ہے۔
البتہ امام رازی کی سیرت میں منقول ہے کہ آخری عمر میں الہیات میں فلسفی موشگافیوں سے توبہ تائب ہوگئے تھے۔
عقلی گھوڑے دوڑانے کی مذمت میں بعض مشہور اشعار بھی ان کی طرف منسوب ہیں:
نهاية إقدام العقول عقال
و أكثر سعي العالمين ضلال
و لم نستفد من بحثنا طول عمرنا
سوى أن جمعنا قيل و قالوا
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
ولو تأملت حق التأمل وجدت هذا الداء ساريا في عروق الأكثرين من أهل الدنيا.
اے مخاطب! اگر تو ٹھیک ٹھیک طور پر غور و فکر کرے تو یہ بیماری اکثر مقلدین میں گھسی ہوئی پائے گا جو اہل دنیا سے ہیں‘‘
ترجمہ میں زبردستی ’’مقلدین‘‘ کا لفظ گھسیڑ دیاگیاہے، بھوکے سے پوچھاگیا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟اس نے جواب دیا ’’چار روٹی‘‘،یہی حال محترم اسحاق سلفی صاحب کا بھی ہے،کہیں سے بھی مقلدین اور تقلید کا لفظ ضرور ڈھونڈ لاتے ہیں۔
امام رازی توکہناچاہتے ہیں کہ اکثر اہل دنیا تقلید کی بیماری میں مبتلاہیں،لیکن محترم اس اکثریت کو مقلدین کی اکثریت بنانے پر تلے بیٹھے ہیں،رد تقلید کا اگریہ شوق فراواں کنٹرول سے باہر ہی ہے تو کم ازکم بریکٹ تولگادیتے
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
ترجمہ میں زبردستی ’’مقلدین‘‘ کا لفظ گھسیڑ دیاگیاہے، بھوکے سے پوچھاگیا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟اس نے جواب دیا ’’چار روٹی‘‘،یہی حال محترم اسحاق سلفی صاحب کا بھی ہے،کہیں سے بھی مقلدین اور تقلید کا لفظ ضرور ڈھونڈ لاتے ہیں۔
پیارے بھائی !
آپ لفظ " مقلدین " کو دیکھ کر جذباتی ہوگئے ،
اور دو چار روٹیاں نظر آنے لگیں ، اگر " روٹیوں " سے توجہ ہٹاکر عبارت کا اول حصہ سامنے رکھتے تو " مقلدین اور تقلید "منہ چڑاتی نظر آرہی ہے :
قد شاهدت جماعة من مقلدة الفقهاء، قرأت عليهم آيات كثيرة من كتاب الله تعالى في بعض المسائل، وكانت مذاهبهم بخلاف تلك الآيات، فلم يقبلوا تلك الآيات ولم يلتفتوا إليها وبقوا ينظرون إلي كالمتعجب
يعني كيف يمكن العمل بظواهر هذه الآيات مع أن الرواية عن سلفنا وردت على خلافها،
۔۔۔۔


ترجمہ :
میں نے فقہاء کے مقلدین کے ایک گروہ کا مشا ہدہ اور تجربہ کیا ہے کہ میں نے بعض مسائل میں انہیں کتاب اللہ کی متعدد ایسی آیات پڑھ کر سنائیں جو ان کے مذہب کے خلاف تھیں تو انہوں نے صرف ان کے قبول کرنے سے منہ ہی نہیں موڑا بلکہ سرے سے کوئی توجہ ہی نہ دی ،اور مجھے تعجب خیز نظروں سے گھورنے لگے کہ ان آیات کے ظاہر پر عمل کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے اکابر ان کے خلاف کہہ گئے ہیں،
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
ولو تأملت حق التأمل وجدت هذا الداء ساريا في عروق الأكثرين من أهل الدنيا
اے مخاطب! اگر تو ٹھیک ٹھیک طور پر غور و فکر کرے تو یہ بیماری اکثر مقلدین میں گھسی ہوئی پائے گا جو اہل دنیا سے ہیں‘‘

تقلید کی بحث سر پرزیادہ حاوی نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے اپنے ترجمہ پر غورنہیں کیا،اگرآپ کے ترجمہ کا تجزیہ کیاجائے تواس کا مفہوم یہ برآمد ہوگاکہ تقلید کی بیماری اکثرمقلدین میں گھسی ہوئی ہے،سبحان اللہ کیا نتیجہ خیز ترجمہ ہے اور اکثر مقلدین اہل دنیا میں سے ہیں، بعضے مقلدین ایسے بھی ہیں، جواہل دنیا میں سے نہیں ہیں،ماشاء اللہ کیابلاغت خیز ترجمہ ہے،پتہ نہیں امام رازی باحیات ہوتے تواس ترجمہ کو دیکھ کر کس ردعمل کا اظہار کرتے۔
اصل میں آخری جملہ میں مقلدین مراد ہی نہیں ہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اکثر اہل دنیا خواہ ان کا شعبہ اوران کی فیلڈ کچھ بھی ہو،تقلید ان کے اندر بھی گہرائی تک پائی جاتی ہے،
اوریہ معنی مراد لینے سے اوپر کا کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا ورنہ تو سلفی صاحب کے ترجمہ سے یہی مفہوم نکلتاہے کہ تقلید کی بیماری اکثر مقلدین میں پائی جاتی ہے،جو تحصیل حاصل قسم کا ترجمہ ہے۔
امید ہے کہ سمجھ میں آگیاہوگاکہ آپ کے ترجمہ میں کیاخامی ہے
 
Top