• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام کعبہ کا خطبہ اور نا حق واویلا

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
18
امام کعبہ کا خطبہ ٔ جمعہ اور ناحق واویلا
? عبد السلام بن صلاح الدین مدنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــvvــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الحمد لله رب العالمين ،و العاقبة للمتقين ، و الصلاة و السلام على أشرف الأنبياء و المرسلين و من تبعهم بإحسانٍ إلى يوم الدين ....... وبعد
فضیلۃ الشیخ عزت مآب ڈاکٹرعبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس (امام و خطیب المسجد الحرام ) حفظہ اللہ و رعاہ نے حرم مکی شریف کے منبر سے ۱۶ محرم الحرام ۱۴۴۲ ھ(مطابق ۴ ؍ستمبر ۲۰۰ء) کو خطبہ ٔ جمعہ ارشاد فرمایا ‘جوابتدائے سال کی مناسبت سے دیا گیا ایک لا جواب اوربے مثال خطبہ تھا اور مکمل طور پر توحید و سنت کےکوثر و سلسبیل اور زمزم و تسنیم کے آب زلال میں نصوصِ کتاب و سنت کے زیرِ اثر نہا رہا تھا‘خطبہ کا لفظ لفظ توحید کی تعلیم پر مشتمل تھا ‘انسانی زندگی میں توحید کی اہمیت،شرک و بدعات کی قباحت و شناعت اورخطرناکی ،توسل ممنوع و مشروع ‘اور ولاء و براء(اسلام میں دوستی اوردشمنی کا معیار)‘قضیہ ٔ فلسطین ‘قضیہ ٔ مسجدِ أقصی اور حالات حاضرہ میں ان مسائل سے نمٹنے جیسے اہم عناصر پر یہ خطبہ محیط تھا ۔
خطبے کے دوران بار بار أمۃ التوحید ‘ أمۃ الإیمان اورأمۃ الإسلام کی تکرار نے خطبے کی معنویت کو دہ چند کر دیا تھا ‘توحید کے حوالے سے محبت و عقیدت میں اضافہ اور شرک و بدعات کے متعلق کرب و سسک اور درد و قلق کا احساس دلارہا تھا‘خطبہ ٔ جمعہ کا انداز اس قدر پر کشش تھا کہ اسے بار بار سماعت کرنے کو جی چاہتا ہے ۔
افسوس اس بات پر ہے کہ اسی وقت سے(جب سے خطبہ دیا گیا ہے اورلوگوں میں عام ہوا ہے) ایک قسم کاطوفان بپا ہے‘گالیوں کا سلسلہ در سلسلہ چل پڑا ہے اور دراز ہوتا چلا جا رہا ہے،جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے،طوفانِ بد تمیزی نے ساری حدیں پھلانگ دی ہیں ،عزت و احترام کا ایسا جنازہ نکالا گیا ہے کہ الأمان و الحفیظ۔
بالخصوص فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس ( امام و خطیب ِحرم مکی شریف ‘رئیس عام لشؤون الحرمین الشریفین)کے خلاف دشنام طرازی اور افترا پردازی کا وہ کونسا جملہ ہے جسے چھوڑ دیا گیا ہ،سعودی عرب کے خلاف دریدہ دہنی ،ہرزہ سرائی ،یاوہ گوئی اور الزام تراشی کا بازار خوب خوب گرم کیا گیا ،سوشل میڈیا (پرنٹ و الکٹرانک میڈیا ) ہر جگہ ہر مقام پر ایک بوکھلاہٹ ‘تلملاہٹ ‘بلبلاہٹ اور واویلا مچا ہوا ہے،ایک شور بپا ہے کہ حرم کے منبر سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے،سمجھوتہ کرنے،اور یہودیوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرنے کی ۔ پس ِ پردہ- دعوت دی جا رہی ہے (نعوذ باللہ)،اسرائیل سے رابطے کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں (استغفر اللہ)،اخبار ِ مشرق کلکتہ تو سب پر بازی لے گیا اور ہیڈنگ کچھ یوں لگادیا (
امام کعبہ کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ ۔ساری دنیا کے مسلمان حیران ‘چہار جانب سے مذمت ‘اسرائیل میں جشن کا ماحول)بلکہ بعض حلقوں کی طرف سے یہاں تک کہہ دیا گیا کہ حرمین شریفین اب یہودیوں کے حوالے کردیا جائے گا (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) ؎
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں vv حیراں ہوں دل کو رؤوں کہ پیٹوں جگر کو میں
۱۶ محرم ۱۴۴۲ ھ کو آپ نے جو خطبہ دیا ‘مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کا عکاس اور نبوی تعلیمات کا مظہر تھا ، بغیر کسی لاگ لپیٹ کے آپ نے اعتقادی مسائل کو دلائل ِ کتاب و سنت سے مبرہن فرمایا ،لہذااس کے خلاف واویلامچانا عجیب ہے،آپ کے دئے گئے خطبہ کو اسلامی عقائد کی توضیح و تشریح کے چشمے سے دیکھا جانا چاہئے

میں نے مناسب سمجھا کہ اس مناسبت سے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں مبادا اس آگ کے بجھانے میں کوئی کردار ادا ہوجائے(رب کریم قبول کرے)اس لئے انتہائی سنجیدگی اور خالی الذہن ہوکر درج ذیل امور پر تامل فرمائیں:۔
(۱) اسلامی اصول کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کچھ بولنے ‘اپنی زبان کھولنے ‘الزامات کا طومار باندھنےاور افترا پردازیوں کے پل تیار کرنے سے پہلے:(یا أیہا الذین آمنوا إن جاءکم فاسق بنبأ فتبینوا)(الحجرات: ۶)(جب کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ) پر عمل کر لیا گیا ہوتا،اصل خطبہ (جو عربی میں ہے)سن کر کوئی رائے قائم کی جاتی اور اس طرح کی افواہ بازیوں کی فیکٹریاں نہ کھولی جاتیں ۔
(شیخ محترم۔حفظہ اللہ ۔ کا خطبہ بعینہ یوٹیوب پر موجود ہے ‘اس لنک پر جاکر آپ خطبہ ٔ جمعہ سماعت فرماسکتے ہیں)
(
)
خطبے کا ترجمہ بھی ملاحظہ فرما لیں :
’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اے میرے رب ہم تیری حمدبیان کرتے ہیں ، تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں ، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں اور تیری جناب میں توبہ کرتے ہیں ۔ ہر بھلائی پر ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس نے بندوں کو پیدا کیا اور ان کے لیے صحیح عمل و عقیدہ کو واضح کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول بندوں میں سب سے اچھے ہیں اور حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں ۔ درود اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اور آپ کی صاحب مجد آل پر ، اربابِ شجاعت اصحاب پر ، تابعین پر اور ان پر جو درست طریقے سے تاقیامت ان کی پیروی ۔
اما بعد : اللہ کے بندو! اپنے رب کاتقوی اختیارکرو اور اس کی عبادت کرو ، اس صاحب رفعت ذات کی اطاعت کرو اور اسے ایک جانو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود حقیقی نہیں ،نہ اس کے سوا کوئی تمہارا پالنہار ہے اور برحق معبود بس وہی ہے ۔
اللہ کا حق یہ ہے کہ حکم کےمطابق اس کی عبادت کی جائے نہ کہ نفس کی خواہشات پر چل کر کہ یہ تو شیطان کے لیے ہے ،اور اس(اللہ) کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ، یہی دونوں نجات کا سبب ہیں اور کیا ہی اچھے سبب ہیں ۔
مسلمانو! نیا ہجری سال ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے ، اس لیے لغزشوں اور برائیوں سے خالص توبہ کرکے نئے سال کا آغاز کرو اور نیک اعمال پر ہمیشگی اختیار کرو،زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور فرمانبرداریاں کرو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
رمضان کے بعد سب سے اچھے روزے اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں(اسےمسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے )
سالوں کے جانے سے عبرتیں پکڑو اور زمانوں کے گزرنے سے نصیحت حاصل کرو
مخلوقوں پر نیا سال سایہ فگن ہے ، ہر قوم کی کوئی نہ کوئی عید ہوتی ہے ، جب مخلوقات کی امیدیں جھانکتی ہیں تو سلام کرتی ہیں اور اس کی طرف کتنی مشتاق ہوتی ہیں جب کہ وہ دور ہے ۔
امتِ توحید: سال کے آغاز میں سب سے بہتر چيز جس سے نفس کی یاد دہانی اور دلوں کو نصیحت کی جا سکتی ہے وہ علام الغیوب کی توحید ہے خاص طور سے ایسے وقت میں جب کہ فکری تبدیلیوں کا ریلا چل رہا ہو, عقائدی اضطرابات اور نظریاتی اختلافات پائے جائیں اور صحیح عقید سے دل شوریدہ ہوجائیں اور پھر جائیں ۔ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم مستقبل کو دیکھنے اور اس کے آفاق کے تعین اور اس کے طول وعرض اور گہرائیوں کو جاننے کےلیے ایسے شفاف عقیدہ کی روشنی میں سنجیدہ غور وفکر کریں جو دلوں کے اندر پیوست ہو اور جس سے روح بلندیوں تک جا پہنچے ۔بلا شبہ اسلام توحید کے خالص عقیدے کے ساتھ آيا ہے تاکہ دلوں کو غیر اللہ کی عبادت کی غلامی سے آزاد کرے اور نفس کو شوکت و شرف اور بے آمیزی کی بلندچوٹیوں تک لے جائے اور بت پرستی،شرک اور بدبختی کی ہلاکت اور اوہام و خرافات کی یلغار سے دور رکھے ۔ پتہ چلاکہ عقیدہ کے معاملہ میں کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی ہے،چاہے تبدیلیاں جیسی بھی ہوں اور اصول سے سمجھوتہ نہیں ہوسکتا چاہے چیلنجیز اور سازشیں جتنی بھی بڑی ہوں ۔یہی ایمان ہمارے سلف صالح کے دلوں میں جاگزیں تھا جس کی وجہ سے یہ امت باعزت ہوئی اور سیادت سے ہمکناربھی، غالب ہوئی اور قیادت کے منصب سے سرفراز بھی ۔ اللہ کا فرمان ہے :
ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے ۔
ایمانی بھائیو ! اللہ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا پھر شیطان نے انہیں اپنے جال میں پھانس کر ان کو دین سے دور کردیا ، اس نے ان کے لیے انحراف اور گمراہی کے راستوں کو مزین کرکے پیش کیا ۔ صحیح حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا : میں نے اپنے تمام بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ، پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہیں اپنے جال میں پھانس کر انہیں ان کے دین سے دور کردیا ، میں نے ان کے لیے جو چيزیں حلال کی تھیں انہیں انہوں نے حرام قرار دیا اور انہیں میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرانے کا حکم دیا جس کی کوئی دلیل نہیں اتاری ( اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے )
پتہ چلا کہ بندوں کو دین حق اور صحیح عقیدہ سے بے نیازی نہيں ہوسکتی جو توحید کے جھنڈے کو پھرپھراتا ہوا بلند کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالی کو ان تمام امور میں ایک مانا جائے جن میں وہ پسند کرتا ہے کہ اسے ایک ماناجائے ، ربوبیت ، الوہیت اور اس کے بلند اسماء و صفات میں، اسی طرح ضروری ہے کہ صرف اسی کی طاعت ہو ، اسی کی شریعت کی طرف فیصلوں کے لیے جایا جائے اور کسی طرف نہیں اور یہ چيز اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں قول و عمل ہر دو صورت میں جلوہ گر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اللہ واحد احد کے روبرو جھکنے , گڑگڑانے,حاجت مند ہونے اور پناہ لینے کی جیتی جاگتی اور بولتی ہوئی تصویر ہے ۔
آپ نے توحید کی کامل ترین تصویر بنادی
آپ نے ذہن سے ہر ایک غبارکو ہٹا دیا
ہماری امیدیں ، دعائیں ۃمارا یقین اور ہماری ولاء(و براء)
سب کی سب واحد قہار کے لیے ہیں ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:(ترجمہ)آپ کہہ دیجئے !میری نماز ‘میری قربانی ‘میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ کے لئے ہے ‘جو سارے جہاں کا رب ہے ‘اس کا کوئی شریک نہیں (الأنعام :۱۶۲۔۱۶۳)
امتِ عقیدہ! اسلام نے اپنے پیروکاروں کی توحید کی سلامتی ، عقیدے کی صحت ، یقین کی قوت اور توکل علی اللہ پر تربیت کی ہے اور انہیں ان اوہام گمان اور خرافات سے دور رکھا ہے جو ان کی عقلوں سے کھلواڑ کرتی ہیں ، ان کے افکار کو آلودہ کرتی ہیں اور انہیں معاملات کو خلاف حقیقت دیکھنے پر مجبورکرتی ہیں ۔ اس نے ان تمام چيزوں سے منع کیا ہے جو توحید کی سلامتی اورعقیدے کی درستگی کو مخدوش کریں جیسے مردوں اورولیوں سے وسیلہ چاہنا ، قبروں اور ان کی عمارتوں ، مقبروں اور ان کے گنبدوں کو چھونا وغیرہ ۔ کچھ لوگ ان مقبروں کی طرف سفر کرکے جاتے ہیں اور ان سے درجات کی بلندی ، مصیبتوں کے ٹالنے ، ضرورتوں کی تکمیل اور مریضوں کی شفایابی کا سوال کرتے ہیں اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ انہیں بلند ترین مقصد اور سب سے اونچے درجے تک پہنچائیں گے ، ان کی ضرورتیں پوری کردیں گے ، انہیں بخششوں سے نوازیں گے اور ہلاکتوں سے نجات دیں گے جیسے کہ اللہ نے اپنے بندوں کی ضرورتوں کے سامنے اپنے دروازے بند کردیے ہوں ۔ اللہ تبارک وتعالی ان چیزوں سے بہت بلند ہے جو یہ کہتے اور کرتے ہیں ۔ جائز وسیلہ اللہ کے لیے اور اللہ سے ہی ہوگا ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اوراچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے ہی اللہ ہی کو پکارا کرو ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ،ان لوگوں کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملے گی (الأعراف:۱۸۰)
یا پھر اعمال صالحہ سے ہوگا جیسے ایمان يا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔ اللہ کا فرمان ہے :
جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لا چکے ا س لیے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا(آل عمران:۱۶)
پتہ چلا کہ وہی اکیلا اس قابل ہے کہ اس کا وسیلہ اپنایا جائے ، اسی سے امید لگائی جائے اور اس کی پناہ لی جائے اور کوئی نہيں کیوں کہ علم ، قدرت اور بے نيازی میں اسے ہی کمال حاصل ہے ، اس کے سوا اس کا مستحق نہیں چاہے وہ کوئی مقرب فرشتہ ہو یا نبی مرسل ہو یا نیک ولی ہو ۔ نماز صرف اللہ کے لیے ہوگی ، پکارا صرف اسی کو جائے گا ، ذبح و نذر صرف اسی کے لیے ہوگی ، مدد طلبی ، پناہ طلبی اللہ ہی سے ہوگی اوراسی کی حلف اٹھائی جائے گی بھروسہ اسی پر ہوگا ، اسی سے امید باندھی جائے گی اور اسی سے ڈرا جائے گا ، ضرورت کی تکمیل ، گم شدہ چيز کو لوٹانے اور مریضوں کو شفا دینے کا مالک وہی ہے اورجو کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ کوئی اللہ کے سوا اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے یا اس سےنقصان کو دور کرسکتا ہے یا اس کے مرض کی شفا کا مالک ہے،یا اس کی ضرورت پوری کرسکتا ہےتو یقینا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اس نے دور کی کوڑی لایا اور صریح گمراہی میں پڑ گیا اللہ تعالی نے فرمایا:جس نے شرک کیا اس نے بہت دور کی گمراہی اختیار کر لی (النساء:۱۱۶)
۔ اسی طرح جس نے اللہ اور اپنے درمیان واسطے بنالیے جنہیں وہ پکارتا ہے ، ان سے مانگتا ہے ، ان کا وسیلہ پکڑتا ہے یا انہیں اللہ اور اپنے درمیان سفارشی بناتا ہے ، اس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جب کہ ان کے بارے میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چيزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچاسکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں ۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چيز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالی کو معلوم نہيں ، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ، وہ پاک و برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے (یونس :۱۸)
نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زدہ رہ جائیں گے اور ان کے تمام شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور خود یہ بھی اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے (الروم:۱۳)
یہ سفارشی لوگ تو خود اپنے نفس کے لیے نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے، نہ زندگی نہ زندگی کے مالک ہیں اور نہ ہی موت کے اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اللہ کا فرمان ہے :
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا اور وں کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے ؟ آپ کہہ دیجیے ! کہ گووہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں ۔ کہہ دیجیے ! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے ۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے (۴۳۔۴۴)۔
اور جب امت میں سب سے افضل اور اللہ کے نزدیک سب سے اشرف اور خاتم الانبیاء و المرسلین کو اللہ کے یوں مخاطب کرتا ہوکہ:
آپ فردیجیے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضررکا ۔مگر اتنا ہی جتنا کہ اللہ نے چاہا ہو (یونس:۴۹)
اور اس فرمان سے کہ :
کہہ دیجیے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں ۔کہہ دیجیے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہيں سکتا اور میں ہر گزاس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی پا نہیں سکتا(الجن:۲۱۔۲۲)
اور اس فرمان الہی سے بھی کہ:
اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہيں (یونس:۱۰۷)
تو جب یہ اللہ کے سب سے معزز اورمحبوب مخلوق کے بارے میں ہے تو پھر اس کے علاوہ کے بارے میں تو بدرجہ اولی ہوگا ۔ معلوم ہوا کہ ایک اللہ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہيں اور نہ اس کے سوا کوئی رب ہے ۔اللہ کا فرمان ہے :
یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے(الحج:۶۲)
اسلامی بھائیو ! عقیدے کے مسائل میں مفید تنبیہات میں سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ولاء اور براء(دوستی اور دشمنی ) کے باب میں قلبی اعتقاد اور انفرادی اور بین الاقوامی تعلقات میں حسن تعامل کے بیچ صحیح فہم کا نہ ہونا اور خلط مبحث کا پایا جانا ہے, جیسا کہ یہ بات قابل اعتبار مقاصد، شرعی سیاست اور انسانی مصالح میں ثابت شدہ ہے ،اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اے لوگو، ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنادیے ہیں (الحجرات:۱۳)
اس لیے کہ غیر مسلم کے ساتھ اس کے تالیف قلب کے لیے اور اس دین میں داخل ہونے کی طرف اس کے دل کو مائل کرنے کے لیے اس کے ساتھ حسن تعامل سے کام لینا اس کے ساتھ ولاء (دوستی ) کا تعلق نہ رکھنے کے قطعی منافی نہيں ، اس طرح مسلمان اس کے ساتھ بھلائی کرنے والا ہوتاکہ اس کے دل کو اس دین کی طرف مائل کرے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہيں لڑی اور تمہیں جلا وطن نہيں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تمہیں نہیں روکتا بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (الممتحنہ :۱۸)
نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے :
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے (الکافرون:۶)
نیزاللہ کا فرمان ہے :
دین کے بارےمیں کوئی زبردستی نہیں (البقرہ:۲۵۶)
نیز اللہ کا ارشاد ہے :
اور لوگوں کو اچھی باتیں کہو (البقرۃ:۸۳)
اوربخاری و مسلم میں اسماء بنت ابوبکررضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں " میری ماں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں میرے پاس آئیں جومشرکہ تھیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا ، میں نے کہا : (اسلام میں) رغبت رکھتی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ، اپنی ماں کےساتھ صلہ رحمی کرو ۔یوں وہ اپنے دل میں کفر اور اللہ کے ساتھ شرک کو نا پسند کریں گي ۔ مگر ان کی تالیف قلب کے لیے ان کے ساتھ صلہ رحمی کریں گی ، ان کے ساتھ بہتربرتاؤ کریں گی اور نیکی و بھلائی کے ساتھ ان سے پیش آئیں گی ۔
اللہ نے فرمایا :ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا(لقمان:۱۵)
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرکہ خاتون کےمشکیزہ سے وضوء کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی اور خیبر کےیہودیوں سے ان کی کھیتی اور پھلوں میں آدھے حصے پر آپ نے معاملہ کیااور آپ نے اپنے یہودی پڑوسی کے ساتھ بھلائیاں کیں جو اس کے اسلام لانے کا سبب بنیں ۔
اسی طرح متعدد واقعا ت اس کی تاکید کرتے ہیں کہ دین کے حقائق صحیح دلائل سے اخذ کیے جائیں گے ۔ پھرسوچیے کہ اس واضح منہج کا برانگیختہ جذبات اور اشتعال انگیز احساسات سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے بلکہ ضروری یہ ہے کہ علم،عقل ، حکمت ، بصیرت سے کام لیا جائے ، نتیجوں کو دیکھا جائے اور انجام کار امور پیش نگاہ رکھے ،اور جب انسانی بات چیت کا منہج کو پس ِ پشت ڈالا جاتا ہے تو تہذیبی ٹکراؤ کے گوشے(شعلے) بھڑک اٹھتے ہیں اور تشدد، انتہا پسندی اور نفرت کی زبان غالب آنے لگتی ہے ۔
امت اسلام! صحیح عقیدہ کے نمایاں ترین نقوش اور اس کی بنیادوں میں سے : جماعت کو لازم پکڑنا اور فرمانروا کے لیے حسن سمع و طاعت بجالانا ہے اور یہ ان دین سے نکل جانے والے خوارج ، مبغوض بغاوت کرنے والے ، گمراہ گروہ ، تشدد اور ناپسندیدہ فرقہ پرستی والی مسلح جماعتوں کے برخلاف ہے جو فرمانرواؤں کی تکفیر کرتے ہیں ، حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہیں ، خون بہاتے ہیں اور جو سوائے بم پھوڑنے اور تباہی مچانے کے اور کسی چيز پر ایمان نہیں رکھتےاور آپ ان لوگوں کا بڑا پھیلاؤ اور ان کے خطرناک ایجنڈے پائیں گے جو سوشل میڈیا کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں، اس لیے اے با توفیق!شخص بیداری اور سمجھ داری سے کام لیا کرو ، بھیڑ اور بے حیثیت لوگوں کے راستوں سے بچا کرو ۔ دیکھو کہ بحرانوں اور تبدیلیوں نے معاشروں اور وطنوں کے لیے ان کے ایجنڈوں کی خطرناکی کو واضح کرکے رکھ دیا ہے ، عوام نصوص شرعیہ کو لینے اور حاصل کرنے کے معاملے میں ان سے بہت دھوکا کھاچکےہیں۔ اس لیے پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی عقیدے کی تصحیح کی طرف پوری توجہ مبذول کرے اور اس سے جو غلط اور مخلوط عقائد جڑ گئے ہیں ان سے اسے پاک کرے ۔
سنو ، اللہ کے بندواللہ کا تقوی اختیار کرو ، عقائد کے مسائل میں ان مفید تنبیہات کو اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ بنالو دنیا وآخرت میں شاد کام ہوگے ۔اللہ کا فرمان ہے :
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت ، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے ۔اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے(النحل:۹۷)
اے اللہ ہمیں قرآن عظیم میں برکتوں سے نواز اور ہمیں سیدالمرسلین کے طریقے سے فائدہ پہنچا اور ہمیں ہدایت اور صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ ، بلا شبہ تو بہت بخشنے والا کرم کرنے والا ہے ۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں ، اور اللہ عظیم و جلیل سے اپنے لیے اور آپ کے لیے اور تمام مسلمان حضرات وخواتین کے لیے تمام گناہوں اور خطاؤں سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کیجیے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کیجیے ۔ بلا شبہ وہ آہ و گریہ زاری کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے ۔
دوسرا خطبہ :
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے پاکیزہ اور بابرکت تعریف اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں ، درود نازل ہو آپ پر ، آپ کی آل پر ، آپ کے صحابہ پر ، تابعین پر اور تاقیامت ان پر جو درست طریقےسے ان کی پیروی کریں ۔
امابعد : اللہ کے بندو، خلوت و جلوت میں اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس نے تمہارے لیے جو دین مقرر کیا اس پر اس کی حمد بیان کرو تم اللہ کی رضامندیوں اور بڑی نعمتوں کو پالوگے ۔
ایمانی بھائیو ! اصلوں کی اصل اور ملت کی اساس اہل سنت کے عقیدہ کی یاد دہانی کرانا اور اس پر ثابت قدم رہنا ہے,اس لیے کہ یہی نجات کا مالا(ذریعہ) ہے جو کامیابی کے ساحل تک لے جانے والا ہے اور جو تباہ کن افکار ونظریات اور تفرقہ بازی, اختلاف, تقسیم اور گروہ بندی کی ان راہوں سے بچانے والا مضبوط قلعہ ہےجو منظم اتفاق کو توڑتی ہیں اور قابلِ احترام اتحاد کو تباہ کرتی ہیں اور خاص کر ان اوقات میں امانت عظیم ہوجاتی ہے اور واضح ربانی منہج پر چلنے والے ارباب دعوت واصلاح سےکی ذمہ داری دو چند ہوجاتی ہے ، اسی طرح قائدین اور فرمانرواؤں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ صحیح اسلامی عقیدہ پر افترا پردازی اور اس کے روشن مقاصد کے اوپر سودا بازی کے گڑھوں سے نسلوں اور معاشروں کو نکالیں اور امت کے حالات سدھارنے, اس کے اتحاد کو مضبوط کرنے, اس سے مصائب کو دور کرنے اوراس کے عظیم ترین مقصد کو پور ا کرنے کے لیے سرچشمۂ توحید سے سیرابی وغذا کے حصول کی کوشش کریں اور بہترین منہج اور واضح طریقہ ٔ کار اپنائیں،اور بطور خاص امت کے بڑے مسائل میں جن میں سر فہرست فلسطین اور مبارک مسجد اقصی کا مسئلہ ہے ۔یہ ہمارا اولین اسلامی مسئلہ ہے جسے نت نئے تنازعات‘ تبدیلیوں اور تغیرات میں میڈیائی سودا بازیوں یا اخباری مبالغہ آمیزیوں یا الکٹرانک جنگ آزمائیوں سے پرے ہوکر کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
اسلام کے فرزندو! اللہ کی رسی کو بطور منہج واصول
۔۔۔۔۔تھامنے کا وقت آگیا ہے
تاکہ ہم عدل کے ساتھ اسلام کا پھریرا لہرائیں
اور عزم و حوصلے کے ساتھ شوکت و شرافت کی حفاظت کرسکیں(اشعارِ عربی کا ترجمہ)
پھر اللہ تبارک وتعالی اپنے وعدہ کوپورا کرنے کے لیے اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا اور مصیبت کو دور کرے گا اور امت کوغلبہ دے گا ۔ اللہ کا فرمان ہے :
جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کےساتھ مخلوط نہیں کرتے ، ایسوں ہی کےلیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں(الأنعام:۸۲)
اور ان امور میں سے جو چيز عقیدے اور صحیح اعتقاد کی معرفت کے لئے مددگار ثابت ہوگی ، علم اور تعلیم پر توجہ مبذول کرنا ہے بشارتوں ، نیک فال اور امیدوں کو پورا کرنے میں ممد و معاون ہوگی جب کہ ہم نئے ہجری سال کے شروع میں ہیں ، وہ امنگوں اور حوصلوں سے پرنئے تعلیمی سال کی شروعات کرناہے ۔ جبکہ اس نئی وبا کے سایے میں ہمارے طالب علم بیٹے اور بیٹیاں پڑھائی کی نشستوں کی طرف متوجہ ہورہے ہیں لیکن ان احتیاطی حالات میں وہ مجازی نشستیں ہونگی یہیں تعلیمی کارواں کی خدمت کے لیے مستقبل کے وژن اور دور حاضر کی زبان کے بیچ ہم آہنگی پیدا کرنے میں آن لائن تعلیم کی اہمیت اورنئے تکنیکی وسائل اور ورچوئل پلیٹ فارم(مجازی اسٹیج ) اور ڈیجیٹل تبدیلیوں سے استفادہ کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے ۔اسی طرح اس کی تکمیل کے لیے اسکول اور یونیورسٹی کے ساتھ گھر اور خاندان کے تعاون کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے ۔اس لیے ہمارے عزیز والدین !اورہمارے معزز معلمین و معلمات! ، ہم جس قدر آپ پر فخر اور آپ کی کاوشوں پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اتنا ہی ہم نئی نسل کی ترقی کے لیے آپ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے طلبہ و طالبات کی صحت وسلامتی کی حفاظت کے لیے مزید تعلیمی ، تنظیمی اور تربیتی کوششیں کریں گے۔ لوگوں نے اپنے دین اور وطن کی خدمت کے لیے جو تعاون کیا ہے اور اپنے فرماں رواؤں کی ہدایات کو مانا ہے اللہ تعالى اسے قبول کرے۔اسی طرح تعلیم و تعلم کے رجال کار اور ہیرو ان ِ فن و معرفت کا شکریہ جو موجودہ حالات کے تناظر میں بھی تعلیم کے پیغام کو پہنچانے میں لگاتار لگے ہوئے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام کو نفع بخش علم اور نیک عمل کی توفیق دے اور سلف امت کے منہج پر کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنے کی دولت سے مالا مال کرے اور اس امت کے اوپرسے مصیبت کو اٹھالے ، کہ وہی صاحب فضل و کرم واحسان ہے ۔
یہ باتیں رہیں ،پھرمخلوقات میں سب سے اچھے فرد پر درود وسلام بھیجئے۔ اللہ آپ لوگوں پر رحم کرے۔ جیسا کہ آپ لوگوں کو آپ کے رب نے حکم دیا ہے ۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :
اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پردرود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو(الأحزاب:۵۶)
میری طرف سے ان پر خوشبوؤں میں بسا درود و سلام نازل ہو
جب تک تاریکی کا چاند افق پر چم چم کرتا چلتا پھرتارہے ۔
(پھر درودِ ابراہیمی پڑھی ‘اس کے بعد دعاؤں کا لمبا سلسلہ جاری ہوا ‘اس میں امت مسلمہ ‘اسلام اور اہل اسلام کی کامیابی ‘حفاظت ‘حکمران ِ وقت کے لئے دعائیں مانگی گئی ہیں‘بالخصوص مسجد اقصی کو چھڑانے کی دعائیں (مکرر۳ بار)مانگی )
جن حضرات کوعربی نہیں آتی،ان کے لئے خطبے کا ترجمہ حاضرِ خدمت ہے ،پڑھیں اور بار بار پڑھیں،امید ہے کہ بہت سارے اشکالات و شبہات کا ازالہ از خود ہوجائے گا ۔ان شاء اللہ
(۲)پھر آپ بنظر ِ انصاف شیخ محترم کا خطبہ پڑھئے ‘سنئے اور دیکھئے تو پتہ چلے گا کہ خطبے کے ایک ایک لفظ سےتوحید کی تعلیم ٹپک رہی ہے ‘خطبے کا ہر ہر جملہ ایمان و توحید ‘سنت و اطاعت کا مناد ہے ‘ اور لوگوں کو اس کی طرف چیخ چیخ کر بلا رہا ہے ‘مگر افسوس صد افسوس بعض مریضان ِ قلب نے اپنی مطلب برآری کے لئے خطبے میں کتر بیونت کرکے جس طرح سوشل میڈیا پر نشر کیا ‘جس اندازِ عجیبانہ سے اس کے غلط معانی نکالے گئے ‘اور جس غلط انداز سے پیش کیا گیا ‘قطعا ایک مسلمان ‘مومن و موحد کے لئے غیر مناسب اور ناموزوں ہے اور انتہائی افسوس ناک پہلو ہے ۔
(۳)واضح رہے کہ مملکتِ توحید(سعودی عرب) ایک ایسا ملک ہے ،جہاں قرآن و حدیث کی حکمرانی ،توحید و سنت کا غلبہ ،علماء و طلباء کی قدر افزائی اور ان کی عقیدت احترام کی کارفرمائی ہے ،سعودی حکومت فلاحی امور،رفاہی اعمال ،دینی و اسلامی مراکز کے قیام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا،مساجد و مدارس کی تعمیر و ترقی میں شمولیت اور اس کے کاز کو آگے بڑھانا ،مصاحف و دینی کتب کی طباعت و اشاعت جیسے لاکھوں دینی و اسلامی خدمات انجا دینے میں کوئی نظیر نہیں رکھتا،اگر ان خدمات،جہود اور مساعی جمیلہ کو ترتیب دیا جائے تو ضخیم مجلدات تیار ہو جائیں گی ،ان شاء اللہ ۔والحمد للہ علی ذلک
(۴)فضیلہ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے خطبہ کا ایک ایک پوائنٹ اسلامی عقیدہ کا غماز ہے ،جس سے مجال ِ انکار نہیں ،اس کا انکار وہی بندہ کرسکتا ہے ،جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کردیا ہو یا وہ پاگل ہوگیا ہو ،جسے پاگل خانہ جاکر علاج کرنے کی ضرورت ہے
(۶)غور فرمائیں،خطبے کو سنیں اور سمجھیں ‘شیخ محترم نے اپنے ابتدائے کلام ہی میں یہ واضح فرمادیا ہے کہ (فلا مساوَمةَ على العقيدة مهما كانت المتغيِّرات، ولا تنازُل عن المبادئ مهما عَظُمَت التحديات والمؤامَرات) حالات جیسے بھی ہوں عقیدہ پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے ،اور سازشیں اور چیلنجز جس قدر بھی ہوں ،مبادیات سے کبھی بھی تنازل اختیار نہیں جا سکتا ہے (اللہ اکبر یہ ہے سعودی عرب کی توحید دوستی اور سنت فہمی )
شیخ محترم نے اپنے خطبے میں ابتدائے سال کی مناسبت سے عقیدہ کے مسائل پر گفتگو فرمائی ہے اور ولاء وبراء کا مطلب صاف و صریح نصوص کی روشنی میں سمجھانے ‘ بتانے کی سعی ٔ بلیغ فرمائی ہے‘اگر یہ جرم ہے تو یہ جرم ہزار بار ہونا چاہئے ‘نبی ٔ کریمﷺ نے اپنے ۱۳ سالہ مکی دور میں عقیدہ صافی کی ترویج و اشاعت پر ہی تو سارا زور صرف فرمایا ‘احکامات تو بعد میں نازل ہوئے ۔
سوال پید ہوتا ہے کہ :شیخ السدیس نے کیا فلسطینی مسائل سے سرِ مو انحراف فرمایا ؟
بالکل نہیں ،بلکہ انتہائی زور دار اور پرزور لفظوں میں اسے اسلام کا توحید کا شریعت کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ قرار دیا ہے ،چنانچہ اپنے خطبے کے دوسرے حصے میں یہ فرماکر ختامہ مسک کردیا ،فرمایا : (....خاصةً في قضايا الأمة الكبرى، وعلى رأسها قضية فلسطين، والمسجد الأقصى المبارك؛ فهي قضيتنا الإسلامية الأُولى، التي يجب ألَّا تُنسى في جديد الصراعات والتحولات والمتغيرات، دون مزايَدات إعلامية، أو مبالَغات صحفية، أو معارك إليكترونية)( اور بطور خاص امت کے بڑے مسائل میں جن میں سر فہرست فلسطین اور مبارک مسجد اقصی کا مسئلہ ہے ۔یہ ہمارا اولین اسلامی مسئلہ ہے جسے نت نئے تنازعات‘ تبدیلیوں اور تغیرات میں میڈیائی سودا بازیوں یا اخباری مبالغہ آمیزیوں یا الکٹرانک جنگ آزمائیوں سے پرے ہوکر کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے) اب کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو شیخ سدیس کو اسرائیل نواز کہے گا‘یا یہ کہے گا کہ ,,اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ‘‘۔
پھر غور فرمائیں شیخ السدیس۔حفظہ اللہ۔ نے اپنے خطبے میں اپنے موضوع(اسلامی عقائد) کی توضیح و تبیین کے لئے کئی آیات پڑھیں‘ اور ان سے استدلال فرمایا ‘کیا آیات سے استدلال جرمِ عظیم کہلائے گا ؟آپ بھی وہ آیات ملاحظہ فرمائیں
(۱)(يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا)[الْحُجُرَاتِ: 13]
(۲)(لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ)[الْمُمْتَحَنَةِ: 8]
(۳)(لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ)[الْكَافِرُونَ: 6]،
(۴)(لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ)[الْبَقَرَةِ: 256]
(۵)(وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا)[الْبَقَرَةِ: 83]
اب آپ بتائیں ‘ایک خطیب ‘ایک مقرر ‘ایک واعظ قرآنی آیات سے استدلال نہیں کرے گا تو کن چیزوں سے استدلال کرے گا ؟یہی تو نبوی منہج ہے
اسی پر بس نہیں ‘بلکہ شیخ حفظہ اللہ نے احادیث اور سیرتِ طیبہ کے انمٹ نقوش سے بھی اپنے موضوع عقیدہ ٔ ولاء و براء(اسلام میں دوستی اور دشمنی کے اصول ) پر استدلال کیا،اور نبوی تعاملات و طریقہ ٔکار سے بھی استنباط فرمایا،آپ بھی ملاحظہ فرمائیں
(۱)حديث أسماء بنت أبي بكر -رضي الله عنهما- قالت: “قَدِمَتْ عليَّ أُمِّي وهي مشركةٌ، في عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فاستفتيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- قلتُ وهي راغبة: أَفَأَصِلُ أُمِّي؟ قال: نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ”، فتكون في قلبها مبغضِة لإشراكها بالله -تعالى-، لكن تَصِلُها وتُحسِن إليها، وتُعامِلُها بالحسنى تأليفًا لقلبها، قال تعالى: (وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا)[لُقْمَانَ: 15](بخاری نمبر:۲۶۲۰‘مسلم رقم:۱۰۰۳)(ترجمہ: میری ماں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں میرے پاس آئیں اور مشرکہ تھیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا ، میں نے کہا : (اسلام میں) رغبت رکھتی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ، اپنی ماں کےساتھ صلہ رحمی کرو ۔یوں وہ اپنے دل میں کفر اور اللہ کے ساتھ شرک کو نا پسند کریں گي ۔ مگر ان کی تالیف قلب کے لیے ان کے ساتھ صلہ رحمی کریں گی ، ان کے ساتھ بہتربرتاؤ کریں گی اور نیکی و بھلائی کے ساتھ ان سے پیش آئیں گی ۔
اللہ نے فرمایا :ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا)
(۲)وقد توضَّأ صلى الله عليه وسلم من مزادة مشركة (بخاری رقم:۳۴۴‘مسلم رقم:۶۸۲ من حدیث عمران بن حصین)( اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرکہ خاتون کےمشکیزہ سے وضوء فرمایا)
(۳)ومات ودرعُه مرهونةٌ عند يهودي(ترمذی :۱۲۱۴‘نسائی رقم :۴۶۵۱‘مسند أحمد رقم:۳۴۰۹‘ و سندہ صحیح) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی)
(4) وعامَل يهودَ خيبر على الشطر ممَّا يخرج من زروعهم وثمارهم (بخاری رقم :۲۴۹۹‘مسلم رقم:۱۵۵۱)( اور خیبر کےیہودیوں سے ان کی کھیتی باڑی اور پھلوں میں آدھے آدھے حصے پر آپ نے معاملہ کیا)
(۵)وأحسَن إلى جاره اليهودي؛ (پھر شیخ نے ایک قصے کے اختصار سے استدلال فرمایا ، اور آپﷺ نے اپنے یہودی پڑوسی کے ساتھ بہترین معاملہ فرمایا اور بالآخر وہ مسلمان ہوگیا )
اب آپ بتائیں کہ شیخ محترم آیات نہ پڑھتے ‘ان سے استدلال نہ کرتے تو کیا کرتے؟
اسلامی صافی عقیدہ کی تعلیم سال کے شروع میں نہ دیتے تو کیا کرتے؟بتایا جائے کہ عقیدہ کی بات کرنا ،اعتقادی مسائل کی توضیح و تشریح کوئی جرم نہیں ہے ؟
سنجیدگی اور دل کی گہرائی سے غور کیا جائے کہ کیااحادیث رسولﷺ سے مسائل مستنبط کرنا اسرائیل سے سانٹھ گانٹھ ہے ؟
ذرابتایا جائے اور انتہائی سنجیدگی سے اس امر پرغور کیا جائے کیا سیرتِ رسول ﷺ کے درخشندہ باب کادہرانا ،اس سے مسائل اخذ کرنا کوئی پاپ ہے ،کوئی جرم ہے ، کوئی گناہ ہے ؟
بتایاجائے کہ شیخ محترم ۔حفظہ اللہ ۔عقائد کی ترغیب نہ دیتے اور کیا کرتے؟ ۔
ان حضرات کو تو اسرائیل نوازی نظر آگئی مگر ((مسجدِ اقصی اور قضیہ ٔ فلسطین امت ِ اسلامیہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ‘اور حالات جیسے بھی ہوں اسے فراموش نہیں کیاجا سکتا ہے )) جیسی باتیں نظر سے غائب ہوگئیں ‘آپ کی دعائیں نگاہ سے اوجھل ہوگئیں ،اب ؎ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مسئلہ اسرائیل نوازی اور یہودیوں سے سانٹھ گانٹھ کا نہیں ‘مسئلہ سعودی دشمنی اور توحید عداوت کا ہے ‘ یہ توحید دشمنی میں ہمیشہ شوشے تلاش کرتے ہیں‘فتنے بپا کرنے کے لئے کوئی بھی پوائنٹ ڈھونڈھتے ہیں تاکہ سعودی حکام ‘سعودی علماء ‘ اورتوحید پرستوں کو بدنام کیا جا سکے ‘و ما تخفی صدورھم أکبر
اللہ تعالی سے انتہائی عجز و انکساری سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حرمین شریفین،مملکت ِ توحید (سعودی عرب)،حکام مملکت ِ توحید ،علماء اہل سنت و الجماعت ،پیشوایانِ دین وملت،مقتدایانِ کتاب و سنت اور پیرو کاران ِتوحید و ایمان کی حفاظت فرمائے،رب کریم ان کا حامی و ناصر ہو ،إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ (النحل:۱۲۸)
و صلی اللہ و سلّم و بارک علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ أجمعین
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,619
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
290
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس ترجمہ کا شکریہ ، جزاكم الله خيرا

وہ تمام تر کلام جو توحید خالص پر تھا سب سے زیادہ پر اثر تھا اس تمام کلام کا ذکر ھر خبر سے غائب کر دیا گیا ۔ بنیادی موضوع ہی توحید تھا اور یقینا یہی بات مخالفین توحید خالص برداشت نہیں کر پائے ۔ اتنا ہنگامہ بھی ایسی بات پر مچایا جا رہا ھے تا کہ اس فصیح و بلیغ خطبہ کی اساس سے عام مسلمانوں کو بے خبر رکھا جا سکے ۔ جن کے نقاب ھٹائے گئے ، جن سے عوام کو خبر دار کیا گیا انکا رد عمل سامنے آیا اور وہ اسی طرح کا ھونا تھا ۔ توحید خالص کس طرح برداشت ھو جاتی؟

ترجمہ تو کم از کم برصغیر کے ھر اردو اخبار نے شائع کر دینا تھا ، جب دعوی شائع کیا اور اپنا اعتراض شائع کیا تو بطور ثبوت مکمل ترجمہ بھی پیش کر دیتے ، دینی خطبہ کا ترجمہ بھی دینی خدمت ھے ، اس خدمت سے انکار کیسا؟ ویسے دین اسلام ھے ہی توحید خالص پھر گھبرانا کیسا؟
 
شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
18
#محمد طارق عبد اللہ صاحب
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
یقینا توحید عظیم سرمایہ ہے‘اور اس عظیم دولت سے جب کوئی تہی دامن ہوتا ہے تو پھر ہر قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں
 
Top