• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امیر معاویہ اور عمربن العاص رضی اللہ عنہما پر گانا گانے کا الزام

شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
Gana Sunnay walay k liye Baddua.jpg
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے کہ آپ ﷺ نے دو آدمیوں کے گانے کی آوازسنی- آپ ﷺ نے ان کے لئے بد دعا فرمائی اور کہا "اے اللہ ! انہیں جہنم میں الٹ دے اور آگ میں دھکیل دے (مجمع الزوائد)
اس حدیث کی تحقیق درکار ہے- کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بد دعا کی؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,957
ری ایکشن اسکور
9,816
پوائنٹ
722
امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
وعن أبي برزة قال: كنا قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فسمع رجلين وهما يتغنيان وأحدهما يجيب الآخر وهو يقول:يزال حواريَّ تلوح عظامه * زوى الحرب عنه أن يحن فيقبرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "انظروا من هما". قال: فقالوا: فلان وفلان. قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم أركسهما ركساً ودعهما إلى النار دعاً". %رواه أحمد والبزار وقال: نظر إلى رجلين يوم أحد يتمثلان بهذا الشعر في حجرة. وأبو يعلى بنحوه وفيه يزيد بن أبي زياد والأكثر على تضعيفه. [مجمع الزوائد للهيثمي: 8/ 38]

امام ہیثمی رحمہ اللہ نے یہ روایت مسند احمد، مسند بزار اور مسند ابویعلی سے نقل کی ہے اور سب کی سندیں ملاحظہ ہوں:


امام احمد کے بیٹے امام عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى:290)نے کہا:
حدثنا عبد الله بن محمد ، (وسمعته أنا (1) من عبد الله بن محمد بن أبي شيبة) ، حدثنا محمد بن فضيل ، عن يزيد بن أبي زياد ، عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال : أخبرني رب هذه الدار أبو هلال قال : سمعت أبا برزة قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر ، فسمع رجلين يتغنيان وأحدهما يجيب الآخر وهو يقول : لا يزال حواري تلوح عظامه زوى الحرب عنه أن يجن فيقبرا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : انظروا من هما ؟ قال : فقالوا : فلان وفلان ، قال : فقال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم اركسهما ركسا ، ودعهما إلى النار دعا [مسند أحمد ط الميمنية: 4/ 421]

مسند احمد کی سند دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس روایت کو امام احمد نے روایت نہیں کیا ہے بلکہ ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے یعنی یہ روایت زوائد مسند میں سے ہے ۔ اس لئے امام ہیثمی کا یہ کہنا غلط ہے کہ امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔


امام بزار رحمه الله (المتوفى292)نے کہا:
حدثنا عباد بن يعقوب الكوفي، قال: نا محمد بن فضيل بن غزوان، قال: نا يزيد بن أبي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الأحوص، عن أبي هلال العكي، عن أبي برزة الأسلمي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر إلى رجلين يوم أحد يتمثلان بهذا الشعر في حمزة: تركت حواريا تلوح عظامه ... زوى الحرب عنه أن يجن فيقبرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اللهم اركسهما ركسا، ودعهما إلى العذاب دعا» وسليمان بن عمرو بن الأحوص. روى عنه يزيد بن أبي زياد وغيره، وأبو هلال العكي فرجل غير معروف [مسند البزار = البحر الزخار 9/ 310]

امام أبو يعلى رحمه الله (المتوفى307) نے کہا:
حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير، ومحمد بن فضيل، عن يزيد بن أبي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الأحوص، قال: حدثني أبو هلال، عن أبي برزة، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فسمع رجلين يتغنيان وأحدهما يقول لصاحبه:[البحر الطويل]يزال حوار ما تزول عظامه ... زوى الحرب عنه أن يجن فيقبرا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من هذا؟» قال: فقيل له فلان وفلان، قال: فقال: «اللهم أركسهما في الفتنة ركسا، ودعهما في النار دعا» [مسند أبي يعلى الموصلي 13/ 429]

ان تینوں کتابوں میں یہ روایت ایک ہی سند سے ہے ۔
اور یہ سندسخت ضعیف ہے۔
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ خودامام ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے نقل کرنے کے بعدکہا:
وفيه يزيد بن أبي زياد والأكثر على تضعيفه. [مجمع الزوائد للهيثمي: 8/ 38]

اور ابوھلال یہ مجہول ہے ۔
یادرے کہ یہ ابوھلال راسبی نہیں معلوم ہوتا گرچہ ابوھلال راسبی بھی قول راجح میں ضعیف ہی ہے ۔جیساکہ میری کتاب تحفۃ الزاھد بتکراراللجماعۃ فی المسجد الواحد میں پوری تفصیل موجودہ ہے۔

اور متن میں شدید نکارت کو دیکھتے ہوئے اس روایت کے بارے میں یہی فیصلہ مناسب ہے کہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔
اسی وجہ سے ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں نقل کیا ہے اور ہمارے خیال سے کوئی غلط نہیں کیا۔

یادرہے عام طور سے محدثین نے ان دونوں کے نام کی جگہ فلان و فلان کہا ہے جن دونوں پر اس روایت مین گانا گانے کا الزام ہے ۔ لیکن اسی روایت کے بعض طرق میں صراحت کہ یہ دونوں ، معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔چنانچہ :

ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا:
الحديث الثالث في ذمه وذم عمر بن العاص: أنبأنا أبو منصور بن خيرون أنبأنا الجوهري عن الدارقطني عن أبي حاتم البستي حدثنا أبو يعلى حدثنا علي ابن المنذر حدثنا ابن فضيل حدثنا يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبي برزة قال: " كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فسمع صوت غناء فقال انظروا ما هذا؟ فصعدت فنظرت فإذا معاوية وعمروبن العاص يتغنيان فجئت فأخبرت نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: اللهم أركسهما في الفتنة ركسا، اللهم دعهما إلى النار دعا ".هذا حديث لا يصح.ويزيد بن أبي زياد كان يلقن في آخر عمره فيلقن.قال على: ويحيى لا يحتج بحديثه.وقال ابن المبارك: أرم به.وقال ابن عدي: كل رواياته لا يتابع عليها.[الموضوعات لابن الجوزي 2/ 28]

امام ذہبی نے بھی اس روایت کو ان دونوں صحابہ کے نام کی صراحت کے ساتھ نقل کرتے ہوئے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے چنانچہ :
ابن فضيل، حدثنا يزيد عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن أبي برزة، قال: تغنى معاوية وعمرو بن العاص، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم اركسهما في الفتنة ركسا، ودعهما في النار دعا.غريب منكر [ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 424]



خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔
کسی سبائی نے امیر معاویہ اور عمربن العاص رضی اللہ عنھما کو بدنام کرنے کے لئے اور انہیں جہنمی قرار دینے کے لئے گھڑا ہے۔ اس لئے اس روایت کے موضوع اور من گھڑت ہونے میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔
 
Top