• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انبیاء اکرام کو اپنی طرح بشر کہنا: شعار کفار

شمولیت
مارچ 08، 2018
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
12
انبیاء کو بشر کہنا کفار کا شعار تھا اور ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّـهٝ كَانَتْ تَّاْتِـيْهِـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَاۖ فَكَـفَرُوْا وَتَوَلَّوْا ۚ وَّاسْتَغْنَى اللّـٰهُ ۚ وَاللّـٰهُ غَنِىٌّ حَـمِيْدٌ
(تغابن، 6)
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو بولے ، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے تو کافر ہوئے اور پھر گئے اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُـوٓا اِذْ جَآءَهُـمُ الْـهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُـوٓا اَبَعَثَ اللّـٰهُ بَشَـرًا رَّسُوْلًا
(بنی اسرائیل، 94)
اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَاَنْزَلَ مَلَآئِكَـةً ۖ مَّا سَـمِعْنَا بِـهٰذَا فِىٓ اٰبَـآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ
(المومنون 24)
تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا تھا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی، چاہتا ہے تمہارا بڑا بنے اور اللہ چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے تو یہ اپنے اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا.

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَـآءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْـرَفْنَاهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَاۙ مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ (33) وَلَئِنْ اَطَعْتُـمْ بَشَـرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخَاسِرُوْنَ
(المومنون، 34)
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے. اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو

وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ
(الشعراء 186)
تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں

قَالَتْ رُسُلُـهُـمْ اَفِى اللّـٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُـوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُـوٓا اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَاۖ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَـآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ
( ابراہیم، 10)
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بے عذاب کاٹ دے ، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ

قَالُوْا مَآ اَنْتُـمْ اِلَّا بَشَـرٌ مِّثْلُـنَاۙ وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْـمٰنُ مِنْ شَىْءٍۙ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
(یس، 15)
بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرے جھوٹے ہو

وَقَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِىْ فِى الْاَسْوَاقِ ۙ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُـوْنَ مَعَهٝ نَذِيْـرًا (7) اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُـوْنُ لَـهٝ جَنَّـةٌ يَّّاْكُلُ مِنْـهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا
(فرقان، 8)
اور بولے اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا

لَاهِيَةً قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاَسَرُّوا النَّجْوَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا هَلْ هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ
(الانبیاء ،3)
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,107
ری ایکشن اسکور
321
پوائنٹ
156
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

انبیاء اکرام علیہم السلام کو اپنی طرح بشر کہنا عین شعارو تقاضائے الہیٰ ہے !

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿ابراهيم: ١١﴾
ان کے رسولوں نے ان سے کہا ”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے“۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ﴿الحجر: ٢٨﴾
پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ ”میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں “۔

أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا ﴿الإسراء: ٩٣﴾
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں" اے محمدﷺ، اِن سے کہو ”پاک ہے میرا پروردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ﴿الكهف: ١١٠﴾
اے محمدﷺ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ ﴿فصلت: ٦﴾
اے نبیﷺ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿الشورى: ٥١﴾
کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
انبیاء کو بشر کہنا کفار کا شعار تھا اور ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّـهٝ كَانَتْ تَّاْتِـيْهِـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَاۖ فَكَـفَرُوْا وَتَوَلَّوْا ۚ وَّاسْتَغْنَى اللّـٰهُ ۚ وَاللّـٰهُ غَنِىٌّ حَـمِيْدٌ
(تغابن، 6)
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو بولے ، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے تو کافر ہوئے اور پھر گئے اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُـوٓا اِذْ جَآءَهُـمُ الْـهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُـوٓا اَبَعَثَ اللّـٰهُ بَشَـرًا رَّسُوْلًا
(بنی اسرائیل، 94)
اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَاَنْزَلَ مَلَآئِكَـةً ۖ مَّا سَـمِعْنَا بِـهٰذَا فِىٓ اٰبَـآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ
(المومنون 24)
تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا تھا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی، چاہتا ہے تمہارا بڑا بنے اور اللہ چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے تو یہ اپنے اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا.

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَـآءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْـرَفْنَاهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَاۙ مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ (33) وَلَئِنْ اَطَعْتُـمْ بَشَـرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخَاسِرُوْنَ
(المومنون، 34)
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے. اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو

وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ
(الشعراء 186)
تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں

قَالَتْ رُسُلُـهُـمْ اَفِى اللّـٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُـوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُـوٓا اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَاۖ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَـآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ
( ابراہیم، 10)
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بے عذاب کاٹ دے ، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ

قَالُوْا مَآ اَنْتُـمْ اِلَّا بَشَـرٌ مِّثْلُـنَاۙ وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْـمٰنُ مِنْ شَىْءٍۙ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
(یس، 15)
بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرے جھوٹے ہو

وَقَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِىْ فِى الْاَسْوَاقِ ۙ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُـوْنَ مَعَهٝ نَذِيْـرًا (7) اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُـوْنُ لَـهٝ جَنَّـةٌ يَّّاْكُلُ مِنْـهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا
(فرقان، 8)
اور بولے اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا

لَاهِيَةً قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاَسَرُّوا النَّجْوَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا هَلْ هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ
(الانبیاء ،3)
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر
ان آیات میں کافروں کا اعتراض ذکر کیا گیا ہے کہ وہ انبیاءکی بات کا جھٹلانے کے لیے انہیں ’ اپنے جیسا بشر ‘ کہہ کر جھٹلادیا کرتے تھے ، اور مطالبہ کرتے تھے ، اگر واقعتا کوئی رسول بھیجنا ہے ، تو فرشتہ وغیرہ ہونا چاہیے ۔
صبور صاحب ! آپ کا اس سے حضور کی بشریت کے انکار کا استدلال کرنا یہودی طرز ہوسکتا ہے ، کیونکہ نصوص میں لفظی یا معنوی تحریف کرنا ، یہ ان کا طرز بیان ہوا ہے ۔
رہی ہماری بات ، ہم تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن و سنت کی نصوص کے مطابق ہی بشر مانتے ہیں ۔
اور دوسری بات ، ہم بشر کہہ کر حضور کی بات کو رد کرنے کی جسارت نہیں کرتے ، بلکہ اہل حدیث تو دیگر فرقوں سے زیادہ اتباع رسول کی دعوت دینے والے ہیں۔
 
شمولیت
مارچ 08، 2018
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
12
انبیاء اکرام علیہم السلام کو اپنی طرح بشر کہنا عین شعارو تقاضائے الہیٰ ہے !
معاذ الله! کیا خدا کو بشر ٹھہرا رکھا ہے؟ کہ اپنی طرح بشر کہنے کو عین شعار الہی ٹھہرا دیا؟
جب الله عزوجل بشریت سے پاک ہے پھر یہ کیا حماقت ہے کہ اپنی طرح بشر کہنے کو شعار الہی قرار دے دیا؟
اگر اپنی طرح بشر کہنا عین تقاضائے الہی ہے تو آپ کے مطابق انبیاء کو اپنی طرح نہ کہنا والا کافر ہوا. پھر اس شخص پر کیا حکم نافذ کرو گے جو صرف بشر مانے لیکن نہ بشر کہے اور نہ ہی اپنی طرح بشر کہے؟
جو آیات آپ نے نقل کی ہیں عاجزی و انکساری کی مثالیں ہے، الله تبارک تعالی نے کب کہا اے مومنوں مسلمانوں تم بھی انبیاء کو اپنی طرح بشر کہتے پھرو؟
اور دوسری بات ، ہم بشر کہہ کر حضور کی بات کو رد کرنے کی جسارت نہیں کرتے ، بلکہ اہل حدیث تو دیگر فرقوں سے زیادہ اتباع رسول کی دعوت دینے والے ہیں۔
حقیقت سے الله عزوجل واقف ہے.
حضور کی بشریت کے انکار کا استدلال کرنا یہودی طرز ہوسکتا ہے
میں نے حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کب کیا؟
اور دوسری بات ، ہم بشر کہہ کر حضور کی بات کو رد کرنے کی جسارت نہیں کرتے
آپ کے اس قول کو جوناگڑھی صاحب نے یہ کہہ کر تقویت پہنچا دی،
”تعجب ہے کہ جس دین میں نبی (ﷺ) کی رائے حجت نہ ہو اس دین والے آج ایک امتی کی رائے کو دلیل اور حجت سمجھنے لگے“ (طریق محمدی ص 40)
نجدی شریعت میں جب نبی ﷺ کا قول ہی حجت نہیں تو آپ کی بے سر وپا بات کیسے مان لی جائے؟
صبورصاحب !
مصبور
 
Last edited:

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
جو آیات آپ نے نقل کی ہیں عاجزی و انکساری کی مثالیں ہے، الله تبارک تعالی نے کب کہا اے مومنوں مسلمانوں تم بھی انبیاء کو اپنی طرح بشر کہتے پھرو؟
محترم،
یہ تو آپ فرما رہے ہیں کہ یہ ان آیات میں عاجزی و انکساری کی مثالیں ہیں مگر ان آیات کو ذرا غور وہ فکر سے پڑھیں ان میں "قل" "کہہ دیں" کا صیغہ ہے جس کا تقاضہ ہے کہ اللہ اپنے بندو سے خود فرما رہا ہے کہ انبیاء تمہاری طرح بشر ہی ہیں مگر ہم نے ان کو یہ امتیاز دیا ہے ان پر وحی کی ہے تو اللہ نے خود فرما کہ تمہاری طرح ہی بشر ہیں۔
اور اس آیت سے یہ بات اور زیادہ واضح کہ جس میں کفار کا یہ شعار تھا کہ بشر کو رسول ماننے پر تیار نہ ہوتے تھے اور اپ رسول کو بشر کہنے کو تیار نہیں ہوتے آیت پیش ہے
bashar.jpg



تو اس سے اپ کا یہ گمان کافور ہوتا ہے کہ یہ کہاں کہا کہ اپنی طرح بشر کہتے پھرو.

دوسری بات اگر اپ اب بھی بضد ہیں کہ ان آیات میں عجز وانکساری کی مثالیں ہیں تو پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے ثابت کریں کہ آپ کا فہم منھج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے کہ انہوں نے بھی ان آیات کا یہی مفہوم سمجھا ہے تاکہ اپ کا فہم "ما انا و اصحابی" فرقہ ناجیہ کے مطابق ہے جبکہ میں اپ کو ایک جھلک پیش کردیتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مانتے بھی تھے اور کہتے بھی تھے مثلا
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی تھی
hadis bashar.jpg



تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بشر مانتے بھی تھے اور کہتے بھی تھے واللہ اعلم
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
میں نے حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کب کیا؟
یعنی آپ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مانتے ہیں ،
اور جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ : انبیاء کرام کو بشر کہنا کفار کا شعار ہے ،تو کیا آپ بھی ۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا سوال یہ ہے کہ :
اگر آپ امام اعظم ﷺ کو بشر مانتے ہیں تو کیسا بشر کہتے ہیں ؟
اگر مختصر اور صاف لفظوں میں جواب دیں گے تو سمجھنے میں آسانی رہے گی ،
 
شمولیت
مارچ 08، 2018
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
12
[
انبیاء کرام کو بشر کہنا کفار کا شعار ہے ،تو کیا آپ بھی ۔۔۔۔۔۔
بشر ماننا اور بطور تذلیل بشر بشر کی رٹ لگانا دونوں ہی الگ باتیں ہیں.
اور یہ صاف ظاہر ہے کہ فرقے والے صرف بشر مانتے ہی ہیں یا عام بشر جیسا ثابت کرنے کی کوشش میں بھی ہیں.
فلاں صفت کا انکار، فلاں خصائص کا انکار، یہ اہلسنت والجماعت میں تو قطعی نہیں ہوتا.
اگر حضور صلی الله تعالی عليه وآله وسلم کی صفت بشریت ہی دیکھنی ہے تو، الشفاء، الوفاء، خصائص کبری و دیگر اہل سنت کی کتب کا مطالعہ کریں. مفید ہوگا (شاید)
تو اس سے اپ کا یہ گمان کافور ہوتا ہے کہ یہ کہاں کہا کہ اپنی طرح بشر کہتے پھرو.
کہنے کا حکم نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم کو ہوا ہے یا آپ کو؟
الله عزوجل کے احکام کے میں حکمت ہوتی ان ہی احکام پر بغیر حکم بغیر حکمت سمجھے بشر بشر کی رٹ لگانا کہاں کی حماقت ہے؟
حضرت عائشہ رضی الله تعالى عنه کس سوال کا کس کے سوال کا جواب دے رہیں یہ ظاہر نہیں
ہوسکتا ہے سوال میں بشریت پر بھی سوال پوچھا گیا ہو.
یا تو ممکن ہے سوال اس طرز پر ہوا ہو جس سے سائل کو نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم کی بشریت کے تعلق سے وہم ظاہر ہو اور حضرت عائشہ رضی الله تعالى عنه نے حضور اکرم صلی الله تعالی عليه وآله وسلم کی سادگی بتاتے ہوئے فرمایا ہو.
رسول الله کے معجزات کو دیکھتے ہوئے نو مسلموں یا غیر اسلامی لوگوں کے ذہن میں یہ خدشات آسانی سے پیدا ہوجاتے
ظاہر ہے کہ پوچھنے والا نبی کی ذات سے کو بشریت کے علاوہ گمان کرتا تھا اس لئے ایسا فرمایا گیا
اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ اخذ کیا جاسکتا ہے جو شخص نبی کی بشریت سے کماحقہ واقف نہ ہو اور معجزات سن کر انہیں کچھ اور گمان کر لیتا ہے اس کے سامنے صحیح عقیدہ واضح کر دیا جائے نہ یہ کہ بشر بشر کی رٹ لگا لیں اور سامنے والا یہ سمجھے کہ آپ حق گوئی نہیں تذلیل کر رہے ہیں. جیسا کہ سلفی مقرروں اور مصنفوں کا شیوہ رہا ہے. بلا ضرورت بشر بشر کی رٹ لگانے کو انہوں نے دین سمجھ رکھا ہے
 
شمولیت
مارچ 08، 2018
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
12
اور اسآیت سے یہ بات اور زیادہ واضح کہ جس میں کفار کا یہ شعار تھا کہ بشر کو رسول ماننے پر تیار نہ ہوتے تھے اور اپ رسول کو بشر کہنے کو تیار نہیں ہوتے آیت پیش ہے
کفار کب نبی کو بشر ماننے پر تیار نہیں ہوتے تھے؟؟
بلکہ انہوں ہی بشر بشر کی ضد ہی لگائی تھی. سب سے اوپر جائیں بغور مطالعہ کریں.
رسول کو بشر کہنا ضروری ہے؟؟ یہ ضروریات دین میں سے ہے؟
جب میں نے بشر مان لیا تو یہ کیا ضروری ہے کہ بشر بشر کی رٹ لگا لوں تو لوگ سمجھیں کہ میں توہین کر رہا ہوں.
بشر ماننا ضروریات دین میں سے ہے، بشر کہنا ضرورت دین نہیں اضافی ہے.
جو آیت آپ نے پیش کی ہے اس میں کسی منکرِ رسالت نے بشریت کا انکار نہیں کیا. آیت پیش کرنے کا مقصد میں نہ جان سکا.
اگر ممکن ہو
ایک کام کریں آپ اپنے آل و عیال سے کہہ دیں وہ آپ کو بشر بشر پکارا کریں بار بار تا کہ کوئی آپ کو شیطان یا انسانی روپ میں جن نہ گمان کر لے.
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
196
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
مصبور صدیقی صاحب
السلام علی من التبع الھدی
جناب من: صرف اتنا بتا دیں کہ کیا " نبی ﷺ " کو " بشر " کہنا یا لکھنا یا بولنا " گستاخی " کے زمرے میں آتا ہے ؟؟؟
اگر جناب کا جواب " نفی " میں ہو تو رسول اللہ ﷺ کی بشریت ثابت کرنے والوں سے جناب کو کیا " الرجی " ہو رہی ہے ؟
 
Top