• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو!

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
303
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
شیخ ابو عمر المہاجر حفظہ اللہ کے صوتی خطاب: "وَٱعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُواْ" کا اردو ترجمہ بعنوان: "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو!"

تمام تعریفیں اس اللہ ہی کے لیے ہیں جو طاقتور اور مضبوط ہے، جو اپنے موحد بندوں کو عزت بخشنے والا ہے اور اپنے کافر دشمنوں کو رسوا کر ڈالنے والا ہے، اور درود و سلام ہو اس ہستی پر جنہیں تلوار کے ساتھ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، اور آپ کی آل و اولاد پر اور آپ کے اصحاب پر، اور قیامت تک آنے والے ہر اس شخص پر کہ جو احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرتا رہے۔

أَمَّا بَعْدُ۔۔۔!

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت بخشی۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں چوٹی کا عمل کرنے والوں یعنی اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں میں سے بنایا۔

{الْحَمْدُ ‌لِلَّهِ ‌الَّذِي ‌هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ} [سورة الأعراف:43]
ترجمہ: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی، جبکہ ہم خود تو ہدایت پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ بخشتا۔


تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں یہ عزت دی اور فضیلت بخشی کہ ہمیں اپنے سچے دین اور سیدھے راستے کی طرف دعوت دینے والا بنایا۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے دشمنوں سے جنگ و جدال کی اور دوستوں کی مدد کی توفیق دی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہم زمین کے ہر ٹکڑے پر غلبہ پاتے ہی اس کی شریعت کا نفاذ کرتے ہیں، اور اس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم زمین کے اس ٹکڑے پر بھی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشش کرتے ہیں جہاں ابھی ہمیں غلبہ نہیں ملا۔ پس اول و آخر اور ظاہر و باطن کی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

{الَّذينَ إِن مَكَّنّاهُم فِي الأَرضِ أَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ وَلِلَّهِ عاقِبَةُ الأُمورِ} [سورة الحج:41]
ترجمہ: وہ لوگ جنہیں اگر ہم زمین پر اقتدار بخش دیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور معاملات کا انجامِ کار اللہ ہی کے قبضے میں ہے
۔

دولت اسلامیہ سدا اپنے راستے پر رواں، پرچمِ توحید کو بلند کیے، جنابِ توحید کی حفاظت کرتے ہوئے اور ہر اعلی اور قیمتی چیز قربان کر کے اس کا دفاع کرتے ہوئے، اللہ کے حکم کی تعمیل میں اس کے دشمنوں سے لڑتی رہی ہے، بالکل جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

{فَإِذَا انسَلَخَ الأَشهُرُ الحُرُمُ فَاقتُلُوا المُشرِكينَ حَيثُ وَجَدتُموهُم وَخُذوهُم وَاحصُروهُم وَاقعُدوا لَهُم كُلَّ مَرصَدٍ فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ فَخَلّوا سَبيلَهُم إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ} [سورة التوبة:5]
ترجمہ: پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کر ڈالو، انہیں پکڑو، ان کا گھیراؤ کرو اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


اور اسی طرح اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے گامزن ہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا:

{أُمِرتُ أن أُقاتِلَ الناسَ حتى يشهدوا أن لا إلهَ إلا اللهُ وأن محمدًا رسولُ اللهِ، ويقيموا الصلاةَ ويؤتوا الزكاةَ فإذا فعلوا ذلك عَصَموا مني دماءَهم وأموالَهم إلا بحقِّ الإسلامِ، وحسابُهم على اللهِ}

ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے تب تک لڑتا رہوں جب تک وہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، اگر وہ ایسا کر لیں تو اسلام کے حق کے سوا اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہو گا۔


پس ہم اسی منہج پر چلے آرہے ہیں اور اسی کے نور کی پیروی کر رہے ہیں، اللہ کے حکم سے کوئی بھی مخالفت کرنے والا اور چھوڑ جانے والا ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، ہمارے لیے امام مسلم رحمہ اللہ کی معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث میں خوش خبری ہے:

{لا تزال طائفة من أمتي قائمةً بأمر الله، لا يضرهم من خذلهم، أو خالفهم، حتى يأتي أمر الله وهم ظاهرون على الناس}

ترجمہ: میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، انہیں چھوڑ جانے والے یا مخالفت کرنے والے کوئی نقصان نہ پہنچا پائیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے اور وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔


ہر اک جا کرکے ہم قائم شریعت
عدو کو خاک چٹوا کر رہیں گے

ہلاکت گھاٹ پر لا کرکے ان کو
مجاہد اپنی شاں پا کر رہیں گے

جہاں میں ہوگا دیں کا بول بالا
پھریرا حق کا لہرا کر رہیں گے

کریں گے سارے اہلِ دیں کی نصرت

ہر ایک قیدی کو چھڑوا کر رہیں گے
میں تمام امت اسلامیہ کو اور خصوصاً دولت اسلامیہ کے بہادر سپاہیوں کو نیجیریا میں طواغیت کی کوجی جیل سے ان کے بھائیوں کی رہائی پہ مبارک باد دیتا ہوں، وہ اللہ سبحانہ و تعالی کے احسان اور اس کی اپنے جنگی شیر موحد بندوں کے لیے خصوصی مدد سے جیل پہ حملہ آور ہوئے اور اس کی فصیلیں زمین بوس کرکے، اس کے دَر اکھاڑ کر اور ذلیل دشمن کی ناک خاک آلود کر کے اپنے بھائیوں کو عزت کے ساتھ نکال لائے۔

اور افریقہ کے شیروں نے بس اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ وسطی افریقہ میں بھی ان کے بھائی جمہوری کانگو کی ایک جیل پر ٹوٹ پڑے، انہوں نے وہاں پر پہرے داروں کو غارت کردیا اور فصیلیں ڈھا دیں، پس جو سامنے آیا وہ مارا گیا اور جو باقی بچ گیا وہ بھاگ کھڑا ہوا، پس کئی مسلمانوں کو بازیاب کرا لیا گیا اور کفار مبہوت رہ گئے۔

پس خوش ہو جاؤ اے مسلمانو! کہ بے شک توحید کے شیر اور جہاد کے شہسوار ٹھان چکے ہیں کہ ان شاء اللہ اب کوئی مسلمان طواغیت کی جیلوں میں قید نہ رہے گا، اور وہ اس عزم پہ عمل درآمد کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی سے مدد مانگتے ہوئے اسی پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں، پس جیلیں ہمارا اولین ہدف ہیں یہاں تک کہ ہم جلد یا بدیر اللہ کی مدد و قوت سے اپنے تمام مسلمان بھائی بہنوں کو آزاد کرا لیں۔

اے مغربی و وسطی افریقہ کے شیر جوانو! اللہ تمہیں برکت سے نوازے کہ تم اپنے خلاف سخت ترین فوجی مہمات کے باوجود اپنے نبی ﷺ کے حکم کی تعمیل اور مسلمان قیدیوں کی باعزت رہائی کے متعلق دولت اسلامیہ کے امراء کے وعدوں کی پاسداری کے لیے کوشاں رہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ وہ تمہاری قدر و مرتبت میں اضافہ فرمائے، تمہیں ثابت قدمی عطا کرے اور تمہیں تمہارے دشمن پر فتح یاب کرے، بےشک وہی اس کا اہل اور اس پر بخوبی قادر ہے۔

اور اے تمام ولایات کے مجاہدو! افریقہ میں موجود تمہارے بھائیوں کے کارنامے تمہارے سامنے ہیں، ان کی مثال اپناؤ اور ان کے راستے پر چل نکلو، کہ تم ان سے کسی بھی طرح نہ کم قیمت ہو نہ ہی کم ہمت ہو۔

اور اے دولت اسلامیہ کی طرف سے بازیاب کرائے گئے مسلمان قیدیوں میں سے وہ لوگو کہ جو اس کی صفوں میں نہ تھے! تم بخوبی قید اور طواغیت کے تسلط کی سختیاں جھیل چکے اور مسلمانوں کے خلاف ان کا بغض و کفر بھی دیکھ چکے، پس آؤ اپنے مجاہد بھائیوں کے گرد جمع ہو جاؤ اور کفار کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ صف بصف کھڑے ہو جاؤ، اور اب تک جیلوں میں موجود اپنے باقی قیدی بھائیوں کی رہائی کی تدبیر کرو، کہ تم تمام لوگوں سے زیادہ ان کی حالت اور ان کی مدد کی ضرورت سے واقف ہو۔

اور رہے وہ لوگ کہ جنہیں دولت اسلامیہ -اعزہا اللہ- نے رہائی دلائی، جو کل تک اس کے دشمنوں کی صفوں میں تھے! دیکھو ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے تا کہ تم جان لو کہ ہم تم سے جنگ قتل و خون ریزی کے شوق میں یا حکمرانی کے لالچ میں نہیں کرتے، بلکہ ہم تو تم سے لا الہ الا اللہ کی خاطر لڑتے ہیں، ہم تم سے مسلمانوں کی یکجہتی اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنے کے لیے لڑتے ہیں، سو ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے کہ تم خوب سوچ بچار کر لو، اپنی سمجھ سے کام لے لو اور اپنی گمراہی سے باز آ جاؤ، بلاشبہ ہمارے دروازے تمہارے پلٹ آنے کے لیے خوب کھلے ہیں، اور یقینا تمہارا مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جانا ہمیں تم سے لڑنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، پس تم اپنے معاملے میں خوب غور کر لو، اور انجام کار تو اللہ ہی کے لیے ہے۔

اے تمام جہان میں موجود مسلمان قیدیو! میں اس کے سوا کچھ نہیں کہوں گا کہ جب ہم نے اپنے کریم رب سے اچھا گمان کرتے ہوئے تم سے تمہاری رہائی کے وعدے کیے تھے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے مدد و قوت سے ایک دن بھی قید سے تمہاری (ان شاء اللہ ) باعزت رہائی کے متعلق ذرہ برابر بھی شک نہ تھا، اور یہ رہی کوجی جیل، اس کے بعد کاکوانگورا جیل اور اس سے پہلے غویران جیل، ایک سال کے اندر ان سب کی فصیلوں کی زمیں بوسی فتح کے چشموں میں سے صرف ایک قطرہ ہے، اور چھٹکارا تو بس آیا ہی چاہتا ہے،بإذن اللہ ، ہم اس بارے میں بہت لمبی چوڑی گفتگو نہیں کرتے کہ اس میں ہمارا کردار ہی ہماری بلند ہمتی کی گواہی دے گا، ان شاء اللہ، اور اللہ توفیق دینے والا ہے۔

اور آج کے دن ہم جو پکار لگا رہے ہیں، اس کے جھونکے امتِ مسلمہ اور اس کے بیٹوں کے نام ہیں: آخر تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ دیکھو، کفار باہم چھٹ گئے ہیں، وہ مشرقی اشتراکی نظام اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے خیموں میں بٹ چکے ہیں، اور دنیا پر قبضے کی خاطر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ کمیونسٹ ممالک، کیا بڑے کیا چھوٹے، سب ہی ہبل عصر امریکا پر شیر ہو رہے ہیں، اور اللہ کی قسم! عراق میں بھڑکے اس شعلے سے لے کر آج کے دن تک اس کی شان و شوکت ریزہ ریزہ کرنے، اس کی ناک خاک آلود کرنے اور اسے ان کی نظروں میں معمولی بنانے کا سارا سہرا مجاہدین فی سبیل اللہ کے سر ہے، اور اب تو یہ جنگ کی گرجتی برستی گھنگھور گھٹا ہے جو کبھی یہاں برستی ہے اور کبھی وہاں برستی ہے۔ اور عنقریب اللہ کے حکم سے صلیبی، مجوسی، رافضی اور دیگر کافروں کے خون کی نہریں زمین کے مختلف خطوں میں بہہ رہی ہوں گی۔ مگر ایسا نہ سمجھنا کہ اس جنگ سے تم محفوظ رہ سکو گے، کہ صلیب کے پجاری تمہارے علاقوں کے طواغیت کو ان کی خوشی ناخوشی سے اس جنگ میں بہرحال دھکیل ہی دیں گے، پس اپنے لیے سوچ رکھو اور دوسروں سے عبرت حاصل کرو! ارشادِ باری تعالی ہے:

{الَّذينَ آمَنوا يُقاتِلونَ في سَبيلِ اللَّهِ وَالَّذينَ كَفَروا يُقاتِلونَ في سَبيلِ الطّاغوتِ فَقاتِلوا أَولِياءَ الشَّيطانِ إِنَّ كَيدَ الشَّيطانِ كانَ ضَعيفًا} [سورة النساء:76]

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کیا وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے دوستوں سے لڑو، بےشک شیطان کی چال بہت کمزور ہے۔


اور امام بخاری نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا القِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، قَالَ: وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ: (‌مَنْ ‌قَاتَلَ ‌لِتَكُونَ ‌كَلِمَةُ ‌اللَّهِ ‌هِيَ ‌العُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ)۔

ترجمہ: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ! قتال فی سبیل اللہ دراصل ہوتا کیا ہے؟ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے سر اس کی طرف اٹھایا، کہتے ہیں: سر صرف اس لیے اٹھایا تھا کہ وہ شخص کھڑا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ سربلند ہو، وہی اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔


پس یہ رہی دولت اسلامیہ -اعزہا اللہ- جو ایسی تنِ تنہا اکلوتی ریاست ہے جو بغیر دھوکہ دہی و فریب کاری کے اور بغیر چاپلوسی کے اللہ کے دین، اس کی شریعت کی حکمرانی اور اس کے کلمے کی سربلندی کی طرف بلاتی ہے، جو تمہیں بلاتی ہے کہ آ کر اس میں شامل ہو جاؤ اور اس کی مدد کرو تا کہ یہ تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے کفر اور اہلِ کفر سے ایک محفوظ قلعہ اور ڈھال بن جائے۔

پس اے اصحابِ عقل و دانش! خصوصا مشرقی ایشیا میں بسنے والے فلپائنی باشندو!، اور سنگاپور، ملیشیا، انڈونیشیا کے اور اسی طرح بھارت، بنگلا دیش اور پاکستان کے عام مسلمانو! ، نجات کی طرف آؤ، ہم نے دیکھا ہے کہ تم کتنے کمزور ہو مگر وجہ تمہاری قلت نہیں کہ تمہاری تعداد تو ستاروں کی طرح ہے، بلکہ اس کی وجہ تمہاری کم ہمتی اور بزدلی ہے، اللہ کے دین کی نصرت اور اس کے دشمنوں سے جنگ کی ہمت نہ کر پانا اور مستقل خوف تمہیں کھا گیا ہے۔

دولت اسلامیہ میں اپنے بھائیوں کی مثال تمہارے سامنے ہے، پس دولتِ اسلامیہ میں اپنے مجاہدین بھائیوں کو پہچانو، ان کے ہم رکاب ہوجاؤ، ان کی نصرت کرو، اور ہندوؤں، ملحدوں، کافروں اور اپنے ہی درمیان موجود مشرکوں سے قتال کیلیے ان کے مددگار بن جاؤ، پس تمہارے دین کے متعلق دشمنوں کا طعن بہت بڑھ چکا، اب تم کب تک چپ سادھے، ذلت و رسوائی کی چادر اوڑھ کر بیٹھے رہو گے؟ آخر تم کس سے ڈر رہے ہو؟ دیکھو، تم تو اپنی خاموشی کے باوجود مارے جارہے ہو، عذاب کا شکار ہو اور رسوا ہو رہے ہو، وہ تم سے صرف اس چیز کا انتقام لے رہے ہیں کہ تم مسلمان ہو۔

ہندو جب تمہاری طرف سے بے خوف ہوگئے تو انہوں نے تمہارے دین اور تمہارے نبی ﷺ پر طعن و تشنیع شروع کردی، آپ علیہ الصلاۃ و السلام پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آخر تم کس منہ سے اللہ تعالی کا سامنا کرو گے؟ اور کیا حجت پیش کرو گے؟ کیا گائے کا پُجاری اپنی گائے پر تو غیرت کھائے، چوہوں کا پُجاری اپنے چوہوں پر تو غیرت کھائے لیکن تم اپنے دین اور اپنے نبی ﷺ کی عزت پر غیرت نہ کھاؤ؟ اللہ کی قسم! یہ عین ذلت و رسوائی اور دنیا کی محبت ہے، جیسا کہ صادق و مصدوق ﷺ نے خبر دی ہے، امام احمد اور امام ابو داؤد نے جید اسناد کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إذَا ‌تَبَايَعْتُمْ ‌بِالْعِينَةِ وَاتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَرْفَعُهُ عَنْكُمْ حَتَّى تُرَاجِعُوا دِينَكُمْ
ترجمہ: جب تم بیعِ عینہ کرنے لگو گے، اور گائے کی دُموں کے پیچھے چلنے لگو گے، اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالی تم پر ایسی ذلت بھیجے گا، جسے وہ تب تک ختم نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہیں آؤ گے۔


پس اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ اور اپنے بھائیوں کی نصرت کرو، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، تم دنیا و آخرت کی بھلائیاں پا جاؤ گے، باذن اللہ۔

اور افریقہ میں بسنے والے اہلِ سنت کے نام پیغام ہے: یقیناً تمہارے ہاں حق کا روشن آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ضو فگن ہے، پس آج کے دن یہ رہے مجاہدین جنہوں نے اکیلے اللہ کے فضل سے، اہل اسلام کے لیے وسعت و پھیلاؤ اور عزت و نصرت اور تمکین کے ساتھ افریقہ کی سرزمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا ہے، جبکہ پہلے وہ ظلم و زیادتی سے اَٹ چکی تھی۔

بلاشبہ انہوں نے افریقہ کے اُفق سے اس کے سپوتوں پر مسلط صلیبی غلامی اور ذخائر سلبی کی گرد کو پَرے ہٹا دیا، پس اس ذلت کی طرف دیکھو کہ جس میں تم تھے، اور پھر اپنی آنکھیں اس عزت کی طرف اٹھاؤ کہ جس میں آج دولتِ اسلامیہ کے بیٹے ہیں۔

پس پہلے تم اپنے خطے کے ذخائر صلیبیوں کے حوالے کرنے کیلیے غلاموں کی طرح ہانکے جاتے تھے، تمہارے بیٹے ہزاروں میل چل کر اور ہزاروں خطرات و ہولناکیاں مول لے کر ذلیل ہوکر یورپ پہنچتے تھے کہ چند درہموں کی خاطر وہاں کام کر سکیں۔

لیکن اب اللہ تعالی نے تم پر احسان کیا کہ تم میں سخت گیر جواں مردوں کو نکالا، جنہوں نے اندھیروں سے بغاوت کر دی اور اللہ کے دین کی نصرت، صلیبیوں اور ان کے پالتوؤں سے قتال، اور بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر بندوں کے پروردگار کی بندگی کی طرف بلانے کے بوجھ کو اپنے شانوں پر اٹھایا۔

چنانچہ آج ہم اللہ کے فضل سے افریقہ میں عیسائیوں کی خونریزی، نابودی، دربدری، اور صلیبی و مرتد لشکروں کی تباہی کی خبریں پورے فخر سے سن رہے ہیں۔ پس اے افریقہ! تجھے خوش خبری ہو کہ رب العالمین کی شریعت کیلیے اور نصرت و تمکین لوٹانے کیلیے فاتح صحابہ کے پوتے پلٹ آئے ہیں۔

پس اے دولتِ اسلامیہ کے سپوتو! جلدی کرو! آج کے دن ہر دو دھاری، کاٹ ڈالنے والی تلوار کو تیز کرلو! اور دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوکر اللہ کے کمینے دشمنوں سے قتال کرو! یقیناً اس کے شیر جوان سپاہیوں کے مبارک کارناموں میں وہ انتقام بھی شامل ہے جو انہوں نے دولتِ اسلامیہ کی ولایات میں سرت، موصل اور رقۃ وغیرہ میں صلیبی اتحاد کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمانوں کیلیے لیا، پس افریقہ کے شیر بدلے کیلیے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عیسائیوں کو قتل و دربدر کردیا اور ان کے گھروں کو نذرِ آتش و زمین بوس کر ڈالا، پس یہ تو ادلے کا بدلہ ہے، اور ابھی ہم نے اپنا انتقام تو لیا ہی نہیں، جبکہ آنے والا وقت اس سے کہیں سخت اور فیصلہ کن ہے، اور عیسائی ضرور بالضرور اس دہشت میں جئیں گے کہ جس سے ان کے کلیجے پگھل جائیں گے، اور ان کے بچے، بوڑھے ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے مسلمانوں پر جنگ مسلط کی اور اللہ کے مجاہد بندوں کو قتل کیا، پس۔۔۔

{وَالعاقِبَةُ لِلمُتَّقينَ} [سورة القصص:83]
ترجمہ: اور بہر حال اچھا انجام تو پرہیز گاروں کیلیے ہی ہے۔


اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے سائے تلے جی چکے اہلِ سنت کے نام پیغام ہے: کیا سرداری اور عزت والی زندگی کے بعد بھی تمہیں کمروں اور خیموں کی زندگی اچھی لگتی ہے؟ کیا مختلف خیراتی اداروں کی طرف سے کھانے پینے تک میں ذلالت، ملحدین، صحوات اور کمینے نصیریوں کا تسلط تمہیں گوارا ہوگیا ہے؟

تم دیکھ چکے ہو کہ دولتِ اسلامیہ سے جنگ کے بعد ربِ کائنات کی شریعت کو خود ساختہ شرکیہ قوانین و دستوروں سے بدل دیا گیا ہے، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم جن صحوات، جتھوں، اور گروہوں سے جنگ لڑتے ہیں اور وہ ہم سے جنگ لڑتے ہیں، ہم ان کی کیوں تکفیر کرتے تھے اور کررہے ہیں؟ خاص طور پر نصیریوں اور ملحدوں کے علاوہ دیگر گروہ، کیونکہ وہ اسلامی سرخیاں سجائے پھرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تئیں اسلام کا جھوٹا گمان کرتے ہیں، جبکہ در حقیقت تو وہ اندھے پرچم ہیں۔

کیا جو رب العالمین سے مدد لیتے ہوئے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کیلیے اور اس کی شریعت کی فرمانروائی کیلیے قتال کرتا ہے، اس کے اور ان کے درمیان فرق واضح نہیں ہوا کہ جو پینٹا گون، مرتد ترکوں اور قسما قسم صلیبیوں سے مدد لیتا ہے، اور اپنی عدالتوں میں خود ساختہ قوانین سے فیصلے کرکے کفر کا کلمہ بلند کرتا ہے؟

پس اللہ کی قسم! اس سے صحوات کی ذلت و رسوائی کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوا، اور انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا سوائے اس کے کہ وہ اپنے مددگاروں کے پاؤں کا جوتا بن کر رہ گئے، ان کا طاقتور ان کے کمزور پر اور ان کا مالدار ان کے فقیر پر مسلط ہوگیا، اور ان میں سے کفر و دلّالی میں بڑھا ہوا اس پر شیر بنتا ہے جسے اس سب کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی دلیل نہیں ملتی۔

اور اب اس گدھی گیڑے کے آخر میں تُرک ان سے یہ کھلواڑ کرنے لگے ہیں کہ انہیں اپنے مفادات کے مطابق جانوروں کی طرح ہانکتے پھرتے ہیں، پس اللہ کی قسم! یہ انقلابی گروہ کامیابی کا منہ بھی نہ دیکھ سکے، اور تاریخ کے صفحات میں ناکام ترین انقلابی قرار پائے۔

یہ سب اس لیے کہ انہوں نے پوری بے شرمی کے ساتھ مسلمانوں سے جنگ لڑی اور رب العالمین کی شریعت کا انکار کردیا، بعد اس کے کہ وہ شیروں کی ریاست کے سپوتوں کی طرف سے اہلِ جہاد و ثبات کی دعوت کی سچائی کو بیان کرنے والی واضح دلیلیں، نشانیاں اور حجتیں دیکھ چکے تھے۔

پس انہوں نے رو گردانی کی اور اس کے سپاہی بننے سے تکبر کیا، اور یہ بھی نہ مانے کہ ان پر اللہ کی شریعت کی فرمانروائی ہو کہ جس میں وہ اس پاک ذات کے غلام بن کر رہیں، پس اللہ نے بھی انہیں ایسی ذلت کا مزہ چکھایا کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اور آج کے دن ملحدوں سے ان کی جعلی لڑائی کی حقیقت سوائے متعفن قومیت اور حواس باختہ وطنیت کے کچھ بھی تو نہیں، وہ بھی کند تلواروں کے ساتھ جو ایسی ہتھیلیوں میں ہیں جو انہیں تھامنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتیں۔ جبکہ ہر کس و ناکس جان چکا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے ان ملحدوں سے قتال اس لیے کیا کہ وہ نہ تو اللہ کو رب مانتے ہیں، نہ محمد ﷺ کو نبی مانتے ہیں اور نہ ہی اسلام کو دین تسلیم کرتے ہیں۔

پس ہماری ان کے ساتھ جنگ کل بھی اور آج بھی دیکھی بھالی ہے، اور ہم ان پر ایسے دن لوٹا کر رہیں گے کہ جن میں ان کے چہرے سیاہ ہو کر بگڑ جائیں گے، ان شاء اللہ۔

جہاں تک ناپاک نصیریوں کا تعلق ہے تو تحقیق ہم نے ان کی گردنوں پر اتنے وار کیے ہیں کہ وہ ٹیڑھی ہو گئی ہیں، اور ہم نے انہیں چھریوں سے ذبح کیا یہاں تک وہ مسخ ہوگئے، اور آج کے دن نصیریوں سے پنجہ لڑانے کیلیے دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں کے سوا کوئی نہیں ٹِک پایا، وہ ان سے صحراؤں اور بنجر بیابانوں میں قتال کر رہے ہیں اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دھکیل رہے ہیں، انہوں نے ان پر زندگی حرام کر دی ہے اور ان پر ان کے وہی امن معاہدے بھڑکا دیے ہیں جو انہوں نے ٹولیوں اور گروہوں کے کاٹھ کباڑ میں سے اپنے دیگر دشمنوں کے ساتھ کیے تھے، پس اے سرزمینِ شام میں بسنے والے اہلِ سنت! کیا ابھی بھی تمہارے لیے حق واضح نہیں ہوا؟

اگر دن بھی ہو محتاجِ دلائل
بھروسہ عقل کا پھر کیا رہے گا؟

اور عراق کے اہلِ سنت کے نام ہمارا پیغام ہے کہ تمہاری حالت بھی باقی لوگوں سے کچھ اچھی نہیں ہے، تم نے جینے کی جتنی حرص کی اتنا ہی ناپاک رافضیوں کے سامنے ذلیل ہوتے گئے اور شکست خوردہ ہوکر رہ گئے، کیا اہلِ ایمان کو بے یار و مددگار چھوڑ دینے کے بعد تمہیں امن و امان مل سکا ہے؟ وہ کونسی سلامتی ہے جس کے تم دعوے کرتے ہو اور وہ کونسا فتنہ ہے جس سے تم بچ پائے ہو؟ فتنہ تو بلا شبہ وہ ہے جس کا تم شکار ہوچکے ہو اور اس کی طرف چل نکلے ہو۔

یہ رہے روافض جو "اطار" اور "تیار" کے مابین بٹے اقتدار اور بقاء کیلیے رسہ کشی کر رہے ہیں، اور ایک تم ہو کہ ان کے ہاں ذلیل و رسوا ہو اور ان کے فیصلوں پر رقص کناں ہو، پس ہائے افسوس! کہ تم کونسی بھلائی گنوا بیٹھے، اور کس دلدل میں جا پھنسے! اور تم دیگر لوگوں سے زیادہ بہتر طریقے سے مجاہدین کو جانتے ہو، اور مسلمانوں کی ریاست کے زیادہ اچھے سے گواہ ہو، پس تم تو بہر صورت مرے ہی مرے، سو اب کس سے بھاگ رہے ہو؟ اپنی بھلائی کی طرف لوٹ آؤ! اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی نصرت کرو! اور دولتِ اسلامیہ کے پرچم تلے قتال کرو، تاکہ دوبارہ معزز ہو جاؤ، جیسا کہ اس سے پہلے اللہ کی قسم تم معزز تھے، اور تم نے کہیں عزت نہیں چکھی سوائے اسی کے پرچم تلے۔

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ} [سورة المنافقون:8]
ترجمہ: عزت تو صرف اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں کیلیے ہے۔


اور یمن میں بسنے والے اہلِ سنت کے نام پیغام ہے: تم نے چُپ سادھ کر غیر جانبدار ہوکر ناپاک حوثیوں کے تسلط کے سوا کیا کمایا ہے؟ کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ آلِ سلول اور ان کے مرتد دم چھلے تم سے حوثیوں کی جنگ کو روکیں گے؟ تو اللہ کی قسم! حوثیوں کو دولتِ اسلامیہ کے شیر جوانوں کے سوا کوئی روکنے والا نہیں۔ اور بلاشبہ تم حوثیوں کے خلاف ان کا عظیم کردار تو دیکھ ہی چکے ہو۔ اور یہ رہے آلِ سلول، جنہیں جنگ نے اَدھ مُوا کرکے رکھ دیا ہے، اور وہ حوثیوں کے ساتھ ذلیل و رسوا ہوکر صلح صفائی پر مائل ہوچکے ہیں۔

اور ایک ہمارے شیر دل مجاہدین ہیں، جو پیہم حوثیوں پر جا بجا گھات لگائے بیٹھے ہیں، جیسے ہی انہیں کوئی موقع ملتا ہے تو وہ ان پر جھپٹ پڑتے ہیں اور ان کا خون بہاتے ہیں، اور اس کی بہترین دلیل وہ استشہادی حملہ ہے جو ایک پلٹ پلٹ کر آگے بڑھنے والے باہمت شیر نے حوثی قیادت کے اکٹھ پر کیا، اور ان کے جسموں کے چیتھڑے اڑا دیے، اور ان کے جمگھٹے کو بکھیر دیا، میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے علیین کے اعلی درجات میں قبول فرمائے اور ان تمام مجاہدین کو بھی جو اس دین کی نصرت کرتے ہوئے قتل ہوگئے۔

{مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ‌وَحَسُنَ ‌أُولَئِكَ ‌رَفِيقًا} [سورة النساء:69]
ترجمہ: ان لوگوں کے ساتھ کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے، اور یہی لوگ بہترین رفیق ہیں۔


پس اے روئے زمین پر بسنے والے عرب و عجم کے مسلمانو! اس سب کے بعد بھی کس چیز نے تمہیں اللہ کے راستے میں جہاد سے روکے رکھا ہے؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کیسے صلیبی قتال کر کے اپنی صلیب کی مدد کرتے ہیں اور کس طرح ہر قضیے والا مال و افراد کے ساتھ اپنے قضیے کی مدد کرتا ہے؟ جبکہ یہ سب وہ باطل پر ہوتے ہوئے بُرے ترین ٹھکانے کی طرف جاتے ہوئے کرتے ہیں، تو تم کس لیے حق کی نصرت سے پیچھے ہٹے بیٹھے ہو؟ اور کس چیز نے تمہیں اس سے روکے رکھا ہے؟ تمہیں مجاہدین نے اس بے وفائی سے کتنا ہی خبردار کیا!

پس اے اسلام کے سپوتو! بے شک آج کے دن ہر شخص اپنی قوم کی طرف اور ہر اہلِ ملت اپنی ملت کی طرف لوٹ جائے گا، اور تمہارے لیے اللہ کے بعد دولتِ اسلامیہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے، پس تم اپنے پروردگار کے حکم کی اطاعت کرو اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرو، اپنے خلیفہ کی بیعت کرو، اور اپنے ریاست کے گرد جمع ہوجاؤ، ارشادِ باری تعالی ہے:

{وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} [سورة آلِ عمران:103]
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو۔


اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَأنا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللهُ أمَرَنِي بِهِنَّ: بِالجَماعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالهِجْرَةِ، وَالجِهَادِ فِي سَبِيلِ الله، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الجَماعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أنْ يَرْجعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ، فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ الله، وَإِنْ صَامَ، وَإِنْ صَلَّى؟ قَالَ: (وَإِنْ صَامَ، وَإِنْ صَلَّى، وَزَعَمَ أنَّهُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوا المُسْلِمِينَ بِأسْمَائِهِمْ بِمَا سَمَّاهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: المُسْلِمِينَ المُؤْمِنِينَ عِبَادَ الله عَزَّ وَجَلَّ)

ترجمہ: میں تمہیں ان پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا: جماعت کو لازم پکڑو، بات سنو، اطاعت کرو، ہجرت کرو اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، پس جو بالشت بھر بھی جماعت سے باہر نکلا تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا الا یہ کہ وہ واپس پلٹ آئے، اور جس نے جاہلیت کی پکار لگائی تو وہ جہنم والوں میں سے ہے، عرض کیا: اے یا رسول اللہ! اگر وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے؟ فرمایا: اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے، اور خود کو مسلمان گمان کرے، پس مسلمانوں کو ان کے ناموں کے ساتھ پکارو جو اللہ عز و جل نے ان کے نام رکھے ہیں: مسلمان، مؤمنین، اللہ کے بندے۔
(اسے امام احمدؒ اورترمذیؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے، اور ابو عیسی ترمذیؒ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔)

اور یہ امر مسلمانوں کی جماعت اور موحدین کے امام کے بغیر وقوع پذیر ہوہی نہیں سکتا، اور آج ہم دولتِ اسلامیہ میں ہیں اور واضح و روشن پرچم تلے قتال کر رہے ہیں، ہم مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے جیسا کہ نسل پرستی اور علاقائیت کی پکار لگانے والے وطن پرست طواغیت کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جاہلیت کے نام دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیالی سرحدوں والے ممالک اور قبائلی و علاقائی عصبیت کی بنیاد پر تعلقات بناتے ہیں۔

دوسری طرف سارا عالم دیکھ چکا ہے کہ کس طرح دولتِ اسلامیہ میں طرح طرح کی شہریتوں اور نسلوں کے لوگ جمع ہوئے جنہیں کلمہِ توحید نے جمع کیا، پس وہ یکجان ہوگئے اور انہوں نے اس کے پرچم تلے قتال کیا۔

{فَمِنْهُمْ ‌مَنْ ‌قَضَى ‌نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [سورة الأحزاب:23]
ترجمہ: پس ان میں سے کوئی تو اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی اس کے انتظار میں ہے، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔


تحقیق گزشتہ کچھ عرصے میں امتِ مسلمہ میں منصوبوں اور نعروں کی بھر مار ہوچکی ہے، چنانچہ ہر گروہ نے اپنا ڈول ڈالا، سو تھوڑا سا ظاہر کیا اور بہت کچھ چھپا گئے، انہوں نے رنگ چڑھائے، بہروپ بھرے اور بہت کچھ بگاڑا، بدلا اور تحریف کی، یہ سب اس لیے تا کہ وہ عوامی مقبولیت اور اقتدار تک رسائی پاکر اپنی خواہشات پوری کر سکیں، مگر اللہ کی قسم! وہ کامیابی و کامرانی کو نہ پا سکے، جبکہ بلاشبہ دولتِ اسلامیہ روشن دلیل کے ساتھ گزرے ہوئے بہترین لوگوں کی جانشین بن کر سامنے آئی، وہ نہ تو ہمدردیاں جتاتی ہے اور نہ ہی کسی سے ساز باز کرتی ہے، اور نہ ہی کسی گھٹیا چیز پر راضی ہوتی ہے، پس وہ تو اللہ پر بھروسے اور اس کے اس فرمان پر یقین کے ساتھ چلتی چلی جا رہی ہے:

{‌قُلْ ‌هَذِهِ ‌سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [سورة یوسف:108]
ترجمہ: کہہ دو! یہ ہے میرا راستہ، میں بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں بھی اور ہر وہ شخص جس نے میری پیروی کی، اور اللہ پاک ہے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔


ہم احکام و اہداف میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو سلف صالحین کے فہم کے ساتھ لازم پکڑتے ہیں، ہم نہ تو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اور نہ ہی وہ بات کہتے ہیں جو اللہ کے کلام اور اس کے نبی ﷺ کی سنت سے میل نہ کھاتی ہو، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم سے لغزش سرزد نہیں ہوتی، بےشک ہم معصوم نہیں، البتہ ہم غلطی پر ڈٹتے نہیں نہ ہی ڈھٹائی دکھاتے ہیں، بلکہ غلطی واضح ہو جانے کے بعد اسے ٹھیک کر لیتے ہیں۔

پھر بھی آج امت کا حال دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ جماعتوں اور تنظیموں میں موجود خود کو امت کی طرف منسوب کرنے والے بہت سے لوگ دولتِ اسلامیہ کے حق میں کوتاہی کر رہے ہیں، وہ کفریہ امتوں سے اس کے قتال پر نکیر کرتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اسے آندھیوں کے جھکڑ کے سامنے سر جھکا لینا چاہیے اور مخالفین کو بہلانے کیلیے اسے حکمتِ عملیاں اختیار کرلینی چاہییں۔ پس ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہمارے عزیز و جلیل رب نے ہمیں اپنے دشمنوں سے قتال کرنے کا اور اپنی راہ میں جہاد پر جمے رہنے کا حکم دیا ہے، کہ اس بلند و بالا ذات کا ارشاد ہے:

{فَلَا ‌تَهِنُوا ‌وَتَدْعُوا ‌إِلَى ‌السَّلْمِ وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ} [سورة محمد:35]
ترجمہ: پس نہ تو تم کمزور پڑو اور نہ ہی سمجھوتے کی طرف بلاؤ، اور تمہی سر بلند ہو، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز نہ گھٹائے گا۔


اور ہم تو نبوی منہج پر کھڑے ہیں، ہم اپنے دین کے معاملے میں کسی گھٹیا چیز پر سمجھوتہ نہیں کرتے، پس ہم نے عزیمت کی راہ چنی ہے اور اللہ پر بھروسہ کیا ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ جیسے سارے کے سارے مشرکین ہم سے جنگ کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی سارے کے سارے مشرکین سے اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے حکم کو لازم پکڑتے ہوئے قتال کرتے ہیں، سو ارشادِ باری تعالی ہے:

{وَقَاتِلُوا ‌الْمُشْرِكِينَ ‌كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ} [سورة التوبة:36]
ترجمہ: اور سب کے سب مشرکین سے قتال کرو جیسا کہ وہ سب کے سب تم سے جنگ کرتے ہیں، اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔


اور ان میں سے جو ہمارے سامنے صلح کی طرف مائل ہوگیا تو ہم بھی صلح کی طرف مائل ہوجائیں گے، اور یہ صرف اپنے رب کی اطاعت کیلیے ہی ہوگا، کہ اس پاک ذات کا ارشاد ہے:

{وَإِنْ ‌جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} [سورة الأنفال:61]
ترجمہ: اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔


اور تم نے یہ بھی کہا کہ تم کیونکر مار دھاڑ، خون ریزی اور قتل میں شدت برت کے لوگوں کو اللہ کے دین سے متنفر کرتے ہو؟ تو ہم تم سے کہتے ہیں کہ گزشتہ دہائیوں سے کفار میں سے صلیبیوں، یہودیوں، مجوسیوں اور ملحدوں نے مسلمانوں کے ساتھ بہت گھناؤنا سلوک کیا ہے اور ان پر زیادتی کی ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے:

{‌فَمَنِ ‌اعْتَدَى ‌عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ} [سورة البقرۃ:194]
ترجمہ: پس جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو اس نے تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔


اور ارشادِ باری تعالی ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‌قَاتِلُوا ‌الَّذِينَ ‌يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ} [سورة التوبة:123]
ترجمہ: اے ایمان والو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمہارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔


مزید ارشادِ باری تعالی ہے:

{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ ‌أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} [سورة الفتح:29]
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں، اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔


اور رسول اللہ ﷺ نے تو آنکھوں میں سلاخیں پھروادیں، اور گلے کاٹ ڈالے اور جم کر قتل کیا، پس یہ ہستی ہمارے لیے نمونہ ہیں، تو تمہارا نمونہ کون ہے؟

اور تم نے یہ بھی کہا کہ تم مسلمانوں کو کیوں قتل کرتے ہو؟ اگر اس سے تمہاری مراد عراق وشام کی صحوات اور القاعدۃ کے پیروکار وغیرہ ہیں، تو ہم تم سے کہتے ہیں کہ اگر تم گمان کرتے ہو کہ یہ مسلمان ہیں، تو ہمارے پاس ان کے کفر اور اللہ کے دین سے ان کے ارتداد کے دلائل موجود ہیں، بے شک عراق کی صحوات کو اسی لیے وجود میں لایا گیا تھا کہ وہ مجاہدین سے جنگ کریں اور عراق میں جہاد کی چنگاری کو سرد کردیں، جبکہ اس سے پہلے صلیبی اور مشرک شیعوں میں ان کے وفادار جتھے مجاہدین کے ساتھ جنگ میں ناکام ہوچکے تھے، پس صلیبیوں نے صحوات کو اپنی طرف سے کھلی امداد کے ساتھ موحدین کی ریاست کے کلی خاتمے کیلیے میدان میں لا اتارا۔

اور جہاں تک شام کی صحوات کا تعلق ہے تو ان کی قیادت نے پوری بے غیرتی کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا کہ وہ ایک عوامی ریاست چاہتے ہیں، جس میں آبادی کا ہر کس و ناکس برابر ہو، جہاں ہر مسلمان اور کافر پر خود ساختہ دستور و آئین کی حکمرانی ہو، ایسی بات تو مسلمانوں میں سے کوئی پاگل بھی نہیں کہہ سکتا، چہ جائیکہ کوئی عقل مند؟ اور پھر وہ کہ جو خود کو ان کی قیادت کا ٹھیکے دار بھی سمجھتا ہو؟!

پھر انہوں نے صلیبی راہنمائی کی بنیاد پر ہمارے ساتھ جنگ لڑی، اس خوف سے کہ کہیں دولتِ اسلامیہ شام تک پھیل نہ جائے، لیکن وہ اللہ کے حکم سے ان کی ناک خاک آلود کرکے پھیل کر رہی، اور جہاں تک القاعدۃ کے پیروکاروں کی بات ہے تو تو انہوں نے جماعت کا انکار کیا اور گروہ بندی کو اختیار کیا، پھر انہوں نے بغیر کسی شرعی ہدف و مقصد کے صرف دولت اسلامیہ سے جنگ کرنے کے خیال سے ہمارے خلاف کفار و مرتدین کی مدد کی، پس وہ اس کے دشمنوں اور دین کے دشمنوں کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور رب العالمین کی شریعت کو ان بعض علاقوں سے ختم کر ڈالا کہ جن سے دولتِ اسلامیہ اپنے دشمنوں سے جنگ کے سبب انخلاء کر گئی تھی۔

اور اگر تمہاری مراد دولتِ اسلامیہ کی فرمانروائی کے علاقوں میں بسنے والے کچھ لوگوں پر حدود کا نفاذ ہے تو وہ یا تو ان کے ارتداد کی وجہ سے ہے، یا پھر کسی ایسی حد یا تعزیر کی وجہ سے ہے کہ جس سے وہ قتل کے مستحق بن جاتے ہیں، پس یہ سب کچھ شرعی عدالتوں کے ماتحت ہی ہے، جو اللہ کے نازل کردہ دین کے ساتھ فیصلے کرتی ہیں، اور اگر تمہیں العیاذ باللہ کسی مرتد کو قتل کرنے میں، یا کسی چور کا ہاتھ کاٹنے میں یا کسی زانی کو رجم کرنے میں کوئی ججھک ہے، یا تم اقوامِ متحدۃ سے ڈرتے ہو یا دہشت گردی کا ٹھپہ لگ جانے کے خوف سے اس کے قوانین کے سامنے اوندھے مونہہ گر پڑے ہو تو ہمیں ان حدود کے نفاذ میں قطعا کوئی جھجک اور عار نہیں۔

پس یہ تو اللہ کا دین ہے اور اس نے ہمیں زمین کے وسیع علاقوں میں تمکین عطا کی ہے، جہاں لاکھوں مسلمان اور ان کے علاوہ دیگر لوگ بھی بستے ہیں، پس ہم ان پر اللہ کے دین کے ساتھ حکمرانی کرتے ہیں اور ہم نے ان کے درمیان شریعت قائم کی ہے۔

بہر سو اہلِ کذب و افتراء ہیں
کہ اک سے بڑھ کے اک فتنہ گری ہے
بچی ہے گر کسی کی عقل سالم

تو سن لے کہ ہدایت آچکی ہے!

اور مجھے اس مقام کے لائق یہی بات معلوم پڑتی ہے کہ میں دولتِ اسلامیہ کے شیروں کی فتح یابی اور ثابت قدمی کی دعاء کروں۔ بھلے میں کلام کو جتنا بھی آراستہ کر دوں اور اس میں سے خوشبودار و عمدہ اور میٹھے الفاظ کا انتخاب کر لوں، میں تمہارے اوصاف کی ادائیگی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اگر میرے بس میں ہو تو میں تم میں سے ہر ایک کی پیشانی اور ہاتھ کو بوسہ دے کر بھی تم سے اپنی محبت اور تمہاری اعلی مرتبت کا پورا اظہار نہ کر پاؤں۔

اللہ تم میں اور تمہارے جہاد میں برکت دے، تمہیں اس کھلے عام اترنے والی بھلائی اور اس فضل عظیم کی مبارک باد ہو، یقینا مسلمانوں میں سے بہت سے جوانوں کی تمنا ہے کہ وہ آج کے دن کوہ و بیاباں میں تمہارے شانہ بشانہ ہوتے اور شیطان کے دوستوں سے قتال کرتے، پس تم اللہ کی نعمتوں اور نوازشوں پر اس کی حمد بیان کرو اور اس کی عنایت و عطاء پر اس کا شکر بجا لاؤ ۔

میں بالخصوص سیناء میں اسلام کے شیروں کا تذکرہ اور تعریف کرنا چاہتا ہوں، جو انگاروں کو تھامے ہوئے ہیں، پس تحقیق ان کے خلاف یہود اور فرعونِ مصر کے پیروکاروں اور اس کی صحوات میں سے بہت سے دلّال جمع ہوچکے ہیں، جبکہ وہ ان کے سامنے پہاڑوں کی مانند ثابت قدم کھڑے ہیں، اور انہوں نے اموال اور جانوں سے اپنے دین کی مدد کی۔

تم کتنے ہی بہترین مجاہدین ہو! تم ماضی سے اب تک یہودیوں کے گلے کا کانٹا بنے ہوئے ہو، جسے اکھاڑ پھینکنے کیلیے وہ اپنے سرِ دست دستیاب ہر چیلے چانٹے کے ذریعے کوشش کررہے ہیں۔ لیکن وہ اللہ کے حکم سے ناکام و نامراد ہی رہ گئے، پس تم ہی بیت المقدس کے محافظ اور اس کے پہرے دار ہو۔

اور جہاں تک فلسطین میں تشیع یافتہ مرتد صحوات کا تعلق ہے تو وہ پرلے درجے کے جھوٹے افتراء پردازوں کا ٹولہ ہے، جنہوں نے اپنی بدبودار اصلیت ظاہر کردی ہے، ان کے کسی سرکردہ رہنما نے بہت پہلے کہا تھا کہ ہم یہودیوں سے اس لیے نہیں لڑتے کہ وہ یہودی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ غاصب ہیں، یعنی زمین کیلیے نہ کہ دین کیلیے۔

ادھر ہم سیناء کی صحوات سے کہتے ہیں کہ کیا تم نے عراق و شام میں اپنے پیش روؤں کے انجامِ بد سے عبرت حاصل نہیں کی؟ کہ کیسے انہیں صلیبیوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں استعمال کیا اور پھر انہیں روٹی پانی کے پیچھے ہانپتے بھوکے کتوں کی طرح چھوڑ دیا، اور انہیں حتی کہ اپنے گھروں اور اپنی جانوں کے متعلق بھی اختیار نہ رہا۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم اپنے اس کرتوت سے انہیں راضی کر لو گے؟ اللہ کی قسم! ہر گز نہیں! بےشک اس بلند و برتر ذات کا ارشاد ہے:

{‌وَلَنْ ‌تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ} [سورة البقرۃ:120]
ترجمہ: تم سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تم ان کی ملت کے تابع نہ بن جاؤ، آپ کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر تم نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد بھی ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے ہاں نہ تو تمہارے لیے کوئی دوست ہوگا اورنہ ہی کوئی مددگار۔


پس تم پھر کس کیلیے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھا رہے ہو؟ کیا یہودیوں کیلیے کہ جن کے ہاں تمہارا رتی بھر وزن نہیں؟ یا سیسی کیلیے جو تمہیں حقیر وحشی قبائل گردانتا ہے؟ پس اس گمراہی و کرب سے باز آجاؤ، اور یہودیوں کی اور فوج کی مدد کرنا چھوڑ دو، افسوس کہ تمہای یہ زندگی بھی کیا خاک زندگی ہے!، قریب ہے کہ وہ مجاہدین کے بے آواز ہتھیاروں اور موحدین کی تیز چھریوں کا نوالہ بننے کیلیے تمہیں چھوڑ دیں، پس آج عبرت پکڑو اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جب کوئی شرمساری فائدہ نہیں دے گی۔

اور میں خراسان کے پہاڑوں اور اس کی میخوں کی مانند سخت گیر شہسواران و مردانِ وفا کی تعریف کرتا ہوں، تم نے اہل ارتداد و اہل شرک کو رنگا رنگ عذاب چکھائے، تم ہی نے کج روؤں کے پیٹھ دکھا جانے کے بعد اپنے نبی ﷺ کی ناموس کے لیے انتقام لیا، تم نے طالبان کو دین پر افتراء پردازیوں کے بدلے میں ہلاکت کے جاموں کا مزہ چکھا دیا، پس نہ تو وہ اپنی اس صلیبیوں کی من چاہی بادشاہت پر خوشیاں لُوٹ سکے اور نہ ہی مشرک رافضیوں کی پہرہ داری کر کے کامیابی پا سکے۔

پس طالبان نہیں جانتے کہ کیا وہ اب اپنے سپاہیوں کے گشتوں کی حفاظت کریں یا ہزارہ مشرکوں کے جلوسوں کی؟ اور بھلے وہ کیسے کامیاب ہو جو ہمارے نبی کریم ﷺ کی آبرو پر طعن کرنے والے کی حفاظت کرتا ہو اور ظلمِ عظیم کا کھلے عام چرچا کرتا ہو؟ اور بھلے وہ کیسے کامیاب ہو جس کا خراسان میں قتل ہونے والے شیعوں پر غم و افسوس دنیا بھر کے شیعوں کے غم و افسوس کے ساتھ شامل ہو؟

پس اے طالبانیو! تم کس کی رضا جوئی کی تلاش میں ہو؟ اور کس چیز کو اپنا دین بنائے ہوئے ہو؟ اور کس حکمت عملی کے پیچھے ہانپ رہے ہو؟ حق نکھر چکا ہے اور باطل بکھر چکا ہے، پس تم مسلمانوں کو دھوکہ نہ دو اور وہ مت کہو جو تم سے ہوتا نہیں، ارشادِ باری تعالی ہے:

{‌وَلَا ‌تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [سورة البقرۃ:42]
ترجمہ: اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور نہ ہی حق کو چھپاؤ جبکہ تم اسے جانتے ہو۔


پس اے لوگو! آج کے دن ہم محاذوں پر مصروفِ جنگ اپنے لشکروں، قاتلانہ حملے کرنے والے دستوں اور سوشل میڈیا پر محاذ آراء اعلام کی بدولت اللہ تعالی کے فضل سے تمہیں سراً و اعلاناً شب و روز اللہ کی طرف بلاتے ہیں، پس تم ان میں سے نہ ہوجاؤ کہ جنہیں جتنا بلایا جائے وہ اتنا ہی دور بھاگتے چلے جائیں، اور تم اللہ کے دین کے مددگار بن جاؤ!

اے زندہ و قائم، رحم کار و مہربان پروردگار! اے جلالت و کرامت والی ذات! اے اللہ! ہمارے قیدی بھائیوں اور بہنوں کو جیلوں سے رہائی عطا فرما، اے اللہ! اپنے موحد بندوں کی تائید فرما اور مسلمانوں کی ریاست کی نصرت فرما، اے پروردگارا! دین کے کلمہ کو سر بلند فرما، اے اللہ! ہمارے گناہ اور اپنے معاملے میں ہماری زیادتی کو بخش دے، اور ہمارے پاؤں جمادے اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما، آمین۔

وآخرُ دعوانا أنِ الحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ۔
 
Top