• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اور عنقریب کافر لوگ جان لیں گے کہ اچھا انجام کس کیلئے ہے !

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
بسم الله الرحمن الرحيم

شیخ المہاجر ابو حمزہ القرشی حفظہ اللہ کے صوتی خطاب: "وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ" کا اردو ترجمہ بعنوان: "اور عنقریب کافر لوگ جان لیں گے کہ اچھا انجام کس کیلئے ہے !"

بے شک تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہی ہیں، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی شر انگیزیوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں، جسے وہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اما بعد۔۔۔!

فرمانِ باری تعالی ہے: فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ﴿١٣٣﴾ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿١٣٤﴾ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ﴿١٣٥﴾ فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ ﴿١٣٦﴾ (سورۃ الاعراف)۔

ترجمہ: پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، جو کہ خوب کھلی نشانیاں تھیں، پھر بھی انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے، اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے آپ سےکررکھا ہے، یقینا اگر تم ہم سے یہ عذاب دور کر دو تو ہم لازما تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور بھیج دیں گے۔ پھر جب ہم ان سے اس وقت تک عذاب کو دور کر دیتے جسے وہ پہنچنے والے ہوتے تھے تو اچانک وہ عہد توڑ دیتے۔ تو پس ہم نے ان سے انتقام لیا، اور انھیں سمندر میں غرق کر دیا، اس وجہ سے کہ بے شک انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غفلت برتنے والے تھے۔

اور ارشادِ باری تعالی ہے: وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٩٠﴾ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿٩١﴾ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ ﴿٩٢ (سورۃ یونس)۔

ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار لگادیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب غرق ہونے کو پہنچا تو اس نے کہا میں ایمان لے آیا کہ حق یہی ہے ، جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ (تو آگے سے جواب ملا: کہ) کیاتو اب توبہ کرتا ہے؟ حالانکہ تو نے اس سے پہلے تو نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ سو آج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تو بعد والوں کیلئے نشانِ عبرت بنا رہ جائے اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سےغافل ہیں۔

پس پاک ہے وہ ذات جس نے فرعون اور اس کی سرکشی کے تذکرے کو اپنی کتاب میں جگہ دی، جسے قیامت کی صبح تک پڑھا جاتا رہے گا، تاکہ جو کوئی بھی دل رکھتا ہو یا وہ بغور کان لگا کر اسے سنے تو وہ اس سے سبق حاصل کرے۔ اور ہر ایسے شخص کے انجام سے بچے کہ جس نے شہروں میں سرکشی و تکبر اور ظلم و فساد برپا کیا، اور لوگوں میں قتل و غارت گری کی۔

مگر یہ اس دور کے طواغیت، کہ جنہوں نے فرعون کو اپنا نمونہ و منہج بنالیا ہے، یہ موحدین سے لڑائی میں اور رب العالمین کی شریعت سے جنگ کرنے میں اس کی کی پیروی کیے جارہے ہیں۔ پس اللہ ہی کیلئے تمام تعریفیں ہیں کہ جس نے فرعون اور اس کے دلّالوں کے ذکر کو قیامت تک کیلئے باقی فرمادیا۔

اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے دور کے طواغیت یا ان کے چیلے چانٹے نکل کر یہ کہتے پھرتے کہ فرعون تو بڑا پاکباز انسان تھا، اس نے موسی علیہ السلام سے جنگ تو اس لئے کی کہ انہوں نے اپنی قوم کے دین کو بدل دینا چاہا تھا اور وہ زمین میں فساد پھیلانا چاہتے تھے، جیسا کہ فرعون نے خود اپنے بارے میں یہ دعوی کیا تھا، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُ ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ ﴿٢٦
(سورة الغافر)
ترجمہ: اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یاپھر ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے۔

یا پھر وہ یہ کہنے لگتے کہ موحدین کے ساتھ اس کی جنگ اور کمزوروں پر اس کی مار "جواں مردی" کا بڑا کارنامہ ہے، اور اس کی مار تلے اپنا دین بچاکر نکلنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے جو وہ خود اپنے لشکروں سمیت مارا گیا تو یہ ان کی شہادت ہے، بالکل اسی طرح جیسے آج اسلام و اہلِ اسلام سے جنگ کرنے والے گمان کرتے ہیں،جب وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

پس یہ لوگ اپنے سے پہلے ان مجرموں کی بیتی داستانوں میں غور و فکر کرنے سے منہ موڑے ہوئے ہیں کہ اللہ نے ہمیں جن کے احوال و انجام سے خبردار کیا ہے، ان کے کان حق سننے سے بہرے ہوچکے ہیں، پس آیات تو آیات ہیں یہ انہیں پہنچنے والے عذاب سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے، نہ ہی خود کو پرکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے جرائم سے توبہ کرتے ہیں، تاکہ ان پر اور بھی بڑھ کر اللہ کا غضب نازل ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿٤٩﴾ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ ﴿٥٠﴾ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ ﴿٥١﴾ بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ﴿٥٢ (سورۃ المدثر) ترجمہ: انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ یہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں، گویا کہ وه کوئی بِدکے ہوئے گدھے ہیں، کہ جو کسی شیر سے بھاگے ہوں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں۔

اور فرمانِ باری تعالی ہے: وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٢١﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ﴿٢٢ (سورۃ السجدۃ) ترجمہ: اور ہم اُن کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے ساتھ ساتھ دنیا کے عذاب کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں، اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا کہ جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ بے شک ہم مجرموں سے ضرور بدلہ چکانے والے ہیں۔

اور اسی پاک ذات کا ارشاد ہے: وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴿٤﴾ فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٥﴾ أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ﴿٦(سورۃ الانعام)

ترجمہ: اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو بھی نشانی آئی تو انہوں نے منہ ہی موڑا ہے، بے شک جب بھی ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے حق کو جھٹلا دیا، تو عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آہی جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جنہیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمھیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم نے نہریں بنائیں، جو ان کے نیچے سے بہتی تھیں، پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد پھر دوسرے زمانے کے لوگ پیدا کر دیے۔

پس یہ اللہ سبحانہ وہ تعالی کی وہ سنت ہے جو کبھی نہیں بدلتی، اور وہ پاک ذات ہر دور کے طواغیت کو اپنی حکمت کے ساتھ خبر دار کرتی رہی ہے، پس وہ انہیں اپنےاس غضب اور دردناک عذاب کی یاد دہانی کرواتی ہے جو اس نے ان قوموں پر نازل کیا جو اس کے دین اور اس کے اولیاء سے جنگ پر اتر آئیں ، اور انہیں اپنے عذاب کا تھوڑا سا مزہ چکھایا، شاید کہ وہ اپنے کفر و سرکشی سے باز آجائیں، اور اس لیے بھی کہ اس میں اس کے موحد بندوں کیلئے نصرت کا سامان ہوجائے، پس اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧

(سورۃ الروم) ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے کئی رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، پس وه ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے۔ پھر ہم نے گناه گاروں سے انتقام لیا۔اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم تھا۔

پس اس پاک ذات کی رحمت ہی سے اس کے مومن بندے نصرت پاتے ہیں، اور مولیٰ سبحانہ و تعالی نے اجازت بخشی ہے کہ ہر اس شخص سے جنگ کی جائے جو اس کے موحد دوستوں سے دشمنی لگائے، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے، ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالی کا فرمان ہے: جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی لگائی تو میں اس شخص سے جنگ کی اجازت دیتا ہوں"

اور جس طرح اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے پیغمبروں اور موحدین سے دشمنی کرنے والے فرعون، اس کے دلّالوں، اس کے دم چھلوں، اس کے پیروکاروں اور اس کے لشکروں کو عذاب سے دوچار کیا تھا کہ ان پر اللہ سبحانہ و تعالی نے طوفان، ٹڈیاں، کیڑے، مینڈک اور خون کے عذاب کو بھیجا تھا، جو کہ کھلی کھلی نشانیاں تھیں، لیکن انہوں نے آگے سے تکبر کیا کیونکہ وہ ایک مجرم قوم تھی، تو اسی طرح اس پاک و برتر ذات نے اپنی قدرت سے اس دور میں فرعون کے پیروکار طواغیت پر، ان کے چیلوں چانٹوں اور دم چھلوں پر، انہیں منتخب کرنے والوں پر اور ان کے جوتا چاٹ و زرخرید غلاموں پر بھی اپنی جناب سے عذاب کو نازل فرمادیا، جو کہ اس کی مخلوقات میں سے کمزور ترین مخلوق ہے کہ اسے آنکھ بھی نہیں دیکھ سکتی، جبکہ سارا عالم اپنی دسترس و اسباب کے باوجود انگشت بدنداں کھڑا ہے، جن میں سرِ فہرست وہ ظالم و جابر طواغیت ہیں جو سرکشی کی ہر حد پار کر گئے تھےاور انہوں نے موحدین کو برے عذاب سے دوچار کیا تھا، اور انہی کے سبب مسلمانوں کے در و دیار ملبے کا ڈھیر بن گئے، اور انہوں نے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام کیا، اس سر زمین میں کہ جہاں فرعون و ہامان کے پیروکاریعنی اس دور کے طواغیت کی ناک خاک آلود کرکے اللہ کی شریعت کی فرمان روائی قائم کی گئی تھی۔

پس اے صلیبیو! آج کے دن تمہیں اللہ کے ہاتھوں اسی چیز نے آن لیا ہے کہ جس کا تم نے ارتکاب کیا تھا، بعد اس کے کہ تم نے اس کے دین اور اس کے بندوں سے دشمنی لگائی اور تم دولتِ اسلامیہ پر اکٹھے ہوکر جھپٹ پڑے، پس پھر جس طرح تمہارے طیاروں کی بمباری سے موحدین کے چیتھڑے اڑ گئے تھے ، اور مسلمان تمہارے میزائلوں کے خوف سے اپنےگھروں میں دبکے بیٹھے تھے، تو یہ رہا آج کا دن، کہ اللہ تعالی کے فضل سے، کس طرح تمہارے ماں جاؤں کے مردار جثے سڑکوں اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر بکھرے پڑے ہیں، اور تم یوں کرفیو لگائے بیٹھے ہو کہ اپنے چباروں سے سر بھی باہر نہیں نکل سکتے ہو۔

اور جس طرح تم نے موصل، سرت اور باغوز وغیرہ میں مسلمانوں کے درو دیار کو گھیر لیا تھا، اور سامانِ خورد و نوش کو بند کردیا تھا، تو آج اللہ تعالی کے فضل سے، تم پر وہی کچھ پلٹ آیا ہے، اورتم میں سے بہت سوں کے تہی دست ہوجانے کے بعد اب تم امداد کی بھیک مانگنے پر اتر آئے ہو ۔

اور اگر تم کسی دن ہم پر خوش ہوئے بھی تھے کہ جب ہم تک قتل و تباہی پہنچی تھی، تو بحمداللہ ہمیں بھلائی اور اچھائی کے سوا کچھ نہیں پہنچا، اور آج کے دن ہم تمہارے اوپر خوشیاں مناتے ہیں کہ جو تمہیں اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے اس دنیا میں بدترین عذاب نے آلیا ہے، اور ہم اس بزرگ و برتر ذات سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی تم پر مسلط فرمادے تو پھر تم ہمارے ہاتھوں سے اس سے بھی بڑے عذاب کا مزہ چکھو، اور اس کے بعد تو بلا شبہ قیامت کے دن تمہارے لئے سب سے بڑا عذاب ہوگا، اور اگر تم نے اللہ بزرگ و برتر کے حضور توبہ نہ کی تو اس حسرت و ندامت کے دن تمہارے کچھ ہاتھ نہ آئے گا، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللَّـهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ ﴿٥٢(سورۃ التوبۃ) ترجمہ: کہہ دو کہ تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمہیں اپنے پاس سے کوئی عذاب پہنچائے، یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو، بے شک ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔

اور اب وہ وقت کچھ زیادہ دور نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی تمہیں ایک بار پھر زمین میں اپنے دین کیلئے غلبہ و نصرت دکھائے گا، جو کہ تم ناپسند کرتے ہو، تم اسے دور سمجھتے ہو جبکہ ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں لیکن تم تو بصارت ہی نہیں رکھتے۔ پس فرمانِ باری تعالی ہے:

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿٤﴾ وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿٥(سورۃ القصص) ترجمہ: اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ان لوگوں پر کرم نوازی کریں کہ جنہیں زمین میں نہایت کمزور کر دیا گیا اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور انہی کو ( اس زمین ) وارث بنائیں۔ اور انہیں زمین میں اقتدار بخشیں اور فرعون ، ہامان اور ان کے لشکروں کو ان سے وہ چیز دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے ہیں۔

اگرچہ تمہارا باپ فرعون زمین میں کمزور مسلمانوں کے غلبے کو دیکھنے سے پہلے ہی ہلاک ہوگیا، لیکن ہمارے جلیل القدر رب نے تمہیں اس سے پہلے ہی خلافت کے سپاہیوں کے ہاتھوں وہ کچھ دکھادیا کہ جسے تم ناپسند کرتے ہو، اور اس نے تمہیں اپنی عظمت کے ساتھ ان سے خوف و دہشت کا شکار کرکے رکھ دیا، حالانکہ وہ تم سے مشرق و مغرب کے فاصلے پر ہیں، اور جس وقت اس بلند و برتر ذات نے ہمیں زمین میں غلبہ عطا فرمایا تو تمہاری حالت ایسی تھی کہ گویا کہ تم پر موت کی غشی طاری ہو اورتم اپنی موت کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، پس تم نے صلیبی اتحاد تلے اپنے سارے کتے جمع کرلیے، جن میں عرب کے طواغیت تم سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے کہ جو جھوٹ بولتے ہوئے خود کو اسلام واہلِ اسلام سے جوڑتے ہیں، اور پھر جو کچھ اسلحہ بھی تمہاے ہاتھ لگا تو تم نے بڑھ چڑھ کر موحدین پر اپنے لاوے کا کینہ برسایا، یہاں تک کہ وہ اسلحہ بھی کہ جسے تم خود اپنے کفریہ قوانین میں ممنوع اور قابلِ جرم قرار دیتے تھے، اس جنگ میں تم نے اربوں ڈالر پھونک ڈالے،پس تمہارے طیاروں نے ہر انسان و پتھر پر اور ہر چھوٹے بڑے پر بم برسائے، اور مسلمانوں کے در و دیار کو ان کے سروں پر ڈھا ڈالا، اور ان سے تم نے صرف اسی بات کا انتقام لیا کہ وہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لائے تھے، اس لئے کہ ہم نے حق کو ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا اور تمہاری اور ہر اس چیز کی تکفیر کی تھی کہ جسے تم اللہ کے سوا پوچتے ہو، اور اس لئے کہ ہم نے عقیدہ الولاء والبراء کو ڈٹ کر سنایا تھا اور اس لئے کہ ہم نے ملتِ ابراہیم کا بول بالا کیا تھا، اور تمہارے طاغوتی نظاموں کی تکفیر کی تھی کہ جنہیں تم اللہ تعالی کے سوا پوجتے ہو۔

اور یقین رکھو! کہ تم نے جو کچھ بھی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اور مسلسل اس پر ڈھٹائی کے ساتھ جو تم فخر کررہے ہو، یہ سب ہمیں ہرگز بھی اپنے ایمان کے سفر سے نہیں روک سکتا، اور ہم اس نور کے راستے پر چلتے رہیں گے، بغیر کسی کی پرواہ کیے اور خوف کھائے، بغیر تردّد کا شکار ہوئے اور اپنے منہج کو تبدیل کیے، اس لئے کہ ہم نے نہ ہی تو کبھی ان سیاسی مقاصد کیلئے، اجتماعی نظریات کیلئے، معاشی مفادات کیلئے یا پھر کسی فلسفیانہ بات کیلئے جنگ کی ہے اور نہ ہی کبھی کریں گے، بلکہ یہ تو ربِ کائنات کا دین ہے، جس کا اس نے ہمیں حکم دیاہے کہ اسے اس کی زمین میں نافذکردیا جائے، بندوں پر اس کی فرمان روائی کو قائم کردیا جائےاور اس کے راستے میں قتال کیا جائے، پس ہم ہرگز بھی کبھی اپنے دین پر سودے بازی نہیں کریں گے، نہ ہی کبھی سست پڑیں گے اور نہ ہی نرم، اور نہ ہی ہم کسی "تُو تُو ، میں میں" میں الجھیں گے، یہاں تک کہ مولیٰ کریم ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمادے۔

پس اے دنیا بھر کے طاغوتو! ہماری بات کان کھول کر سن لو، ہم کبھی ہتھیار نہیں رکھیں گے، اور نہ ہی کبھی جنگ کے شعلے سرد پڑنے دیں گے، یہاں تک کہ زمین میں فتنہ باقی نہ رہے اور سارے کا سارا دین اللہ ہی کیلئے ہوجائے، اور تم ذلیل و رسوا ہو کر رہ جاؤ۔اور آج اس اللہ کے فضل و کرم سے ، تم نے موحدین کے خلاف جنگ میں جو کچھ بھی جھونکا ہے، اس پر حسرت و ندامت سے انگلیاں نوچتے پھرر ہے ہو، جبکہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تم اپنی اس معیشت کو بچانے کی ناکام کوششوں کے دوران پوری شدت سے اپنے مال لٹاتے پھررہے ہو، کہ وباء نے جس کی کمر توڑ ڈالی ہے، اور تمہارے بہت سے اتحادی فقر و فاقہ کے دہانے پر جا کھڑے ہوئے ہیں، جو کہ اب قرضے ہتھیانے میں لگے ہیں اور بھیک مانگتے پھررہے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ اس سے پہلے اللہ کے راستے سے روکنے کیلئے اپنے ڈھیروں اموال بے سود کھپا چکے ہیں۔

فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ ﴿٣٦(سورۃ الأنفال) ترجمہ: بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعثِ حسرت بن جائیں گے۔ پھروہ مغلوب ہو جائیں گے اور یہ کافر لوگوں ہی دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

پس تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ جس نے تمہیں ہر اس چیز پرحسرت و ندامت سے دو چار کرڈالا، کہ جو تم نے موحدین کے خلاف جنگ میں جھونک دی تھی، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں کہ جس نے تم پر اپنے عذاب کو اور درردناک سزا کو نازل فرمادیا، تاکہ تم اپنے آپ میں ہی لگے رہو اور تاکہ مسلمانوں کے خلاف تمہاری شر انگیزی کو لگام پڑ جائے، اور تم ابھی تک اس قاتل وائرس کی کھوج لگانے کیلئے حیرت و خبطی پن کی تصویر بنے پڑے ہو، اور ابھی تک تم اس کا علاج دریافت کرنے سے قاصر ہو، حالانکہ تم تو یہ گمان کرتے تھے کہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے ہاتھ میں ہے، اور تم نے بھی بالکل اسی طرح کہا تھا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے کافرآباؤ اجداد نے کہا تھا کہ "آج کے دن ہمارے سے زیادہ طاقتور کون ہے؟"

پس اللہ سب سے بڑا اور طاقت ور ہے، وہ جلیل القدر اور عظیم الشان ہے، اس تنِ تنہا پاک ذات نے تم پر اپنا عذاب مسلط فرمادیا، اور وہی اسے ہٹانے پر قدرت رکھتا ہے۔ پس اپنے رب کے حضور توبہ کرو، اس سے سوال کرو وہ جواب دے گا، اسی سے مدد مانگو وہ مدد کرے گا، اور اس کے سامنے اکڑ مت دکھاؤ نہیں تو وہ اپنے عذاب اور پکڑ کو اور زیادہ کردے گا، پھر تم اسے پکارو گے تو بھی وہ جواب نہیں دے گا، پس اللہ اپنے انتقام میں زبردست ہے اور اپنے کام و تدبیر میں خوب حکمت والا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿٧٣﴾ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٧٤(سورۃ الحج) ترجمہ: لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو بھی تم پکارتے ہو، وه تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، بھلے وہ سارے کے سارے ہی کیوں نہ جمع ہو جائیں، بلکہ اگر کوئی مکھی ان سے کوئی چیز لے کر بھاگ نکلے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑاہی گیا گزرا ہے طلب کرنے والا، اور بڑا ہی بودا ہے وه جس سے طلب کیا جا رہا ہے، انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور آور اور غالب وزبردست ہے۔

اور فرمانِ باری تعالی ہے: وَلَوْ رَحِمْنَاهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِم مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّوا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿٧٥﴾ وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ﴿٧٦(سورۃ المؤمنون) ترجمہ: اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں ڈھٹائی کے ساتھ اور بھی بہکنے لگیں، اور ہم نے ان کو عذاب بھی میں پکڑا تو بھی انہوں نےاپنے پروردگار کے سامنے عاجزی نہ کی ، بلکہ یہ لوگ تو عاجزی کرتے ہی نہیں۔

اور اس عظیم الشان ذات کا ارشاد ہے: وَقَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّـهِ الْمَكْرُ جَمِيعًا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۗ وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٤٢﴾[/ARB] (سورۃ الرعد) ترجمہ: ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی، لیکن تمام تدبیریں تواللہ ہی کی ہیں، جو شخص جو کچھ بھی کر رہا ہے تووہ اللہ کے علم میں ہے۔ اور عنقریب کافر لوگ جان لیں گے کہ اچھا انجام کس کیلئے ہے؟۔

پس شاید کہ تم اپنی سرکشی سے باز آجاؤ، اور تھوڑا خوف کرو، بعد اس کے کہ تم اپنے ممالک میں اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھ بھی چکے ہو، اور تمہیں کیا ہوا ہے تم اپنے آباؤ اجداد پر اترنے والی نشانیوں سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے، اور نہ ہی ان اقوام سے کہ جو تم سے پہلے ہلاک کردی گئیں، بلکہ تم ایک فساد سے دوسرے فساد کی طرف گامزن ہو، اور تم الحاد پرستی و ذلت و رسوائی کی طرف چلے جارہے ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:

ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾ (سورۃ الروم) ترجمہ: خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل چکا۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالی انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا مزا چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں۔

پس شاید کہ تم اس کے بعد باز آجاؤ، اور اس جبار و قہار بادشاہ سے ڈرو اور کچھ سبق حاصل کرو، عطاء بن ابی رباح عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ : "ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، تو میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو، پہلی بات یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فحاشی ، فسق و فجور اور زناکاری ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں، دوسری بات یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جائیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور بادشاہوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں، تیسری بات یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرنی چھوڑ جائیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی بات یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ نے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی ایسے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، کہ وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے، اور پانچویں بات یہ کہ جب ان کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔"

پس اے اللہ ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ان اسلام کے دشمن عرب و عجم کے طواغیت پر طاعون، بیماریوں اور وباؤں کو مسلط فرمادے، پس انہوں نے کوئی جرم نہیں چھوڑا جس کا انہوں نے کھلے عام ارتکاب نہ کیا ہو، اور اس کے ساتھ لوگوں سے جنگ نہ کی ہو، اے رب! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں تو ہر جگہ مسلمانوں کو بیماریوں، وباؤں اور بلاؤں سے محفوظ فرما، اور ہم اس پاک ذات سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ وہ اس دور کے جادو گروں یعنی طواغیت کا دفاع کرنے والے علمائے سُوء سے خوب انتقام لے، جو کہ ان کے ہر باطل عمل کو دودھ میں دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔

پس ہم نے انہیں اس حالیہ وباء کی گھڑی میں دیکھا ہے کہ یہ کس طرح بیماری کے خوف کے بہانے مساجد کو بند کرنے، جمعوں اور جماعتوں پر پابندیاں لگانے، حج و عمرہ اور دیگر شعائرِ اسلام کو روکنے میں جُتے ہوئے ہیں، جبکہ عین اسی وقت فسق و بے حیائی کے اڈوں میں بھیڑ مچی ہوئی ہے، نائیٹ کلبوں اور اسٹیڈیموں میں رقص و سرور کی محفلیں گرم ہیں، اور عیسائیوں کے گرجا گھروں میں اور بت خانوں میں کفر و شرک کے اجتماعات بڑھ چڑھ کر منعقد ہورہے ہیں، گویا کہ بیماری صرف مسلمانوں کی مسجدوں میں ہی پھیلتی ہے، اور یہ سب ان کے ہم جولی طواغیت کی خوشنودی کیلئے ہی ہے، جو کہ جھوٹ پر مبنی بلند و بانگ دعوے کرکے خود کو لوگوں کی صحت و سلامتی کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں، جبکہ اسی وقت جیلوں میں لاکھوں مسلمان قید و بند کی صعوبتوں میں ہیں، اور جنہیں یہ دردناک عذاب پہنچاتے ہیں، اور ان میں مختلف امراض اور وبائیں پھیل چکی ہیں۔

اور یہ مجرم اپنے طواغیت کے احکام کو نافذ کرتے ہوئےسب کچھ بھول گئے حتی کہ یہ بھی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع ، توبہ اور اس کی تابع فرمانی، اور گناہوں اور معصیت سے توبہ و استغفار کا حکم دیں، جبکہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿٣٣ (سورۃ الأنفال) ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار کررہے ہوں۔

اور ہر جگہ مسلمانوں کے نام ہمارا پیغام ہے: ہم تمہیں ایک بار پھر سے تمہارے واجبات کی طرف یاد دہانی کروانا چاہتے ہیں، جو کہ تم پر اپنے بھائیوں کی طرف سے عائد ہوتے ہیں، وہ یہ کہ ان کی جان اور مال سے نصرت کریں، ان کی عزتوں اور آبرؤوں کا دفاع کریں، اور ان کے شانہ بشانہ اللہ کے راستے میں جہاد کیلئے شمولیت اختیار کریں اور ان کے ہم رکاب ہوجائیں، مولی کریم کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿١٠﴾ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١١﴾ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٢﴾ وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّـهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٣
(سورۃ الصف)

ترجمہ: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟ (وہ یہ کہ) تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں جگہ دے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور عدن کی جنتوں میں ان کے لئے صاف ستھرے گھر ہوں گے، یہی تو بڑی کامیابی ہے، اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم پسند کرتے ہو، اور وه اللہ کی نصرت اور عنقریب ملنے والی فتح یابی ہے، پس ایمان والوں کو خوشخبری سنادو۔

پس کب تک تم اپنے دین کی نصرت سے اور اللہ اور اپنے دشمنوں سے جہاد کرنے سے پیچھے بیٹھے رہوگے، پس اپنے پیچھے بیٹھے رہنے پر اللہ تعالی کے حضور تمہارے پاس کیا عذر ہے؟ پس سوال کیلئے جواب اور جواب کیلئے درست بات تیار کر رکھو۔

پس اپنے دین کی نصرت کے حوالے سے اللہ سے ڈرو، پس حق خوب واضح ہوچکا اور باطل کا بودا پن بھی خوب کھل کر سامنے آچکا، اور جو کوئی بھی موحدین سے کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے دہریوں کے خیمے میں جا کھڑا ہوا ہے وہ بھی اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا، اور ہم آج پوری طرح سے دو خیموں میں بٹ چکے ہیں، ایک ایمان کا خیمہ ہے جس میں ذرہ بھر بھی نفاق نہیں، اور دوسرا نفاق کا خیمہ ہے جس میں ذرہ بھر بھی ایمان نہیں ہے۔

اور یقیناً تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ کس طرح مرتد جماعتیں اور مرتد حکومتیں صلیبیوں اور یہودیوں، رافضیوں اور نصیریوں، سیکولروں اور وطن پرستوں اور دیگر تمام کفریہ ملتوں کے ساتھ ایک صف میں شانہ بشانہ کھڑے ہوچکے ہیں۔ پس وہ سب ہر کونے کھدرے سے نکل کر ہم پر جھپٹ پڑے ہیں، اور ہمارے خلاف جنگ میں ان مرتد و کافر گروہوں میں سے کوئی ایک بھی کسی تردد کا شکار نہیں ہے، بلکہ پاس والا دور والے سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا ہوا ہے۔

بلکہ یہاں تک کہ جو خود کو راہِ جہاد پر گمان کیے بیٹھا ہے، وہ بھی ہم سے برسرِ پیکار ہے، کبھی تو اس گمان سے کہ ہم ہر حد سے نکلے ہوئے خوارج ہیں، تو کبھی اس گمان سے کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے والے ہیں، اور پھر کبھی اس گمان سے کہ ہم غالی، متعصب اور شدت پسند ہیں، پس اللہ کی قسم ! نہ تو ان کے اِس قول میں کوئی سچ ہے اور نہ ہی اُس قول میں، بس قریب ہے کہ یہ سب آپس میں صلاح مشورہ کرلیں اور پھر ہم پر کسی متفقہ مؤقف کے ساتھ چڑھ دوڑیں، اوراس کا کھلے عام اعلان کردیں کہ یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے اور یہ جنگ رب العالمین کی شریعت کو بدل ڈالنے کی جنگ ہے۔

پس ہم نے تو اس کو پوری وضاحت کے ساتھ علی الاعلان بیان کردیا ہے، اپنے نبی خیر البشر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر چلتے ہوئے، کہ جنہیں قیامت تک کیلئے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اکیلے اللہ کی عبادت ہونے لگے، اور جب وہ مبعوث ہوئے تو تب ہی ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ "جو بھی ایسے دین کو لے کر آئے گا جیسا کہ آپ لے کر آئے ہیں تو اس سے یقینی طور پر دشمنی کی جائے گی" پس ہمارا کردار ہماری گفتار سے بے نیاز ہے۔

اور اکیلے اللہ تعالی کے فضل سے، ہم مسلسل ابھی تک شریعت سے رو گردانی کرنے والے اور اللہ کے دین کو بدل ڈالنے والے گروہوں کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں۔ اور ہم ابھی تک مسلسل ان کی ان کوششوں کے آگے دیوار بنے کھڑے ہیں، جو وہ اس لئے کررہے ہیں کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو گمراہ کر ڈالیں، ان کے عقائد کو بگاڑ دیں اور انہیں مشرکین سے موالات اور جمہوریت و وطنیت کے شمشان گھاٹ میں دھکیل دیں۔

اور یہ دولتِ اسلامیہ ہی ہے کہ جس نے بیسیوں ہزار مسلمان نوجوانوں کو اندھے کفری پرچموں تلے لڑنے اور پھر لقمہِ اجل بننے سے بچا لیا، ورنہ کیا بعید تھا کہ وہ اپنی دنیا و آخرت گنوا بیٹھتے، پس اس کیلئے تو اتنا ہی کافی ہے، مزید یہ کہ پھر ہم نے کس طرح سے دین کو نافذ کیا، زمین میں رب العالمین کی شریعت کی فرمانروائی کو قائم کیا، اور ایک امام کا تقرر کیا، تاکہ ہم مسلمانوں کی جماعت کو یکجان کردیں، یہ سب کچھ ہم نے صلیبیوں اور ان کے دم چھلے مرتدین کی ناک کو خاک آلود کرکے کیا، پس ان کی ہمارے ساتھ دشمنی کا یہی سبب ہے اور اسی وجہ سے وہ ہم پر جھپٹے ہوئے ہیں۔

اور آج وہ غداری و خیانت کے نت نئے منصوبے گھڑتے پھررہے ہیں، جن کے اعلان سے وہ سالوں تک رکے رہے، اور وہ انہیں اس لئے چھپاتے رہے کہ کہیں ان کے پیروکار انہیں لات مار کر دولتِ اسلامیہ سے نہ جا ملیں، جبکہ یہ سب کچھ ایک ہی امر کے گرد گھوم رہا تھا، وہ یہ کہ رب العالمین کی شرعیت کی فرمانروائی کو روکنے کیلئے موحدین کے خلاف جنگ میں صلیبیوں سے اتحاد کرلیا جائے، تاکہ ان کی رضا جوئی بھی ہوسکے اور ساتھ ہی ساتھ بعض مہموں اور عہدوں کے حصول کیلئے ان کے منظورِ نظر بھی ہوجائیں۔

پس افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی بابت معاہدہ انہی منصوبوں کی ایک کڑی ہے، جو کہ در حقیقت دولتِ اسلامیہ سے جنگ کیلئے صلیبیوں اور مرتد طالبان ملیشیا کے مابین قائم اتحاد پر ڈالا گیا ایک پردہ ہے، جو کہ اس وطنی حکومت کے قیام کیلئے بنیاد فراہم کرے گا جس میں مرتد طالبان، مشرک رافضی اور دیگر مرتد و کافر گروہوں کے ساتھ جمع ہوکر ایک ساتھ مل بیٹھیں گے، اور ان کے مابین یہ معاہدہ کبھی نہ ہو پاتا، مگر یہ کہ وہ ننگرہار میں خلافت کے سپاہیوں پر صلیبی حملہ کرکے ہی اس تک پہنچ پائے، اس حملے میں پاکستانی و افغانی افواج کے مرتدین نے اور طالبان ملیشیا اور دیگر مرتد ملیشیات میں سے ان کے لنگوٹیوں نے بھی باہمی طور پر شرکت کی۔

اور یقیناً انہوں نے یہ سوچ لیا کہ انہوں نے دولتِ اسلامیہ کو ختم کر ڈالا ہے، اور وہ زمین میں جو چاہیں مرضی کرتے پھریں، انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، پس اکیلے اللہ کے فضل سے ان کے سب خیال دھرے کے دھرے رہ گئے، اور دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کرکے رکھ دیا، جبکہ اللہ کے فضل سے ان کی کاروائیاں خراسان کے اندر طاغوت کے دار الحکومت کے عین بیچ میں اور دیگر علاقوں میں مسلسل جاری و ساری ہیں، جنہوں نے صلیبیوں اور مرتدوں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں، ان کے سرغنوں کے ہلا کر رکھ دیا، اور ان کے وہموں کو پاش پاش کر ڈالا ہے۔ اور مجاہدین پیہم ان سے جنگ کی ٹھانے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ زمین کو ان کے شرک سے پاک کردیں اور مولیٰ کریم کے حکم سے ان خطوں میں اکیلے اللہ تعالی کے دین کو قائم کر دیں۔

اور مجاہدین مرتدین کے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اور ان کافر حکومتوں اور ان کے بَدی پر مشتمل قانونوں کو مار گرانے کیلئے مسلسل کوشاں و گامزن ہیں، ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ان کے جہاد میں برکت دے، ان کے دشمنوں میں ان کی خونریزی کو اور بھی بڑھائے، اور انہیں ان کے اوپر غالب و قاہر فرمادے۔

اور جہاں تک ولایتِ عراق کی بات ہے تو مرتد صحواتی اب ازِ سرِ نو لوٹ آئے ہیں تاکہ وہ اپنے سرغنوں کو ان بِلوں سے نکال باہر لائیں کہ جہاں وہ سالوں سے گُھسے ہوئے ہیں، اور وہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اب امریکہ انہیں ان کی ناپید جماعتوں کی از سرِ نو تنظیم کاری کی اجازت دے دے گا، اور وہ انہیں کچھ علاقہ بھی حوالے کردے گا تاکہ وہ اس پر طاغوتی نظام کے ساتھ حکمرانی کریں، اور تاکہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اور اس کے سپاہیوں کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کفار کا حاضر باش لشکر بن کر رہیں۔ جیسا کہ آج جو کچھ ان کے بھائی شام میں کررہے ہیں۔ اور یہ تجاویز امریکہ کے دلّال اور اس کے پسندیدہ جاسوس طاغوت مصطفیٰ الکاظمی کے رافضی حکومت پر تسلط پالینے کے بعد سے اور زیادہ زور پکڑ گئی ہیں۔ اللہ اسے اور اس کے ہر وفادار کو رسوا کرے۔ جو کہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان سے دشمنی میں دیگر رافضی جماعتوں کے سرغنوں سے کم ثابت ہوگا، جیسے مالکی، جعفری، عبادی اور مہدی وغیرہ، جوکہ اس سے پہلے اس کا یہ عہدہ لے چکے اور اس کے کفر و ارتداد میں اس سے مشابہت کرچکے۔

اور شاید ان پر کچھ زیادہ ہی عرصہ گزر گیا ہے کہ جو گزشتہ سالوں کے دوران دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں خود پر بیتنے والے واقعات کو یہ فراموش کر چکے ہیں۔ کہ کیسے انہوں نے زمین سے ان کی گندگی کو پاک کرڈالا تھا اور پیچھے رہ جانے والے ہر جاندار کیلئے انہیں نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیا تھا۔ اور ہم اللہ تعالی کے حکم سے از سرِ نو وہی سبق اب بارہا بار تمہیں پڑھانے کیلئے چوکس و کمربستہ ہو چکے ہیں، اور اس دوران رافضیوں، صلیبیوں اور دیگر کفریہ امتوں سے قتال اس میں کچھ آڑے نہ آئے گا۔

شاید کہ وہ بھول چکے ہیں کہ کس طرح امریکا نے ان کے ساتھ غداری کی تھی، بعد اس کے کہ اس نے ان کو موحدین کے خلاف جنگ میں استعمال کرکے ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پھر اس نے ان کی گردنیں مشرک رافضیوں کے ہاتھوں میں دے دیں، پس پھر انہوں نے انہیں قتل و گرفتار اور دربدر کرکے بدترین عذاب سے دوچار کیا تھا۔

اور شاید کہ وہ پھر سے جان بوجھ کر یہ بھلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مرتد کاظمی انٹیلی جنس عملے کا سرغنہ رہ بھی چکا ہے اور ابھی تک ہے بھی، جو کہ کمزور مسلمانوں کی گردنوں پر رافضیوں کی لٹکتی تلوار ہے، جو کہ نام نہاد قانون کے پردے تلے ان پر الزام تراشیوں کیلئے، انہیں قتل و گرفتار کرنے کیلئے اور انہیں تعذیب کا نشانہ بنانے کیلئے ان کا ایک خوش لگام ہتھیار ہے۔ پس انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ سمجھتے ہی نہیں؟ اور انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟۔

اور ہم انہیں ایک بار پھر خبردار کرتے ہیں کہ وہ رافضیوں اور صلیبیوں کی آگ کا ایندھن بننے سے بچیں، اور شاید کہ عراق کے مختلف علاقوں میں خلافت کے سپاہیوں کے حالیہ کاروائیاں انہیں ان کے خوابوں سے بیدار کرسکیں، اور ان کے دماغوں سے شیاطین کے ان وسوسوں کو ختم کردیں کہ جو وہ ان کی طرف وحی کرتے ہیں کہ زمین میں اب کوئی شیر نہیں بچا ہے، اور لومڑیوں کیلئے دور آن پہنچا ہے کہ وہ اب اس میں شیر بن کر چلیں پھریں، پس خوش بخت تو وہ ہے جو اپنے علاوہ سے سبق حاصل کرے اور اس کے تجربوں سے فائدہ اٹھائے۔

اور ہم رافضیوں سے کہتے ہیں: تمہارے امریکی آقا تو اب عراق سے اپنی فوجیں نکالنا شروع ہوگئے ہیں، پس اب تم موحدین سے آمنے سامنے کی دوبدو جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ، پس اللہ کے حکم سے تمہیں تمہارے وہمی جھوٹے میڈیائی دعوے اور خیالی کامیابیوں کی مہمیں کوئی فائدہ نہ دے سکیں گی، اور جو کچھ تمہیں ابھی گزشتہ ہفتوں میں خلافت کے سپاہیوں کے ہاتھوں پہنچا ہے یہ تو اس سیلِ بے کراں کی محض ایک ابتدائی بوندیں ہے۔

پس اے عراق کے رافضیو اور شام کے نصیریو!، اے بد بخت مجوسیو اور اے قبروں و بتوں کے پجاری حوثی مشرکو!، اور اے وہ ہر ایک جو موحدین کے خلاف جنگ میں ان کی پشت پناہی کررہا ہے، سب کے سب جان رکھو کہ بے شک ہماری تمہارے ساتھ جنگ بڑی لمبی ہونے والی ہے، جس کی تم میں ہمت نہیں، اور باذن اللہ وہ تمہارے بس کا روگ بھی نہیں، پس تحقیق ہم بھی ٹھان چکے ہیں کہ کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرنے پائے گا کہ جس میں اس پاک ذات کے حکم سے تمہارا ناپاک خون بہایا نہ جائے، اور اے شام کے نصیریو! تم تو بخوبی اس کا مشاہدہ کرچکے ہو، کہ کیسے تمہارے لشکروں کے لشکر ہمارے خلاف جنگ کیلئے نکلتے ہیں لیکن وہ واپس لوٹتے نہیں، انہیں کہیں گھاتیں نگل جاتی ہیں اور کہیں شیروں کے دستے اچک لے جاتے ہیں۔

اور جہاں تک ولایتِ مغربی افریقہ کی بات ہے تو صلیبی اور مرتدین اس کے مختلف علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے سے عاجز آچکے ہیں، جبکہ تنظیم القاعدۃ کے مرتدین ان کی نیابت کرتے ہوئے خلافت کے سپاہیوں کے خلاف جنگ میں خود کو پیش کررہے ہیں تاکہ یہاں پربھی طواغیت ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ جائیں اور صلیبی انہیں مارنا چھوڑ دیں۔

بلا شبہ ان خِطوں میں تمام کفر و ارتداد کے گروہ باہمی گٹھ جوڑ کرچکے ہیں کہ وہ اپنی ساری کی ساری توانائی دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں جھونک دیں گے، اور بہر صورت وہ الجزائر، بورکینا فاسو، نیجر اور مالی میں انہیں صلیبی فوجوں اور ان کے مرتد یاروں کے خلاف جہاد سے روکیں گے، بلکہ وہ اس گٹھ جوڑ سے آگے بڑھ کر ان سے موالات اور مسلمانوں کے خلاف ان کا ساتھ دینے پر اتر آئے ہیں ، جو کہ دیگر علاقائی شاخوں میں ان کی بھائیوں کی سنت ہے۔

اور تحقیق خلافت کے سپاہیوں کی فتوحات، مرتد افواج میں ان کی خونریزی اور انہیں روکنے میں صلیبیوں اور مرتدین کی بے بسی کے بارے میں آنے والی پے درپے خبروں نے ان کی نیندیں اچاٹ کرڈالی ہیں، جیسا کہ الجزائر میں مرتد فوج پر مجاہدین کے دوبارہ حملے نے بھی انہیں غضب سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے، جبکہ وہ ان سے برسوں سے جنگ ترک کیے بیٹھے ہوئے ہیں، بلکہ انہوں نے خود کو ان کے پہرے دار کتوں کا جھنڈ بنا لیا ہے، جو کہ ہر ایک کو ان سے جنگ کرنے سے روکتے ہیں، پھر بھلے اس کیلئے انہیں الٹا ان سے جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔۔!

اور پھر تب تو ان کی کمر دو ٹکڑے ہوکر رہ گئی کہ جب ان کے پیروکاروں میں سے بڑی بڑی جماعتوں نے انہیں چھوڑ دیا اور وہ دولتِ اسلامیہ کے ہم رکاب ہوگئے، بعد اس کے کہ ان پر وہ حقائق آشکار ہوگئے جنہیں ابھی تک ان سے چھپایا گیا تھا، پس آج ولایت مغربی افریقہ میں جو کوئی بھی انہیں چھوڑ کر خلافت کے سپاہیوں میں شامل ہوتا ہے تو یہ اس سے جنگ پر اتر آتے ہیں، اور اپنی گمراہی و سرکشی میں اس پر خارجیت کا الزام لگا کر اس کے خون اور مال کو حلال کرڈالتے ہیں، جبکہ عین اسی وقت ان کے پیروکاروں میں سے اگر کوئی مرتد سیکولر اور وطن پرست تنظیموں میں شامل ہوجائے تو یہ اسے روکتے تک نہیں بلکہ انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور دین میں ان سے موالات کرتے ہیں۔

بے شک خلافت کے سپاہی ان سے برسوں تک قتال سے رکے رہے، اور ان کی ایذاء رسانیوں پر صبر کیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کے پیروکاروں کو حق کی طرف بحسنِ خوبی دعوت دیتے رہے، اور ان کے امراء اور ان میں سے علم کے طلب گاروں کے ساتھ احسن و مدلل طریقے سے گفت و شنید کرتے رہے۔

لیکن ان کی غداری کے بعد خالص قتال کے علاوہ اور کوئی راستہ بچا ہی نہیں، کہ لوہے کا جواب تو لوہے سے ہی دیا جاتا ہے، اور اگر یہ ہمارے خلاف جنگ پر اتر ہی آئے ہیں تو لو پھر ہم بھی آئے کھڑے ہیں، اور ہمارے پاس ان کیلئے شکستوں کے انبار ہیں، اور ہماری ساری قوت و طاقت کا دار و مدار اس اللہ بزرگ و برتر پر ہی ہے۔

اور ہر جگہ موجود خلافت کے سپاہیوں کے نام ہمارا پیغام ہے: اللہ تعالی تمہارے جہاد میں اور ان حالیہ کاروائیوں میں اور برکت دے، کہ جنہوں نے ہر جگہ کفر و ارتداد کی حکومتوں اور جماعتوں کو لرزا کر رکھ دیا، پس تمہارے کیا ہی کہنے۔۔!

تحقیق سارا عالم تمہارے کردار کی سچائی سے کرب کا شکار ہوکر رہ گیا ہے، اور اسلام کے دشمن اللہ تعالی کے فضل سے حیرت کے سمندروں میں غرق ہوچکے ہیں کہ وہ کیسے تمہیں روکیں اور تمہارے سامنے بند باندھیں؟، یہاں تک کہ انہوں نے اس کیلئے اپنی ایک ایک چیز پھونک ڈالی ہے، جبکہ نتائج تو اللہ تعالی کے فضل سے ان کی گمان آرائیوں کے یکسر الٹ بر آمد ہورہے ہیں۔

پس اے اللہ کیلئے محبوب بھائیو! بلاشبہ راستہ بہت لمبا ہے، پس زادِ راہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ﴿١٩٧ (سورۃ البقرۃ) ترجمہ: اور اپنے ساتھ زادِ راہ لے لیا کرو، پس سب سے بہترین زادِ پرہیزگاری ہے، اے عقل والو! مجھ ہی سے پرہیزگاری اختیار کرو۔

اور ارشاد باری تعالی ہے: تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿٨٣ (سورۃ القصص) ترجمہ: آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ایسے لوگوں کیلئے ہی رکھتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے، اور نہ ہی فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ اور اچھا انجام تو پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

پس ہم خود کو اور تمہیں پوشیدہ و اعلانیہ طور پر اللہ تعالی سے پرہیزگاری اختیار کرنے کی وصیت کرتے ہیں، اور وہ سب سے بڑی چیزیں جن میں اللہ سے ڈرا جاتا ہے وہ مسلمانوں کے خون، ان کے اموال اور ان کی عزتیں ہیں، اس لیے کہ یہ ہمارے رب جل جلالہ کے ہاں ہر چیز سے بڑھ کر قابلِ حرمت ہیں، اور یہ ان میں سے ہیں کہ جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حجۃ الوداع کے موقع پر وصیت فرمائی تھی کہ "بے شک تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں، جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔" (متفق علیہ)

پس تم مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کے حوالے سے بہت زیادہ اللہ سے ڈرو، انہیں چھونے سے بھی بچو، اِلاّ یہ کہ اسلام تمہیں اس کا حق عطا کردے، اور کفار و مرتدین کے ہاتھ لگنے سے ان کا پورا دفاع کرو اور مسلمانوں کے عزتوں کے بارے میں بھی اللہ سے بہت زیادہ ڈرتے رہو، اور غبیت گوئی و بہتان بازی سے بھی بہت بچ کر رہو، اور ان کے بارے میں سوائے بھلائی کے اور کچھ نہ کہو۔

اور اسی طرح ہم تمہیں وصیت کرتے ہیں کہ تم اپنے کندھوں پر پڑنے والے بوجھ کا پوری طرح سے ادراک حاصل کرو، تحقیق ہم نے ایک بہت بھاری امانت کو اٹھایا ہے، کہ جسے اٹھانے سے زمین و آسمانوں نے انکار کردیا اور کنی کترا گئے۔ پس جو امانت تمہارے سپرد کردی گئی ہے اس کے حوالے سے اللہ سے بہت زیادہ ڈرتے رہو، اور کمزوروں کی نصرت کیلئے اور مظلوموں سے ظلم ہٹانے کیلئے بھی اپنے اللہ کے حضور ڈرتے رہو، پس مشرق و مغرب میں موحدین کی نظریں تمہارے بڑھتے دستوں کے انتظار میں ہیں، اور اللہ تعالی کے بعد تم ہی ان کیلئے امید کی ایک کرن ہو۔

اور جان رکھو کہ سارے کا سارا عالم عظیم مرحلوں کی جانب گامزن ہے، اور جو کچھ تم آج دیکھ رہے ہو یہ تو محض ان بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے، کہ عنقریب آنے والے وقت میں مسلمانوں کے خطے جس کا مشاہدۃ کریں گے، باذن اللہ تعالی، اور اس میں تمہارے لیے اللہ تعالی اس سے بھی بڑے مواقع میسر فرمائے گا، جو کہ اس نے تمہیں حالات سے گزرنے والے بعض خطوں میں کچھ زمانہ قبل عطا فرمائے تھے، جنہیں تم جانتے ہو۔

پس آنے والے مرحلے کیلئے تم جس قدر گھوڑے سدھا کر اور اپنی قوت جمع کرکے تیاری کرسکتے ہو کر رکھو، اللہ کے دشمنوں کو، اپنے دشمنوں کو اور ان کےایک ایک پشت پناہ کو دہشت زدہ کرتے چلو کہ جسے تم تو نہیں جانتے، لیکن اللہ سبحانہ و تعالی انہیں خوب اچھی طرح سے جاننے والا ہے اور ان کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔

اور ہم تمہیں اللہ کے دشمن کافروں کے ساتھ پوری سختی سے پیش آنے کی وصیت کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ تیز دھار تلواروں کے ساتھ بات کرو، غزوات کو بھڑکاتے چلو اور دھاووں کو رکنے نہ دو، اور مرتدوں اور ان کے صلیبی آقاؤں پر کوئی دن ایسا نہ چھوڑو کہ جس میں ان کی زندگی تم اجیرن کرکے نہ رکھ دو۔

پس تم ان کیلئے راستوں میں گھات لگا کر بیٹھو، ان کے قافلوں کو بارودی سرنگوں سے جلا کر خاکستر کرڈالو، ان کی چوکیوں اور چھاؤنیوں کو نیست و نابود کرڈالو، اور تم میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ ہونا چاہیے کہ اگر یہ طاغوت کا پجاری بچ نکلا تو پھر میں نہ بچ پایا۔ پس اپنی کمریں کس لو، ان کے دن رات ایک کرڈالو، اور دین و ملت کے دشمنوں سے قتال کیلئے اور کلمہِ توحید کی سربلندی کیلئے اپنی جانوں، جگر گوشوں اور اپنی ہر قیمتی چیز کو نثار کرڈالو۔

اور ہم تمہیں خاص طور پر امیر المؤمنین و خلیفۃ المسلمین شیخ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی حفظہ اللہ کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں، اللہ تعالی ان کے ہاتھوں پر فتح کے دروازے کھول دے، انہوں نے آپ کو غزوہِ استنزاف کی مبارک باد دی ہے۔ اور تمہیں وصیت کی ہے کہ تم صبر و ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہو اور اللہ تعالی کے ذکر پر اور اس کی قربت دلانے والے اعمال پر ہمیشگی اختیار کرو۔ اسی طرح ان کی تمہیں وصیت ہے کہ تم باریک بینی سے منصوبہ بندی کرو اور کاروائیوں کو کئی گنا بڑھا دو، مسلمانوں کیلئے ان کی عزتوں کا بدلہ لو، اور ان سے ظلم کو دور کرو، اور ہر جگہ اپنے قیدی بھائیوں اور بہنوں کو نکالنے کیلئے کوشاں ہوجاؤ، پس تمام اسباب کوکھپا ڈالو اور اس میں کوئی کسر نہ چھوڑو۔

اور اپنے قیدی بھائیوں اور بہنوں کے نام ہمارا پیغام ہے، اللہ تمہیں ثابت قدم رکھے، امیر المؤمنین حفظہ اللہ تعالی تمہیں پہنچنے والی آزمائشوں پر صبر کی یاد دہانی کرواتے ہیں، اور یہ کہ تمہارے دل اور تمہاری زبانیں اللہ بزرگ و برتر کے ذکر سے رکنے نہ پائیں، پس تم صبر اور نماز سے مدد حاصل کرتے رہو، اور تم میں سے ہر کوئی پورا یقین رکھے کہ اللہ تعالی کبھی بھی اہلِ ایمان کے دلوں کو نہیں توڑے گا۔ اور جان رکھو کہ تمہارے اللہ تعالی پر توکل کرنے کے بعد سے تمہارے بھائی تمہیں ایک دن کیلئےبھی نہیں بھولے ہیں، پس وہ تمہیں نکالنے کیلئے اور تمہارے جیلروں اور تفتیش کاروں سے تمہارا بدلہ لینے کیلئے اپنی پوری کوششوں میں جُتے ہوئے ہیں، پس تم ثابت قدمی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دو اور صبر سے کام لیتے رہو، فرمانِ باری تعالی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿٥﴾ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿٦ (سورۃ الانشراح) ترجمہ: پس بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے۔

اور مسلمانوں کے خطوں پر حکمرانی کرنے والے ان طواغیت کے نام ہمارا پیغام ہے کہ جنہوں نے کفر اور خیانت کا کوئی دروازہ نہیں چھوڑا کہ جس میں وہ داخل نہ ہوئے ہوں، اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں کی مدد کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا کہ جسے انہوں نے استعمال نہ کیا ہو، پس اللہ تعالی کے فضل سے، اب تمہارے ہاتھوں سے بھی مال و متاع پَر لگا کر اڑنے لگا ہے، کہ جسے تم پہلے اللہ کے راستے سے روکنے کیلئے خرچ کررہے تھے۔

اور تمہارے صلیبی آقا اب اپنی ہی مشکلات میں پھنسنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ تم تو حساب لگائے بیٹھے تھے کہ وہ تمہیں قیامت تک ہم سے بچائیں رکھیں گے، پس آج کے بعد تمہیں ہم سے کون بچائے گا؟ اور اب کون ہمارے اور تمہارے درمیان حائل ہوگا؟ پس اللہ تعالی کے فضل سے، ہم تمہارے ساتھ دشمنی میں چلتے چلے جائیں گے، اور تمہارے ساتھ جنگ کیلئے برابر کوشاں رہیں گے، اور مسلمانوں کو اس پر ابھارتے رہیں گے، یہاں تک کہ تم اللہ تعالی کے حضور اپنے کفر سے توبہ کرلو، اور اپنے ظلم و ستم سے باز آجاؤ، اپنے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خونوں، مالوں اور آبروؤں سے روک لو۔

اور ہم تمہارے درمیان کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے کہ تم میں سے کون دین سے اپنی دشمنی کا کھلے عام اظہار کرتا ہے اور کون اسے چھپاتا ہے، اور مرتد فسادی اخوانیوں کی رشوت خوری کے ساتھ اپنے کفر پر پردہ ڈال لیتا ہے تاکہ وہ اسے اپنا امام و راہنما چن لیں، بعد ازاں انہیں ترکی و قطر کے طواغیت کی طرح اندھوں کے کسی کے ریوڑ کی مانند جہنم کی طرف دھکیل دیں۔

اور ہم کسی ایک دن بھی نہیں بھولے کہ قطر کے طواغیت نے امریکی افواج کی مہمان نوازی کیلئے جو "العدید" نامی عسکری اڈہ بنایا ہے، یہ مسلسل ابھی تک خراسان، عراق، شام اور یمن میں مسلمانوں کے خلاف صلیبی حملے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اور ہم یہ بھی نہیں بھولے کہ قطر کے طواغیت ہی ہیں جو اس کے منصوبہ ساز و نفاذ کار ہیں، اورعراق کی جنگجو تنظیموں کو صلیبیوں اور رافضیوں کے چمچہ گیر صحوات میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل در آمد کرنے کیلئے، اس میں اپنا مال جھونکنے والے ہیں، جبکہ دونوں کا بنیادی مقصد تو ایک ہی ہے اور وہ ہے موحدین سے جنگ کرنا۔

اور ہم یہ بھی کبھی نہیں بھولے کہ انہوں نے ہی شام میں جو صحواتی منصوبے پر اپنا مال لگایا ہے اور انہوں نے ہی اپنے حکم سے مرتد اخوانیوں اور مجلس نگار علماء سوء کے ذریعے ان کے رخ کو بدل ڈالا، تاکہ ان تنظیموں کی بندوقوں کا رخ نصیریوں کے سینوں سے ہٹ کر مسلمانوں کی پیٹھوں کی طرف ہوجائے۔

اور ہم یہ بھی کبھی نہیں بھولے کہ یہی ہیں وہ جو ابھی تک مسلسل اہلِ سنت کے خلاف جنگ میں رافضی حکومت پر اپنا مال نچھاور کررہے ہیں اور ان کی امداد کررہے ہیں، اور انہوں نے ہی ایرانی سپاہِ پاسداران پر اور حشد رافضی کی ملیشیات پر اربوں ڈالر لٹائے ہیں تاکہ وہ پورے تسلسل کے ساتھ مسلمانوں کو ذبح کرتے رہیں اور ان کی زمینوں کو اجاڑتے رہیں اور ان کی آبروؤں کو پامال کرتے رہیں، جیسا کہ اس دوران الزبدانی شہر کو نصیریوں کے حوالے کرنے کا معاہدہ سامنے آیا، پس ہم کسی ایک دن کیلئے بھی تمہارے جرائم کو نہیں بھلا سکتے، اور ایک ایک تو چیز کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

اے ہمارے رب! اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہو یا ہم سے کوئی خطا سر زد ہوگئی ہو تو ہماری پکڑ نہ فرمانا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ مت ڈالنا جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ بھی مت ڈالنا کہ جس کی ہم میں طاقت ہی نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مولی ہے، پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما، اور اللہ تو اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

{والحمد لله رب العالمین}
 
Last edited:
Top