1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے !!!

'بچوں کی تربیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 19، 2014۔

  1. ‏مارچ 19، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے !!!
    اولاد انسان کابہترین سرمایہ ہے ۔ یہ اس کی ذات کا تسلسل ہی نہیں ، اس کی امیدوں اور خواہشوں کا سب سے بڑ ا مرکز بھی ہے ۔ ہم میں سے کون ہے جو اپنی اولاد کے برے مستقبل کا تصور بھی کرسکے ۔ لیکن اولاد کا اچھا مستقبل صرف خواہشوں اور تمناؤں کے سہارے وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک واضح اور متعین لائحہ عمل کی ضرورت ہے ۔ آج کی ملاقات میں ہم اختصار کے ساتھ وہ لائحہ عمل بیان کر رہے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی اولاد کو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے گا۔

    غیر روایتی انداز میں لکھی گئی یہ تحریر تربیت کے جن اصولوں کو بیان کرتی ہے ، انہیں اگر ملحوظ رکھا جائے تو وہ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی اخلاقی تربیت اور ذہنی نشو و نما کا سبب بنیں گے ۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ذہنی سکون وہ چیز ہے جو دنیا میں انسان کی ہر تگ و دو کا مقصود ہوتا ہے ۔ ایک ایسا گھر جہاں دنیا کے ہر ہنگامے سے محفوظ رہ کر انسان قلبی راحت پائے ہوئے ہو، بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے ۔ یہ اصول آپ کے گھر کو ایسا ہی گھر بنادیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو نہ صرف آپ کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیر کا باعث بنائیں گے ۔

    میں اس موقع پر قارئین کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جب ایک اچھی بات آپ تک پہنچے تو اس پر عمل کے ساتھ ساتھ اسے دوسروں تک پہنچانا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ چنانچہ کوشش کیجیے کہ اپنے جاننے والے ہر شخص تک اس تحریر کو پہنچائیں ۔
     
  2. ‏مارچ 19، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۱) اچھے خیالات اچھی زندگی:

    عام طور پر والدین اولاد کا دامن خوشیوں سے بھر دینے کی فکر میں رہتے ہیں ۔ خوشیوں سے ان کی مراد بالعموم مادی اشیا کی بہتات ہوتی ہے ۔ تاہم خوشی صرف مادی اشیا سے نہیں ملتی۔ خوشی زندگی کے بارے میں مثبت نقطۂ نظر اختیار کرنے سے ملتی ہے ۔ اس دنیا میں دکھوں ، پریشانیوں اور ناپسندیدہ حالات سے مفر ممکن نہیں ہے ۔ آپ کچھ بھی کر لیں، برے حالات سے اپنی اولاد کو بچا نہیں سکتے ۔

    ہاں ایک طریقہ ایسا ہے جس سے آپ کی اولاد پر مصائب و آلام کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی ہے ۔ وہ یہ کہ آپ اپنی اولاد کوزندگی کے بارے میں مثبت نقطۂ نظر دیں ۔ اسے بتائیں کہ دنیا میں سخت حالات ہی بہترین انسانوں کوجنم دیتے ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ سختیاں خدا کی نعمت ہیں ۔ یہ ایک طرف انسان کی صلاحیتوں کو بہترین طریقے سے پروان چڑھاتی ہیں اور دوسری طرف آخرت میں خدا کی رضا اور اس کی بہترین نعمتوں کے حصول کا ذریعہ بھی بنتی ہیں ۔ چنانچہ بچوں کو یہ سبق دیں کہ وہ مشکلات کو چیلنج کے طور پر لیں ۔ اس کے بعد وہی دکھ جو دوسروں کو نڈھال کر دیتے ہیں انہیں سرشار کر دیں گے ۔
     
  3. ‏مارچ 19، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۲) سخت محنت کی عادت:

    اولاد کو دینے والی دوسری چیز سخت محنت کرنے کی عادت ہے ۔ والدین لاڈ پیار میں بچوں کی زندگی آسان بنانا چاہتے ہیں۔ مگر بیجا لاڈ پیار مستقبل میں ان کی زندگی مشکل بنادیتا ہے ۔ لاڈ پیار سے بچے اکثر نکمے ہوجاتے ہیں ۔ اس دنیا میں نکمے اور ناکارہ لوگوں کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ۔ کامیابی صرف سخت محنت سے ملتی ہے ۔ حتیٰ کہ ذہانت بھی محنت کے کندھوں پر بیٹھ کر ہی خود کو نمایاں کرپاتی ہے ۔ انگریزی میں کہا جاتا ہے :

    Genius is ninety percent perspiration and only ten percent inspiration.
    یعنی ذہانت نوے فیصد محنت ہے اور صرف دس فیصد دماغی صلاحیت۔

    بچپن سے ہی اولاد کو سخت ذہنی اور جسمانی محنت کا عادی بنائیں ۔ اس کام کے لیے بچوں کے بڑ ے ہونے کا انتظار نہ کریں۔ بڑ ے ہونے پر تو بچوں کی عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں جن کا بدلنا آسان نہیں رہتا۔ عادتیں تو بچپن ہی میں ڈلوائی جاتی ہیں۔
     
  4. ‏مارچ 19، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۳) آپ کا بچہ آپ سے سیکھتا ہے :

    بچہ ایک مکمل نقال ہوتا ہے ۔ وہ سب کچھ آپ سے یا آپ کے فراہم کردہ ماحول سے سیکھتا ہے ۔ لہٰذاآپ بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں ، ویسے ہی بن جائیں اور انہیں اُسی طرح کا ماحول فراہم کریں ۔ جو بچہ ہر وقت گھر میں جھوٹ سنے گا، اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ کتاب میں جھوٹ کی برائی پڑ ھ کروہ اس سے نفرت کرنے لگے ۔ یہ ناممکن ہے ۔

    دورِ جدید میں ایک مسئلہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ بچوں کا اکثر وقت والدین سے زیادہ ٹی وی کے ساتھ گزرتا ہے ۔ میڈیا کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جن کے تحت وہ رومانویت، جنس اور تشدد کو بہت زیادہ ابھار کر دکھاتے ہیں ۔ ایسے میں اگر آپ اپنے بچے کو صرف ٹی وی پر آنے والے پروگراموں کے حوالے کر دیں گے تو ان تمام چیزوں کے اثرات ان تک پہنچنا لازمی ہیں ۔ اسی طرح مغربی تہذیب اور روایات کے بعض منفی اثرات اسی ذریعے سے آپ کے بچوں میں خاموشی سے منتقل ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ۔ سستی تفریح حاصل کرنے کی آپ کی بظاہر بے ضر ر خواہش، آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تاریک بنا سکتی ہے ۔ چنانچہ بہتر ہو گا کہ آپ خود کواور اپنی اولاد کو بھی میڈیا کے صرف انہی پہلوؤں تک محدود رکھیں جن کا تعلق علم اور اچھی تفریح سے ہواور بچوں کو اس حد سے آگے نہ جانے دیں ۔
     
  5. ‏مارچ 19، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۴) ذاتی توجہ اور براہِ راست مکالمہ:

    وہ دور گیا جب بچے خود سے پل جایا کرتے تھے ۔ اب ہر بچہ ذاتی توجہ چاہتا ہے ۔ آپ کی تمام تر احتیاط کے باوجود معاشرے میں موجود شر اور برائیوں کا آپ کے بچے تک پہنچنا لازمی ہے ۔ یہ بچے سے آپ کا ذاتی تعلق ہے جواسے ان برائیوں کے اثرات سے بچالے گا۔ بچوں سے آپ کا دوستانہ تعلق اور براہِ راست مکالمہ وہ ذریعہ ہے جس سے آپ ہر برائی کے بارے میں ان کے ساتھ کھل کر گفتگو کرسکیں گے اور انہیں یہ بتا سکیں گے کہ یہ چیزیں ہماری مذہبی اور تہذیبی اقدارکے خلاف ہیں ۔ اس کے بغیر آپ کے بچے اپنے تجسس کو دور کرنے کے لیے نا سمجھ دوستوں ، بیہودہ کتابوں اور دیگر ایسے ذرائع سے رجوع کریں گے جو ان کی ذہنی اور عملی گمراہی کا سبب بنیں گے ۔
     
  6. ‏مارچ 19، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۵) بچوں کی ذہن سازی کیجیے :

    بحیثیتِ مسلمان یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دین کے بنیادی تصورات اپنے بچوں کو منتقل کریں ۔ اس دنیا کا ایک بنانے والا ہے۔ اس نے ہماری رہنمائی کے لیے اپنے رسولوں کو بھیجا ہے ۔ اس کی رہنمائی دین کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ہمیں ایک روز اپنے رب کے حضور پیش ہوکر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ اچھے اعمال والے جنت اور برے اعمال والے جہنم میں جائیں گے ۔ یہ وہ بنیادی تصورات ہیں جن کی اپنی اولاد تک منتقلی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ۔

    اچھے اخلاقی تصورات مثلاً شرم و حیا، امانت و دیانت، صدق و عدل اور اس جیسی دیگر صفات کو بچوں کی شخصیت کا حصہ بنانا بھی والدین ہی کی ذمہ داری ہے ۔ اسی طرح معاملات کو گفت و شنید سے حل کرنا، سنی سنائی باتوں کے بجائے تحقیق کے ذریعے حقائق تک پہنچنا اعلیٰ انسانی خصلتیں ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کہ آپ کا بچہ آپ ہی سے سیکھتا ہے اس لیے بچوں میں اعلیٰ دینی، اخلاقی اور انسانی صفات پیدا کرنے کے لیے آپ کو انہیں ایسا ہی بن کر دکھانا بھی ہو گا۔
     
  7. ‏مارچ 19، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۶) اچھی تعلیم اور ذوق کا لحاظ :

    مندرجہ بالا تمام چیزوں کے ساتھ بچوں کو ان کے ذوق کے مطابق اچھی تعلیم دلوانا بہت ضروری ہے ۔ ابتدائی عمر سے ہی اچھی تعلیم کا مطلب مہنگے انگریزی ا سکولوں میں پڑ ھانا ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس ا سکول میں بھی یہ تعلیم حاصل کریں انہیں اس کے نصاب پر مکمل دسترس حاصل ہو۔ ایک عام اردو میڈیم سرکاری ا سکول کا نصاب بھی بہت اعلیٰ ہوتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ یہ نصاب پورا پڑ ھایا جائے اور اس طرح پڑ ھایا جائے جیسا کہ اس کے پڑ ھانے کا حق ہے ۔ چنانچہ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کا بچہ جس ا سکول میں بھی جاتا ہو اس کے نصاب پر اسے پورا عبور حاصل ہو۔ اس کے لیے آپ کو بچے کی تعلیم میں ذاتی دلچسپی لینی چاہیے ۔ مختلف طریقوں سے اس کی قابلیت کا امتحان لینا چاہیے ۔

    ہمارے ہاں ’’رٹے ‘‘ کے جس نظام کے تحت بچوں کی قابلیت کو جانچا جاتا ہے وہ عملی زندگی میں انتہائی غیر مؤثر اور بچوں میں حقیقی قابلیت پیدا کرنے کے اعتبار سے قطعاً غیر مفید ہے ۔ معاملہ تعلیم کا ہو یا تربیت کا، علم کو بچے کی شخصیت اور تجربات کا حصہ بننا چاہیے نہ کہ اس کی یادداشت کا۔ علم جب بچے کی شخصیت اور تجربات کا حصہ بنتا ہے تو وہ اس میں ایک خاص قسم کا ذوق تشکیل دیتا ہے ۔آپ اپنے بچے کے لیے جب اعلیٰ تعلیم کے مراحل کا انتخاب کریں تو اس کا انحصار بچہ کے اپنے ذوق پر ہونا چاہیے نہ کہ کسی پیشہ کی مالی منفعت پر۔ اپنے ذوق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ہمیشہ اپنے فن میں یکتا ثابت ہوتے ہیں ۔ اپنے فن میں یہ مہارت اور دلچسپی نہ صرف انہیں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ کام کر کے بھی ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں ۔ یہی ذہنی سکون انسان کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔
     
  8. ‏مارچ 19، 2014 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ۷) نئے خاندان کی مدد کیجیے

    والدین کی آخری بنیادی ذمہ داری اپنے بچوں کا گھر بسانا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس معاملے میں نوجوان لڑ کے اور لڑ کیوں کی تربیت کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ا ن کی تربیت اگر ہوتی ہے تو صرف میڈیا کے ہاتھوں جس میں کوئی حسین دوشیزہ یا خوبرو نوجوان آئیڈیل بنادیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل کی بنا پر شادی کی عمر بہت بڑ ھ چکی ہے ۔ ان وجوہات کی بنا پر نوجوانوں کے ذہن میں شادی کا تصور صرف دو جسموں کے ملاپ تک محدود رہتا ہے ۔ خاندان کیا ہوتا ہے ؟ یہ کیوں وجود میں آتا ہے ؟ اس میں فریقین کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں ؟ یہ او ر ان جیسے دیگر اہم معاملات میں ہم اپنی اولاد کی کوئی رہنمائی نہیں کرتے ۔

    شادی کا مطلب ہمارے ہاں بس یہی ہے کہ اپنا بچہ جب کمانے کے قابل ہوجائے تو اس کے لیے مال و جمال کی حامل کسی لڑ کی کا انتخاب کر لیا جائے ۔ یہ لڑ کی جب گھر آ جاتی ہے تو وہ گھریلو سیاست اور بے انصافی شروع ہوتی ہے جس کا مقابلہ بین الاقوامی سطح کے شاطر سیاستدان بھی نہیں کرسکتے ۔ چنانچہ غیر تربیت یافتہ اور تصوراتی دنیا میں پلے بڑھے یہ لڑکا لڑکی شادی کے ابتدائی سال بالعموم انتشار اور پریشانی کے عالم میں گزارتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ ان حالات کے عادی ہوجاتے ہیں اور جو کچھ ان کے ساتھ ہوا تھا زیادہ برے طریقے پر اپنی اولاد کے ساتھ کرنے لگتے ہیں ۔

    اس لیے ضروری ہے کہ خاندان کی تشکیل سے پہلے اور بعد میں والدین بھرپور طریقے سے اپنے بچوں کی مدد کریں ۔ وہ خاندان کی تشکیل میں ان کی پسند کو مد نظر رکھیں ۔ رشتہ کے انتخاب میں مادی خوبیوں کے بجائے کردار و اخلاق کی دیر پا اور محکم اساسات کو معیار بنائیں ۔ ایک نئے خاندان کی تشکیل میں ہمیشہ یہ اصول ملحوظ رہے کہ اس کے نتیجے میں ایک خاندان میں بیٹا اور دوسرے میں بیٹی کا اضافہ ہوا ہے ۔ یہ win-win معاملہ ہے جس میں کسی سے کچھ نہیں چھنا بلکہ ہر شخص فائدے میں رہا ہے ۔ صرف اسی صورت میں نیا خاندان ایک مستحکم شکل اختیار کرے گا اور معاشرے میں جنم لینے والے انسانوں کی ایک بہترین تربیت گاہ وجود میں آجائے گی۔

    مندرجہ بالا امور اختیار کرنے کے بعد امید ہے کہ آپ کی اولاد آپ کے اور معاشرے کے لیے ایک بہترین اور قابل فخر اثاثہ ثابت ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی اصلاح اور بہتری کے لیے دعا کرتے رہیں کیونکہ دعا مومن کا اصل ہتھیار ہے ۔ بالخصوص قرآن کی یہ دعا تو ہر حال میں پڑ ھتے رہیں :

    "اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اورہم کو پر ہیز گاروں کا امام بنا۔"

    جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِ آزار نہیں ، باعثِ رحمت بن کر رہیے ۔
     
  9. ‏جون 07، 2014 #9
    ام محمد

    ام محمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    جزاك اللہ خیر (( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ))
     
  10. ‏جون 07، 2014 #10
    حافظ اختر علی

    حافظ اختر علی سینئر رکن
    جگہ:
    قصور،پنجاب،پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    768
    موصول شکریہ جات:
    727
    تمغے کے پوائنٹ:
    317

    ماشاء اللہ !
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں