• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اولاد کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
وعلیکم السلام
میرا خیال ہے کہ نہیں دی جاسکتی۔زکوٰۃ ماں، باپ، اولاد اور بیوی کو نہیں دی جاسکتی کہ ان کی کفالت فرض ہے۔ جن لوگوں کی کفالت آپ پر فرض ہے، آپ انہین زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ تاہم مستحق بہن بھائی اور شوہر کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کہ ان کی کفالت فرض نہیں
واللہ اعلم بالصواب
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اولاد کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
سوال :
کیا کم آمدن والے بیٹے کو اپنی زکاۃ دے سکتا ہے؟
سوال: کیا والد اپنی بکریوں کی زکاۃ اپنے شادی شدہ بیٹے کو دے سکتا ہے؟ یہ بیٹا والد کے ساتھ رہتا ہے اور نہ ہی والد کا خرچہ برداشت کرتا ہے، یہ واضح رہے کہ بیٹے کی تنخواہ ہے لیکن بہت معمولی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب ::

الحمد للہ:
باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ نہیں دے سکتا، کیونکہ اگر بیٹا غریب ہے، اور باپ صاحب حیثیت ہے تو باپ کیلئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے بیٹے پر خرچ کرے، کیونکہ اگر باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ دیگا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اس نے زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

چنانچہ اس بارے میں ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (2/269) میں کہتے ہیں:
"فرض زکاۃ میں سے والدین، اور اولاد کو نہیں دیا جا سکتا، ابن منذر کہتے ہیں کہ: اہل علم کا اس بارے میں اجماع ہے کہ اولاد والدین کو ایسی صورت میں زکاۃ نہیں دے سکتی جب اولاد پر والدین کا خرچہ واجب ہوتا ہو، کیونکہ اگر اولاد والدین کو زکاۃ دے گی تو اس طرح اولاد کو والدین پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، گویا کہ انہوں نے زکاۃ دے کر اپنے ذمہ واجب خرچہ کو بچا لیا ہے، یا دوسرے لفظوں میں زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

اسی طرح اپنی اولاد کو بھی زکاۃ نہیں دے سکتے، امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "والدین ، اولاد، پوتے ، دادا، دادی، اور نواسے کو اپنی زکاۃ نہ دے" کچھ اختصار اور تبدیلی کیساتھ اقتباس مکمل ہوا

یہاں سے کچھ اہل علم کے ہاں دو صورتوں کو مستثنی کیا جائے گا:

1- اصل یا فرع پر قرض ہو، تو ایسی صورت میں ان کے قرض کی ادائیگی کیلئے زکاۃ دی جا سکتی ہے؛ کیونکہ اولاد کا قرضہ والد کے یا والد کا قرضہ اولاد کے ذمہ واجب الادا نہیں ہے۔

2- زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ اصل یا فرع کا خرچہ برداشت کر سکے، ایسی صورت میں زکاۃ دینے والے پر اصل یا فرع کا خرچہ واجب نہیں ہوگا، تو اس صورت میں وہ زکاۃ دے سکتا ہے۔

چنانچہ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف "الاختيارات" (ص 104)میں ہے کہ:
"والدین اور آباؤ اجداد کو اسی طرح اپنی نسل یعنی پوتے پوتیوں کو زکاۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ لوگ زکاۃ کے مستحق ہوں اور زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے ان کا خرچہ برداشت کر سکے، یا ان میں سے کوئی مقروض ہو یا ،مکاتب ہو یا مسافر ہو تب بھی ان پر خرچ کر سکتا ہے، اسی طرح اگر ماں غریب ہو، اور اس کے بچوں کے پاس مال ہو، تو ماں کو بچوں کے مال کی زکاۃ دی جا سکتی ہے" اختصار کیساتھ اقتباس مکمل ہوا

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"کیا انسان اپنی اولاد کو زکاۃ دے سکتا ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس میں تفصیل ہے، چنانچہ اگر والد اپنی اولاد کو زکاۃ اس لیے دینا چاہتا ہے کہ اسے اولاد کا خرچہ نہ دینا پڑے تو یہ جائز نہیں ہے، لیکن اگر والد اپنے بیٹے کی طرف سے قرض اتارنا چاہے تو قرض اتار سکتا ہے، مثلاً: بیٹے نے کسی کی گاڑی کو ٹکر ماری اور حادثہ ہو گیا، اور دوسری گاڑی کا خرچہ 10000 ہزار ریال بنا تو والد اس حادثے کی وجہ سے 10000 ریال اپنی زکاۃ سے دے سکتا ہے" انتہی
"مجموع فتاوى الشیخ ابن عثیمین" (18/508) نیز دیکھیں: (18/415)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں
السؤال :: رجل عنده مال من أغنام وغيرها، ويخرج زكاته، هل يجوز أن يعطي تلك الزكاة لابنه أو ابنته وأخيه وأخته؟
الجواب :
ليس له أن يعطي الزكاة لابنه أو بنته أو أبيه أو أمه أو أجداده، أما إعطاؤها إخوته الفقراء أو أخواله أو أعمامه فلا حرج

.
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اس سلسلے میں کوئی روایت نہیں ہے جس میں صراحت ہو یا جس سے استنباط کیا گیا ہو؟
 

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
سوال :
کیا کم آمدن والے بیٹے کو اپنی زکاۃ دے سکتا ہے؟
سوال: کیا والد اپنی بکریوں کی زکاۃ اپنے شادی شدہ بیٹے کو دے سکتا ہے؟ یہ بیٹا والد کے ساتھ رہتا ہے اور نہ ہی والد کا خرچہ برداشت کرتا ہے، یہ واضح رہے کہ بیٹے کی تنخواہ ہے لیکن بہت معمولی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب ::

الحمد للہ:
باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ نہیں دے سکتا، کیونکہ اگر بیٹا غریب ہے، اور باپ صاحب حیثیت ہے تو باپ کیلئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے بیٹے پر خرچ کرے، کیونکہ اگر باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ دیگا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اس نے زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

چنانچہ اس بارے میں ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (2/269) میں کہتے ہیں:
"فرض زکاۃ میں سے والدین، اور اولاد کو نہیں دیا جا سکتا، ابن منذر کہتے ہیں کہ: اہل علم کا اس بارے میں اجماع ہے کہ اولاد والدین کو ایسی صورت میں زکاۃ نہیں دے سکتی جب اولاد پر والدین کا خرچہ واجب ہوتا ہو، کیونکہ اگر اولاد والدین کو زکاۃ دے گی تو اس طرح اولاد کو والدین پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، گویا کہ انہوں نے زکاۃ دے کر اپنے ذمہ واجب خرچہ کو بچا لیا ہے، یا دوسرے لفظوں میں زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

اسی طرح اپنی اولاد کو بھی زکاۃ نہیں دے سکتے، امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "والدین ، اولاد، پوتے ، دادا، دادی، اور نواسے کو اپنی زکاۃ نہ دے" کچھ اختصار اور تبدیلی کیساتھ اقتباس مکمل ہوا

یہاں سے کچھ اہل علم کے ہاں دو صورتوں کو مستثنی کیا جائے گا:

1- اصل یا فرع پر قرض ہو، تو ایسی صورت میں ان کے قرض کی ادائیگی کیلئے زکاۃ دی جا سکتی ہے؛ کیونکہ اولاد کا قرضہ والد کے یا والد کا قرضہ اولاد کے ذمہ واجب الادا نہیں ہے۔

2- زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ اصل یا فرع کا خرچہ برداشت کر سکے، ایسی صورت میں زکاۃ دینے والے پر اصل یا فرع کا خرچہ واجب نہیں ہوگا، تو اس صورت میں وہ زکاۃ دے سکتا ہے۔

چنانچہ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف "الاختيارات" (ص 104)میں ہے کہ:
"والدین اور آباؤ اجداد کو اسی طرح اپنی نسل یعنی پوتے پوتیوں کو زکاۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ لوگ زکاۃ کے مستحق ہوں اور زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے ان کا خرچہ برداشت کر سکے، یا ان میں سے کوئی مقروض ہو یا ،مکاتب ہو یا مسافر ہو تب بھی ان پر خرچ کر سکتا ہے، اسی طرح اگر ماں غریب ہو، اور اس کے بچوں کے پاس مال ہو، تو ماں کو بچوں کے مال کی زکاۃ دی جا سکتی ہے" اختصار کیساتھ اقتباس مکمل ہوا

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"کیا انسان اپنی اولاد کو زکاۃ دے سکتا ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس میں تفصیل ہے، چنانچہ اگر والد اپنی اولاد کو زکاۃ اس لیے دینا چاہتا ہے کہ اسے اولاد کا خرچہ نہ دینا پڑے تو یہ جائز نہیں ہے، لیکن اگر والد اپنے بیٹے کی طرف سے قرض اتارنا چاہے تو قرض اتار سکتا ہے، مثلاً: بیٹے نے کسی کی گاڑی کو ٹکر ماری اور حادثہ ہو گیا، اور دوسری گاڑی کا خرچہ 10000 ہزار ریال بنا تو والد اس حادثے کی وجہ سے 10000 ریال اپنی زکاۃ سے دے سکتا ہے" انتہی
"مجموع فتاوى الشیخ ابن عثیمین" (18/508) نیز دیکھیں: (18/415)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں
السؤال :: رجل عنده مال من أغنام وغيرها، ويخرج زكاته، هل يجوز أن يعطي تلك الزكاة لابنه أو ابنته وأخيه وأخته؟
الجواب :
ليس له أن يعطي الزكاة لابنه أو بنته أو أبيه أو أمه أو أجداده، أما إعطاؤها إخوته الفقراء أو أخواله أو أعمامه فلا حرج

.
السلام علیکم

تمام بھائیوں کا شکریہ
جزاک اللہ خیرا
جس بھائی کا یہ مسلہ ہے اس کی بیٹی کے حالات بہت خراب ہیں اور وہ صاحب بھی اس قابل نہیں ہے کے اپنی بیٹی کی مدد کر سکے ہاں اس پر کچھ زکوۃ بنتی کیا وہ اس صورت میں اپنی بیٹی کو زکوۃ دے سکتا ہے اس کا شوہر بھی اجکل بے روز گار ہے جزاک اللہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
جس بھائی کا یہ مسلہ ہے اس کی بیٹی کے حالات بہت خراب ہیں اور وہ صاحب بھی اس قابل نہیں ہے کے اپنی بیٹی کی مدد کر سکے ہاں اس پر کچھ زکوۃ بنتی کیا وہ اس صورت میں اپنی بیٹی کو زکوۃ دے سکتا ہے اس کا شوہر بھی اجکل بے روز گار ہے جزاک اللہ
اگر صورت حال ایسی کہ والد زکاۃ کے پیسوں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا ، تو
اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف "الاختيارات" (ص 104)میں ہے کہ:

" ويجوز صرف الزكاة إلى الوالدين وإن علوا – يعني الأجداد والجدات - وإلى الولد وإن سفل – يعني الأحفاد - إذا كانوا فقراء وهو عاجز عن نفقتهم ، وكذا إن كانوا غارمين أو مكاتبين أو أبناء السبيل ، وإذا كانت الأم فقيرة ولها أولاد صغار لهم مال ونفقتها تضر بهم أعطيت من زكاتهم " انتهى باختصار .
"والدین اور آباؤ اجداد کو اسی طرح اپنی اولاد ،نیچے تک یعنی پوتے پوتیوں کو زکاۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ لوگ زکاۃ کے مستحق ہوں اور زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے ان کا خرچہ برداشت کر سکے، یا ان میں سے کوئی مقروض ہو یا ،مکاتب ہو یا مسافر ہو تب بھی ان پر خرچ کر سکتا ہے، اسی طرح اگر ماں غریب ہو، اور اس کے بچوں کے پاس مال ہو، تو ماں کو بچوں کے مال کی زکاۃ دی جا سکتی ہے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اوپر المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ کے حوالے جو ممانعت ہے ، وہ اس صورت میں جب زکاۃ لینے والا بیٹا ہو ،اور اس کے اخراجات ابھی والد کے ذمہ ہوں یعنی وہ خود کمانے کے قابل نہ ہو ،یا حسب حاجت نہ کما سکے ،
اسی طرح جس بیٹی کے ضروریات والد کےذمہ ہوں یعنی اس کی شادی نہ ہوئی ہو ، اس کو بھی زکاۃ دینا مذکورہ فتوی کے مطابق منع ہے ،
جب کہ جو صورت آپ اب بتائی کہ بیٹی شادی شدہ اور زکاۃ کی مستحق ہے تو اس صورت میں اس کا والد اسے زکاۃ دے سکتا ہے
کیونکہ شادی کے بعد عورت اپنے خاوند کی ذمہ داری میں آتی ہے ، اسی وجہ خاوند کو اس پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہوتی ہے،
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
السلام علیکم

تمام بھائیوں کا شکریہ
جزاک اللہ خیرا
جس بھائی کا یہ مسلہ ہے اس کی بیٹی کے حالات بہت خراب ہیں اور وہ صاحب بھی اس قابل نہیں ہے کے اپنی بیٹی کی مدد کر سکے ہاں اس پر کچھ زکوۃ بنتی کیا وہ اس صورت میں اپنی بیٹی کو زکوۃ دے سکتا ہے اس کا شوہر بھی اجکل بے روز گار ہے جزاک اللہ
وعلیکم السلام
فقہی جواب تو برادر برادر اسحاق سلفی نے دے دیا ہے، جس پر عمل در آمد کرنا چاہئے۔

میں صرف ایک ”نکتہ“ کی طرف توجہ دلانا کرنا چاہتا ہوں کہ اکثر لوگ ”دینے دلانے“ کے سارے کام زکوٰۃ سے ہی ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اور جس مد میں زکوٰۃ نہیں بھی دی جاسکتی، علمائے کرام سے اس میں ”گنجائش“ پیدا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے ۔ کیونکہ ”استثنیٰ“ تو ہر دنیوی اور شرعی قانون میں موجود ہوتا ہے۔

اب اوپر ہی کی مثال لیجئے۔ (قطع نظر اس بات کے کہ شادی شدہ بیٹی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے) عمومی طور پر ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم زکوٰۃ سے اپنی اولاد کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود وہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ ہی سے اپنی اولاد کی مدد کریں کیونکہ، بقول خود اُن کے، وہ خود ”غریب“ ہیں اور اپنی اولاد کی مدد نہیں کرسکتے البتہ ”کچھ زکوٰۃ“ بنتی ہے، تو اس زکوٰۃ سے مدد کرسکتے ہیں۔ صرف ”شرعی اجازت“ درکار ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ جس فرد پر فرض ہے، وہ تو ”صاحب نصاب“ ہوتا ہے۔ اور جو صاحبِ نصاب ہوتا ہے، اس کے پاس کم از کم ایک سال سے ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی مالیت کے برابر رقم (آج کے حساب سے تین لاکھ 73 ہزار 65 روپے) بطور ”فاضل“ موجود ہوتا ہے۔ جس کی زکوٰۃ 9،326 روپے بنتی ہے۔ گویا اس ”غریب باپ“ کے پاس سال بھر سے کم از کم پونے چار لاکھ روپے موجود ہیں، جس کی زکوٰۃ نو ہزار روپے انہیں ہر حال میں ادا کرنی ہے۔ اور اب وہ چاہتے ہیں کہ اسی زکوٰۃ کی رقم سے اپنی اولاد کی مدد کریں کیونکہ وہ ”غریب“ ہیں اور زکوٰۃ کے علاوہ (اپنے پاس موجود فاضل پونے چار لاکھ روپے سے) اپنی اولاد کی ”ضرورت“ پوری نہیں کرسکتے جو محض نو ہزار روپے یا اس سے بھی کم ہوگی۔

کیا ایک ”صاحب نصاب“ مسلمان کا اپنے ”فاضل مال“ سے اس قدر محبت، فرض زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات و خیرات سے ”انکار“ اور فرض زکوٰۃ کو بھی اپنی ہی اولاد پر خرچ کرنے پر ”اصرار“ ۔ ۔ ۔ ایک مسلمان کا ”شیوہ“ ہونا چاہئے ؟ ذرا سوچئیے کہ یہ تحریر صرف ”سوچنے“ کے لئے ہے۔
 
شمولیت
نومبر 27، 2014
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
60
پوائنٹ
49
يوسف بھائی نے بالکل صحیح نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
۔۔۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ وہ صاحب اس قابل بھی نہیں ۔۔اور صاحب نصاب بھی ہیں۔۔۔ایسے معاملے میں وہ رخصت کی تلاش میں ہیں۔
اوپر والے مسئلہ میں پھر ان کو چاہییے کہ وہ داماد کو دے دیں ۔۔۔اور بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ کیسے پیسے ہیں۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,676
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
معاملہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی شادی کے وقت کا بیوی کے جہیز کا سونا موجود ہوتا ہے، جس کو وہ نہ بیچ سکتا ہے نہ کچھ، ہاں اس پر زکاة واجب ہو جاتی ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ سونا گو کہ بیوی کی ملکیت ہے، لیکن وہ شوہر کے تصرف میں نہ ہوتے ہوئے بھی اسی کے تصرف میں سمجھی جاتی ہے، بہر حال زکاة شوہر کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے، اور اکثر والدہ یہ سونا اپنی بیٹی کے لئے بچا کر رکھا کرتی ہے!
یہ ساڑھے سات تولہ ایسے لوگوں کے لئے ایک امتحان کا باعث بن جاتا ہے!
 
Top