• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولیاء اللہ کی نذر ماننے کا معروف او رمروج غلط طریقہ

ابن بشیر الحسینوی

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
1,097
ری ایکشن اسکور
4,469
پوائنٹ
376
اولیاء اللہ کی نذر ماننے کا معروف او رمروج غلط طریقہ

غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب اپنی کتاب شرح صحیح مسلم (ج٤ص٥٣٩،٥٤٠) میں لکھتے ہیں کہ علامہ علاو الدین حصکفی لکھتے ہیں :
اکثر عوام فوت شدہ لوگوں کی نذر مانتے ہیں اور اولیاء اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے ان کے مزارات پر روپے پیسے ،موم بتیاں اور تیل لے جاتے ہیں یہ نذر بالاجماع باطل اور حرام ہے جب تک ان چیزوں کو فقراء پر خرچ کرنے کا قصد نہ کیا جائے (در مختار علی ہامش رد المختار ج٢ ص ١٧٥)
علامہ ابن عابدین حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:

جو شخص اولیاء اللہ کی نذر اس طرح مانتا ہے :''اے سیدی اگر میرا گم شدہ شخص لوٹ آیا یا میر ابیمار تندرست ہو گیا یا میری حاجت پوری ہو گئی تو میں آپ کو اتنا سونا،چاندی یا کھانا یا موم بتیاں یا تیل دوں گی ،یہ نذر بالاجماع باطل اور حرام ہے ۔(رد المختار ج٢ص١٧٥)
ملا نظام الدین حنفی (مرتب فتاوی عالمگیری )نے ذکر کیا ہے :

اکثر عوام اس طرح نذر مانتے ہیں کہ وہ اولیاء اللہ کے مزارات پر جاتے ہیں اور ان کے مزار کی چادر اٹھا کر کہتے ہیں :اے سیدی فلاں بزرگ!اگر میری فلاں حاجت پوری ہو گئی تو مثلا آپ کو اتنا سونا دوں گا ''یہ نذر بالاجماع باطل ہے ۔(فتاوی عالمگیری:ج١ص٢١٦)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
جزاک اللہ ابن بشیر بھائی جان۔ آپ نے بہت اہم حوالہ جات مہیا کر دئے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب خود حنفی علماء بلکہ پہلے حوالے کے حساب سے تو بریلوی علماء بھی ایسی نذر کے مخالف ہیں تو عوام کی ایسی کثیر تعداد کیوں اس جہالت میں مبتلا ہے؟ ان کے علماء کیوں اپنی عوام کو ایسی ’بالاجماع حرام‘ نذر سے نہیں روکتے ہیں؟
 
شمولیت
اپریل 03، 2011
پیغامات
101
ری ایکشن اسکور
660
پوائنٹ
0
جزاک اللہ ابن بشیر بھائی جان۔ آپ نے بہت اہم حوالہ جات مہیا کر دئے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب خود حنفی علماء بلکہ پہلے حوالے کے حساب سے تو بریلوی علماء بھی ایسی نذر کے مخالف ہیں تو عوام کی ایسی کثیر تعداد کیوں اس جہالت میں مبتلا ہے؟ ان کے علماء کیوں اپنی عوام کو ایسی ’بالاجماع حرام‘ نذر سے نہیں روکتے ہیں؟
بھائی میرے خیال میں یہ علماء آج تک عوام سے حقائق چھپائے ہوئے ہیں صرف کتابوں میں کوئی ایک آدھی بات ایسی لکھ دیتے ہیں باقی کھل کر حرام کاموں کی مخالفت نہیں کرتے اگر یہ علماء کھل کر عوام الناس کو ان باطل کاموں سے منع کرتے تو آج عوام کا یہ حال نہ ہوتا ؛؛
مگر افسوس؛؛؛؛؛
 
Top