• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اپنی شریک حیات کی طبیعت اور نفسیات کو سمجھنا

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
شادی کا پہلا سال عموماً میاں بیوی کے درمیان تعارف و پہچان کا سال ہوتا ہے۔ اس سال میں دونوں ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی پسند ناپسند اور ایک دوسرے کی شخصیت کو سمجھیں۔ انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کا شریک حیات کب بات کرنا پسند کرتا ہے اور اسے کیسا کھانا پینا اور لباس وغیرہ پسند ہے؟ کس بات پے وہ ناراض ہوتا ہے اور کونسی باتیں یا عادتیں اسے اچھی لگتی ہیں۔ اس طرزِ عمل کو اپنانے کے دونوں اپنی زندگی کو سکھ و چین کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب ناراض ہوتی ہو؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے علم ہوا؟ فرمایا: جب تم مجھ سے ناراض ہوتی اور قسم اٹھاتی ہو تو کہتی ہوں، ہر گز نہیں! ابراہیم کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے خوشی ہوتی ہو اور قسم اٹھاتی ہو تو کہتی ہو ہر گز نہیں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے رب کی قسم! (۱) (بخاری مسلم)

اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت کو سمجھتے تھے اور آپ کے غصے اور رضا مندی کو علامات کو بخوبی پہچانتے تھے۔

ایک اور حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں؟ جب تیز ہوا چلتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھے:
اللھم إنی أسلک خیرھا و خیر ما فیھا و خیر ما اسلف بہ وأعوذبک منہ شرھا و شر ما فیھا و شرما أرسلت بہ۔ (۱) (مسلم)
ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے اسی ہوا کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور جس چیز کے ساتھ یہ ہوا بھیجی گئی ہے اس کی بھلائی کا طالب ہوں۔اور میں تجھ سے اس ہوا کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو اسی میں ہے اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور جس چیز کے ساتھ یہ ہوا بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔
اور جب آسمان بادلوں سے بھر جاتا اور گرج چمک ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ اندر باہر آتے جاتے پھر جب بارش شروع ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پے اطمینان چھا جاتا۔ میں آپ کے چہرے سے پہچان لیتی میں نے جب یہ دیکھا تو اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے اے عائشہ یہ وہ ہے جو عاد نے کہا، (پھر جب انہوں نے ایک بادل کو اپنی وادی کی طرف آتے دیکھا تو بولے یہ ہم پر بارش برسائے گا) ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول پر غور کریں۔ (میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچان لیتی)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے تاثرات کو بخوبی سمجھتی تھیں اور جانتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت ناراض ہوتے ہیں اور کب خوش ہوتے ہیں اور کیا چیز انہیں ناراض کرتی ہے اور کیا چیز انہیں کوش کرتی ہے۔ بہت سی احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا یہ قول وارد ہوا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچان گئی۔ دیگر احادیث میں ہے: میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا چاہتے ہیں۔ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ کو اچھی طرح سمجھتی اور جانتی تھیں۔


لنک
 
Top