• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اپنے کردار کا جائزہ لیں

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,608
ری ایکشن اسکور
31
پوائنٹ
110
محمد اویس پراچہ کی فیسبک وال سے
========================

ہم کیا ہیں؟
ہم مسلمان ہیں۔
ہم کیا چاہتے ہیں؟
ہم اسلامی نظام چاہتے ہیں۔
ہم کیا کھاتے ہیں؟
ہم حلال کھاتے ہیں۔
پھر حرام کون کھاتا ہے؟
یہ ہمارے سیاست دان، بیوروکریٹس اور افسر کھاتے ہیں. ان کی نحوست ہم سب پر ہے۔

معذرت چاہتا ہوں! یہ سب غلط ہے۔ ہم مسلمان نہیں، منافق ہیں۔ ہم حلال نہیں، حرام کھاتے، پیتے اور پہنتے ہیں۔ ہم سے جتنی ہوتی ہے، ہم کرپشن ضرور کرتے ہیں۔
اسلامک بینکنگ کو پاکستان میں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ریشو صرف 20، 22 فیصد ہے۔ باقی سب کنونشنل بینکنگ ہوتی ہے۔ کون کرتا ہے یہ؟ ہم ہی تو کرتے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ اس میں علماء کرام کا اختلاف ہے... لیکن کنونشنل کے سود ہونے پر تو اتفاق ہے سب کا، پھر وہ کیوں استعمال کرتے ہیں؟ کیوں کہ ہم پیسہ اور فائدہ دیکھتے ہیں، حلال و حرام نہیں۔
پرپال پر ہم محنت کر رہے ہیں۔ رانا نعمان صاحب کا بس نہیں چلتا کہ وہ ہم سے پہلے اسے شریعہ کمپلائنٹ بنا دیں۔ لیکن ہر کام میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے پھر بھی کوشش کی کہ ایڈیسنس سے ایڈ پیک کا سسٹم ختم کر دیں تو کم از کم وہ چیز ختم ہو جائے جو بالکل سود ہے۔ پاورپیک کا مشتبہ سسٹم رہ جائے۔ ہمارے اہلیان پنجاب اس پر راضی ہی نہیں ہوئے۔ پیسہ ملنا چاہیے بس، بھلے سے سود ہو۔ اب کے پی کے اور پنجاب کے لیے الگ الگ سسٹم چل رہے ہیں۔ کون ہیں پنجاب کے یہ سرمایہ کار؟ چھوٹی چھوٹی رقموں والے عام لوگ۔ دین کی پرواہ ان کو بھی نہیں نہ حلال و حرام کا خیال ہے۔
بی فار یو کے حوالے سے لوگوں کو ہم روکتے رہے کہ ان کا کام مشتبہ ہے، سود نہ کھلایا جا رہا ہو۔ وہ کہتے کہ ہمارے شریعہ ایڈوائزر مفتی عمران صاحب معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ پورا ہفتہ اس کے مالک سیف الرحمان خان اور ایڈوائزر مفتی عمران صاحب سے گفتگو میں گزرا۔ سیف الرحمان صاحب تو مفتی صاحب کو وہ چیزیں دکھاتے ہی نہیں ہیں جن سے حلال و حرام کا علم ہوتا ہے۔ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، کتنا آ رہا ہے اور کیسے تقسیم ہو رہا ہے؟ کسی چیز کا شرعی حوالے سے آڈٹ اور جانچ پڑتال نہیں ہے۔ جو سیف صاحب نے کہہ دیا وہ مان لیا۔ مفتی صاحب کی یہ فیلڈ نہیں ہے تو انہیں ظاہری چیزیں دکھا کر اپنی جانب کر لیا شاید۔ میں نے تفصیلات مانگیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ قابل صد احترام مفتی صاحب پھر بھی ناجائز نہیں فرماتے۔ لوگ پیسے لگائے جا رہے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا کچھ کھائے جا رہے ہیں۔ کون ہیں یہ لوگ؟ میں، آپ، ہم سب...
نیچے لیول پر منڈی سے لے کر کلینک تک، ہر جگہ دھوکہ، کرپشن اور حرام خوری ہے۔ بس پیٹ بھرنا ہے جیسے بھی ہو۔ بچوں کو بھی وہی کھلانا ہے اور پھر ان سے نیک ہونے کی توقع کرنی ہے۔ وہ محلے کے کلینک میں بیٹھا بغیر ڈگری کا ڈاکٹر کون ہے؟ ہم میں سے ہی ہے۔ وہ ہسپتال میں فارما کمپنی سے کمیشن کے نام پر رشوت لیتا ڈاکٹر کون ہے؟ یہ منڈی میں کھڑے حاجی صاحب کون ہیں جن کی پیٹی میں اوپر اچھا اور نیچے گندا پھل ہے؟ یہ ٹھیکیدار کون ہے جو دو نمبر وائرنگ کر رہا ہے؟ یہ گائے کو انجیکشن لگانے والا ملازم کس کا ہے؟ یہ کپڑا مارکیٹ میں جھوٹی قیمت خرید کون بتا رہا ہے؟ یہ ہم ہی ہیں۔
یہ تو چند مثالیں ہیں۔ میں روز ایسے واقعات دیکھتا ہوں۔ ہمارے حکمران، سیاست دان، افسر، فوجی چور نہیں ہیں، ہم خود چور ہیں۔ ہم خود حرام کھانے والے اور کرپٹ ہیں۔ ہم کلمہ پڑھنے کی حد تک مسلمان ہیں بس، باقی احکام ہمارے لیے نہیں اترے، وہ صرف دوسروں پر طعن و تشنیع کے لیے اترے ہیں۔
منافق ہیں ہم سب... اور خود کو بدلنا بھی نہیں چاہتے۔
 
Top