• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اکابر علماء ومشایخ اہل حدیث کو گالی گلوچ کرنے والے افراد کے متعلق پاکستان بھر کے جید علمائے اہل حدیث کا مشترکہ بیانیہ

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
162
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
28
اکابر علماء ومشایخ اہل حدیث کو گالی گلوچ کرنے والے افراد کے متعلق پاکستان بھر کے جید علمائے اہل حدیث کا مشترکہ بیانیہ

بسم الله الرحمن الرحیم

مولانا عمر صدیق صاحب اور ان کے رفقاء کی طرف سے کئی ایک بار یہ معاملہ ہو چکا ہے، کہ یہ لوگ آئے روز اسٹیجوں اور سوشل میڈیا پر اہل حدیث اکابر علماء پر لعن طعن اور گالی گلوچ کرتے ہیں۔ جیسا کہ عمر صدیق صاحب نے قبل ازیں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے معزز اساتذہ بالخصوص شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز علوی حفظہ اللہ کو 'چٹا چاٹا تے عقل دا گھاٹا' اور "مجھے تمھاری چھترول کرتے ہوئے شرم نہیں آتی" جیسے گھٹیا الفاظ سے مخاطب کیا اور ان پہ بے شرمی کا طعن کیا۔

اب کی بار بھی جب مسلکِ اہل حدیث میں مولانا عمر صدیق اور حافظ عبد الباسط شیخوپوری کی طرف سے حسینی اور یزیدی تفریق کا فتنہ شروع ہوا اور کسی شخصیت کو بھی ٹارگٹ کیے بغیر، جماعت کے اکابر علماء شیخ عبد الستار حماد، شیخ منیر قمر سیالکوٹی، شیخ مسعود عالم، شیخ شریف فیصل آبادی، شیخ غلام مصطفی امن پوری، شیخ جاوید اقبال سیالکوٹی سمیت 40 کے قریب علماء ومشایخ اہل حدیث نے اس فتنے کی مذمت پر فتوی جاری کیا، تو اس بار انہوں نے سب حدیں کراس کر ڈالیں، علماء کی فتوی کمیٹی کو یزیدی لجنہ کہا، اکابر علماء کو ناصبی خبیث کہا، ان کے فتوے کو جوتے کی نوک پر کہا۔

بعد ازاں سرگودھا جا کر شیخ غلام مصطفی امن پوری کو ’حرام زادہ‘ اور حافظ ابو یحیی کو’ کنجر‘ تک کہہ ڈالا۔ اسی طرح مفتی عتیق الرحمن علوی صاحب کو ناصبی یزیدی کہا۔ مزید برآں مفسرِ قران شیخ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی توہین کی تہمت لگائی۔

اب دنیا جہان کا گالم گلوچ اور لعن طعن کرنے کے بعد حسبِ سابق اس دشنام طراز گروہ کے حمایتی افراد کی طرف سے صلح کی بات شروع ہو چکی ہے، اور اسے بعض افراد کی باہمی لڑائی کا رنگ دینے کی ناروا کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ یہ دو افراد کی لڑائی قطعا نہیں ہے، بلکہ مسلکِ اہل حدیث میں انحراف کی سازش اور علماء ومشایخ کو سیدھا گالیاں دینے کا معاملہ ہے۔

ہر دردِ دل رکھنے والا شخص چاہتا ہے کہ یہ اختلاف اور نزاع ختم ہو، اور عوام کے سامنے جو تماشا لگا ہوا ہے، اس فتنے کی آگ جلد از جلد ٹھنڈی ہو۔

لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس قسم کی صلح کی جتنی کوششیں بھی ہوئی ہیں، وہ "مٹی پاؤ اور ڈنگ ٹپاو" پالیسی کی وجہ سے زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتیں۔

عمر صدیق صاحب ایک طرف توبہ واستغفار اور زبان بندی اور سیز فائر کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف اس فتنے کو مزید ہوا دینے کا بندوبست فرما رہے ہوتے ہیں۔

اور المیہ تو یہ ہے کہ جماعت کے بعض سرکردہ لوگ بھی سرا و جہرا ان کی مختلف انداز سے حمایت کر رہے ہوتے ہیں، جس سے اس شخص کی پشت پناہی کا مضبوط تاثر پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ ایک مرکزی رہنما کی آڈیو لیک ہوئی، جس میں وہ پہلے کسی وقت اسی گروہ کو حکم دے رہے ہیں کہ "مخالفین کو کھینچ کے رکھیں" اور اب بھی اس گروہ کے رویے سے ایسی پشت پناہی کا تاثر پیدا ہوا ہے. جب اندر کھاتے یہ سب معاملات جاری رہنے ہیں تو شاید صلح کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہاں البتہ اگر سب صلح کے لیے سنجیدہ ہیں، اسے مفید اور ثمر آور بنانا چاہتے ہیں، تاکہ آئندہ یہ فتنہ دوبارہ نہ اٹھے تو اس بار صلح سے قبل درج ذیل چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
  1. عمر صدیق صاحب اور ان کے ہمنوا، تمام علماء ومشایخ کرام سے نام بہ نام معافی مانگیں اور ان کے پاس یا مجلس میں اگرچہ مگرچہ کے بغیر علانیہ معذرت کریں۔
  2. حدیث نبوی "حسین مني وانا من حسین " کے من مانے اور محرف معنی سے رجوع کریں، کیونکہ جب تمام کبار علماء اسے تحریفِ معنوی قرار دے چکے ہیں تو اب اس میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
  3. مسلک اہل حدیث میں حسینی یزیدی تقسیم سے رجوع کریں، کیونکہ سب اہل علم اس کی مذمت پر متفق ہیں، اور یہ بھی اقرار کریں کہ کبھی کسی اہل حدیث کو ناصبی یزیدی وغیرہ کا طعنہ نہیں دیں گے۔
  4. آئندہ کے لیے واقعہ کربلا وغیرہ موضوعات پر تقریر سے اجتناب کا عہد کریں جس سے دوبارہ پھر فتنہ پیدا ہو سکتا ہو۔
  5. ان فیس بک آئی ڈیز: سفید شاھین ، ابرار سلفی، ابو حسین، عمر السلفی، ابو الیسع عمر صدیق، مجتبی بٹ وغیرہ سے گالیوں کی روک تھام کریں۔ اور اگر اس قسم کی آئی ڈیز سے کسی عالم دین کو گالیاں دی گئیں تو معاہدہ کالعدم ہو گا۔
  6. جماعتی عہدیداروں میں سے جن لوگوں نے اس فتنے کی پشت پناہی کی ہے، وہ بھی اپنی غلطی کا اقرار کریں اور آئندہ اس قسم کی حرکات سے اجتناب کا تحریری وعدہ کریں۔
  7. جماعت کے نظامتِ تبلیغ پر فائز ایسے افراد کو معزول کیا جائے جنھوں نے ’حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ‘جیسے نعرے لگوا کر ایسے افراد کی پشت پناہی کی اور ایک بدعت کو رواج دینا چاہا۔ اور ان کی جگہ نظامتِ تبلیغ اور ضابطہ اخلاق کمیٹی کا عہدہ ایسے شخص کے سپرد کیا جائے جو متنازع ہو اور نہ کسی فتنے میں ملوث ہو۔
  8. اگر یہ لوگ ان شرائط کی پابندی کا عہد نہیں کرتے اور ان پر عمل در آمد سے روگردانی کرتے ہیں تو جماعت کے تمام فورمز پر ان کا بائیکاٹ کیا جائے، جلسوں اور اسٹیجوں پر ان کے آنے کی ممانعت کی جائے۔
  • قابل غور بات یہ ہے کہ عمر صدیق صاحب نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے سارے فساد کی ذمے داری علمائے اہل حدیث پر ڈال دی اور خود کو رد عمل کا عذر دے کر بری کر ڈالا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جامعہ سلفیہ کے مشایخ کرام اور لجنہ علماء کے مفتیان عظام سے لے کر شیخ غلام مصطفی امن پوری حفظہ اللہ تک کسی معزز عالم نے ان صاحب کو کبھی گالی گلوچ نہیں کیا، اور نہ یہ اس کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔
  • ان حالات میں تمام علماء ومشایخ کے نزدیک یہ بات حد درجہ تشویش ناک ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر محترم پروفیسر ساجد میر صاحب ایک ایسے شخص کے گھر چلے گئے جو گالی گلوچ اور بد زبانی میں شہرت یافتہ ہے، اور اس کی زبان درازی کا نشانہ سبھی اکابر علماء بن چکے ہیں۔ اس ملاقات کے موقع پر صرف اسی گروپ سے ملاقات کرنا اور تصویری سیشن سوشل میڈیا پر عام کرنا، لوگوں میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ اس گروپ کو جماعتی قیادت کی پشت پناہی حاصل ہے، اور یہ لوگ بھی محترم ساجد میر صاحب کی اپنے گھر آمد کو اپنے اوپر امیر محترم کا دست شفقت کہہ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں جماعتی قیادت کی طرف سے اس تاثر کی نفی ضروری ہے۔
  • نیز ایسی انفرادی ملاقات سے اس شخص کو پھر قابل قبول بنانے اور سابقہ کسی غلطی پر سرزنش کیے بغیر ہمدردی جتانے سے پہلے یہ امر قابل غور ہے کہ کیا اس شخص نے عظمت صحابہ کا دفاع کرنے والے راسخ فی العلم علماء کو ناصبی یزیدی اور خبیث بلکہ کنجر، حرام زادہ کہنے پر بھی معافی مانگی ہے؟ اگر تو یہ ذاتی نوعیت کی لڑائی تھی تو معافی فورا قبول کرنی چاہیئے، لیکن اگر یہ منہج کا مسئلہ تھا، تو مولویت اور سلفیت کے لبادہ میں چھپے ایسے بہروپیوں کے وعظ و تقریر پر مستقل تاحیات پابندی لگنی چاہیئے۔
  • ملک بھر کے جید علمائے اہل حدیث عوام الناس کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اگر اربابِ حل وعقد کی طرف سے اس بدزبان شخص کا محاسبہ نہ کیا گیا ، تواس کو کسی دینی جلسے اور اجتماع میں نہ بلایا جائے تاکہ یہ دوبارہ منبر ومحراب کا تقدس پامال نہ کر سکے۔ اور اگر کہیں جلسے میں اس کو بلایا گیا تو ہم میں ہر شخص ایسے پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتا ہے اور تمام علمائے اہل حدیث اس کی پابندی کریں گے ان شاء اللہ۔
  • یہاں ہم گوجرانوالہ کے عظیم ادارے جامعہ محمدیہ کے ارباب انتظام سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ مسجد جامعہ محمدیہ کے منبر ومحراب کا تحفظ کرتے ہوئے اسے ایک ایسے شخص کے حوالے نہ کریں جو مذکورہ بالا صفات کا حامل ہو، اگر یہ مذکورہ نکات کے مطابق معذرت اور رجوع نہ کرے، تو اسے وہاں سےفورا معزول کیا جائے۔
14۔10۔2021ء وما علینا إلا البلاغ المبین۔

اسمائے گرامی
علمائے کرام، مفتیانِ عظام، شیوخ الحدیث، قائدین، پروفیسرز واساتذہ اور سماجی شخصیات جن جن حضرات نے اس اعلامیے سے اتفاق کا اظہار کیا، ان کے نام یہاں درج کیے جارہے ہیں:

1) فضیلۃ الشیخ مفتی جماعت حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ
2) فضيلة الشيخ محدث العصر مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
3) فضیلۃ الشیخ أبو عمر عبدالعزیز نورستاني، مدیر الجامعة الأثریة،و أمیر شوری علماء أهل الحدیث KPK
4) شیخ القرآن والحدیث، علامه أبو محمد أمین الله البشاوري (حفظہ اللہ تعالیٰ)، مفتي اعظم شوری علماء اهل الحدیث KPK
5) شیخ الحدیث مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
6) ابو انشاء قاری خلیل الرحمٰن جاوید حفظہ اللہ
7) فضیلۃ الشیخ سعید مجتبى سعیدی حفظہ اللہ
8) فضیلۃ الشیخ ابو عدنان منیر قمر حفظہ اللہ
9) شیخ الحدیث ڈاکٹر عبد الرحمن یوسف المدنی حفظہ اللہ
10) فضیلۃ الشیخ عبد الرؤف بن عبد الحنان سندھو حفظہ اللہ
11) شیخ القرآن والحدیث أبوعمر عبدالمنان محمدي مدیر جامعه محمدیه ـ یوسف آباد پشاور
12) شیخ القرآن والحدیث أبو صهیب محمد بن عبدالرحمن سلفي شیخ الحدیث جامعه محمدیه ـ یوسف آباد پشاور و مفتي شوری علماء أهل الحدیث KPK
13) مولانا سید توصیف الرحمن راشدی حفظہ اللہ
14) مولانا سید طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ، سینیئر نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث اسلام اباد
15) علامہ ابتسام الہی ظہیر حفظہ اللہ
16) شیخ الحدیث مولانا خاور رشید بٹ حفظہ اللہ
17) علامہ ہشام الہی ظہیر حفظہ اللہ
18) شیخ الحدیث مولانا غلام مصطفی ظہیر حفظہ اللہ
19) مفتی عطاء الرحمن علوی حفظہ اللہ
20) مولانا محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ
21) مولانا ڈاکٹر شہباز حسن حفظہ اللہ، یو ای ٹی لاہور
22) ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ، چیئرمین اسوہ اسلامک سنٹر
23) ڈاکٹر حفیظ الرحمن، پرنسپل جامعہ سلفیہ اسلام آباد
24) فضیلة الشیخ محمد مظفر شیرازی سیالکوٹ
25) مولانا ارشد بیگم کوٹی حفظہ اللہ
26) مفتی مولانا عبدالعزیز بٹ حفظہ اللہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد
27) حافظ عثمان یوسف بن حافظ صلاح الدین یوسف
28) ڈاکٹر حافظ مسعود عبد الرشید اظہر خانیوال
29) ڈاکٹر شاہ فیض الابرار حفظہ اللہ
30) مولانا محمد رفیق طاھر حفظہ اللہ
31) حافظ ابو یحیی نورپوری حفظہ اللہ
32) مفتی عتیق الرحمن علوی حفظہ اللہ
33) مولانا انور شاہ راشدی حفظہ اللہ
34) ڈاکٹر مولانا ابراہیم سلفی حفظہ اللہ۔ لاہور
35) ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی، مدیر جامعہ لاھور الاسلامیہ مرکز البیت العتیق، لاھور
36) مولانا سمیع اللہ شاھد جامعہ امام بخاری سرگودھا
37) قاری عبد الواجد بھیروی مدرس جامعہ امام بخاری سرگودھا
38) مولانا حمید اللہ خان عزیز، ایڈیٹر ’تفہیم الاسلام’ احمد پورہ شرقیہ
39) حافظ محمد عاطف فیصل آباد
40) محمد فہد ناظم مدرسہ دار القرآن والحدیث منڈی بہاؤالدین
41) حافظ سعد طيب، لیکچرار گورنمنٹ گریجویٹ کالج فیصل آباد
42) حافظ عبدالماجد سلفی بن حافظ محمد ابراہیم، مدیر مرکز القدس ٹاؤن شپ لاہور
43) قاری محمد اکرم ربانی ایم اے جنرل سیکرٹری ختم نبوت فورم اہلحدیث
44) مولانا امان اللہ عاصم رکن دارالبیان شیخوپورہ
45) مولانا عثمان البدیر مدیر مرکز العاقب اھل حدیث سانگلہ ہل
46) مولانا ابوبکر ظفر، ناظم مدرسہ الفیصل اسلامیہ للبنات، فردوس مارکیٹ لاہور
47) محمد عمران ممبر امن کمیٹی لاہور
48) فضیلۃ الشیخ برق توحیدی حفظہ اللہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ
49) مولانا عطاء الرحمن طالب، لاہور
50) قاری محمد احمد قمر بن حافظ محمد اسحاق
51) حافظ رضوان ایوب عاجز، مدیر ام القری ایجوکیشنل کمپلیکس سیالکوٹ
52) مولانا مقبول احمد۔ مدیر مرکز داود الاسلامی، فیصل آباد
53) مفتی ضیاء الرحمن سعید، مدرس مرکز بلال الاسلامیہ
54) عبیداللہ لطیف فیصل آباد خادم مجاہدین ختم نبوت
55) حافظ خضر حیات، فاضل مدینہ یونیورسٹی
56) ذبيح الله شاكر المدني، مدرس جامعہ بلال الاسلامیہ لاہور
57) قاری شاہد عمران, خطیب جامع مسجد مانانوالا
58) مولانا روح اللہ توحیدی، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث خیبر پختونخواہ
59) مفتی عبداللطیف حفظہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ بھاولپور
60) شیخ الحدیث مولانا افضل اکرم جامعہ دار الرشاد پیر آف جھنڈا سندھ
61) شیخ الحدیث مفتی عبدالرحمن شاھین ملتان
62) مولانا حماد الحق نعیم (ہفت روزہ الاعتصام، لاہور)
63) فضیلة الشیخ أبو الیمان عمر بن عبدالعزیز النورستاني صوبائی صدر وفاق المدارس السلفیة KPK
64) فضیلة الشیخ عبدالحمید رحمتي شیخ الحدیث دار القرآن والحدیث السلفیة ـ قاضي آباد پشاور و صوبائی نائب امیر مرکزي جمعیت اهلحدیث KPK
65) فضیلة الشیخ حزب الله محبت،ناظم شوری علماء أهل الحدیث KPK و ضلعی امیر مرکزي جمعیت اهلحدیث پشاور
66) مولاناأبوحماد الرحمتي،ناظم دار القرآن والحدیث السلفیة ـ قاضي آباد پشاور
67) حافظ نورالاسلام خطیب جامع مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ ضلع راجن پور
68) مولانا مہتاب اصغر فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدرس جامعہ تعلیم القرآن و الحدیث جھنگ
69) رانا عبدالعلیم خاں، چیف آرگنائزر تحریک اہلحدیث یوتھ ونگ پاکستان
70) فضیلة الشیخ حافظ عبداللہ مدنی فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد
71) حافظ محمد شاهد شيخ الحديث كلية عائشه صديقة للبنات جهبران
72) سید محمد زیدی بن سید طیب الرحمن زیدی، ونائب صدر جامعہ عیسی بن ربیع اسلام آباد
73) مولانا عبد المجید بلتستانی فاضل مدینہ یونیورسٹی ومدرس المدینہ اسلامک سنٹر کراچی
74) مولانا ابو بکر قدوسی، مکتبہ قدوسیہ لاہور
75) مولانا عمر فاروق قدوسی، مکتبہ قدوسیہ لاہور
76) حافظ عبدالرحمن محمدی، فاضل مدینہ یونیورسٹی

والحمدلله الذي بنعمته تتم الصالحات
 
Top