• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے۔

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,795
پوائنٹ
354
وخطب المغيرة بن شعبة امرأة هو أولى الناس بها فأمر رجلا فزوجه‏.‏ وقال عبد الرحمن بن عوف لأم حكيم بنت قارظ أتجعلين أمرك إلى قالت نعم فقال قد تزوجتك‏.‏ وقال عطاء ليشهد أني قد نكحتك أو ليأمر رجلا من عشيرتها‏.‏ وقال سهل قالت امرأة للنبي صلى الله عليه وسلم أهب لك نفسي فقال رجل يا رسول الله إن لم تكن لك بها حاجة فزوجنيها‏.‏
اور مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا اور سب سے قریب کے رشتہ دار اس عورت کے وہی تھے۔ آخر انہوں نے ایک اور شخص (عثمان بن ابی العاص) سے کہا، اس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے ام حکیم بنت قارظ سے کہا تو نے اپنے نکاح کے باب میں مجھ کو مختار کیا ہے، میں جس سے چاہوں تیرا نکاح کر دوں۔ اس نے کہا ہاں۔ عبدالرحمٰن نے کہا تو میں نے خود تجھ سے نکاح کیا اور عطاء بن ابی رباح نے کہا دو گواہوں کے سامنے اس عورت سے کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا یا عورت کے کنبہ والوں میں سے (گود ور کے رشتہ دار ہوں) کسی کو مقرر کر دے (وہ اس کا نکاح پڑھا دے) اور سہل بن سعد ساعدی نے روایت کیا کہ ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اپنے آپ کو بخش دیتی ہوں، اس میں ایک شخص کہنے لگا یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی خواہش نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئیے۔


حدیث نمبر: 5131
حدثنا ابن سلام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا أبو معاوية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ في قوله ‏ {‏ ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن‏}‏ إلى آخر الآية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالت هي اليتيمة تكون في حجر الرجل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قد شركته في ماله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيرغب عنها أن يتزوجها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ويكره أن يزوجها غيره،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيدخل عليه في ماله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيحبسها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فنهاهم الله عن ذلك‏.‏

ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشا م نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت یستفتونک فی النساء الایۃ اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو۔ وہ مرد اس کے مال کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے۔


حدیث نمبر: 5132
حدثنا أحمد بن المقدام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا فضيل بن سليمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبو حازم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سهل بن سعد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم جلوسا فجاءته امرأة تعرض نفسها عليه فخفض فيها النظر ورفعه فلم يردها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رجل من أصحابه زوجنيها يا رسول الله‏.‏ قال ‏"‏ أعندك من شىء ‏"‏‏.‏ قال ما عندي من شىء‏.‏ قال ‏"‏ ولا خاتما من حديد ‏"‏‏.‏ قال ولا خاتما من حديد ولكن أشق بردتي هذه فأعطيها النصف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وآخذ النصف‏.‏ قال ‏"‏ لا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ هل معك من القرآن شىء ‏"‏‏.‏ قال نعم‏.‏ قال ‏"‏ اذهب فقد زوجتكها بما معك من القرآن ‏"‏‏.‏

ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو حاز م نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر نیچی او پر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آنحضور صلی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادرپھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔


کتاب النکاح صحیح بخاری
 
شمولیت
نومبر 21، 2013
پیغامات
60
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
37
کیا اگر لڑکی کے والدین لڑکی کی شادی کسی خراب انسان سے کرنا چا ہتے ہیں تو لڑکی والدین کی پسند سے انکارکرکے اپنی پسند کی شادی کا حق رکھتی ہے۔ جبکےلڑکی کو اس صورت میں گھر سے بھا گنا بھی پڑےگا۔؟؟؟؟؟
 
Top