1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل السنّۃ اور مُرجئہ کون ہیں؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 28، 2012۔

  1. ‏فروری 28، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اہل السنّۃ اور مُرجئہ کون ہیں؟

    [ائمۂ اسلاف کی نظر میں]​

    ابو عبد اللہ طارق([1])​

    اوائل اسلام میں جب مختلف فتنوں نے سر اُٹھایا تو ائمہ اہل السنۃ کی طرف سے ان کی بھرپور علمی تردید کی گئی۔ ان میں سے ’مسئلۂ ایمان و کفر‘ میں ایک طرف خوارج و معتزلہ تھے تو دوسری انتہا پر مرجئہ و جہمیہ جمے ہوئے تھے ۔ جبکہ اہل السنّۃان دو انتہاؤں کے وسط میں راہِ اعتدال پر قائم تھے اور آج بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت بلا ریب ہے کہ مرجئہ و جہمیہ کی طرف سے اہل السنۃکو خارجی ہونے کا طعنہ دیا گیا اور خوارج و معتزلہ کی طرف سے اہل السنۃکو مرجئہ ہونے کا الزام دیا گیا جبکہ ائمہ اہل السنۃ نے اِفراط و تفریط پر مبنی ان افکار ونظریات اور ان کے حاملین کا ردّ کرتے ہوئے ان سے ہمیشہ برات کا اظہار کیا۔
    زیر نظر مضمون میں اسی بات کو اقوالِ سلف سے واضح کیا گیا ہے کہ ایمان اور اِرجا کیا ہے اور مرجئہ و جہمیہ کون ہیں؟اور اہل السنّہ والجماعہ کو خارجی و معتزلی نظریات کے حامل حضرات کی طرف سے جو مرجئہ و جہمیہ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے،وہ سراسر باطل ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ہم ایمان اور اِرجاکے مفہوم سے موضوع کا آغاز کرتے ہیں:
    اَئمۂ اہل سنت کے نزدیک ’عمل‘ایمان کا جزہے، اور ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اِقرار اور عمل سے مرکب ہے، اور ایمان میں کمی و بیشی بھی ہوتی ہے۔ اکثر اَئمۂ اسلاف ایمان کو ’قول و عمل‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور قول سے ان کی مراد ہے: قولِ قلب یعنی دل سے تصدیق اور قولِ لسان یعنی زبان سے اِقرار ...
    اسی طرح عمل کی بھی دو قسمیں ہیں: عمل ِقلب اور عملِ جوارح ([3])
     
  2. ‏فروری 28، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اہل السنہ والجماعہ کے ہاں ’ایمان کیا ہے؟‘
    1۔عقیدہ طحاویہ کے مشہور شارح امام ابن ابی العز حنفی  راقم ہیں:
    2۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ، امام ابوعبید قاسم بن سلام  کے حوالہ سے اہل مکہ، اہل کوفہ، اہل بصرہ، اہل واسط او راہل مشرق کی ایک بہت بڑی جماعت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
    3۔ابویوسف یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں:
    4۔آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:
    او رپھر اَئمہ اسلاف، فقہاے کرام اورمحدثین عظام میں سے بہت بڑی جماعت کے نام ذکر کرتے ہیں کہ یہ اسی مذہب کے قائل تھے۔
    5۔مذاہب اور فرقوں کے موضوع پر لکھے جانے والے انسائیکلو پیڈیا میں ہے:
     
  3. ‏فروری 28، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    صحابہ و تابعین عظام
    6۔امام بغوی فرماتے ہیں:
    7۔صحابہ کرام کے بارے میں امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں:
    8۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
    9۔صحابی رسول عبداللہ بن مسعودؓ دعا کیا کرتے تھے:
    حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
    10۔صحابی رسول جندبؓ فرماتے ہیں:
    11۔خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عامل عدی بن عدی کو خط لکھا:
    12۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
     
  4. ‏فروری 28، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اَئمہ فقہاے محدثین
    13۔امام ابن اَبی العز حنفی فرماتے ہیں:
    14۔امام عبدالرزاق فرماتے ہیں:
    حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
    مسئلہ ایمان کی ماہیت میں یہی موقف
    15۔امام بخاری صحیح بخاری کے ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں :
    اور پھر اس پر بطورِ دلیل بکثرت قرآنی آیات ذکر فرماتے ہیں۔ اور آخر میں ذکر فرماتے ہیں:
    اس کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
    نیز فرماتے ہیں:
    16۔سہل بن المتوکل شیبانی فرماتے ہیں:
    17۔امام سفیان بن عیینہ سے پوچھا گیا:
    18۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
    19۔امام اوزاعی﷫ کے بارے میں عقبہ بن علقمہ فرماتے ہیں:
    20۔شیخ محی الدین کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی راقم ہیں:
    21۔محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی بھی مسئلۂ ایمان میں سلف کے متبع اور اہل سنت کے ترجمان تھے، فرماتے ہیں:
    الغرض ائمہ فقہاومحدثین کی مذکورہ بالا تصریحات اس باب میں واضح ہیں کہ
    ’’اہل السنۃ والجماعہ: سلف صالحین﷭ کے نزدیک عمل ایمان کا حصہ ہے اور ایمان میں کمی و بیشی واقع ہوتی ہے۔‘‘
     
  5. ‏فروری 28، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حوالہ جات

    ([1])..اُستاد جامعہ لاہور اسلامیہ (البیت العتیق ، برانچ جوہرٹاؤن)، لاہور
    ([2])..جو بذاتِ خود طاغوتِ اعظم برطانیہ میں ’مستامن‘ کاحیلہ کرکے وہاں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔
    ([3])..الایمان از ابن تیمیہ:ص 137،149؛ کتاب الصلوٰۃ ازابن قیم :ص26؛ شرح العقیدہ الطحاویۃ از ابن ابی العز حنفی:ص333،341
    ([4])..شرح العقیدۃ الطحاویۃ :ص333
    ([5])..الایمان :ص 243
    ([6])..شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعہ: 2؍60
    ([7])..ایضاً:2؍56
    ([8])..الموسوعۃ المیسرة فی الادیان والمذاہب والاحزاب المعاصرۃ: 2؍154 ،1؍44
    ([9])..شرح السنۃ از بغوی:1؍78
    ([10])..مجموع الفتاویٰ از ابن تیمیہ : 7؍505
    ([11])..فتح الباری:1؍64
    ([12])..شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ:2؍45؛الایمان:ص177، السنۃ لعبد اللہ بن احمد :ص 109 الرقم 797؛ الشریعہ: ص109
    ([13])..فتح الباری:1؍66
    ([14])..السنۃ الابن احمد ص 109 الرقم 799، الایمان لابن تیمیہؒ ص 178، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ واجماعۃ جلد2 ص45
    ([15])..صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب قول النبی بنی الاسلام علی خمسں تعلیقاً؛ شرح السنۃ از بغوى:1؍79 ، ابن ابی شیبۃ الرقم30435
    ([16])..فتح الباری:1؍66
    ([17])..شرح العقیدہ الطحاویہ: ص 332
    ([18])..الشریعہ از آجری :ص113؛التمھید لابن عبدالبر165/4 ، السنہ از عبداللہ بن احمد :ص 97 رقم 726،واللفظ لہ
    ([19])..فتح الباری :1؍65
    ([20])..الشریعہ: ص113
    ([21])..فتح الباری: 1؍65
    ([22])..الشریعہ: صفحہ 113
    ([23])..صفحہ333
    ([24])..السنۃ از عبداللہ بن احمد :ص 85
    ([25])..السنۃ از عبداللہ بن احمد:ص 82، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعہ:2؍59
    ([26])..صحیح البخاری :1؍5 درسی
    ([27])..ایضاً
    ([28])..فتح الباری :1؍65
    ([29])..فتح الباری:1؍65
    ([30])..شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ:2؍61
    ([31])..آل عمران:173
    ([32])..الشریعہ از آجری :ص 112
    ([33])..فتح الباری :1؍65
    ([34])..شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ:2؍57
    ([35])..فتح الباری:1؍64
    ([36])..السلسلۃ الصحیحۃاز البانی :4؍369، موسوعۃ الالبانی:4؍99
    ([37])..الشعراء :36
     
  6. ‏فروری 28، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    إرجاء

    1۔شیخ محمد بن عبدالکریم شہرستانی راقم ہیں:
    یہاں إرجاء کے معنی ہیں’أمهله‘اسے مہلت دے اور ’أخره‘اسے مؤخر کر۔
    (إرجاء کے) دوسرے معنی ہیں:’’اُمید دلانا‘‘...رہا اس فرقہ پر ’المرجئہ‘ کے نام کا اطلاق تو پہلے معنیٰ کے لحاظ سے یہ صحیح ہے کیونکہ یہ لوگ عمل کو نیت اور اعتقاد سے مؤخر کرتے تھے۔رہا دوسرے معنیٰ کے اعتبار سے (اس فرقہ کی وجہ تسمیہ) تو یہ بھی ظاہر ہے کیونکہ یہ لوگ (خصوصاً جہمیہ) کہتے تھے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت نقصان نہیں پہنچاتی جیسا کہ کفر کے ساتھ کوئی نیکی مفید نہیں۔‘‘
    2۔حافظ ابن حجر عسقلانی راقم ہیں:
    3۔امام احمد بن حنبل﷫کے بیٹے عبد اللہ  فرماتے ہیں:
    4۔ابو وائل ﷫ كے بارے میں زبیدفرماتے ہیں:
    امام احمد سے إرجاء اور ابووائل سے مرجئہ کے بارے میں سوال ہوا، تو ان دونوں کے جواب سے یہ بات واضح ہے کہ عمل ایمان کا حصہ ہے او راس میں کمی و بیشی ہوتی ہے۔ گناہ سے ایمان میں نقص واقع ہوتا ہے اور یہ ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ مرجئہ کاکوئی بھی گروہ اس کا قائل نہیں اور یہ إرجاء ہے۔
    5۔صالح بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
    6۔امام وکیع فرماتے ہیں:
    7۔امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں:
     
  7. ‏فروری 28، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    خلاصۂ کلام

    یہ ہے کہ سلف کے نزدیک عمل ایمان کا جز اور اس میں شامل ہے، لیکن مرجئہ کے نزدیک عمل ایمان کا جز اور اس میں شامل نہیں ہے۔ سلف کے نزدیک ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے جبکہ مرجئہ کے نزدیک ایمان کم اور زیادہ نہیں ہوتا۔اہل السنہ والجماعہ اورمرجئہ کے درمیان پائے جانے والے اس اختلاف کو بڑے واضح الفاظ میں شیخ البانی بیان فرماتے ہیں:
     
  8. ‏فروری 28، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تاریخ إرجاء
    امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں:
    مزیدراقم ہیں:
     
  9. ‏فروری 28، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ایمان زبان سے قول، دل سے تصدیق ا ورعمل صالحہ کا نام ہے، یہ ایمان کے تین ارکان ہیں اورجو شخص ان تینوں اراکین ایمان کا اعتقاد رکھتا ہے، وہ اہل السنہ والجماعۃ کے موقف پر ہے۔ البتہ جو شخص ان تینوں ارکان کا اعتقاد رکھنے کے باوجود عملاً کوتاہی یا گناہ کا ارتکاب کرے تو اُس سے اس کے ایمان کا درجہ تو کم ہوجاتا ہے، لیکن اس عملی کوتاہی سے وہ شخص مرجئہ نہیں بن جاتا بلکہ وہ اہل السنّہ ہی رہتا ہے، کیونکہ اِرجاءکا تعلق اعتقاد سے ہے ، نہ کہ عمل سے ۔آج جن علما کو بعض جذباتی حضرات مرجئہ ہونے کا الزام دیتے ہیں، تو اُنہیں یاد رہنا چاہئے کہ ان علما میں سے کوئی شخص اگر اعتقادِ فاسد رکھتا ہے تو اس پر تو دوسرا حکم لگانے کا اِمکان ہوسکتاہے، تاہم عملی کوتاہی کی بنا پر اُن کو کمتر ایمان کے مسلمان ہی قرار دیا جاسکتا ہے نہ کہ مرجئہ۔ زیر نظر مضمون کا مقصد ائمۂ سلف کے نزدیک ارجا کی حقیقت کو واضح کرنا اور اہل السنّۃ والجماعۃ میں شامل بعض سلفی علما پر لگائے جانے والے اِرجا کے الزام کا ابطال کرنا ہے۔ اس مضمون کا مقصد نہ تو کسی گروہ کی دل آزاری یا کسی قسم کی فتویٰ بازی ہے اور نہ ہی یہاں تکفیر اور عدم تکفیرکے اُصول وضوابط کو پیش کرنا مقصود ہے۔
    مرجئہ کی اَقسام
    موسوعہ میں مرجئہ کی اقسام کے بیان میں لکھا ہے:
     
  10. ‏فروری 28، 2012 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مرجئہ فقہا
    موسوعہ میں رقم ہے:
    نیز
    یعنی ان کے نزدیک اعمال ثمرہ ایمان اور اس کا مقتضی ہیں، جز نہیں۔([52])
    امام ابن تیمیہ راقم ہیں:
    ان کے نزدیک ایمان شئ واحد ہے اور اصل ایمان میں تمام مومن برابرہیں۔‘‘([54])
    مزید فرماتے ہیں:
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں